١.سوال:-اگر امام کی غیر موجودگی میں داڈھی کاٹنے والے نے نماز پڑھای تو داڈھی والے کی نماز ہوگی یا نہی؟

الجواب وبالله التوفيق=
واضح رہے کہ داڑھی آنے کے بعد کٹوانے یا منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ اور حرام ہے، داڑھی منڈوانا یا کتروانافسق ہے۔ جو شخص داڑھی کاٹ کر ایک مشت سے کم کرے یا مونڈے ایسے شخص کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے، اگرتوبہ کرلے تو پھر جب تک داڑھی ایک مشت نہ ہو جائے اس وقت تك وہ شخص امامت کا اہل نہیں ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ میں داڑھی والے حضرات کی نماز درست ہو جائے گی، تاہم بہتر یہی ہے کہ کوئی داڑھی والا ہی نماز پڑھائے -فقط

عن ابي هريرة رضي اللّه عنه ان رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم قال صلوا خلف كل بر وفاجر (سنن دارقطنی ٤٤/٢)

صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة. (الدرالمختار ٤١٨/٢)

علماء دین اس سلسلہ میں کیا فرماتے ھے کہ بریلوی کہ پیچھے نماز پڑھنا کیسا ھے .کیا اعادہ ضروری ھے .اگر ہاں تو اس بندہ کے بارے میں کیا مسلہ ھے جسنے لاتعداد مرتبہ بریلوی امام کی اقتداء میں نماز پڑھی .؟

الجواب وباللہ التوفیق

واضح رہے کہ بریلوی امام کے عقائد اگر حدِ کفر تک نہیں ہے، تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور اگر حدِ کفر کو پہنچ گیے تو بغیر تجدید ایمان کے اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے ، نیز جن صاحب ان امام کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان کی نماز شرعاً درست ہے اسکے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے،
البتہ بہتر یہی ہے کہ حنفی امام کے پیچھے نماز ادا کی جاے کیونکہ بریلوی عالم کی امامت مکروہ تحریمی ہے، فقط_
( مستفاد از: فتاوی قاسمیہ ٥٢٠/٦)_(فتاوی محمودیہ٩٦/٢)

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال صلوا خلف كل بر وفاجر(سنن دارقطنی٤٤/٢)

وتجوز الصلاۃ خلف كل بر وفاجر(شرح عقائد/١٥٩)

١.سوال:-سوال:-ہندوستانی زمین عشری ہے یا خراجی یا اس میں اختلاف ہے اگر اختلاف ہو تو جملہ اختلافی اقوال کو نقل کر کے بعد راجہ قول بھی بیان کریں؟

جواب:-اس مسئلہ میں زمین عشری اور خراجی کی بارے میں اکابرین کا اختلاف ہے حضرت مولانا مفتی محمود حسین گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں موجودہ حالت میں جبکہ زمین ملک سرکاری ہے تو نہ وہ عشری ہے اور نہ ہی خراجی ہے یعنی یہاں زمیندار کے افضہ میں جو سمین چھوڑی گئی ہے وہ گویا کہ حکومت نے اپنے قبضہ میں لے کر اسے یا بلا معاوضہ دی ہے لہذا اس کی حیثیت غیر مسلم کی عطا کردہ جاگیر جیسی ہو گئی ہے نیز بعض فقہی جزئیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دارالحرب کی زمینوں اور سرکاری ملکیت والی زمینوں میں عشر و خراج کچھ واجب نہیں ہوتا اس کے برخلاف حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے رائی کا خلاصہ یہ ہے کہ اس خاص صورت میں حکومت کا تصرف اصل زمین داروں کی زمین میں مالکانہ نہیں بلکہ منتظمانہ ہے لہذا اس تصرف سے اس کے عشری ہونے کی حیثیت ختم نہیں ہوگی ان کی پیداوار میں دستور عشر واجب ہوگا اس دور کے بہت سے علماء و مفتیان نے دوسرے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے ایسے زمینوں میں جو عرصہ دراز سے برابر مسلمانوں کی ملکیت میں چلے ا رہی ہے اس میں وہ شروع واجب قرار دیا ہے اور راج قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی زمین عشری یا خراجی نہیں ہے (کتاب النوازل:٢٣١/٧) (فتاوى محموديہ٣٢٤/١٤)(فتاوی قاسمیہ:٣٤٣/١١) (فتاوی دارالعلوم دیوبند:٢١١/٦-٢١٢)(امداد الاحکام:٣٧/٢-٣٨)

