سوال:-طلاق کے کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کے تعریف اور اس کا حکم تحریر کریں؟

الجواب:-طلاق کی تین قسمیں ہیں (1) احسن (2) حسن (3) بدعی-طلاق احسن کی صورت یہ ہے کہ ادمی اپنی بیوی کو ایک طلاق ایسے طہر میں دے جس میں بیوی سے محبت نہ کی ہو اور عدت گزرنے تک اسے چھوڑ دے اور حسن کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی مدخولہ بیوی کو تین طہر میں تین طلاق دے یعنی ایک طہر میں ایک طلاق دوسرے طہر میں دوسری طلاق اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے اور طلاق بدعی یہ ہے کہ اپنی مدخولہ بیوی کو تین طلاق ایک ہی کلمہ میں دے یا ایک طہر میں تین طلاق دے تو طلاق واقع ہوگی اور وہ آدمی گنہگار ہوگا

فالاحسن: ان يطلق امراته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها......... والحسن:ان يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر اخر اخرى...... واما البدعي: بدعي لمعنى يعود الى العدد ويدعي لمعنى يعود الى الوقت.....(الهندية:٤١٥/١-٤١٦،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

واقسامه ثلاثة: حسن واحسن وبدعي يأثم به والفاظه ومحله المنكوحة..... طلقة رجعية فقط في طهر لاوطء فيه...... احسن.... وطلقة لغير موطوءة ولو في حيض ولا موطوءة تفريق الثلاث في ثلاثة اطهار لا وطء فيها ولا في حيض......(رد المختار: ٤٣١/٤-٤٣٣،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

قال الطلاق على ثلاثة اوجه حسن واحسن وبدعي فالاحسن ان يطلق الرجل امراته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها....... والحسن هو طلاق السنة وهو ان يطلق المدخول بها ثلثا في الطهار..... والطلاق البدعة يطلقها ثلثا بكلمة واحدة او ثلثا في طهر واحد.....(هدايه: ٣٧٥/٢-٣٧٦ كتاب الطلاق، زمزم ديوبند)

سوال:-طلاق دینے کا حقدار کون اور کب ہے اور کون حقدار نہیں مفصل بیان کریں؟

الجواب:-شریعت نے طلاق دینے کا حق صرف شوہر کو دے رکھا ہے اور ان کی علاوہ بیوی کو طلاق کے حق نہیں اور طلاق اس وقت دے جب اس کو سمجھانے کے بعد بھی وہ باز نہ ائے اس کی وجہ سے اور دل نہ ملنے سے تو اس وقت طلاق دے اور عورت کو اسی لیے نہیں دیا چونکہ فطری ساخت کے اعتبار سے فرق ہے اس لیے شریعت نے نہ تو عورتوں پر کمانے کا بوجھ ڈالا ہے اور نہ ان کو طلاق کے اختیار ہے-

وللرجال عليهن درجة.....(البقرة ايت:٢٢٨)

عن ابن عباس قال........ فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:...... انما الطلاق لمن اخذ بالساق.....(سنن ابن ماجه: ١٥١،كتاب الطلاق باب الطلاق العبد النسخة الهندية دار السلام)

واما حكم الطلاق فزوال الملك عن المحل.....وزوال حل العقد متى ثم ثلاث.....(تاتارخانية ٣٧٧/٤ زكريا ديوبند)

سوال:-طلاق کے لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟

جواب:-طلاق کے لغوی معنی ترک کرنا یا چھوڑ دینا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں کہتے ہیں اپنے بیوی منکوحہ کو مخصوص کہ لفظ کے ذریعہ سے قید نکاح سے ازاد کرنا ہے-

الطلاق في الغة: ازالة القيد والتخلية وفي الشرع ازالة ملك النكاح.....(قواعد الفقه: ٢١٢،اشرفيه ديوبند)

وهو لغة رفع القيد وشرعا رفع قيد النكاح في الحال او المال بلفظ مخصوص هو ما اشتمل على الطلاق.......(الدر المختار مع الشامي: ٤٢٣/٤-٤٢٦،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

اما تفسيره شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا او مالا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق....(الهندية:٤١٥/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-طلاق کا مسنون طریقہ کیا ہے مدلل بیان کریں؟

