کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسلہ ذیل کے بارے میں قران مجید کے رکوع کے بارے میں دو قول منقول ہیں (1) 558 (2)540 دونوں قول میں سے کونسا قول اہل سنت والجماعت کے نزدیک راجح ہے تحقیق مطلوب ہے

الجواب وبالله التوفيق: “فتاویٰ عالمگیریہ” میں مشائخِ بخاری کے حوالے سے رکوعات کی تعداد ٥٤٠ ہی بیان کی گئی ہے، لیکن ہمارے یہاں مروجہ قرآن کریم کے نسخوں میں رکوعات کی تعداد ٥٥٨ پائی جاتی ہے، تو اس سلسلہ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی فرماتے ہیں “ہوسکتا ہے کہ رکوع کی علامت لگانے میں مختلف نسخوں میں کچھ اختلاف رہا ہو۔ مستفاد از: (علوم القران، ص: ١٩٨، ط: دار العلوم کراچی)

وحكي أن المشايخ رحمهم الله تعالى جعلوا القرآن على خمسمائة وأربعين ركوعا وأعلموا ذلك في المصاحف حتى يحصل الختم في ليلة السابع والعشرين. ( الفتاوى الهندية/كتاب الصلاة/الباب التاسع: في النوافل/فصل: في التراويح، ١٣٠/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

صاب نامی کا مالک ہونے اور حولان حول ہوجانے کے باوجود زکاۃ ادا نہیں کی پھر نصاب ہلاک ہوگیا تو کیا اس پر سابقہ زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا جیسے نماز وقت پر نہ ادا کرنے سے قضا لازم ہوتی ہے ؟

الجواب وبالله التوفيق: کسی شخص کے مال پر سال گزرنے کے بعد پورا مال ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ ساقط ہوجاتی ہے؛ البتہ اگر سارا مال ہلاک نہ ہو بلکہ کچھ مال ہلاک ہوا ہو تو ایسی صورت میں جتنا مال ہلاک ہوا ہے اسی کے بقدر زکوٰۃ معاف ہوگی اور مابقیہ پر بدستور زکوٰۃ واجب رہے گی۔

وإذا هلك المال بعد وجوب الزكاة سقطت عنه الزكاة، لتعلقها دون الذمة، وإذا هلك بعضه سقط حظه. (اللباب في شرح الكتاب/كتاب الزكاة/باب زكاة الخيل، ١٤٦/١، ط: المكتبة العلمية بيروت)

وذهب الحنفية إلى أن الزكاة تسقط بتلف المال بعد الحول سواء أتمكن من الأداء أم لا. وإن هلك بعض النصاب سقط من الواجب فيه بقدر ما هلك منه لتعلقها بالعين لا بالذمة. (الموسوعة الفقهية/المادة: تلف/تلف زكاة المال، ٢٦٨/١٣، ط: الكويت)

وإن هلك المال بعد وجوب الزكاة سقطت الزكاة........ وفي هلاك البعض يسقط بقدره اعتبارا له بالكل. وفي هامشه: أراد أنه إذا هلك كل النصاب كأن يسقط كل الواجب فكذلك إذا هلك بعض النصاب يسقط بعض الواجب اعتبارا للبعض بالكل. (البناية شرح الهداية/كتاب الزكاة/فصل: وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقة، ٣٦٣/٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله تعالى أعلم.

سوال: - قرآن وحدیث میں کہیں چاول کا ذکر ہے کیا؟

الجواب وبالله التوفيق: قرآن کریم اوراسی طرح صحیح احادیث میں چاول کا ذکر نہیں ملتا، البتہ چاول کے تعلق سے کچھ من گھڑت باتیں حدیث کے نام سے مشہور کردی گئیں ہیں مثلا: چاول کھانوں کا سردار ہے، چاول مجھ سے ہے، چاول میرے نور سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے چالیس دن تک چاول کھائے اس کے دل سے زبان کے ذریعہ حکمت کا سرچشمہ پھوٹے گا وغیرہ۔ ان تمام باتوں کو حضرات محدثین نے من گھڑت قرار دیا ہے۔

أرز: فيه حديثان باطلان موضوعان على رسول الله صلى عليه وسلم، أحدهما: أنه"لو كان رجلا، لكان حليما" الثاني: "كل شيئ أخرجته الأرض ففيه داء وشفاء إلا الأرز، فإنه شفاء لا داء فيه" ذكرناهما تنبيها وتحذيرا من نسبتهما إليه صلى الله عليه وسلم. (زاد المعاد في هدي خير المعاد/تشبيه المؤمن به، ٢٦٢/٤، ط: مؤسسة الرسالة)

