١.سوال:-بارات کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کرے؟

لجواب:-بارات کا شرعا کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسنت سے ثابت ہے بلکہ اج کل تو بہت سارے خرافات اور رسومات بھی شامل ہو گئے ہیں ہاں: البتہ اگر چند لوگ لڑکے کے ساتھ جا کر نکاح میں شریک ہو کر لڑکی کی رخصت کرا کے ساتھ چلے ائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر بارات تمام تر خرافات و رسومات سے خالی ہو تو یہ صرف ایک امر مباح ہے-فقط واللہ اعلم

عن انس بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال ما هذا قال اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب قال بارك الله لك او لم ولو بشاة...(صحيح البخاري: ١٩٨٢/٥ رقم: ٤٧٨ دمشق)

ووليمة العرس سنة وهي مثوبة عظيمة وهي عند ابني الرجل بامراته ينبغي ان بدعوا الجيران والاقرباء والاصدقاء......(هنديه: ٣٤٢/٥،كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

عن علي بن الحسن رضي الله تعالى عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من حسن اسلام المرء تركه مالا يعنيه........(مشكة المصابيح:١٣٦١/٣ رقم الحديث: ٤٨٣٩، بيروت)

سوال:-ولیمہ کا شرعا کیا حکم ہے اور ولیمہ کا وقت کیا ہے اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

جواب:-ولیمہ کرنا شرعا سنت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس میں اپنی وسعت کے مطابق ریا و نمود سے بچتے ہوئے احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا چاہیے اور اس کے لیے افضل وقت رخصتی کے بعد ہے کسی مصلحت کے پیش نظر دو چار دن بعد بھی ولیمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اتنی تاخیر نہ ہوں کہ بشاشت نکاح باقی نہ رہے-

عن انس بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال ما هذا قال اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب قال بارك الله لك او لم ولو بشاة(صحيح البخاري: ١٩٨٢/٥،رقم الحديث: ٤٨٧،باب الوليمة الحق)

ووليمة العرس سنة وهي مثوبة عظيمة وهي.. بني الرجل بامراة ينبغي ان يدعو الجيران والاقرباء والاصدقاء...(الهنديه: ٣٤٢/٥ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

وحديث انس في هذا الباب صريح في انها اي الوليمة بعد الدخول لقوله فيه اصبح عروسا بزينب فرعا القوم......(اعلاء السنن:١٦/١١-١٧ دار الكتب العلمية بيروت)

سوال:-مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟

الجواب:-مہر فاطمی کی مقدار صحیح قول کے مطابق 500 درہم ہیں جس کا وزن موجودہ گراموں کے اعتبار سے ڈیڑھ کلو 30 گرام900ملی گرام چاندی ہے اور تولہ کے حساب سے131تولہ3 ماشہ ہے اور ادائیگی کے دن بازار سے چاندی کا بھاؤ معلوم کر کے اس مقدار کے بقدر قیمت مہر میں دے دی جائے یعنی بوقت ادا کی قیمت کا لحاظ ہوگا-”فقط واللہ اعلم

واقله عشرة دراهم فضه وزن سبعة مساقيل كما في النكاة مصروبة كانت اولا ولو دينا او عرضا قيمته عشرة وقت العقد.... انما دخل في ضمانها..(در المختار مع شامي:٢٣٠/٤ كتاب النكاح زكريا ديوبند)

واقله عشرة دراهم وزن سبعة مثاقيل وان لم تكن مسكوكة بدا تمرا... ثم القيمة يوم القبض انها تغير بالنسبة لضمانها...(مجمع الانهر:٥٠٨/١ كتاب النكاح, ط: فقيه الامه ديوبند)

انا ابي سلمة بن عبد الرحمن انه قال سئلت عائشة كم كانت صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: قال صداقه لا رواجه سنتى عشرة اوقية نشا قالت: اتدري من النش؟قال: قلت لا , قالت: نصف اوقية فتل قى خمس مائة ديرها فهذا صداقه رسول الله صلى الله عليه وسلم لازواجه(مسند احمد: باب الصداق رقم الحديث: ٦٩٢٧)

سوال:-فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح کب درست ہے اور کب درست نہیں ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو با بتفصیل بیان کریں؟

