سوال:-بیع وفاء کسے کہتے ہیں اس کو مثال سے سمجھائے؟

الجواب:- بیع وفاء یہ ہے کہ کوئی چیز اس شرط مدت پر بیچنا جب تک میں اس کا قیمت ادا نہ کروں اس وقت تک آپ کا ہے یعنی جب میں قیمت ادا کر دوں گا تو آپ مجھے واپس کر دینگے جیسے راشید نے خالد کے پاس ایک کتاب بیچا پانچ کی بدلے ایک مہینہ مدت تک کے لیے جب وہ راشید خالد کو پانچ واپس کر دیا تو خالد نے اس کو کتاب واپس کر دیا-

ان ببيعه العين بالف على انه اذا رد عليه الثمن رد عليه العين....(رد المختار: ٥٤٥/٧،كتاب البيوع،باب الصرف،زكريا ديوبند)

ان يقول البائع للمشتري: بعت منك.... بعتك هذا بكذا على اني متى دفعت لك الثمن تدفع العين التي....(بالفتاوى الهندية:١٩٦/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

بيع الوفاء: هو ان يقول البائع للمشتري: بعت منك هنا العين بمالك علي من الدين على اني متى فضيت الدين فهولي.....(التعريفات الفقهية:١٣٦،باب الباء، مكتبة التهانوي ديوبند)

سوال:-قرض کی بدلے کن چیزوں کو گروی رکھنا درست ہے اور کن چیزوں کو گروی رکھنا درست نہیں مفصل بیان کریں؟

الجواب:-جن چیزوں کو بیچنا جائز ہے ان چیزوں کو گروی رکھنا جائز ہے اور جن چیزوں کو بیچنا جائز نہیں ان چیزوں کو گروی رکھنا درست نہیں-

منها ان يكون محلا قابلا للبيع وهو ان يكون موجودا وقت العقد مالا مطلقا متقوما مملوكا معلوم مقدود التسليم ونحو ذلك فلا يجوز رهن ما ليس بموجود عند العقد....(بدائع الصنائع:١٩٥/٥،كتاب الرهن، زكريا ديوبند)

ما يجوز بيعه يجوز رهنه و مالا يجوز بيعه لا يجوز رهنه كذا في التهذيب....(الهندية:٤٣٥/٥،كتاب الرهن،الفصل الرابع،زكريا ديوبند)

ولا يجوز رهن المشاع ولا رهن ثمرة على رؤس النحل.... يجوز رهن الدراهم والدنانير(انوار القدورى:٢٠٦/٢ تا ١١٠،كتاب الرهن، دار الاشاعت)

سوال:-اگر تالاب میں مچھلی ہو اور اس مچھلی کو نکالے بغیر تالاب کی مچھلیوں کو فروخت کر دے تو شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت وضاحت تحریر کریں؟

الجواب:-مچھلی شکار کرنے سے قبل تالاب وغیرہ میں مچھلی کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مچھلی جب تک تالاب وغیرہ میں ہو تب تک وہ کسی کی ملک نہیں ہوتی ہے بلکہ مباح ہوتی ہے اور غیر مملوک کی بیع جائز نہیں ہے البتہ اگر مچھلیاں ایسے گڑھے میں ہوں جس کو دریا یا تالاب سے کاٹ کر باندھ لیا ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں خظیرہ ایسا چھوٹا ہو کہ جس سے بغیر حبلہ کے ہاتھ ڈال کر مچھلیاں پکڑنا ممکن ہو تو اس کی بیع درست ہیں اور اگر خظیرہ بڑا ہو کہ جس سے بغیر حبلہ کے مچھلیاں پکڑنا ممکن نہ ہو تو اس کی بیع درست نہیں ہے اور اگر مچھلی خود بخود جمع ہو گئی ہو تو اس کی بیع جائز نہیں ہے ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے –

عن حكيم بن حزام قال: يا رسول الله ياتيني الرجل فيريد متي البيع ليس عند..... فقال: لا تبع ما ليس عندك...(سنن ابو داود: رقم الحديث: ٣٥٠٣)

بيع السمك في البحر او البئر لا يجوز فإن كانت له حظيرة فدخلها السمك فاما ان يكون اعدها لذلك اولا.... ثم ان كان يؤخذ بغير حيلة اصطياد جاز بيعه وان لم يكن يؤخذ الا بحيلة لا يجوز بيعه....(بالفتاوى الهندية :١١٤/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص ایک قسم کے چاول کو دوسری قسم کے چاول سے تبادلہ کرنا چاہے تو شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل جواب تحریر کریں؟