حديث: الأرز. ليس بثابت، ذكره ابن الديبع. (المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، ص: ٥٦، رقم: ٢٧، ط: مؤسسة الرسالة) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١ .سوال :-ایک عورت کے دو لڑکے ہیں اور لڑکی ہے اور لڑکی کی شادی ہو چکی ہے لیکن بہت غریب ہے شوہر کماتا نہیں اب ماں نے اس کے لئے کچھ پیسے جمع کئے ہیں اس طور پر کہ کچھ تو اپنی ملکیت میں سے اور کچھ اس طرح کہ بیٹے ماں کے پاس پیسے جمع کیا کرتے تھے تو ماں بیٹوں کی اجازت کے بغیر اس میں سے بھی نکال لیا کرتی تھی۔اب سوال یہ کہ کیا ماں نے جو پیسے بیٹوں کی اجازت کے بغیر نکالے ہیں اسے اپنی بیٹی کو دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب و بالله التوفيق:
سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ بیٹے نے ماں کو اپنے مال کا مالک نہیں بنایا ۔ بلکہ اُس کے پاس بطور امانت رکھا ہے یا بغرض حفاظت ۔ لہٰذا ماں کا بیٹے کے مال میں میں سے بلا اجازت اپنی بیٹی کی ضرورت میں صرف کرنا جائز نہیں ۔۔ البتہ بھائی کو چاہیئے کہ وہ اپنے بہن کی ضرورت کا خیال رکھے ۔ ان شاء اللہ ۔ اجر عظیم کا مستحق ہوگا

فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه. (سورة البقرة، رقم الآية: ۲۸۳)

وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: "لا ‌إيمان ‌لمن ‌لا ‌أمانة له ولا دين لمن لا عهد له". رواه البيهقي في شعب الإيمان". (کتاب الایمان/الفصل الثانی، ١٧/١، ط: المكتب الإسلامي بيروت)

الأصل أنه لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا أذنه. (الموسوعة الفقهية/المادة: ضمان/حال تنفيذ إذن المالك وغيره، ٢٩٦/٢٨، ط: الكويت)

سوال :- فأمہ ھاویہ کی جگہ اگر ۔ فی عیشہ الراضیہ ۔ پڑھ دیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ؟

الجواب وبالله التوفيق:
ذکر کردہ صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی۔

وإن اختلفا متباعدا نحو أن يختم آية الرحمة بآية العذاب، أو آية العذاب بآية الرحمة....فعلى قول أبي حنيفة ومحمد: تفسد صلاته. (الفتاوى التاتارخانية/كتاب الصلاة/الفصل الثاني: مسائل زلة القاري، ٩٦/٢، رقم: ١٨٤٣، ط: زكريا ديوبند)

إن كانت الكلمة الثانية في القرآن فهو على وجهين، إما إن كانت موافقة للأولى في المعنى، أو مخالفة، فإن كانت موافقة لا تفسد صلاته، وإن كانت مخالفة، قال عامة المشائخ تفسد صلاته وهو قول أبي حنيفة، ومحمد، وعن أبي يوسف فيه روايتان: والصحيح هو الفساد؛ لأنه أخبر بخلاف ما أخبر الله تعالى. (خانية على هامش الهندية/كتاب الصلاة/فصل: في قراءة القرآن خطأ في الأحكام المتعلقة بالقراءة، ١٥٢/١) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

ایک شخص نے زنا کیا ہے اسے پکڑلیا گیا ہے اب اس پر کیس بھی چل رہاہے تو کیا اس کے حق میں دعاء کرسکتے ہیں؟ یا نہیں کرسکتے؟ جو بھی حکم ہو ارشاد فرمائیں۔

الجواب وبالله التوفيق:
اگر زانی نے دعاء کرنے والے کے سامنے توبہ کرلی ہے تو اس کے حق میں دعاء کرسکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

 مستفاد از:
(إمداد الفتاوى جديد مطول حاشيه، ١٧٩/٩، :ط زكريا ديوبند)

قال الله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان. (سورة المائدة، رقم الآية: ٢)

قال الله تعالى: ولا تأخذكم بهما رأفة في دين الله إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر. (سورة النور، رقم الآية: ٢)

