سوال:-نجاست کی کتنی قسمیں ہیں اور وہ کیا کیا ہیں مفصل بیان کریں؟

الجواب:-نجاست کی دو قسمیں ہیں: (1) نجاست غلیظہ (2) نجاست خفیفہ، نجاست غلیظہ ہر اس نجاست کو کہا جاتا ہے جس کے ناپاک ہونے پر دلیل قطعی موجود ہو جیسے۔ انسان کا پیشاب، پاخانہ، بہنے والا خون وغیرہ، نجاست خفیفہ- ہر ایسی نجاست کو کہا جاتا ہے جو نجاست غلیظہ کے مقابلہ میں کم اور ہلکی ہوئی ہے اور اس کی معاف مقدار زیادہ ہوئی ہے اس لیے اس کو نجاست خفیفہ کہا جاتا ہے جیسے حلال جانور گائے ،بکری وغیرہ کا پیشاب، حرام پرندوں کی بیٹ وغیرہ-

النجاسة نوعان: غليظة ،وخفيفة، فالخفيفة لا تمنع ما لم تفحش والغليظة اذا رادت على قدر الدرهم تمنع جواز الصلاة....(فتاوى قاضيخان: ١٤/٧،كتاب الطهارة، فصل في النجاسة، زكريا ديوبند)

الحقيقة واذالتها وقدم الحكمية لأنها اقوى لكون قليلها يمنع جواز الصلاة..... والفرق ان النجاسة الحكمية اقوى ايضا..... واذالتها عن البدن والثوب.....الخ(البحر الرائق: ٣٨٢/١-٣٨٣،كتاب الطهارة، باب الانجاس، دار الكتاب العلمية)

وكذا قال قيل القليل المعفو عنه ما يستقله الناطر والكثير بعكسه وعليه الاعتماد كما في الهداية وغيرها (لأن ابا حنيفة لا يقدر شيئا بالراى(شامي: ٣٨٠/١ كتاب الطهارة،باب المياه، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر جانور سے دودھ دوہتے وقت گوبر کا کچھ حصہ برتن میں گر جائے تو وہ دودھ پاک ہے یا ناپاک تصلی بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اگر دودھ دو ہفتے وقت تھوڑا بہت گوبر دودھ میں گر جائے اور اسے جلدی ہی نکال لیا جائے کہ اس کا رنگ اور اثر دودھ میں ظاہر نہ ہو تو ضرورت ایسا دودھ ناپاک نہیں ہے اس کا استعمال جائز ہے لیکن اگر زیادہ مقدار میں گوبر دودھ میں گر جائے اور اس کے اثرات ظاہر ہو جائے تو وہ دودھ یقینا ناپاک ہو جائے گا-

وكذا قال قيل القليل المعفو عنه ما يستقله الناطر والكثير بعكسه وعليه الاعتماد كما في الهداية وغيرها (لأن ابا حنيفة لا يقدر شيئا بالراى(شامي: ٣٨٠/١ كتاب الطهارة،باب المياه، زكريا ديوبند)

واذ حلب شاه اوضانا فان وقع بعرة في المحلب حكي عن.... أنهم توسعوا في ذلك إذا رمي من اللبن طاهر وعليه جماعة.... وان تفتت البعرة في اللبن يصير نجسا لا يطهر بعد ذلك(التاتارخانية:٣٢٤/١،كتاب الطهارة، الفصل الرابع: في المياه،زكريا ديوبند )

بخلاف بعر الشاة إذ وقع منها في المحلب وقت الحلب فإنه ترمي البعرة ويشرب اللبن على الطريقين....,(البحر الرائق: ١٩٩/١،كتاب الطهارة، دار الكتب العلمية)

سوال:-اگر کوئی بلی چوہا کھا لے اس کے بعد پانی پی لی یا کوئی کھانے میں منہ ڈال دے تو وہ پانی ،کھانا پاک ہے یا ناپاک؟

الجواب:-اگر بلی چوہا کھا کر فورا پانی پی لی یا کھانے میں منہ ڈال دیا تو وہ پانی یا کھانا ناپاک ہو جائے گا پھر اگر چوہا کھانے کی بہت دیر بعد پانی میں منہ ڈالا تو پانی ناپاک نہیں ہوگا-

فان اكلت فارة وشربت الماء من فورها يتنجس،وان مكثت ساعةة او ساعتين ثم شربت لا يتنجس هو الصحيح كذا في "الظهيرية" (بالفتاوي الهندية:٧٦/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