الجواب:-طلاق کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ عورت کو پاکی کی حالت میں ایک طلاق رجعی دے دی جائے ایک طلاق کے بعد عدت کے اندر اگر چاہے تو رجوع کر لے اور رجوع نہ کرنا چاہیں تو عدت گزرنے کے بعد عورت ازاد ہوگی پھر وہ عورت کسی اور سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے اس کو شریعت میں طلاق احس کہتے ہیں-

فالاحسن ان يطلق الرجل امراته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقض عدتها لان الصحابة رضي الله عنهم كانوا يستحبون ان لا يزيدوا في الطلاق على واحدة حتى تنقض العدة.....(هدايه: ٣٧٥/٢،كتاب الطلاق، زمزم ديوبند)

طلقة رجعية فقط في طهر لا وطاء فيه وتركها حتى تمض عدتها احسن بالفسبة الى البعض الآخر......(الدر المختار مع الشامي ٤٣٢/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

فالاحسن: ان يطلق امراته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقض عدتها او كانت حاملا قد استبان حملها.....(الهنديه: ٤١٥/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-مدت رضاعت کیا ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-مدت رضاعت کے سلسلے میں ائمہ کرام اختلاف ہے چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی مدت ڈھائی سال ہے اور حضرات صاحبین کے یہاں مدت رضاعت دو سال ہے اور یہی قول امام شافعی کا بھی ہے اور حضرت امام زفر کے نزدیک تین سال ہے-

هو حولان ونصف عنده وحولان فقط عندهما وهو الاصح فتح وبه يفتى كما في تصحيح القدوري.....(الدر المختار مع شامي: ٣٩٤/٤،كتاب النكاح باب الرضاع،زكريا ديوبند)

ثم مدة الرضاع ثلثون شهدا عند ابي حنيفة و قالا سنتان وهو قول الشافعي وقال زفر ثلاثة احوال لان الحول حسن للتحول من حال ابي حال.....(هداية:٣٧١/٢،كتاب النكاح باب الرضاع،زمزم ديوبند)

وقت الرضاع في قول ابي حنيفة رحمه الله عليه مقدر بثلاثين شهرا وقال مقدر جحولين......(هنديه: ٤٠٩/١،كتاب النكاح،الشرفيه ديوبند)

سوال:-حرمت مصاہرت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعا کیا حکم ہے نیز کن کن چیزوں سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں تفصیل بیان كري

الجواب:-ازدواجي تعلق قائم ہو جانےكي بنا پر جو رشتے حرام ہو جاتے ہیں اس کو حرمت مصاہرت کہتے ہیں اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یہ عورتیں حرام ہو جاتی ہے-مثل: ساس بیوی کی بیٹی جو دوسرے سے ہو اگر وہ اپنے بیوی سے جماع کیا ہو بیٹے کی بیوی پوتے کی بیوی سو تیلی ماں سوتیلی دادی وغیرہ، اور حرمت مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہو جاتی ہے اس طرح زنا اور شرائط معتبرہ کے ساتھ دواعی زنا سے بھی ثابت ہو جاتی ہے یا اس عورت کو شہوت کے ساتھ کسی جائل کے بغیر چھولے یا شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کے اندرونی حصہ کی طرف دیکھ لے تو حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے یعنی اس عورت کے اصول و فرو ع مرد پر حرام ہو جائیں گے اور اس مرد کے اصول و فروع عورت پر حرام ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ چیزوں سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی-

وحرم بالمصاهرة بنت زوجته الموطوءة واما زوجته وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح وان لم توطا الزوجه.... وزوجة اصله وفروعه مطلقا.... وحرم الكيل ممامر تحريمه نسبا ومصاهرة رجاعا.... وحرم ايضا بالصهرية اصلي مزنيته..... واصلي ممسوسته بشهوة..........(الدر المختار:١٠٤/٤-١٠٨ كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

المصاهرة عند الفقهاء هي حرمة الختونة....( قواعد الفقه:٤٩، باب الميم ،دار الكتاب ديوبند)

وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد..... فمن زني بامراة حرمت عليه امها وان علت وابنتها وان سفلت وكذا تحرم المزني بها على اباء الزاني و اجداده وان علوا...(الهنديه: ٣٣٩/١،كتاب النكاح باب الثالث في بيان المحرمات زكريا ديوبند)