ويحتمل ان يكون احترازا عما وجد في دار الحرب فان عرضها ليست ارض خراج او عشر.....(در المختار مع شامي: ٢٥٧/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

وهذا نوع ثالث يعني لا عشرية ولا خراجية من الاراضي تسعى عرض المملكة مو اراضي الجوز....(حاشيه ابن عابدين ٢٩٤/٦ زكريا ديوبند)

سوال:-زمین کی پیداوار میں زکوۃ واجب ہے یا نہیں اگر واجیب ہو تو کس پیداوار پر واجب ہے اور کس پیداوار پر واجب نہیں ہے تفصیل کے ساتھ بیان کریں؟

جواب:-زمین کی پیداوار پر زکوۃ واجب ہے لیکن اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین عشری ہو یعنی اکثر حصہ میں قدرتی بارش، ندی، چشمہ وغیرہ سے سے رب کی جائے تو اس میں کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اگر وہ زمین مصنوعی آبی اور رسائی کے آلات و وسائل مثلا ٹیپ ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیرا کی جائے تو اس میں نصف و عشر (یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔

فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب ..... ويجب العشره عند ابي حنيفه رحمه الله في كل ما تخرجه الارض من: الحنطة والشعير...(الهنديه: ٢٤٧/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

وتعجب فيه مسقي سماء اي مطر وسيح كنهر بلا شرط مصاب راجع لكل وبلا شرط بقاء وحولان حول..... نحو حطب وقصب... نصفه في مسقي غرب..... بلا رفع مؤن كلف الذرع وبلا اخراج البذر...(الدر المختار:٢٦٥/٣-٢٦٩ كتاب الزكاة باب العشر)

قال ابو حنيفه في قليل ما اخرجه الارض وكثيره العشر سواء يسقي سيحا او سقته السماء الا القصب والحطب والحشيش وقال لا يجب العشر الا فيما له ثمرة باقية....(هدايه: ١/٢١٧/١-٢١٨ كتاب زكاة زمزم بوك ،ديوبند)

ایک شخص کے پاس ٩ 🐃 ہیں وہ اسے پالتا ہے ایک جگہ ہے وہیں چارہ وغیرہ کھلاتا ہے تو اس پر کس طرح زکوٰۃ واجب ہوگی؟؟

الجواب وبالله التوفيق: گائے بھینس میں زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ سال کا اکثر حصہ جنگل میں چر کر گزارا کرتے ہوں، اور مذکورہ صورت میں انہیں گھر پر چارہ کھلایا جاتا ہے؛ لہذا زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

(١): هي التي تكتفي بالرعي في أكثر السنة. وتحته في هامشه: قيد بالأكثر لإفادة أنه لو علفها نصف الحول فإنها لا تكون سائمة فلا زكاة فيها. (البحر الرائق/كتاب الزكاة/باب صدقة السوائم، ٣٧٢/٢، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١.سوال:-زکوۃ اور صدقات کا مال غیر مسلم کو دینا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟

جواب:-زکوۃ کا مال غیر مسلم کو دینا شرعا درست نہیں ہے خواہ وہ کتنا ہی حاجت مند کیوں نہ ہو کیونکہ زکوۃ اور صدقات یہ مسلمان غرباء کا حق ہے غیر مسلم کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی البتہ نفلی صدقہ دے سکتا ہے۔فقط واللہ اعلم ۔

واما الحرب المسامن فلا يجوز دفع الزكاة والصدقة الواجبتة اليه بالاجماع ويجوز صرف التطوع اليه ..(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

وسكت عن المؤلفة فلو بهم... اما بزوال العلة او نسخ لقوله الصلاة والسلام لماذا في اخر الامر: خذها من اغنيائهم وردها في فقرائهم...(در المختار مع شامي:٢٨٧/٣-٢٨٩ كتاب الزكاة، زكريا ديوبند)

ومنها: ان يكون مسلما فلا يجوز صرف الزكاة الى الكافرين بلا خلاف لحديث معاذ خذها من اغنيائهم وردها في فقراهم أمر بوضع الزكاة في فقرائهم من يؤخذ من اغنيائهم وهم المسلمون فلا يجوز وضعها في غيرهم...(بدائع الصنائع:١٦١/٢ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