الجواب:- صورت مسئولہ میں تبادلہ کرنا شرعا درست ہے لیکن شرط یہ ہے کہ برابر برابر ہو ہاتھ در ہاتھ ہو اور اچھا و کھوٹے کے درمیان تفریق نہ کیے ہو یعنی اچھے کے بدلے میں کھوٹا نہ دیا ہو-

ولا يجوز بيع الجيد بالدي مما فيه الربا....(الهداية:١٧٦/٥،كتاب البيوع، مكتبة البشري، باكستان)

واذا تبايعا كايليا بكيلي او وزنيا بوزني كلاهما من جنس واحد او من جنسين.... فان البيع لا يجوز حتى يكون كلاهما عينا....(شامي:٤١٢/٧،كتاب البيوع، باب الربا، زكريا ديوبند)

قال: الربا محرم في كل مكيل او موزون اذا بيع بجنسه متفاضلا.... والاصل فيه الحديث المشهور وهو قوله عليه الصلوة والسلام الحنطة بالحنطة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا....(الهداية:١٧٣/٥،كتاب البيوع،مكتبة البشري،باكستان)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی زیورات کو دوسرے کی زیورات سے تبادلہ کرنا چاہے تو شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:-شرعا تبادلہ کرنا درست ہے بشرطیکہ جنس ایک ہو تو اگر مختلف جنس ہو تو درست نہیں ہے-

ولو تبايعا مكيلا او موزونا غير مطعوم بجنسه متفاضلا كالجنس والحرير لا يجوز عندنا لو جود القدر والجنس.... اذا بيع المكيل او الموزون بجنسه مثلا بمثل جاز البيع فيه: لو جود شرط الجواز....(الهداية:١٧٦/٥-١٧٧،كتاب البيوع، مكتبة البشري، باكستان)

لو باع ذهبا بذهب او فضة بفضة كيلا ولو مع التساوي لان النص.... اما لو علم تساويهما في الوزن والكيل معا جاز ويكون المنظر اليه هو المنصوص عليه....(رد المختار مع الشامي: ٤٠٩/٧،كتاب البيوع، باب الربا، زكريا ديوبند)

قال: لحربا محرم في كل مكيل او موزون اذا بيع بجنسه متفاضلا....(الهداية:١٧٣/٥،كتاب البيوع، مكتبة البشري، باكستان)

سوال:-اگر کوئی شخص سنار سے سونا یا چاندی کا کوئی زیور ادھار بنوائے تو یہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

الجواب:- اس صورت میں سنار سے زیور ادھار بنوانا شرعا درست ہے بشرطیکہ مجلس عقد احد البدلین پر قبضہ ہو جائے ورنہ بیع الکالی کی طرح ہو جائے گا جس سے آپ صلی ال اللہ علیہ نے فرمایا ہے-

وعلته اي علة تحريم الزيادة القدر معهود بكيل او ورن مع الجنس فان وجدا حرم الفضل اي الزيادة والنساء بالمد.....(رد المختار: ٤٠٣/٧-٤٠٤،كتاب البيوع، باب الربا، زكريا ديوبند)

وعلته اي علة تحريم الزيادة القدر معهود بكيل او ورن مع الجنس فان وجدا حرم الفضل اي الزيادة والنساء بالمد.....(رد المختار: ٤٠٣/٧-٤٠٤،كتاوعن ابن عمر نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالي وهو بيع الدين بالدين...(مصنف عبد الرزاق: ٩٠/٨،رقم: ١٤٤٤)ب البيوع، باب الربا، زكريا ديوبند)

فالعلة فيه الكيل مع الجنس.... واذا وجدا حرم التفاضل والنساء....(اللباب:٢٢١/١-٢٢٢،كتاب البيوع، اشرفيه ديوبند)

سوال:-معدوم چیز کی بیع و شراء شرعا درست ہے یا نہیں اگر درست ہو تو کیوں اور اگر درست نہ ہو تو کیوں؟

الجواب:-معدوم چیز اشیاء کی خرید و فروخت کرنا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے دوسری بات یہ ہے کہ اس میں دھوکہ ہے اور جھگڑا کا اندیشہ ہے-

عن حكيم بن حزام قال: يا رسول الله ياتيني الرجل فيريد متي البيع ليس عند..... فقال: لا تبع ما ليس عندك...(سنن ابو داود: رقم الحديث: ٣٥٠٣)

ولا ينعقد بيع الملافيح والمضامين والتلقوح: ما في رحم الانثى....(الهندية:١١٧/٣،كتاب البيوع،اشرفيه ديوبند)