جواب:-فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح اصیل کی اجازت پر موقوف رہتا ہے جب وہ اجازت دے اور منظور کرے تو نکاح نافذ ہو جاتا ہے اگر اصیل یا جس کو وکیل بنایا وہ اجازت نہ دے اور منظور نہ کرے تو فضولی کے ذریعے کیا ہوا نکاح درست نہیں ہوگا اور منظوری کی دو صورتیں ہیں (1) زبان سے منظور کرنا (2) کوئی ایسا کام کرنا جو شرعا منظوری پر دلالت کرے ـ

ينعقد نكاح الفضولى موقوفا كابيع اذا كان من جانب واحد واما من جانبين او فاضوليا من جانب اصيلا من جانب فلا.... الخ...(كتاب الاختيار لتعليل المختار:١٢٢/٢-١٢٣،كتاب النكاح:مكنبه فقيه الامة ديوبند)

كنكاح الفضولى اي الذي باشره مع اخر اصيل اوولي او وكيل او فضولي.... فانه يتوقف على اجازة الزوج.... سيجي في البيوع لوقف عقوده كلها....(در المختار مع شامي: ٢٢٥/٤ كتاب النكاح ط: زكريا ديوبند)

سوال:-مہر کی کم سے کم مقدار کیا ہے؟اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

جواب:-مہر کی کم سے کم مقدار کے سلسلے میں حضرات آئمہ کا اختلاف ہے چنانچہ فقہاء احناف کے نزدیک اقل مہر کی مقدار 10 درہم ہیں اس سے کم مہر متعین کرنا درست نہیں ہے حضرات مالکیہ کے نزدیک اقل مہر کی مقدار ربع دینار یا تین در ہم ہے حضرت امام شافعی کے یہاں ہر وہ چیز جس کو عقد بیع میں ثمن بنایا جا سکتا ہے اس کو عقد نکاح میں مہر بھی بنا سکتے ہیں وہ کم ہو یا زیادہ خواہ ایک جبہ ہی کیوں نہ ہو-

واقل المهر عشرة دراهم قال الشافعي ما يجوزان يكون ثمنا في البيع يجوزان يكون مهر الهالانه حقها فيكون تقدير اليها ولنا قوله عليه الصلاة والسلام ولا مهرمن عشرة دراهم ولانه حق الشرع وجوبا اظهارا لشرف المحل... الاخ...(هدايه: ٣٤٧/٢-٣٤٨،كتاب النكاح، زمزم ديوبند)

واما بيان ادنى المقدار الذي يصلح مهرا فادناه عشرة دراهم واما قيمته عشرة دراهم وهذا عندنا وعند الشافعي. : المهر غير مقدر يستوي فيه القليل والكثير .......( بدائع الصنائع:٥٦١/٢، كتاب النكاح، الشرفيه ديوبند )

اقله عشرة دراهم لحديث بيهقي وغيره لا مهر اقل من عشرة دراهم..... وقال الحافظ ابن حجر: انه بهنا الاسناد حسن كما في فتح القدير في باب الكفاءة.....(الدر المختار:٢٣٠/٤-٢٣١،كتاب النكاح،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص مہر کے بغیر یا مہر کے انکار کے ساتھ نکاح کرے یا اقل مہر سے کم طے کر کے نکاح کرے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب:-صورۃ متولہ میں شرعا نکاح درست ہو جائے گا البتہ اس صورت میں مہر مثل واجب ہوگا اور اقل مہر سے کم طے کرنے والی صورت میں اقل مہر یعنی دس درہم واجب ہوگا-

وان تزوجها ولم يسم لها مهرا او تزوجها على ان لا مهر لها فلها مهر مثلها ان دخل بها او مات عنها......ولو سمى اقل عشرة فلها العشرة......(هدايه: ٣٤٧/٢،كتاب النكاح،زمزم ديوبند)

وتجب العشرة أن سماها او دونها..... وكذا يجب مهرا المثل فيما اذا لم يسم مهرا او نفيان وطى الزوج او مات عنها اذا لم يتراضيا على شي يصلح مهرا.......(الدر المختار: ٢٣٣/٤-٢٤٢،كتاب النكاح زكريا ديوبند)

واقله عشرة دراهم فلم سمى دونها لذمت العشرة....... وان سكت عنه لو نفاه لزم مهرا المثلي بالدخول او الموت.......(بجمع الانهر: ٥٠٨/١-٥٠٩،كتاب النكاح: الفقيه الامة،ديوبند)