سوال:-صدقات کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کا حکم تحریر کرے؟

جواب:-اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لیے جو مال غرباء و مساکین کو دیا جاتا ہے یا خیر کے کسی کام میں خرچ کیا جاتا ہے اسے صدقہ کہتے ہیں اور صدقہ کی تین قسمیں ہیں-(1) فرض جیسے: زکوۃ (2) ۔واجب جیسے: نظر صدقہ فطر اور قربانی وغیرہ. (3) نفلی صدقات جیسے: عام طور پر خیرات کرنا، فرض واجب صدقات کو ادا کرنا ضروری ہے اور نفلی صدقہ ادا کرنا ضروری تو نہیں ہے البتہ یہ عمل افضل اور بہتر ہے لہذا نفلی صدقہ کرنا بھی چاہیے۔فقط واللہ اعلم

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر من رمضان على كل نفس من المسلمين حر او عبد او رجل او امرأة صغير او كبير...(مسلم شريف: ٦٧٨/٢ كتاب الزكاة رقم الحديث:٩٨٤)

صدقه الفطر واجبه على حر المسلم اذا كان مالكا لمقدار النصاب فاضلا المسكنة وثيابه واساسه وسلاحه .. واما وجوبها فالقول عليه الصلاه والسلام في خطبته ادوا عن كل حر و عبد صغير او كبير...(هدايه: ٢٢٥/١،كتاب الزكاة زمزم بوك ،ديوبند)

الصدقة: محركة هي العطايه التي تبتغي بها المثوبة من الله تعالى والهبه هي التي تبتغي منها التودر .....(قواعد الفقه:٣٤٨ باب الصاد ط: دار الكتاب ديوبند)

سوال:-مال ضمار کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:-مال ضمار اس مال کو کہتے ہیں جو گم ہونے کے بعد اس کے واپس ملنے کی امید نہ ہو اور مال ضمار پر زکوۃ واجب نہیں ہے مثلا بگوڑا غلام وغیرہ۔فقط واللہ اعلم

فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما وتفسير مال الضمر: وهو كله معلم غير مقدور الانتفاع مع قيام اصل الملك العبد الابق والضال، والمال المفقود.....(بدائع الصنائع:٨٨/٢،كتاب الزكاة: اشرفيه ديوبند)

المال الضمر: راجع الضمار وهو المال الذي لا يرجع عوده..(قوائد الفقه:٤٥٨،باب الميم.ط: دار الكتاب ديوبند)

ومال الضمار كل مال يبقى اصله في ملكه لكن الزوال عن بره زوالا لا يرجى عوده..... والاصل فيه اثر على رضا الله عنه: لا زكاة في مال الضمار..(المحيط البرهاني: ٣٠٩/٣ كتاب الزكاة ط: بيروت)

١.سوال:-اگر کسی کے داماد غریب ہو تو اس کو زکوۃ کا مال دینا شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب:-اپنے غریب داماد کو زکوۃ کا مال دینا شرعا درست ہے کیونکہ داماد اصول اور میں سے نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ داماد دینے سے بیٹی کو دینا ثابت نہیں ہوتا بشرط کہ داماد میں وہ تمام شرائط موجود ہو جو زکوۃ وصول کرنے کے لیے ہے ۔فقط واللہ اعلم

ويجوز دفع الزكاة الى من سوى الوالدين والمولودين من الاقارب من الأخوة والاخوات وغيرهم لانقطاع منافع الاملاك بينهم.... بدائع الصنائع:١٦٢/٢ كتاب الزكاة, اشرفيه ديوبند)

والافضل صرفها للاقرب والاقرب من كل زي رحم محرم منه ثم جيرانه ثم لاهل محلته ثم لاهل حدفته...(حاشية التحطاوي:٧٢٢ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

ويجوز دفعها لزوجه ابنه وزوج ابيه.....(تاتارخانية:٣٤٥/٢ كتاب الزكاة بيروت)