١.سوال:-اگر کوئی ظہر کی اذان سے پہلے چار رکعت سنتیں پڑھ لے تو اس کی سنتیں ہوجائیں گی یا دوبارہ پڑھنی ہوں گی ؟؟

الجواب وبالله التوفيق: مسؤلہ صورت میں اگر ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد سنتیں پڑھی ہیں خواہ اذان سے پہلے ہی پڑھی ہوں تو جائز اور درست ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

مستفاد از: (فتاوى دار العلوم وقف ديوبند، ٣٧١/٦، ط: حجة الإسلام اكيدمي) (فتاوى قاسمية، ٢٠٣/٨، ط: الأشرفية ديوبند)

(١): سنن للفرائض، وخرج بالفرائض ما عداها، فلا أذان للوتر، ولا العيدين، ولا الجنائز، ولا للكسوف، والتراويح والسنن الرواتب. (البحر الرائق/كتاب الصلاة/باب الأذان، ٤٤٤/١، ط: زكريا ديوبند)

(٢): وإما الصلاة المسنونة فهي السنن المعهودة للصلوات المكتوبة........ أما الأول فوقت جملتها وقت المكتوبات؛ لأنها توابع للمكتوبات، فكانت تابعة لها في الوقت. (بدائع الصنائع/كتاب الصلاة/فصل: في الصلاة المسنونة، ٢٦٣/٣، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

امام صاحب نے نماز میں سورۂ قارعة اس طرح پڑھی: القارعة ما القارعة اس کے بعد ایک آیت چھوڑدی پھر يوم يكون الناس كالفراش المبثوث وتكون الجبال كالعهن المنفوش پڑھ کر پھر ایک آیت چھوڑ دی پھر آخر میں امام صاحب نے سجدۂ سہو بھی کرلیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ واضح فرمائیں۔

الجواب وبالله التوفیق: صورت مسئولہ میں میں نماز درست ہوگئ اعادہ کی ضرورت نہیں۔

وان ترك كلمةمن آية فان لم يتغير المعنى كما قرأ وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وترك ذا...الى قوله.... او قرأ جزاء سيئة سيئة مثلها بترك سيئة الثانية لا تفسد الخ. (كبيري/كتاب الصلاه/باب ما يفسد الصلاوما يكره فيها/فصل في زلۃ القارى، ص: ٤٦١، ط: رحيميه دیوبند، قديم. ص: ٤٩٢، ط: سهيل اكيڈمي لاہور)

١.سوال:-اگر کسی شخص نے فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سنت پڑھی تو سنت کا کیا حکم ہے ادا ہوگی یا نہیں

الجواب و بالله التوفيق فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی سنت پڑھنا جائز نہیں ، البتہ سورج طلوع ہونے کے بعد مکروہ وقت ختم ہو جانے کے بعد فجر کی سنت اُس دن کے زوال تک قضاء کی جا سکتی ہے ۔۔

"(ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، (قوله: ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعاً لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع؛ لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل: هذا قريب من الاتفاق؛ لأن قوله: "أحب إلي" دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 57): والله أعلم بالصواب

زید ظہر کی فرض پڑھ رہا تھا تنہا اس نے قعدہ اخیرہ میں درودشریف کے بعد یہ دعاء مانگی اللهم اغفرلي ولوالدي ولاستاذي تو کیا اس کی نماز فاسد ہوجائے گی یا نماز ہوجائے گی ؟؟

الجواب وباللّه التوفيق= واضح رہے کہ نماز میں دعا مانگنا شرعاً ثابت ہے’خواہ وہ فرض ہو یا نفل ہو، البتہ یہ ملحوظ رہے کہ ایسے الفاظ سے دعاء نہ مانگیں جو انسانی بات چیت کے مشابہ ہو، نیز بہتر یہ ہے کہ وہ دعائیں کی جاییٔں جو احادیث سے ثابت ہیں- لھذا صورت مذکورہ میں نماز شرعاً درست ہے، نماز فاسد نہیں ہوگی- تاہم افضل یہی ہیکہ منقول دعائیں مانگی جاییٔں فقط