ولا بيع الحمل ولا النتاج، للنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الحبل وحبل الحبلة ولان فيه غررا ولا اللبن في الضرع للغر فساخ انتفاخ....(الهداية:٩٥/٥-٩٦،كتاب البيوع، مكتبة البشري باكستان)

سوال:-ہیلتھ انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب و باللہ التوفیق: مذکورہ سوال میں جو ایک خاص صورت کے متعلق معلوم کیا گیا ہے تو ہیلتھ انشورنس کی یہ صورت جائز ہے۔ (مستفاد: بارہواں فقہی اجتماع ادارۃ المباحث الفقہیہ ۲۶-۲۷-۲۸ رجب المرجب ۱۴۳۷ھ ، مطابق ۴-۵-۶ مئی ۲۰۱۶ءبروز جمعرات جمعہ، منعقدہ دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر، بحوالہ نخبۃ المسائل۳۰۶/۳)

والحاجة التي من أجلها يجوز العقد المشتمل على الغرر، ولو كان كثيرا وهي أن يصل المرء إلى حالة بحيث لو لم يتناول الممنوع يكون في جهد ومشقة، ولكنه لا يهلك يشترط فيها أن تكون عامةً أو خاصة بفئة معينة، وأن تكون متعينة. (موسوعة الفقه الإسلامي والقضايا المعاصرة ٢١٢/٤)

إن التأمينات الاجتماعية التي تدفعها الدولة أو صندوق المعاشات والتأمين أو مصحلة التأمينات للعمال والعاملين والموظفين في الدولة كلها في تقديري جائزة؛ لأن الدولة ملزمة برعاية مواطنيها في حال العجز والشيخوخة والمرض ونحو ذلك من إعاقة العمل أو الكسب، ولا ينظر إلى الضريبة التي تقتطعها الدولة من الراتب الشهري أو التي يدفعها شهريًا أرباب العمل لمصحلة التأمينات الاجتماعية أو المبلغ الذي يدفعه العامل أو المؤظف باختياره في حدود نسبة مئوية كل سنة الخ. (موسوعة الفقه الإسلامي والقضايا المعاصرة ٢١٦/٤) فقط واللہ اعلم۔

سوال:-جانوروں کو زندہ یا مذبوحہ کا کاروبار کرنا شرعا کیسا ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو فصل بیان کریں؟

الجواب:-اس میں تفصیل یہ ہے بعض جانور ایسے ہیں جن کو زندہ یا مذبوحہ دونوں طرح سے کاروبار کرنا شرعا درست ہے جو مال ہو مثلا گائے بھینس اور اونٹ وغیرہ البتہ کچھ جانور ایسے ہیں جن کو نہ جیسے خنزیر ،چوہا،، منڈک وغیرہ –

ولو باع مذبوحة بحية او مذبوحة جاز اتفاقا....(رد المختار:٤١٥/٧،كتاب البيوع باب الربا،زكريا ديوبند)

ويجوز بيع جميع الحيوانات سبوي الخنزير، وهو المختار كذا في "جواهر الاخلاطي "(بالفتاوى الهندية:١١٥/٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند ت٩

ولا يجوز بيع هو ام الارض كالحية والعقرب والوزع وما اشيه ذلك ولا يجوز بيع ما يكون في البحر كالضفدع والسرطان وغيره الا السمك....(هنديه: ١١٥/٣)

سوال:-اگر کوئی شخص سودی کاروبار کرے تو اس کی امدانی کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-چونکہ سودی کاروبار کرنا حرام ہے لہذا اس کے ذریعہ حاصل ہونے والے امدانی بھی حرام ہوگا کیونکہ اگرچہ حلال کاروبار کیا جائے تب بھی اس میں حرمت و خیاثت بدکتور برقرار رہے گی البتہ ایسی حرام کمائی سے کاروبار کرنا جس کا تعلق شخص معاملات سے ہو مثلا غصب یا رشوت وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے مال سے کاروبار کیا جائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اصل رقم مالک تک پہنچائے اور اس کے ذریعہ جو کاروبار کیا ہے اس کا امدانی جائز ہے اور اگر مالک کا علم نہ ہو تو اس کی طرف سے فقراء مساکین پر وہ رقم صدقہ کر دی جائے-

والحاصل انه ان علم ارباب الاموال وجب رده عليهم والا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه....(شامي: ٣٠١/٧،كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما،زكريا ديوبند)

قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها ان من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد الى المالك فسبيله والتصدق على الفقراء..... قال: ان المتصدق....(معارف السنن: ٣٤/١،باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور سعيد)

يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا ان كنتم مؤمنين فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من الله ورسوله....الخ(سورة البقرة:٢٧٨-٢٧٩)