سوال:-اگر کوئی شخص بیٹی کی شادی کے لیے یا حج کرنے کے لیے بینک میں پیسہ جمع کرے تو اس پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-بیٹی کی شادی کے لیے جمع شدہ رقم اگر نصاب تک پہنچ جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہے اور حج کے لیے جمع شدہ رقم صرف الگ کی ہو اب تک جمع نہ کی ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہے اگر بقدر نصاب ہو۔فقط واللہ اعلم

ومنها: كون المالي فاضلا عن الحاجة الاصلية لان به يتحقق الغني ومعنى النعمة وهو التنعم.....(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

وكل دين لا مطالب له من جهة العباد كديون الله تعالى من النزور والكفارات وصدقة الفطر وجوب الحج لا يمنع ...(الهنديه: ٢٣٥/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

اذا امسكه لينفق كل ما يحتاج به فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فانه يزكي ذلك الباقي وان كان قصده الانفاق منهم ايضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الى حوائجه الاصلية وقت حولان الحول....(الدر المختار مع شامي: ٢٦٢/٢ كتاب الزكاة سعيد)

سوال:-اگر عورت کے پاس زیورات ہو تو ان پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں اگر واجب ہے تو شوہر پر واجب ہے یا بیوی پر بتفصیل بیان کریں؟

جواب:-اگر عورت کے پاس جمعرات ہو اور وہ بقدر نصاب ہو تو ان سے اور رات پر زکوۃ واجب ہے اور عورت کے زیارت کے زکوۃ عورت ہی پر واجب ہے اس لیے کہ جو شخص مالک نصاب ہوتا ہے اس پر ہی زکوۃ واجب ہوتا ہے۔فقط واللہ اعلم

وسببه اي سبب افتراضها ملك نصاب حولى تام...(در مختار مع شامي: ١٧٤/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

فرضت على حر مسلم مكلف مالك للنصاب من نقد ولو تبرا او حليا او انية۔۔۔۔۔(حاشیة الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٧١٣-٧١٤،اشرفيه ديوبند)

١.سوال:-اگر کوئی شخص پلاٹ کا کاروبار کر رہا ہوں تو اس پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-سورۃ مسئلہ میں اگر وہ نصاب کے بقدر ہو تو ہر سال ان کی موجودہ قیمت کا حساب کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا شرعا لازم ہوگا اور اگر پلاٹ کرایہ پردی ہو تو اس کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی البتہ اگر حاصل ہونے والے کرایہ بقدر نصاب ہو اور وہ جمع بھی ہو تو اس پر زکوۃ واجب اور ضروری ہے اگر خرچ ہوتا ہو تو زکوۃ لازم نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

ومنها: قانون النسب نامين حقيقه بالتوالد والتناسل والتجارة... فصريح عند عقد التجارة ان يكون المملوك للتجارة سواء كان...(الهنديه: ٢٣٥/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

هو نوعان حقيقي وتقديري: الحقيقي الزياده بالتوالد والتناسل والتجارة والتقديرى تمكنه من الزيادة....(شامي: ١٧٩/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

ومنها: كون المال ناميا لان معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل الا من مال النامي... بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة ،اشرفيه ديوبند)

سوال:-اگر کوئی نابالغ مالدار ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-زکوۃ عبادت محض ہے اور نابالغ بچہ عبادت محضہ کا مخاطب نہیں ہے لہذا نہ بڑی بچہ پر زکوۃ والد نہیں ہے۔

قوله عقله والبلوغ فلا تجب على المجنون والصبي لانها عباده محضة وليس مخاطبه بها وايجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد...(رد المختار مع شامي: ١٧٣/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

ومنها البلوغ عندنا فلا تجبوا على الصبي وهو قول على وابن عباس فانها قال لا تجب للزكاة على الصبي حتى تجب عليه الصلاة (بدائع الصنائع :٧٩/٢ كتاب الزكاة اشرفىه ديوبند)

قوله مكلف البالغ عاقل فلا سكتوا على الصبي وقال المؤلف في الحاشية..(حاشية الطحطاوي:٧١٤ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

١. ایک بچہ کا عقیقہ والے دن نام رکھا گیا اب تین سال بعد نام کے معنی اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کیا جارہا ہے، تو کیا تبدیل کرسکتے ہیں؟؟

الجواب وبالله التوفيق:
والدین کو اولاد کے لیے اچھے نام کا انتخاب کرنا چاہئے، البتہ اگر کسی وجہ سے ایسا نام رکھ دیا گیا ہو جو معناً اچھا نہ تو اسے تبدیل کرسکتے ہیں۔