کیا نفلی روزے میں خالص سیاہ خضاب کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب وباللّه التوفيق : – واضح رہے کہ سیاہ خضاب لگانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے حدیث میں اس کے لیے وعید آئی ہے، البتہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، (مستفاد از: فتاویٰ دارالعلوم دیوبند)
وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة؛ لیکون أهیب في عین العدو فهو محمود منه، اتفق علیه المشائخ. ومن فعل ذلك لیزید نفسه للنساء أو لحبب نفسه إلیهن فذلك مکروه، و علیه عامة المشائخ. وبعضهم جوز ذلك من غیر کراهة”. (الفتاوى الهندية ۵/۳۵۹)

ایک شخص بچوں کو پڑھاتا ہے اس کی ڈیوٹی چھ گھنٹے کی ہے اب اگر وہ چار گھنٹے میں بچوں کو پڑھا دیتا ہے تو اس کے لیے چھہ گھنٹے کی سیلری لینا جائز ہوگا یا نہیں ؟؟

الجواب وبالله التوفيق: مسؤولہ صورت میں اجارہ کا معاملہ عمل اور وقت دونوں سے متعلق ہے؛ لہذا شخصِ مذکور کا چار گھنٹے میں بچوں کو پڑھا کر چھ گھنٹے کی سیلری لینا جائز نہیں ہے۔

وليس للخاص أن يعمل لغيره؛ بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التاتارخانية: وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة، ولا يشتغل بشيئ آخر سوى المكتوبة. (شامي/كتاب الإجارة/باب ضمان الأجير/مطلب: ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ٩٦/٩، ط: زكريا) واللہ اعلم بالصواب

ایک شخص تہجد کے وقت اٹھا اس نے وضو کرکے دورکعت نفل نماز پڑھی نماز سے فارغ ہونے بعد پتہ چلا کہ فجر کا وقت شروع ہوچکا کافی دیر پہلے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دو رکعت فجر کی سنتوں کے قائم مقام ہوں جائیں گی یا نہیں ؟

الجواب وباللّه التوفيق= صورتِ مسئولہ میں پڑھی ہوی دو رکعت نیت کے فرق کے سبب فجر کی سنتوں کی طرف سے کافی نہیں ہونگی- فقط

لو صلّی رکعتین علی ظن أنھا تھجد، بظنّ بقاء اللیل فتبین أنھا بعد طلوعِ الفجر کانت عن سنة الفجر... الأصح أنهما لا ينوبان عن ركعتی الفجر.(الأشباہ و النظایٔر/٦٣)

لو صلی قبل الفجر بنية التطوع ثم تبين أن الفجر قد طلع لا تجزئ عن سنة الفجر، لأن التعيين معتبر فيها.(رد المحتار ٢١/۲)

صحت نکاح کے لیے کتنی شرطیں ہیں ہر ایک کو واضح کرے؟

جواب:-صفت نکاح کے لیے چند شرطیں ہیں (1). با وقت دو مسلمان ازاد عاقل و بالغ گواہوں کا موجود ہونا خواہ دو آزاد مرد ہو یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (2). عاقدین میں سے ہر ایک کا ایجاب و قبول کے وقت دوسرے کا کلام سننا خوا ہ یہ سننا وصالة ہو یا ولادة ہو وکالة (3) ایجاب و قبول دونوں کی مجلس کا متحد ہونا (4) دونوں گواہوں کے ایک ساتھ ایجاب و قبول کو سننا اور سمجھنا ضروری ہے اگرچہ لفظ کے معنی نہ جانتے ہو (5). زوجین میں نکاح کی اہلیت کا پایا جانا بھی شرط ہے (6). نکاح کو کسی وقت کے ساتھ موقت نہ کرنا (7). زوجین کا ہم مذہب ہونا (8). زوجین کا ہم جنس ہونا وغیرہ-فقط واللہ اعلم۔

ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حريين عاقلين بالغين مسلمين رجلين او رجل وامراتين......(الهنديه: ٣٢٨/٢،كتاب النكاح ،زمزم بوك, ديوبند)

وشرط سماع كل من العاقدين لفظ احد ليتحقق رضاهما وشرط حضور شاهدين........ حرين او حر وحريتن مكلفين سامعينا قولهما معا على الاصح فاهمين انه نكاح على مذهب....(رد المختار: ٧٤/٤-٩٢،كتاب النكاح، زكريا، ديوبند )