ولو بعد زمان (وهرة فور أكل فأرة نجس) قوله: فور أكل فأرة فان مكثت ساعة ولحست فمها فمكروه منية ولا ينجس عندهما....(شامي: ٣٨٣/١،كتاب الطهارة باب المياه،زكريا ديوبند)

ولو أكلت الفارة ثم شربت الماء، قال ابو حنيفة: ان شربته على الفور تنجس الماء وان مكثت ثم شربت لا يتنجس(بدائع الصنائع : ٢٠٥/١،كتاب الطهارة، احكام بسؤر، اشرفية ديوبند)

سوال:-اگر کوئی آدمی شراب پی لی پھر اس کے بعد پانی پی تو وہ پانی پاک ہے یا ناپاک یا اس میں کوئی تفصیل ہے وضاحت بیان کریں؟

الجواب:-ایساہی اگر آدمی پانی پیتا تو وہ پانی ناپاک نہ ہوتا اب آدمی شراب پی کر جب پانی پی تو اس وقت پانی ناپاک ہو جائے گا کیونکہ ظاہری ناپاک دیکھائی دے رہا ہے یعنی شراب جو ہے وہ ناپاک ہے جب آدمی اس کو پی کر پانی پیا اب پانی کے ساتھ شراب بھی مل گیا اس لیے ناپاک ہے-

سؤر الادمي طاهر.... الا سؤر شارب الخمر ومن دمي فوه إذ شرب على فور ذلك فإنه نجس.... كذا في "اسراج الوهاج"(بالفتاوى الهنديه: ٧٦/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

وشارب خمر (🍷)فور شربها ولو شاربه طويلا لا يستوعبه اللسان فنجس ولو بعد زمان....(شامي: ٣٨٢/١-٣٨٣،كتاب الطهارة، باب المياه، زكريا ديوبند)

وروي"ان عايشة رضي الله عنها شربت من إناء في حال حيضها فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمه على موضع فمها حبالها فشرب"لأن سؤره متحلب من لحمه ولحمه طاهر فكان سؤره طاهر إلا في حال شر الخمر لنجاسة فمه(بدائع الصنائع:٢٠١/١ كتاب الطهارة، احكام السؤر ،اشرفيه ديوبند)

سوال:- جانورں کا جھوٹا پاک ہے یا ناپاک یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل بیان کریں؟

الجواب:- جانور دو طرح کا ہوتا ہے ایک پالتو اور دوسرا جنگلی ہوتا ہے اگر جانور پالتو ہو جیسے بلی،حمار وغیرہ ہو تو وہ جھوٹا ضرورت ناپاک تو نہیں ہوتا لیکن مکروہ ہوتا ہے بہتر یہ ہے کہ اس پانی سے وضو نہ کرے اگر کر لیا دوسرا پانی نہ ملنے پر تو وضو ہو جائے گا اور اگر جانور پالتو نہ ہو جنگلی ہو تو اس کا جھوٹا مطلقا ناپاک ہے لہذا اگر وہ پانی میں منہ ڈال دے تو پانی ناپاک ہو جائے گا-

وذكر في صلاة الاصل المستحب ان لا يتوضا بسؤر الهرة وان توضا به اجزه(المحيط البرهاني: ٢٨٦/١،جلس كبير:١٦٨) إذا اكلت فارة وشربت من اناء على فورها ذلك يتنجس الماء بلا خلاف(المحيط البرهاني: ٢٨٦/١)

واما الطاهر الذي هو مكروه فهو سؤر الدجاجه المخلاة لأنها تفتش الجيف والاقذار فمنقارها لا يخلو عن نجاسة مع هذا اذا توضا به اجزه(الفتاوى التاتارخانية:٣٥١/١،كتاب الطهارة، الفصل الرابع في المياه، زكريا ديوبند)

وسؤر هرة.... وسواكن بيوت طاهر للضرورة مكروه تنزيها في الاصح ان وجد غيره (شامي:٣٨٣/١-٣٨٥،كتاب الطهارة، باب المياه، زكريا ديوبند)

سوال:-انسان کا جھوٹا پاک ہے یا ناپاک یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت بتفصیل بیان کریں؟

الجواب:-انسان کا جھوٹا شرعا پاک ہے اور اس میں مسلمان، کافر، وضو ،بے وضو، حائضہ، غیر حائضہ میں کوئی فرق نہیں بشرطیکہ منہ میں کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو-

وسؤر الادمي طاهر ويدخل في هذا الجنب والحائض والنفساء والكافر الا سؤر شارب الخمر ومن دمي فوه.....(بافتاوى الهنديه: ٧٦/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