عن عائشة أن النبى صلى الله عليه وسلم: كان يغير الإسم القبيح. (سنن الترمذي/أبواب الأدب/باب ما جاء في تغيير الأسماء، ١١١/٢، ط: الأشرفية ديوبند)

کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئ ایسی حدیث بھی ہے جس میں آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز قضاء ہوئ ہو اور تعداد معلوم نہ ہو تو وہ شخص رمضان کے آخری جمعہ کو چار رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ۱۵مرتبہ سورہ کوثر اور ۴مرتبہ آہۃ الکرسی پڑھے تو اسکی اگر سات سو ۷۰۰نماز بھی قضاء ہو تو یہ اسکے لئے کفارہ بن جائےگی ؟؟؟

الجواب وبالله التوفيق:
مروجہ قضائے عمری بدعت ہے، نہ قرآن میں اس کا ثبوت ہے اور نہ حدیث میں اس بارے میں کوئی روایت ہے، نہ صحابہ کے آثار ہیں ،نہ ہی تابعین ،تبع تابعین اور بزرگان دین کے عمل میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ ہے اور ائمہ ار بعہ کے مذہب کی معتبر کتابوں میں بھی اس کا کوئی ذکر اور نام و نشان نہیں ہے۔
اس بارے میں جو روایت پیش کی جاتی ہے، وہ موضوع, من گھڑت ہے۔

مستفاد از:
فتاویٰ محمودیہ، ٢٩٦/٨،ط: ادارۃ الفاروق
کفایت المفتی، ٢٣٢/٤، ط: ادارۃ الفاروق

حدیث من قضیٰ صلٰوۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من رمضان کان جابرًا لکل صلٰوۃٍ فائتۃٍ فی عمرہٖ الٰی سبعین سنۃً باطل قطعًا لانہٗ مناقضِ للاجماع علٰی ان شیئًا من العبادات لایقوم مقام فائتۃٍ سنواتٍ اھ۔ (الموضوعات الکبیر:ص:356، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

من صلى في آخر جمعة من رمضان الخمس الصلوات المفروضة في اليوم والليلة قضت عنه ما أخل به من صلاة سنته.هذا: موضوع لا إشكال فيه ۔ (الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ،ص:54،ط:دارالکتب العلمیۃ)

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں: عورت کے لیے پیتل کی انگوٹھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب و بالله التوفيق
عورتوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی پہننا بالاتفاق جائز ہے ۔۔ اور دوسری دھات یعنی لوہے ،پیتل وغیرہ کی پہننا مکروہ ہے ۔۔
کتاب النوازل ۔۔ جِلد/۱۶-۴۶۱

قال العلامة التمرتاشي : ولا يتختم بغيرها كحجر وذهب وحديد وصفر .(تنوير الابصار ) و قال ابن عابدين تحت قوله :(فيحرم بغيرها ) وفي الجوهرة . والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء. (شامي . كتاب الحظر و الاباحة .جلد٩/٥١٨

سوال:-دکان اور فیکٹوریوں کی کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہے اور کن چیزوں پر زکاة واجب نہیں ہے؟

جواب:-اہل صنعت وہ کاریگر کے لیے ان کے پیشہ کے اوزار ضرورت اصلیہ میں داخل ہے لہذا دکان کی ترازو اور فیکٹریوں کی مشینیں وغیرہ کی زکوۃ نہیں ہے ان کے علاوہ جو چیز اموال تجارت ہے ان پر زکوۃ واجب ہے۔فقط واللہ اعلم

وفسره ابن مالك اي فسره المشغول بالحاجة الاصلية والا ولى فسرها وذلك حيث قال وهي ما يدفع الهلاك.....(الشامي: ١٧٨/٣ كتاب الزكاة زكريا دوبند)

وعلى حاجه الاصلية اكتبابه المحتاج اليها لدفع الحد.. كالنفقة ودور السكنى و الات الحرب والحدفة واساس المنزل والدواب االركوب وكتب العلم .... الآخ (حاشية الطحطاوي:٧١٤،الاشرفيه ديوبند)

الزياده عن الحادث الاصليةايشترط الخفيفية كون المال الواجب فيه زكاة فارغا عن الدين وعن الحاجة الاصلية...(الفقه الاسلامي:١٨٠٩/٣ كتاب الزكاة بيروت)