عن أبي عبيدة بن عبد الله عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التائب من الذنب كمن لا ذنب له. (ابن ماجة شريف/أبواب الزهد/باب ذكر التوبة، ص: ٣١٣، رقم الحديث: ٤٢٥٠، ط: دار السلام) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١.سوال:-کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں: ثنایا نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب و بالله التوفيق
ثنایا ثنیۃ کی جمع ہے اور ثنایا سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو کہتے ہیں ۔۔ نيز پہاڑی راستے پر ثنیہ کا اطلاق ہوتا ہے ( القاموس الوحید/225) یہ نام رکھ سکتے ہیں ۔۔
البتہ بہتر یہ ہے ہے کہ ازواجِ مطہرات اور صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے ۔۔ فاطمہ خدیجہ حمنہ ۔۔ وغیرہ

ایک مکتب ہے اس میں پڑھنے والے تمام بچے فیس دیتے ہیں اس مکتب کا ایک نظام یہ ہے کہ جس طالب علم کی مہینے میں ایک بھی غیر حاضری نہیں ہوتی ہے اسے پچاس روپیے بطورِ انعام کے دیے جاتے ہیں، چنانچہ ایک شخص نے صدقہ کے لیے کچھ رقم الگ نکالی اور وہ مکتب کے استاد کو دیدی اور کہاں یہ پیسے بچوں کے انعام میں صرف کردیے جائیں تو کیا یہ پیسے بچوں کے انعام صرف کرسکتے ہیں ؟؟

الجواب وبالله التوفيق:
سوالِ مذکور میں صدقہ کی رقم بچوں کے انعام میں صرف کرسکتے ہیں۔

وقيد بالزكاة، لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي. (البحر الرائق/كتاب الزكاة/باب مصرف الزكاة، ٤٢٧/٢، ط: دار الكتب العلمية)

الأصل أن الصدقة تعطي للفقراء والمحتاجين... واتفقوا على أنها تحل للغني، لأن صدقة التطوع كالهبة فتصح للغني والفقير. (الموسوعة الفقهية/المادة: صدقة/التصدق على الفقراء و الأغنياء، ٣٣٢/٢٦، ط: الكويت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

اگر ہم کسی کو نیے کپڑے پہنے ہوئے دیکیھں تو اسے دیکھ کر کسی دعاء کا پڑھنا حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب و بالله التوفيق:
اگر کسی کو نیا کپڑا پہنے ہوئے دیکھیں تو درج ذیل دعاء پڑھیں: “الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا “.

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ، فَقَالَ : " ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ ؟ " قَالَ : لَا، بَلْ غَسِيلٌ. قَالَ : " الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا ". (ابن ماجہ/كتاب اللباس/باب ما يقول الرجل إذا لبس ثوبا جديدا، ١٩١/٥، رقم الحديث: ٣٥٥٨) (مسند أحمد، ٤٤٠/٩، رقم الحديث: ٥٦٢٠)

١.سوال:-نکاح کی کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کی صورت اور حکم تحریر کریں؟

جواب:-نکاح کے پانچ قسمیں ہیں (1). فرض:-جو شخص مہر اور بیوی کے نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو اور اپنی طبیعت میں نکاح کا ایسا تقاضا ہو کے نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو-(2). واجب:-نان نفقہ مہر اور بیوی کے جملہ حقوق ادا کرنے پر قادر ہو اور ایسے خطرہ ہو کے اگر نکاح نہ کیا تو مبتلائے معصیت (مثلا بد نظری یا مشت زنی) ہو جائے گا تو اس پر نکاح کرنا واجب ہے-(3) سنت:-جو شخص اعتدال کی حالت میں ہو یعنی نان و نفقہ پر قادر ہو اور بیوی کے جملہ حقوق ادا کر سکتا ہو لیکن اس کے دل میں ایسا تقاضا نہ ہو کہ نکاح کے بغیر معصیت نے مبتلا ہونے کا یقین یا اندیشہ ہو تو اس شخص کے لیے نکاح کرنے کے باعثصمت زندگی گزرنا سنت موکدہ ہے اس کا حکم اگر یہ شخص قدرت کے باوجود نکاح نہ کرے گا تو تاریخ سنت ہونے کی بنا پر گنہگار ہوگا۔(4). مکروہ:-اگر انسان کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ نکاح کر کے بی بی کے حقوق ادا نہ کر سکے گا تو ایسے شخص کے لیے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔(5). حرام:-اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ بیوی کا مالی ہو جنسی حقوق ادا کرنے پر قطعا قادر نہیں ہے اور اس کا ارادہ ہے ظلم کرنے کا تو اس کے لیے نکاح حرام ہے اور اس کا حکم اگر وہ نکاح کر لے تو سخت گنہگار ہوگا۔فقط واللہ اعلم