واما شروطه فمنها: العقل والبلوغ والحرية في العاقد ... ومنها: المحل القابل وهو المراة ... ومنها سماع كل من العاقدين كلام صاحبه.... ومنها الشهادة قال عامه العلماء... ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح ... ومنها ان يكون الزوج والزوجة معلومين..(فتاوى الهنديه: ٣٣٢/١-٣٣٥،كتاب النكاح زكريا ديوبند)

سوال:-مسجد کی وہ اشیاء جو استعمال کے قابل نہی ہوں جیسے چٹای وغیرہ انکا کیا کریں جلاے یا دفنایں یا کوڑے میں ڈال دیں؟

الجواب وباللہ التوفیق مسجد کی وقف اشیاء خواہ وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں مسجد کی مملوکہ ہیں، ان کو ضائع کرنا صحیح نہیں ہے، ان پرانی اشیاء کو بیچ کر رقم مسجد ہی کے استعمال میں لانا چاہیے، وقف اشیاء کا تلف کرنا جائز نہیں

وذکر أبو اللیث في نوازله: حصیر المسجد إذا صار خلقاً واستغنی أهل المسجد عنه وقد طرحه إنسان إن کان الطارح حیاً فهو له وإن کان میتاً ولم یدع له وارثاً أرجو أن لا بأس بأن یدفع أهل المسجد إلی فقیر أو ینتفعوا به في شراء حصیر آخر للمسجد. والمختار أنه لایجوز لهم أن یفعلوا ذلک بغیر أمر القاضي، کذافي محیط السرخسي". ( الفتاویٰ الهندیة، /الباب الحادي عشر في المسجد وما یتعلق به/ ٤٢٨/٢/ ط: بيروت ) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم

سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے جواب عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا

الجواب وبالله التوفيق: واضح رہے کہ “بونڈ” سے مراد وہ قرضہ ہے جو کسی حکومت یا کمپنی کی طرف سے اس شرط پر دیا جائے کہ قرض دار اس قرضے کو سود کی ایک خاص مقدار کے ساتھ ادا کرے گا۔ معلوم ہوا کہ بونڈ لینا ایک سودی معاملہ ہے جس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں؛ لہذا مذکورہ صورت میں سونے کا بونڈ خریدنا شرعاً جائز نہیں ہے۔مستفاد از: (فتاوى دار العلوم زكريا، ٣٧٩/٥، ط: الأشرفية ديوبند) (تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، ١٣٠/٢، ط: بیت العمار کراچی)

\(١): وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا. (سورة البقرة، الآية: ٢٧٥)

السند (Bonds) في الاصطلاح المعاصر وثيقة يصدرها المديون لمقرضه اعترافا منه بأنه استقرض من حاملها مبلغا معلوما يلتزم بأدائه في وقت معلوم.... إن هذه السندات كلها ربوية من أصلها، حيث إن المقروض يلتزم فيها بأداء مبلغ القرض وزيادة، فلا يخفى حرمة تداولها لأنها تؤدي إلى تعامل ربوي حرام. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة/البحث الرابع عشر: بيع الدين والأوراق المالية وبدائلها الشرعية، ٢٣/٢، ط: قطر) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١.سوال:-ایک شخص گاڑی خرید کر انکو رینٹ پر دیتاہے پہر اسی حاصل شدہ رقم کو سال مکمل ہونے سے قبل سے پہر دوسری گاڑی خریدتا ہے پہر اسکو رینٹ پر دیتا ہے کیا پوری سال کی انکم کی زکاہ ادا کریگا یا موجودہ رقم کی

الجواب وباللہ التوفیق صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص ٦ تولہ سونا اور دونوں چاندی کی انگوٹھیوں کی قیمت ایک ساتھ جوڑ لے ، چنانچہ یہ مجموعی قیمت اگر آج کے زمانہ میں چاندی کے نصاب (٦١٢ گرام ٣٦٠ ملی گرام) کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے گی،