سوال:-اگر کسی کے پاس نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو البتہ اس کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے لیے کوئی رقم موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ زکوۃ کس طرح ادا کرے گا؟

جواب:-اس صورت میں وہ شخص جس کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے لیے پیسہ نہ ہو تو وہ سونا یا چاندی کی واجب مقدار سونا چاندی ہی زکوۃ میں دے دے کیونکہ پیسوں ہی سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے یا تو وہ چاندی کی کچھ مقدار کسی کے پاس بیچ کر رقم حاصل کریں اور اس کے بعد ادا کر دیں۔فقط واللہ اعلم

وفي كل مائتی درهم خمسة دراهم وكل عشرين مثقالا نصف مثقال...(تاتارخانية:١٥٥/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

في كل مائتى درهم من خمسة اراهم وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال..(هنديه: ٢٤٠/١ كتاب الزكاة الاشرفيه ديوبند)

انه عليه الصلاة والسلام كتب الى معاذ رضي الله عنه :ان خذ من كل مائتی درهم من خمسة دراهم و من كل عشرين مثقالا من ذهب نصف مثقال ( هدايه:١٠٢/١ كتاب الزكاة)

١.سوال:-اگر کسی شخص کے پاس دو گاڑیاں موجود ہو تو ان گاڑیوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-سورۃ مسئلہ میں زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زکوۃ کی نصاب کے بقدر اس مال پر زکوۃ واجب ہوتی ہے جو ضرورت سے زائد ہونے کی ساتھ ہو “مال نامی” بھی ہو ہاں مذکورہ چیزوں میں مالک سے زکوۃ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

مفازع عن الحاجة الاصلية لان المشغول بها كالمعدوم وفسره ابن مالك لما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كاثيابه.... (رد المختار ١٧٨/٣-١٧٩،كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

ومنها: كون المال ناميا لان معنى زكاة وهو انما لا يحصل الا من مال الناى ولسنا معنى به حقيقة النماء لان ذلك غير معتبر والاخ ..(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة الشرفيه،ديوبند)

وعن حاجة الاصلية نام ولو تقديرا.... وانما الحقيقي يكون بالتوالد والتناسل والتجارات والتقديريى يكون بالتمكن من الاستنماء الاخ (حاشية الطحطاوي:٧١٥ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

سوال:-دکان کی مال پر زکوۃ کس طرح نکالے جائے گے ؟

جواب:-دکان میں موجود سامان تجارت کی قیمت لگائی جائے گی وہ اگر نصاب کو پہنچتی ہو تو اس پر زکوۃ نکالنا فرض ہوگا۔فقط واللہ اعلم

عن ابراهيم قال: كل شيء اريد به التجارة ففيه الزكاة وان كان لبنا او طينا قال كان الحكم يرى ذلك....(المصنف لابن ابي شيبه: ٤٠٦/٢،رقم: ١٠٤٦٢)

رجل له مئتا قفيز حنطه للتجارة حال وعليها الحول وقيمتها مئتا درهم حتى وجبت عليه الزكاة...(التاتارخانية:١٦٩/٣،رقم: ٤٠١٨)

عن سمورة بن جندب: واما بعده فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامرنا ان تخرج الصدقة من الذي نعد للبيع..(سنن الكبرى للبيهقي:٢٤٧/٤،رقم ٧٥٩٧)

سوال:-ضرورت اصلیہ میں کون سی چیزیں داخل ہے اور کون سی چیز داخل نہیں تفصیل سے بیان کریں؟

جواب:-ہر انسان کی ضروریات اور حاجت عموما دوسروں سے مختلف ہوتی ہے لہذا جو چیزیں جن کے استعمال میں ہو اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش اتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہو تو وہ تمام چیزیں حاجت اصلی میں داخل ہیں مثلا کھانا پینا پہننے کے کپڑے رہنے کے مکان وغیرہ اور جو چیزیں انسان کے استعمال میں نہ اتی ہو وہ حاجت اصلی میں داخل نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

ومنها: كون المال فاضلا عن الحاجة الاصلية لان به يتحقق الينا الآخ ..(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة الشرفيه ديوبند)