ويكون واجبا عند التوقان فان قيقن الزنا الا به فرض... ويكون سنة ...حال الاعتدال.. ومكروها لخوف الجور فان تيقنه حرم ذلك ويندب اعلانه وتقديم خطبة وكونه...(رد المختار: ٦٣/٤-٦٦ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

واما صفته فهو انه في حاله الاعتدال سنة مؤكده وحاله التوقان واجب وحالة خوف الجور مكروه....(الهنديه: ٣٣٢/١ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

ويكون واجبا عند التوقان... وتكون سنة معقدة.... وحال الاعتدال.... ومكروها لخوف الجود فان تيقنه حرم ذلك ويذنب....(در المختار:١٨٥/١،كتاب النكاح ، نعيمية ديوبند)

سوال:-گواہوں کا عاقدین کی طرف سے ایجاب و قبول کا سننا ضروری ہے یا نہیں نیز باوقت اجازت عورت سے گواہوں کا سننا ضروری ہے یا نہیں اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو مفصل بیان کریں؟

الجواب:-گواہوں کا عاقدین کی طرف سے ایجاب و قبول کا ساتھ ساتھ سننا ضروری ہے اور عورت سے با وقت اجازت گواہوں کا موجود ہونا اور سننا صرف مستحب ہے ضروری نہیں ہے البتہ نکاح پڑھاتے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہیں ـ

وشرط السماع كل من العاقدين لبس الاخر وليتحقق رضاهما وشرط حضور شاهدين اي يشهدان على العقد حريين او حر وحرتين مكلفين سامعين قولهما معا على الاصح فاهمين....(شامي :٨٤/٤-٩٢ كتاب النكاح, زكريا ديوبند)

ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين او رجل وامراتين عدولا كانوا او غير عدول او محزورين فى القذف.....(هدايه ٣٢٨/١, كتاب النكاح،زمزم ديوبند)

ومنها: سماع كل من العاقدين كلام صاحبه.... ومنها: سماع الشاهدين كلامهما معا.... ولو سمعا كلام احدهما دون الاخر،او سمع احدهما كلام احدهما والاخر كلام الاخر لا يجوز النكاح....(هنديه:٣٣٢/١-٣٣٣ كتاب النكاح،اشارفيه،ديوبند)

١.سوال :-اگر لڑکا لڑکی زنا کی حد تک پہنچ جائے اور گواہ وہاں پر موجود نہ ہوں تو کیا لڑکا لڑکی کا آپس میں قبول کرنے سے نکاح ہو جاےگا

الجواب وبالله التوفيق:
دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر ان دونوں کا آپس میں نکاح قطعاً درست نہیں ہوگا چاہے زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ کیوں نہ ہو۔

قال ومن كان له نصاب فاستفاد في اثناء الحول من جنسي ضمه اليه وذكرة به وقال الشافعي: لا يضم لانه اصل في حق المالك..(هدايه: ٢٠٩/٢, كتاب الزكاة زمزم بوك ديوبند)

عن عمران بن حصين، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا نكاح إلا بولي، وشاهدي عدل. (المعجم الكبير للطبراني، ١٤٢/١٨، رقم الحديث: ٢٩٩، ط: دار إحياء التراث العربي)

حضرت مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ کھیت بٹائی (بٹیہ) پر دینا (لینا)کیسا ہے اس طرح سے کہ کھیت زید کا ہے اور بکر اس میں فصل اگاتا ہے اور محنت کھاد پانی کھیتی کے جتنے خرچے ہیں سب بکر برداشت کرتا ہے ۔ اور زید کا کچھ خرچ نہیں ہوتا نہ ہی کھاد پانی کا خرچ اس کے طرف سے ہوتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی محنت کرتا ہے کھیت کے لیے، بلکہ کبھی کھیت دیکھنے بھی نہیں جاتا ۔ لیکن اناج اور گلے کی تقسیم دونوں میں برابر ہوتاہے۔ تو کیا زید کے لیے کھیت سے آئے ہوئے اناج کا لینا درست ہے یا یہ پھر سود ہے

الجواب بعون الملک الوھاب

کھیت بٹایٔ پر دینا بایں طور کہ بیج اور عمل ایک شخص کا ہو اور زمین دوسرے شخص کی ہو تو یہ طریقہ شرعاً جائز و درست ہے، سود نہیں ہے، اور مذکورہ شخص کیلئے وہ غلّہ لینا بھی درست ہے،
واضح رہے کہ اس کے اندر نفع ہمیشہ تناسب سے ہوگا، فقط _ واللّه أعلم بالصواب

إن كان الارض لواحد و العمل و البقر و البذر لواحد جازت. (ھدایہ ٤٢٧/٤)_(الدرالمختار مع رد المحتار ٤٠١/٩)