فسؤر آدمي مطلقاً ولو جنبا او كافرا او امراة ،نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه....(شامي: ٣٨١/١،كتاب الطهارة، باب المياه، زكريا ديوبند )

اما السؤر الطاهر المتفق على طهارة فسؤر الادمي بكل حال مسلما كان او مشركا صغيرا او كبيرا وذكرا او انثى طاهرا او نجسا....الخ(بدائع الصنائع :٢٠١/١،كتاب الطهارة،احكام سؤر،اشرفية ديوبند)

سوال:-بلی اور چوہا کا لعاب پاک ہے یا ناپاک؟

الجواب:-اگر پالتو بلی پانی یا کھانے کی کسی چیز میں منہ ڈال دے تو وہ پانی اور لعاب ضرورت ناپاک تو نہیں ہوتا لیکن مکروہ ہوتا ہے اور جنگلی بلی ہو تو اس کا جھوٹا لعاب مطلقا ناپاک ہے اور چوہے کا جھوٹا بھی ضرورت کی وجہ سے پاک ہیں البتہ مکروہ تنزیحی اگر اس کے علاوہ کوئی پانی نہ پائے تو استعمال کی گنجائش ہے-

وذكر في صلاة الاصل المستحب ان لا يتوضا بسؤر الهرة، وان توضا به أجزاه(المحيط البرهاني: ٢٨٦/١،جلس كبير:١٦٨)

وسؤر هرة....(وسواكن بيوت) طاهر الضرورة مكروه تنزيها في الاصح ان وجد غيره (شامي: ٣٨٣/١-٣٨٥ كتاب الطهارة، باب المياه،زكريا ديوبند)

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه ۔ إلى قوله ۔ فجعل يقرأ بأم القرآن، ويجمع بزاقه ويتفل، فبرأ فأتوا بالشاء فقالوا: لا نأخذه حتى نسأل النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه فضحك وقال: وما ادراك أنها رقية خذوها واضربوا لي بسهم. (صحيح البخاري/باب الرقى بفاتحة الكتاب، ٨٥٤/٢، رقم الحديث: ٥٥١٢، ط: النسخة الهندية)

سوال:-کتے اور خنزیر کا لعاب اور پسینہ پاک ہے یا ناپاک؟

الجواب:-یہ سب کا لعاب اور پسینہ ناپاک ہے-

وسؤر الكلب والخنزير وسباع البهائم نجس كذا في "الكنز"(بالفتاوى الهندية: ٧٦/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

فهو سؤر الخنزير والكلب وسائر سباع الوحش فإنه نجس عند عامة العلماء (بدائع الصنائع:٢٠٢/١،كتاب الطهارة، احكام السؤر، المكتبة الاشرفية ديوبند )

سوال:-ناپاک آدمی کا لعاب دہن پسینہ پاک ہے یا ناپاک؟

الجواب:-ناپاک آدمی کا لعاب دہن پسینہ پاک ہے بشرطیکہ منہ کے اندر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو-

اما الطاهر الذي لا كراهة فيه (فسؤر ادمي مطلقا) ولو جنبا او كافرا او امراة نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه(شامي:٣٨١/١،كتاب الطهارة،باب المياه، زكريا ديوبند)

وسؤر الادمي طاهر ويدخل في هذا الجنب والحائض والنفساء والكافر، الا سور شارب الخمر ومن دمي فوه....(بافتاوى الهندية:٧٦/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

اما السؤر الطاهر المتفق على طهارة فسؤر الادمي بكل حال مسلما كان او مشركا صغيرا وكبيرا ذكرا او انثى طاهر او نجسا الخ....(بدائع الصنائع:٢٠١/١،كتاب الطهارة،احكام السؤر ،الاشرفيه ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص ماء مستعمل سے وضو اور غسل کر لے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اگر کوئی شخص ماء مستعمل سے وضو اور غسل کر لے تو شرعا اس کا وضو اور غسل نہیں ہوگا کیونکہ یہ تو پاک ہے لیکن اس لیے کہ جو پانی وضو اور غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ مستعمل ہو جاتا ہے اس پانی سے دوبارہ وضو اور غسل کرنے کا قدرت نہیں رکھتا ہے-

قال الماء، المستعمل لا يطهر الأحداث.....(اشرف الهداية:١٤٧/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

اتفق اصحابنا رحمهم الله: ان الماء المستعمل ليس بطهور حتى لا يجوز التوضو به (هنديه: ٧٥/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

والماء المستعمل لا يجوز استعماله في طهارة الأحداث (انوار القدورى:٦١/١ كتاب الطهارة،دار الاشاعت ،كراچی)