وليس في دور السكنى وثياب البدن واتات منازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة والسلاح الاستعمال الاخر...(هدايه :٢٠٢/١،كتاب الزكاة ،زمزم،ديوبند)

الاصلي واما المستفاد في اثناء الحول فيضم الى مجانسه ويزكي بتمام الحول الاصلي سواء استفيد بتجارة(حاشية الطحطاوي:٧١٥, كتاب الزكاة اشرفيه،ديوبند)

١.سوال:-سنن مؤکدہ میں تحیۃ المسجد یا کسی بھی نفل نماز کی نیت کرسکتے ہیں کیا ؟؟؟

الجواب و بالله التوفيق
مسجد میں داخل ہونے کے بعد آپ فوراً جو بھی نماز پڑھیں خواہ فرض ہو سنت ہو یا نفل اُس کے ضمن میں تحيتہ المسجد ادا ہو جاتی ہے ۔۔ اور بہتر ہے کہ باقاعدہ دل میں نیت کر لے ۔۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں نفل یا سنت نماز میں تحیتہ المسجد کی نیت کر سکتے ہیں ۔۔
کتاب المسائل/1-496
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 18):

"(ويسن تحية) رب (المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض) أو غيره، وكذا دخوله بنية فرض أو اقتداء (ينوب عنها) بلا نية. قال في النهر : وينوب عنها كل صلاة صلاها عند الدخول فرضا كانت أو سنة ..(شامي زكريا /٢_٤٥٩) أحسن الفتاوى/٣-٤٨١

کیا کلیجی کو آپ صلی اللہ علیہِ وسلم نے ناپسند فرمایا اور کیا کبھی آپ نے کلیجی کھائی ہے رہنمائی فرمائیں۔

الجواب وبالله التوفيق:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی کو ناپسند نہیں فرمایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلیجی کھانا ثابت ہے۔

عن ابن بريدة، عن أبيه قال: كان رسول الله صلى عليه وسلم إذا كان يوم الفطر لم يخرج حتى يأكل شيأ وإذا كان الأضحى لم يأكل شيأ حتى يرجع وكان إذا رجع أكل من كبد أضحيته. (السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/باب من أكل يوم النحر قبل الصلاة، ٤٠١/٣، دار الكتب العلمية بيروت)

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أحلت لنا ميتتان ودمان، الميتتان: الحوت والجراد، والدمان: الكبد والطحال. (مرفات المفاتيح/كتاب الصيد والذبائح/باب ما يحل أكله وما يحرم، ٥٧/٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

ٹیک یا سہارا لگاکر نماز پڑھ نے سے نماز درست ہوجائیں گی یانہیں ؟ مدلّل جواب مرحمت فرمائیں؟

الجواب وبالله التوفيق»
واضح رہے کہ بلاعذر ٹیک لگاکر فرض نماز ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ضرورت یا عذر مثلاً بیماری یا چکر وغیرہ کی وجہ سے ٹیک لگائی جائے تو منع نہیں ہے، اور نفل نماز بلاعذر ٹیک لگاکر ادا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، اور اگر عذر ہو مثلاً تھکاوٹ وغیرہ ہو تو بلاکراہت جائز ہے -فقط

(وللمتطوع) أي: المتنفل (أن يتكىء على شيء) أي شيء كان كعصاً ونحوها (إن أعيا) أي: تعب وقد جاء لازمًا ومتعديًا يقال: أعيا الرجل في المشي إذا تعب وأعياه الله والمراد اللازم، قيد بالإعياء لأن الاتكاء بدونه مكروه وقيل: لا يكره لأن القعود بغير عذر لا يكره فالاتكاء أولى وعندهما لما لم يجز القعود كره الاتكاء إلا أن الأصح ما قال فخر الإسلام: إنه يكره الاتكاء بلا عذر دون القعود لجواز أن يعد الاتكاء إساءة أدب دون القعود إذا كان على هيئة لا تعد إساءة أدب.(الدر المختار مع رد المحتار ١٠٢/٢)

أخرج ابن أبي شیبۃ عن الحسن أنہ کان یکرہ أن یعتمد الرجل علی الحائط في صلاۃ المکتوبۃ إلا من علۃ، ولم یر بہ في التطوع بأساً۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ / باب في الرجل یعتمد علی الحائط وہو یصلي ۳؍۵۵۱)