کذا فی الدر المختار يُضَمُّ (الذَّهَبُ إلَى الْفِضَّةِ) وَعَكْسُهُ بِجَامِعِ الثَّمَنِيَّةِ (قِيمَةً) کذا فی الشامیہ أَيْ مِنْ جِهَةِ الْقِيمَةِ، فَمَنْ لَهُ مِائَةُ دِرْهَمٍ وَخَمْسَةُ مَثَاقِيلَ قِيمَتُهَا مِائَةٌ عَلَيْهِ زَكَاتُهَا (رد المحتار/ باب زكاة المال/ ٢٣٤/٣،ط: زكريا) كتبه: محمد انس اختر قاسمی ہردوئی

ردوئی سے بریلی ١٠٠ کلو میٹر سے اوپر ہے ہردوئی کا رہنے والا بریلی سے واپسی کررہاہے ظہر کی نماز پڑھ کر ٢ بجے بریلی سے روانہ ہوا اور رات میں ٩ بجے ہردوئی پہنچا تو اب اس کی نمازوں کا کیا حکم ہے عصر اور عشاء پوری پڑھے گا یا آدھی پڑھے گا؟؟

الجواب وباللہ التوفیق مذکورہ شخص کی اگر عصر نماز دوران سفر چھوٹ گئی ہے تو گھر واپس آکر اس کی تو دو رکعت قضاء پڑھے گا،کیونکہ حالت سفر میں قضاء ہوئی ہے ، البتہ عشاء کے وقت میں ہی وہ گھر واپس آگیا ہے، تو عشاء کی نماز اس کے ذمہ چار رکعت فرض ہوگئ ہے ، خواہ ادا پڑھے یا قضاء، بہرحال چار رکعت ہی پڑھنا پڑی گی،

كذا فى الدر المختار (وَالْمُعْتَبَرُ فِي تَغْيِيرِ الْفَرْضِ آخِرُ الْوَقْتِ) وَهُوَ قَدْرُ مَا يَسَعُ التَّحْرِيمَةَ (فَإِنْ كَانَ) الْمُكَلَّفُ، فِي السَّبَبِيَّةِ عِنْدَ عَدَمِ الْأَدَاءِ قَبْلَهُ،

فى الشامية (قَوْلُهُ وَالْمُعْتَبَرُ فِي تَغْيِيرِ الْفَرْضِ) أَيْ مِنْ قَصْرٍ إلَى إتْمَامٍ وَبِالْعَكْسِ (قَوْلُهُ وَهُوَ) أَيْ آخِرُ الْوَقْتِ قَدْرُ مَا يَسَعُ التَّحْرِيمَةَ كَذَا فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّة وَالْبَحْرِ وَالنَّهْرِ، وَاَلَّذِي فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ تَفْسِيرُهُ بِمَا لَا يَبْقَى مِنْهُ قَدْرُ مَا يَسَعُ التَّحْرِيمَةَ وَعِنْدَ زُفَرَ بِمَا لَا يَسَعُ فِيهِ أَدَاءُ الصَّلَاةِ (قَوْلُهُ وَجَبَ رَكْعَتَانِ) أَيْ وَإِنْ كَانَ فِي أَوَّلِهِ مُقِيمًا وَقَوْلُهُ: وَإِلَّا فَأَرْبَعٌ أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي آخِرِهِ مُسَافِرًا بِأَنْ كَانَ مُقِيمًا فِي آخِرِهِ فَالْوَاجِبُ أَرْبَعٌ، (رد المحتار على الدر المختار/كتاب الصلاة/باب صلاة المسافر/٦١٣/٢، ط: بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم،

شوہر کا انتقال ہو گیا ہے‌ اور بیوی خود ہاٹ کی مریض ہے تو اس کو اطلاع فوراً دینے میں اندیشہ ہے عدم برداشت کا تو اس صورت کا حکم مطلوب ہے

الجواب بعون الملک الوھاب= واضح رہے کہ ایسے حالات میں شریعت اور حکمت دونوں اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ اطلاع دینے میں نرمی اور حکمت سے کام لیا جائے، تاکہ صدمے سے ان کی صحت پر شدید منفی اثر نہ پڑے۔ اس معاملے میں درج ذیل نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے، کسی قریبی اور ہمدرد شخص کے ذریعے اطلاع دینا، خبر دینے کے لیے ایسا شخص منتخب کیا جائے جو بیوی کے لیے انتہائی قریبی اور ہمدرد ہو، جیسے اولاد، بہن بھائی، یا والدین۔ اور وہ شخص نرمی اور تسلی کے ساتھ بات کرے تاکہ خاتون پر زیادہ بوجھ نہ پڑے روحانی اور جذباتی سہارا دینا: صدمے کے وقت دینی اور روحانی پہلو کو مضبوط کیا جائے، جیسے کہ صبر کی تلقین، اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی یاد دہانی، اور دعا و تسلی کے ذریعے حوصلہ دینا۔ اگر اندیشہ ہو کہ بیوی خبر سن کر شدید صدمے میں جا سکتی ہے، تو فوراً بتانے کے بجائے مناسب وقت اور طریقہ اختیار کرنا بہتر ہوگا۔ شریعت میں اس بات کی اجازت ہے کہ کسی کی جان اور صحت کے تحفظ کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو نقصان سے بچا سکے۔ >

> وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا "اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔(النساء:٢٩)

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کسی بیمار یا ضعیف انسان کو ایسی خبر دی جائے جو اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، تو حکمت اور تدریج کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔" (زاد المعاد، جلد ٢، صفحہ ٣٣٤) > "لَا يُخِيفُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ" "کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو خوفزدہ نہ کرے۔" (سنن أبي داود: 5004)

نبی کریم ﷺ کا عمومی طریقہ تھا کہ لوگوں کو مشکل باتیں حکمت اور نرمی سے سمجھائی جائیں، تاکہ وہ ان کو برداشت کر سکیں۔ > ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔(النحل)

کسی غیر مسلم کے بیمار ہونے پر اس کے نام سے صدقہ کر سکتے ہیں یا نہیں جس طرح ہم صدقہ سے علاج کرتے ہیں؟

الجواب بعون الملك الوهاب واضح رہے کہ صدقہ نافلہ کا مقصود جس طرح گناہ معاف ہونا ہے وغیرہ، اسی طرح صدقہ سے علاج معالجہ بھی کیا جاتا ہے، نیز غیر مسلم کے لیے صحت یابی کی دعا کرنا درست ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں غیر مسلم کی جانب سے صدقہ نکالنا درست ہے، البتہ اس صدقہ سے صرف دنیاوی فائدہ ہوگا اخروی کوئی فائدہ نہ ہوگا، نیز بہتر ہوگا کہ صدقہ کرنے کے بعد غیر مسلم شخص کو اطلاع بھی کی جائے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو _ فقط – واللّه ورسوله أعلم بالصّواب

عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بادروا بالصدقه فان البلاء لا يتخطاها (مشکوة شریف/باب فضل الصدقه)__ (بیھقی - رقم٣٣٥٣)

ایک شخص غیر مسلم کی دکان پر گیا اس نے کچھ سامان خریدا جب دکاندار نے سامان دیا تو اس نے کہا جزاک اللہ بعد میں اس کے دوست نے کہا ارے یار جزاک اللہ تو مسلمان سے کہا جاتاہے آپ نے تو دکان والے سے کہ دیا، معلوم یہ کرنا ہے کیا غیر مسلم سے بھی جزاک اللہ کہ سکتے ہیں ؟

الجواب وبالله التوفيق = واضح رہے کہ کسی غیر مسلم کے لیئے دعا کرنا اور اس کو دعایٔہ جملہ کہنا درست نہیں ہے، اور جزاک اللّه یہ بھی دعایٔہ جملہ ہے، لہذا کسی غیر مسلم کو جزاک اللّه کہنا درست نہیں ہے، البتہ اسکی ہدایت کے لیے دعا کرنا اور ھداك الله جیسے جملہ کہنا بہتر ہے، فقط

اعلم أنه لا يجوز ‌أن ‌يدعى ‌له بالمغفرة وما أشبهها مما لا يکون للكفار، لكن يجوز أن يدعى بالهداية وصحة البدن والعافية وشبه ذلك. روينا في كتاب ابن السني عن أنس رضي الله عنه قال: استسقى النبي (صلى الله عليه وسلم) فسقاه يهودي، فقال له النبي (صلى الله عليه وسلم): ” جملك الله ” فما رأى الشيب حتى مات.(الأذكار للنووی/٣١٧_بیروت)

ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟

الجواب وبالله التوفيق: ذکر کردہ صورت میں بیس تاریخ کے بعد جو مال میں اضافہ ہوا ہے، اس کو سالِ گزشتہ کی زکوٰۃ میں نہیں جوڑا جائے گا؛ بلکہ اگلے سال مقررہ تاریخ میں جو مال موجود ہوگا اسی کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

عن ابن عمر قال: من استفاد مالا فلا زكاة عليه حتى يحول عليه الحول. (المصنف لعبد الرزاق/كتاب الزكاة/باب لا صدقة في مال حتى يحول عليه الحول، ٧٧/٤، ط: المجلس العلمي)

فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق، هكذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية/كتاب الزكاة/الباب الأول في تفسيرها وصفتها، ١٩٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله تعالى أعلم.