(قوله: ودعا بما يشبه ألفاظ القرآن والسنة لا كلام الناس) أي بالدعاء الموجود في القرآن، ولم يردحقيقة المشابهة ؛ إذ القرآن معجز لا يشابهه شيء، ولكن أطلقها ؛ لإرادته نفس الدعاء ، لا قراء ة القرآن، مثل: ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا ﴾ [البقرة: ٢٨٦] ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبِنَا ﴾ [آل عمران:٨] ﴿ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ ﴾ [نوح:٢٨] ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ﴾ [البقرة: ٢٠١] إلى آخر كل من الآيات، وقوله: والسنة، يجوز نصبه عطفاً على ألفاظ أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة، وهي الأدعية المأثورة، ومن أحسنها ما في صحيح مسلم:اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال»، ويجوز جره عطفاً على القرآن أو ما أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة أو دعا بالسنة، وقد تقدم أن الدعاء آخرها سنة ؛ لحديث ابن مسعود:ثم ليتخير أحدكم من الدعاء أعجبه إليه فيدعو به. (البحر الرائق٢٤٩/١)

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کی سزا ہے؟ اسی طرح نیکی کا بھی یہی معاملہ ہے ؟ مدلل رہنمائی فرمائیں

الجواب وبالله التوفیق: ایک گناہ دوسرے گناہ کی سزا ہے یہ تعبیر اختیار کرنا تو مناسب نہیں البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گناہ بعض اوقات دوسرے گناہ کا سبب بنتا ہے اور انسان کو برے انجام تک پہنچا دیتا ہے اسی طرح نیکی بھی دوسرے نیک کاموں کا ذریعہ اور وسیلہ بنتی ہے اور انسان باری تعالیٰ کے مقرب بندوں میں شامل ہوجاتا ہے جیساکہ بیشتر نصوص شرعیہ سے اسکی تائید ہوتی ہے۔

قال الله تبارك وتعالى فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم والله لا يهدي القوم الفاسقين / سورة الصف/ رقم الاية ١٤/

عن عبد الله قال.. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عليكم بالصدق فان الصدق يهدي الى البر وان البر يهدي الى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا واياكم والكذب فان الكذب يهدي الى الفجور وان الفجور يهدي الى النار وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا.../مسلم شريف /كتاب البر والصلة والاداب/باب قبح الكذب وحسن الصدق وفضله/رقم الحديث ٢٦٠٧

عن ابي هريره. عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال... ان العبد اذا اخطأ خطيئة نكتت في قلبه نكتة سوداء فاذا هو نزع واستغفر وتاب سقل قلبه وان عاد زيد فيها حتى تعلو قلبه وهو الران الذي ذكر الله كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون../ترمزي شريف/ابواب تفسير القران عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/باب ومن سوره ويل للمطففين/رقم الحديث /٣٣٣٤/ فقط والله تعالى اعلم بالصواب

ایک شخص موبائل کی کمپنی کا مالک ہے اور اس کی ماتحتی میں مزدور کام کرتے ہیں اور کمپنی کا قانون یہ ہے اگر کوئی مزدور ایک دن کی بھی چھٹی کرتا ہے تو کمپنی ٥٠٠ روپیے کاٹ لیتی ہے جبکہ اسکی مزدوری ایک دن کی ٤٨٤ بیٹھتے ہیں، اور اسی طرح اگر کوئی مزدور دس دن کام کرکے چھوڑ دیتا ہے تو کمپنی اس کو دس دن کی مزدوری نہیں دیتی تاکہ مزدور چھٹی نہ کرے تو کیا اس طرح کا عمل جائز ہے یا نہیں ؟؟