١.سوال:-اگر کوئی شخص زکوۃ کا مال مسجد کی تعمیر میں لگائے تو یہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب:-مسجد کی تعمیر یا کسی بھی کام میں لگانا درست نہیں ہے( یعنی صدقات واجبہ اور زکوۃ کی رقم) اس لیے کہ اس میں صرف امداد ہی کا پیسہ لگانا چاہیے اور زکوۃ کا مال یہ فقراء مساکین کے لیے ہے. فقط واللہ اعلم

ولا يجوز ان يبني بالزكاة المسجد...... وكل ما لا تملك فيه..(الهنديه: ٢٥٠/١،كتاب الزكاة زكريا دوبند)

والايتاء: وهو التمليكه لقوله تعالى (واتوا الزكاة) فلا قتادى بطعام اباحة وبما ليس بالتمليك رأسا من بناء المسجد ونحو ذلك بما ليس بتمليك من كل وجه (بدائع الصنائع:١٨٩/٢،ما يسقط بعد الوجوب زكريا ديوبند)

واما ركنه فهو التمليك لقوله تعالى: (واتوحقه يوم حصاده:(الاعراف: ١٤١)

سوال:-اگر کسی کے پاس نصاب سے کم سونا یا چاندی ہو یعنی نصاب سے کم دونوں ہو یعنی نصاب سے کم کچھ روپے کچھ چاندی ہو تو اسی صورت میں کس کا اعتبار ہوگا اور کس طرح زکوۃ نکالی جائے گی؟

جواب:-سورت مسئلہ میں اس وقت دونوں کو ملایا جائے گا جو سونا ، چاندی نصاب سے کم ہے،پھر جب ملایا ہوا دونوں کو اگر دونوں کی قیمت مل کر سونے یا چاندی کے کسی نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہو جائے گی مثلا اج کل سونیا اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا فرق ہو گیا ہے اب اگر کسی کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور چاند تولہ چاندی ہے تو دونوں کی جب قیمت لگائی جائے تو چاندی کے اعتبار سے نصاب تک پہنچ جائے ، لہذا زکوۃ واجب ہوگی اور نہ نہیں۔

ولو فضل من النسابين اقل من اربعة مساقيل واقل من اربعين درهما فانه تضم احدى زيادتين الى الاخرى... ولو ضم احد النصابين الى الاخرى حتى يودي كله من الذهب او من الفضة..(الهنديه: ٢٤١/١،كتاب الزكاه زكريا ديوبند)

ويضم الذهب الفضة وعكسه بجامع الثمانية قيمة وقال بالاجزاء...(رد المختار مع الشامي: ٢٣٤/٣-٢٣٥ كتاب الزكاة باب الزكاة المال زكريا ديوبند)

ويضم الذهب الى الفضة والفضة الى الذهب ويكمل احد النصابين بالاخرى عند علمائنا.... وفي الخلاصة: يكمل احد النصابين بالاجزاء...(٠التاتارخانية:١٥٨/٣،كتاب الزكاة زكاة المال زكريا ديوبند)

سوال:-مال نامی کس مال کو کہتے ہیں مثال دے کر جواب بیان کریں؟

جواب:-مالی نامی اس مال کو کہتے ہیں جو پڑھنے والا مال ہو خواہ حقیقتا بڑھیں یا حکم اس بڑھنے کی 3 سورتیں ہیں- (1) تجارت سے بڑھنا (2). افزائش نسل سے بڑھنا (3). خلق یعنی پیدائش طور پر نامی ہونا جیسے سونا چاندی وغیرہ-

ناما لو تقديرا... النماء... وفي الشرع: وهو نوعان حقيقي وتقديري الحقيقي الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات والتقدير تمكنه من الزكاة بكون المال في يده او يد نائبه...(رد المختار مع شامي: ١٧٩/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

ومنها كون المالي ناميا لان معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل الا من المال النامى ولسنا نعني به حقيقة النماء(بدائع الصنائع:٩١/٢ كتاب الزكاة مراتب الديون زكريا ديوبند)

ومنها كونه النصاب ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل والتجارة او تقديري بان يتمكن من الاستمناء بكون المال في يده او في يد النائب ونقسم كل واحد منهما الى قسمين خلقي وفعل وهكذا في التبين(الهنديه: ٢٣٥/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)