١.سوال :-مفتیان کرام کی خدمت میں سوال عرض ہے کہ ، ہندوراشٹر گان (جن گڑمن آدھی نایک جیا ہے)گانا کیسا ہے جب کہ اسمیں بھارت بھاگیے ودھاتا اور جیا ہے جیا ہے جیسے الفاظ ہے

الجواب و باللہ التوفیق: مروجہ قومی ترانہ میں “بھارت بھاگیہ ودھاتا” کے دو معنی کئے گئے ہیں (1)اللہ کی طرف ۔ اس معنی کے اعتبار سے درست ہے (2)خود بھارت کی طرف ۔ یہ معنی کے اعتبار سے درست نہیں ہے ۔اس لئے پہلے معنی مراد لئے جائے ۔لیکن بعض علماء کا کہنا ہے کہ مروجہ قومی ترانہ میں شرک خفی پایا جاتا اس لئے بہتر یہ ہے کہ پڑھنے میں احتیاط کیا جائے ۔کوئی دوسرا قومی ترانہ پڑھ لیا جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب

قوله تعالى "يأيها اللذين آمنوا لا تقولوا راعنا".....الثانية: في هذه الاية دليلان: أحدهما على تجنب الألفاظ المحتملة التي فيها التعريض للتنقيض والغض. (تفسير القرطبي/سورة البقرة/تحت الآية: ١٠٤، ٥٧/٣، ط: بيروت)

والشرك يكون بمعنى اعتقاد أن الله تعالى شانه شريكا، أما في الألوهية أو في الربوية. (روح المعاني/سورة النساء/تحت الآية: ٤٨، ٥٠/٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

ایک مستری دکان پر کچھ سامان لینے کے لیے گیا مستری نے سامان کی قیمت معلوم کی تو صاحبِ دکان نے ١٠ روپے بتائی مستری نے کہا ٹھیک ہے لیکن میرے مالک( جس کے گھر مستری کام رہا ہے) کو ١٢ روپے بتانا، چنانچہ مالک آیا اس نے قیمت معلوم کی تو صاحبِ دکان نے ١٢ روپے بتائی چنانچہ مالک نے ١٢ روپے دیے اور چلا گیا اس کے بعد صاحبِ دکان نے باقی دوروپے مستری کو دیدیے، اب معلوم یہ کرنا ہے یہ معاملہ کرنا کیسا ہے اور اس میں کون کون گنہگار ہے ؟

الجواب وبالله التوفيق: ایسا کرنا درست نہیں ہے یہ دھوکہ اور ناجائز ہے۔

قال رسول الله صلى عليه وسلم: "من غش فليس منا". (سنن الترمذي/كتاب البيوع/باب ماجاء في كراهية الغش في البيوع، ٥٩٧/٣، رقم الحديث: ١٣١٥، ط: مصر)

ایک عورت کی شادی ہوئی ایک ادمی سے اور اس کے ہاں بچے پیدا ہوئے پھر شوہر کا انتقال ہو گیا اور اپنا اپنا حصہ بھی تقسیم کر دی گئی اب اس عورت کی دوسری شادی ہوتی ہے ایک دوسرے ادمی سے اور اس کے یہاں بھی بچے ہیں اب اگر پہلی شادی سے ہوا لڑکا انتقال کر گیا اپنے بالغ بچے چھوڑ کر تو اس حالت میں لڑکے کے انتقال کے بعد اپنی ماں جو کہ اب دوسرے کی شادی میں ہے اس کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں

الجواب وبالله التوفيق: ذکر کردہ صورت میں مرحوم بیٹے کی ماں جو اب دوسرے کے نکاح میں ہے اس کو اپنے بیٹے کی جائیداد میں حصہ ملے گا۔