(دفع ) رجل ( أرضه إلى آخر على أن يزرعها بنفسه وبقره والبذر بينهما نصفان والخارج بينهما كذلك فعملا على هذا فالمزارعة فاسدة، ويكون الخارج بينهما نصفين، وليس للعامل على رب الأرض أجر )؛ لشركته فيه (و ) العامل ( يجب عليه أجر نصف الأرض لصاحبها )؛ لفساد العقد ( وكذا لو كان البذر ثلثاه من أحدهما وثلثه من الآخر والرابع بينهما ) أو ( على قدر بذرهما ) نصفين فهو فاسد أيضاً؛ لاشتراطه الإعارة في المزارعة.(فتاویٰ شامی ٢٨٦/٦)

سوال:-کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جتنی فرائض نماز ہیں ان کا حکم اللہ اور اللہ کے رسول نے دیا ہے اور ما بقیہ جو سنن و نوافل ہیں ان کو بندوں نے ایجاد کیا ہے، سب انسانوں نے بنا رکھا ہے تو کیا ایسا شخص اسلام سے خارج ہے،اور اگر اسلام سے خارج نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے

الجواب وبالله التوفيق:
سوال مذکور میں زید کا یہ عقیدہ گھڑنا کہ تمام سنن و نوافل ایجاد بندہ ہیں بہ صراحت فقہاء موجبِ کفر ہیں؛ کیونکہ یہ در اصل استخفاف دین اور انکار حدیث پر مشتمل ہے، یاد رہے شریعت احکام الہیہ کا نام ہے بندہ شریعت بنانے پر قادر نہیں؛ لہذا زید کو ایسے کفریہ عقائد سے فوراً توبہ کرنی چاہیے اور ساری سنن و نوافل کو حق سمجھنا چاہیے۔

قلت: إنما لم يقل بوجوبها لأنه عليه السلام ساقها مع سائر السنن في حديث المثابرة، وقالوا العالم إذا صار مرجعا للفتوى يجوز له ترك سائر السنن لحاجة الناس إلا سنة الفجر، وذكر التمرتاشي في "الأمالي"ترك الأربع قبل الظهر والتي بعدها وركعتي الفجر لا يلحقه الإساءة إلا أن يستخف به، ويقول هذا فعل النبي وأنا لا أفعل، فحينئذ يكفر، وفي النوازل وفوائد الرستغفني من ترك سنن الصلوات الخمس ولم يرها حقا كفر، ولو أرها حقا وترك قيل لا يأثم، والصحيح أنه يأثم، لأنه جاء الوعيد بالترك. (البناية/كتاب الصلاة/باب النوافل، ٥٠٦/٢)

وفي التجنيس والنوافل والمحيط: رجل ترك سنن الصلوات الخمس إن لم ير السنن حقا فقد كفر لأنه ترك استخفافا، وإن رأى حقا منهم من قال لا يأثم والصحيح أنه يأثم لأنه جاء الوعيد بالترك. (البحر الرائق/كتاب الصلاة/باب الوتر والنوافل، ٨٠/٢، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

رجل ترك سنن الصلوات الخمس، إن لم ير السنن حقا، فقد كفر، وإن رأى السنن حقا، منهم من قال: لا يأثم، والصحيح أنه يأثم. (المحيط البرهاني/كتاب الصلاة/الفصل الحادي عشر: التطوع قبل الفرض وبعده، ٢٣٦/٢، رقم: ١٦٤٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال:-نکاح کے لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟

جواب:-نکاح کا لغوی معنی جمع کرنا اور ضم کرنا یعنی ملنا ملانا ہے، شرعی معنی اس عقد کا نام ہے جو اس لیے مقرر کیا گیا کہ مرد کا عورت سے وطی کرنا اور اس کے تمام اعضاء سے فائدہ اٹھانا حلال ہو جائے ۔

وهو عند الفقهاء عقده يفيد ملك المتعة اي يا حلو استمتاع الرجل من المرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي.....(رد المختار:٥٩/٤-٦٠ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

اما تفسيره فهو عقد يدل على ملك المتعة قصدا كذا في" الكنز"...(الهنديه: ٣٣٢/١ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

١.سوال:-زکوۃ کا مال خرچ کرنے کے لیے کن چیزوں پر حیلہ تملیک اختیار کرنا درست ہے اور کن چیزوں پر حیلہ تملیک اختیار کرنا درست نہیں ہے بوضاحت تحریر کریں؟