والثالثة الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الإبن أو اثنين من الأخوة والأخوات من أي جهة كانوا، والثلث عند عدم هؤلاء، وثلث ما يبقي بعد فرض الزوج والزوجة. (الفتاوى الهندية/كتاب الفرائض/الباب الثاني: في ذوي الفروض، ٥٠٠/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١.سوال:- ہمارے یہاں لوگ ایک وظیفہ پڑھتے ہیں ” شیخ عبدالقادر جیلانی شی للہ” معلوم یہ کرنا ہے کہ اس وظیفے کو پڑھا جاسکتا ہے؟؟

لجواب وبالله التوفيق: مذکورہ وظیفہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ مستفاد از: (إمداد الفتاوى جديد مطول حاشية، ٢٤٩/١٠، ط: زكريا ديوبند)

ومن أضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون. (سورة الأحقاف، الآية: ٥)

أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح شيئ.....وقد عده أناس من العلماء شركا. (روح المعاني/سورة المائدة/تحت الآية: ٣٥، ٢٩٧/٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

اگر کسی کے پاس کوئی زمین ہے اور اس سے کوئی نفع بھی حاصل نہیں ہو رہا یعنی نہ اس سے کرایہ آرہا ہے نہ کوی پیداوار تو کیا ایسی زمین پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

الجواب وبالله التوفيق: زمین جو اُس کے پاس ہے اگر خریدتے وقت بیچنے کی نیت سے خریدی ہے۔ تو اس کی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ اور اگر خریدتے وقت بیچنے کی نیت سے نہیں خریدی تھی تو اُس کی مالیت پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة، وصلاح الاستعمال زكوة؛ لأنها مشغولة بحاجة الأصلية ليست بنامية. (شامي/كتاب الزكاة، ١٧٨/٣، ط: زكريا ديوبند)

ومنها كون المال فاضلا عن الحاجة الأصلية....كثياب البذلة والمهنة والعلوفة والحمولة والعمولة من المواشي وعبيد الخدمة والمسكن والمراكب. (بدائل الصنائع/كتاب الزكاة، ٩١/٢، ط: زكريا ديوبند) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

ایک شخص نے دوسری شادی کرلی پہلی بیوی نے کہا تم نے شادی کیوں کی میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی چنانچہ بیوی اور اس کے گھر والوں نے کورٹ میں جاکر قانونی طورپر طلاق لے لی عورت نے طلاق نامہ پر دستخط کردیے لیکن شوہر بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا ہے کسی بھی حال میں نہ شوہر نے بیوی کو طلاق دی ہے اور نہ ہی شوہر نے طلاق نامہ پر دستخط کیے لیکن بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے لہٰذا اس نے قانونی طور پر طلاق لےلی ہے، اس کے بعد اس نے دوسری جگہ نکاح بھی کرلیا ہے، عدت کے اندر ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ذکر کردہ صورت میں طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ نیز دوسری جگہ اس کا نکاح صحیح ہوگیا یا نہیں ؟؟

الجواب و بالله التوفيق صورت مسئولہ میں طلاق کے مسئلہ میں عدالت کا فیصلہ معتبر ہونے اور نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں ۔۔ پہلی صورت ۔۔ اگر کسی مسلمان عادل جج نے حدود شرع کی رعایت کرتے ہوئے طلاق کا فیصلہ بصورت مجبوری کیا تو اُس کا یہ فیصلہ طلاق صحیح ہوگا ۔ ورنہ نہیں ۔اور سوال نامہ سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی مجبوری نہیں تھی ۔ لہذا اگر مسلم جج نے بھی فیصلہ کیا تو معتبر نہیں ۔۔ دوسری صورت ۔ اگر فیصلہ کرنے والا غیر مسلم تھا تو ایسی صورت میں اُس کا فیصلہ معتبر نہ ہوگا اور طلاق واقع نہ ہوگی ۔۔ ۔ لہٰذا اب شوہر سے طلاق یا شرعی تفریق حاصل کئے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا درست نہیں ۔۔ (مستفاد از: ایضاح النوادر، ١٥١/٢)

ولن يجعل الله للكفرين على المؤمنين سبيلا. (سورة النساء، الآية: ١٤١)

لم ينفذ حكم الكافر على المسلم، وينفذ للمسلم على الذمي. (شامي/كتاب القضاء/باب التحكيم، ١٢٦/٨، ط: زكريا ديوبند)

لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره. (هندية/كتاب النكاح، ٢٨٠/١، ط: زكريا ديوبند)