جواب:-زکوۃ فقراء اور مساکین کا حق ہے اور یہ فقراء عام ضرورت مند بھی ہو سکتے ہیں اور مدارس کے طلباء بھی لہذا قرائن اور حالت دیکھتے ہوئے جہاں ضرورت مند زیادہ ہو وہاں خرچ کرنا زیادہ ثواب ہوگا یعنی دونوں ممکن ہیں مثلا اپ کے پڑوسی یا قریبی رشتہ دار ضرورت مند ہو تو ان کو دینے سے دوگنا ثواب ملے گا ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح مدارس میں قرض کرنے سے زکوۃ کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کے نشر اشاعت کا بھی ثواب ملتا ہے۔فقط واللہ اعلم

الدفع الى من عله الدين اولى من دفع الى فقير ،وكذا في المضمرات....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

والحيلة ان يعطي المديون زكاته ثم ياخذها عن دينه ولو امتنع المديون مديده واخذها لكونه لا ظفر بجنسه حقه فان مانعه دفعه القاضي....(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:٧١٥-٧١٦،كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

وحيلة الجواز ان يعطي مديونه الفقير زكاته ثم ياخذها عن دينه ولو امتنع مديون مد يده واخذها لكونه ظفر بجنس حقه فان مانعه...(رد المختار: ١٩٠/٣-١٩١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

سوال:-ہحلہ تملیک کی کتنی صورتیں ہیں اور وہ کیا کیا ہے مفصل بیان کریں؟

جواب:- حیلہ تملیک کی کئی صورتیں ہیں اور ان میں سے چند یہ ہے کہ (1). فقیر کو زکوۃ کے مال کا بالکلہ مالک بنا دیا جائے پھر اس سے کہا جائے کہ فلاں جگہ پر خرچ کی ضرورت ہے تم اپنی طرف سے وہاں خرچ کر دو تو اگر وہ برضا و رغبت اس جگہ کا خرچ کر دے تو اس عمل کا اسے ثواب ملے گا اور زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی۔(2). فقیر سے کہا جائے کہ تم اپنی طور پر قرض لے کر فلاں ضرورت میں قرض کر دو اور خرچ کے بعد فقیر کے قرض کی ادائیگی زکوۃ کے رقم سے کر دی جائے تو ایسی صورت میں بلا شبہ زکوۃ ادا ہو جائے گی (3). مدرسہ کا جتنا ماہنا خرچ بشمول مد تعلیم و تنخواہ مدرسین اتا ہو اس کو طلبہ کی تعداد پر تقسیم کر دے تو جو حاصل ائے اتنی رقم پر طالب علم پر بطور فیس مقرر کر دی جائے اور ہر مہینے فیس کے بقدر رقم بطور وظیفہ طلب علم کو دے کر اس سے بطور فیس لے لی جائے توفیق کی شکل میں جو رقم واپس ائے گی اس کو مدرسے کی ہر طرح کی ضرورت میں خرچ کرنا جائز رہے گا.

والحيلة لمن اراد ذلك ان يتصدق ينوي الزكاة على فقير ثم يامر بعد ذلك بالصرف الى هذه الاجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذا الصرف...(تاتارخانية:٢٠٨/٣،كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

والدفع الى من عليه الدين اولى من دفع الى فقير....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

وفي جامع الفتوى: لا يسعه ذلك وكل حيلة يحتال بها الوجل ليتخلص بها عن حرام او ليتوصل بها الى حلال فهي حسنة.....(تاتارخانية:٣٠١/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

سوال:-مال مستفی کسے کہتے ہیں اور اس کے اندر زکوۃ کا شرعا کیا حکم ہے اگر کوئی اختلاف ہو تو اختلافی ائمہ مدلل بیان کریں؟

جواب:-مال مستفاد وہ مال ہے جو دوران سال نصاب سے زائد حاصل ہو اور اس کے تین صورتیں ہیں(1). نصاب پہلے سے موجود ہو پھر دوران سال اسی نصاب سے دوسرا عمل حاصل ہو تو بالاتفاق ان میں حولان حول شرط نہیں ہے بلکہ سابقہ مال کے ساتھ زکوۃ نکالی جائے گی۔(2). پہلے نصاب موجود ہو پھر دوران سال میں خلاف جنس مال حاصل ہو تو بالاتفاق ان کے لیے حولان حول شرط ہے۔(3) پہلے نصاب موجود ہو پھر اس کا ہم جنس مال حاصل ہو مثلا وراثت ہبہ وغیرہ اس میں اختلاف ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کیا نزدیک ان میں حولان حول شرط نہیں ہے بلکہ سابقہ مال کے ساتھ اس کا حساب کیا جائے اور زکوۃ دی جائے امام شافعی رحمہ اللہ وہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مستقل حولان حول شرط ہے امام مالک رحمہ اللہ سوائم میں حنفہہ کے ساتھ اور دوسرے مال میں شوافیہ کے ساتھ ہے

قال ومن كان له نصاب فاستفاد في اثناء الحول من جنسي ضمه اليه وذكرة به وقال الشافعي: لا يضم لانه اصل في حق المالك..(هدايه: ٢٠٩/٢, كتاب الزكاة زمزم بوك ديوبند)

ويضم مستفاد من جنس نصاب اليه في حوله وحكمة ونقصان النصاب في اثناء الحول لا يضر....(مجمع الانهر:٣٠٧/١ مكتبة فقيه الامة ديوبند

١.سوال:-اگر زکوۃ کا مال کسی غریب طالب علم کو دے کر اس سے یہ کہا جائے کہ مدرسے کا مال ہے یا مدرسہ کے اندر ضروریات ہے کوئی انتظام نہیں ہے لہذا اس کو مدرسہ میں جمع کر دو اور وہ جمع کر دے اس طرح سے تملیک ہو جائے گی یا نہیں یا ان میں کوئی تفصیل ہے؟

جواب:-صورت مسئلہ میں اگر وہ طالب علم برضا و رغبت مدرسے میں کر دے تو اس طالب علم کو اس عمل کا ثواب بھی ملے گا اور اس زکوۃ دینے والے کا زکوۃ ادا ہو جائے گا اور تملیک بھی ہو جائے گی ہاں یہ حیلہ تملیک صرف ضرورت کے وقت ہی کیا جائے۔فقط واللہ اعلم۔

ويشترط ان يكون الصرف تمليكا لا اباحة كما مر لا يصرف الى بناء نحو مسجد كبناء القناطر...(رد المختار: ٢٩١/٣ كتاب الزكاة باب المصرف زكريا ديوبند)

لا يجوز الزكاة الا بقبض الفقراء...(تاتارخانية:٢٠٦/٣ كتاب الزكاة ط: زكريا ديوبند)

وانفع للمسلمين بتعليم .... التصدق على العالمين الفقير افضله اي من الجاهل الفقير.... والابصل صرفها الاقرب والاقرب من كل ذي رحم محرم منه ثم جيرانه......(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:٧٢٢،كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

سوال:-زکوۃ کا مال مدارس میں دینا زیادہ بہتر ہے یا غریبوں کو یا حالت کے اعتبار سے دونوں ممکن ہیں یا ان میں کوئی تفصیل ہے بیان کریں؟

جواب:-زکوۃ فقراء اور مساکین کا حق ہے اور یہ فقراء عام ضرورت مند بھی ہو سکتے ہیں اور مدارس کے طلباء بھی لہذا قرائن اور حالت دیکھتے ہوئے جہاں ضرورت مند زیادہ ہو وہاں خرچ کرنا زیادہ ثواب ہوگا یعنی دونوں ممکن ہیں مثلا اپ کے پڑوسی یا قریبی رشتہ دار ضرورت مند ہو تو ان کو دینے سے دوگنا ثواب ملے گا ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح مدارس میں قرض کرنے سے زکوۃ کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کے نشر اشاعت کا بھی ثواب ملتا ہے۔فقط واللہ اعلم

انما صدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفه قلوبهم (صورة التوبة: الآية:٦)

سليمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ان الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي رحم اثنتان وصدقة وصلة....(سنن الترمذي:١٤٢/١،رقم الحديث: ٦٥٣)

مصرف الزكاة هو فقير.... عن طالب العلم يجوز له الزكاة ولو غنيا اذا فرغ نفسه لا فاده العلم .... والتصدق على العالم الفقير افضل عين جاهل الفقير....(دور المختار مع شامي: ٢٨٣/٣-٣٠٤،كتاب الزكاة زكريا دوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص زکوۃ ادا نہ کرے تو اس کا وبال کیا ہے نیز اگر کوئی شخص کچھ دنوں کی زکوۃ ادا کرے اور کچھ دنوں کی زکوۃ ادا نہ کرے یا کچھ مالوں کی زکوۃ ادا کرے اور کچھ مالوں کی زکوۃ ادا نہ کرے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:-صورت مسئلہ میں قرآن و حدیث میں اس کا وبال زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے بہت وعیدیں آئی ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے یعنی جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو ان کے مال کو جہنم کی اگ میں گرم کر کے اس سے اس کی پیشانیوں پہلوؤں اور پٹھوں کو داغا جائے گا دوسری جگہ ارشاد ہے یعنی ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا مسلم شریف میں ہے یعنی ایسی شخص کے لیے اگ کی چٹائی بچھائی جائے گی اور اس سے ایسے شخص کے پہلو پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔فقط واللہ اعلم

والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله.... الآية (سورة التوبه: رقم الآية:٣٤-٣٥)

سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة.. الآخ (سورة ال عمران: رقم الآية:١٨٠)

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من صاحب ذهب ولا فضة ولا يودي منها حقها الا اذا كان يوم القيامة صفحت له ضياع من نار فاحمي عليها في نار جهنم ويكوي بها جنبه وجبينه و ظهره....(مسلم شريف: ٦٨٠/٢ كتاب الزكاة باب اثم مانع الزكاة)

سوال:-اگر کسی ادمی کے پاس کئی بیگہے زمین ہو لیکن وہ سب زمین خالی ہو اور اس ادمی کے پاس زمین کے علاوہ کوئی مال اور رقم نہ ہو تو ایسے ادمی پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں ان زمینوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-سورۃ مسئلہ میں ایسے ادمی پر زکوۃ واجب نہیں ہے رہی بات زمینوں کی کہ اگر وہ زمین تجارت کی نیت سے نہ خریدا ہو یا کچھ بھی نیت نہ کی ہو تو ایسی زمین پر زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زمین مال نامی نہیں ہے اور اگر تجارت کی نیت سے خریدا ہو کہ اس سے نفع کمائے گا تو ایسی زمین اگر نصاب کے بقدر ہو تو ہر سال اس کی حساب کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم

ومنها : كون النصاب ناميا حقيقية في التوالد والتناسل والتجارة .....: ان ينوي عنده عقد التجارة ان يكون المملوك للتجارة سواء كان ذلك على العقد شراء او ايجارة...(الهنديه: ٢٣٥/١ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

هو نوعان: الحقيقي والتقديري ،فالحقيقي: الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات والتقديريى تمكنه من الزيادة....(شامي: ١٧٩/٣،كتاب الزكاة، زكريا ديوبند)

ومنها: كون المالي ناميا لانه معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل الا من المال النامى..... بدائع الصنائع:٩١/٢،كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

سوال:-اگر کسی ادمی کے پاس کئی مکان ہو اور وہ صرف ایک مکن میں رہتا ہو باقی مکان کی ضرورت نہ ہو تو اس مکان پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:-سورۃ مسئلہ میں اس مکان پر زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زکوۃ ان مالوں پر واجب ہوتی ہے جو مال نامی ہو یا سونا چاندی ہو وغیرہ اور مکان مال نامی میں سے نہیں ہے اس لیے اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

ومنها كون النصاب ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل والتجارة او تقديرا....(الهنديه: ٢٣٥/١، كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

منها: كون المال ناميا لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل الا من المال النامى....(بدائع الصنائع:٩١/٢ ،كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

هو نوعان: حقيقي وتقديري ،فالحقيقي: الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات والتقديريى تمكنه من الزيادة...(شامي: ١٧٩/٣،كتاب الزكاة ط: زكريا ديوبند)

سوال:-مدارس اور مکاتب میں زکوۃ کا مال دینا شرعا درست ہے یا نہیں ؟تفصیل کے ساتھ بیان کریں؟

جواب:-زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے اور زکوۃ کے مصارف بھی متعین ہیں لہذا جن مدارس اور مکاتب میں زکوۃ کے مصارف نہ ہو تو اس کے لیے زکوۃ فطرہ وغیرہ وصول کرنا جائز نہیں ہے اس طرح کی رقومات مساجد وغیرہ کے کسی کام میں بھی لگانا درست نہیں ہے اور جن مدارس و مکاتب میں زکوۃ کے مصارف ہو تو پھر ان کے لیے زکوۃ وغیرہ کا مال لینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

ويشترط ان يكون الصرف تمليكا لا اباحة كما مره لا يصرف الى بناء نحو مسجد ولا الى كفن ميت وقضاء الدين واما الدين...(رد المختار: ٢٩١/٣،كتاب الزكاة، باب المصرف،زكريا ديوبند)

ولا يجوز ان يبني بالزكاة المسجد،و كذا القناطر والسقات والاصلاح الطرقات وكري الانهار.....(الهنديه: ٢٥٠/١ كتاب الزكاة، زكريا ديوبند)

مصرف الزكاة وفقير وهو من له ادنى شيء ومسكين ..... وعامل فيعطي بقدر عمله...(در المختار مع شامي:٢٨٣/٣-٢٩٠ كتاب الزكاة زكريا ديوبند