الجواب وباللّه التوفيق= ١- واضح رہے کہ کویٔ بھی کمپنی اپنے مزدور کو جو تنخواہ دیتی ہے وہ در حقیقت مزدوری کی اجرت دیتی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص کمپنی میں چھٹی کرتا ہے تو مالک کو شرعاً یہ اختیار ہیکہ وہ أیام غیر حاضری کی تنخواہ کاٹ لے، لیکن مالک کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ غیر حاضری پر اتنی زیادہ تنخواہ کاٹے جس سے مزدور کو حرج ہو، یہ ظلم ہے، ٢- مالک کے لیے یہ ہرگز جایز نہیں ہے کہ وہ صرف بغرض خود مزدور کی دس یوم کی تنخواہ نہ دے، یہ عمل شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے، قرآن و احادیث نے اس کی سخت مذمت کی ہے، بروز قیامت یہ روکی ہویٔ تنخواہ اعمالِ صالحہ کے ذریعہ ادا کرنا ہوگی- لھذا مالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام مزدور کی تنخواہ لوٹا دے جس – جس کی تنخواہ اب تک نہیں دی ہے، اور کمپنی کو نقصان سے بچانے کے لیے جایز و عدل وانصاف پر مبنی قانون بناییں،۔ نیز أیام غیر حاضری کی جو تنخواہ ہے صرف وہی کاٹے، اور مزدوروں کے ساتھ آسانی وحسنِ سلوک کرے؛ فقط والّله سبحانه وتعالى أعلم بالصّواب

قال اللّه تعالى:وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ( سورۃ الأعراف : ٨٥)

عن عبدالله بن عمر قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم: أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه. (سنن ابن ماجة/كتاب الرهون/باب أجر الأجراء، ٨١٧/١، رقم الحديث: ٢٤٤٣، ط: بيروت)

١.سوال:-کن دو عورتوں کو جمع کرنا نکاح میں درست نہیں ہے اگر اس کے لیے کوئی ضابطہ ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-ہر وہ دو عورت جن میں سے ایک مذکر ماننے کی صورت میں دوسری سے نکاح کرنا درست نہ ہو مثلا دو بہنیں پھوپھی بھتیجی خالہ بھانجی وغیرہ-فقط واللہ اعلم

ولا يجمع بين امراتين لو كانت احدهما رجلا لم يجزله ان يتزوج بالاخرى: لان الجمع بينهما يغض الى القطيعة والقرابة المحرمة للنكاح محرمة للقطع........(هدايه: ٣٣١/٢،كتاب النكاح، زمزم ديوبند)

وحرم الجمع والطابملك يمين بين امراتين ايتهما فرضت ذكرا لم تحل للاخرى.....(الدر المختار مع شامي: ١١٦/٤،كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

والاصل: ان كل امراتين لو صورنا احدهما من اي جانب ذكرا لم يجز النكاح بينهما برضاع او نسب لم يجز الجمع بينهما، هكذا في المحيط.......(هنديه: ٣٤٣/١،كتاب النكاح، اشرفيه ديوبند)

سوال:-حرمت رضاعت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-الرضاع:راء کے فتح اور کسرہ کے ساتھ لغت میں چھاتی چوسنے کے معنی میں اتا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں رضاع کہا جاتا ہے رضع کا عورت کی چھاتی سے وقت مخصوص میں دودھ چوسنا خواہ وہ عورت کنواری ہو یا بوڑھی واضح رہے کہ یہاں مص سے مراد دودھ کا منقذین کے ذریعہ پیٹ میں پہنچنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ جو عورتیں نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہے اس طرح وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتی ہیں-

هو لغة بفتح وكسر مص الثرى وشرعا:مص من ثرى ادمية ولو بكر اوميتة او ايسة في وقت مخصوص....... وحرم الكل مما مرتحريمة نساء.......(الدر المختار مع شامي: ٣٨٩/٤-٣٩٣،كتاب النكاح ،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی مشرک محض نکاح کے لیے مسلمان ہو جائے تو اس کے مسلمان ہونے کا اعتبار ہے یا نہیں اور اس نکاح کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کرے ؟

الجواب:-اسلام اگرچہ ایک عبادت مقصودہ ہے مگر پھر بھی اس میں نیت شرط نہیں ہے لہذا صورت مسولہ میں مشرک کا محض نکاح کے لیے اسلام لانا معتبر ہے اور وہ نکاح بھی درست ہوگا-”فقط واللہ اعلم

واما في العبادات كلها فهي شرط صجتها الا الاسلام فانه يصح بدونها بدليل قولهم: ان اسلام المكره صحيح... الخ(الاشباه والنظائر:٧٦/١ فقيه الامه ديوبند)

ويجوز تزوج الكتابيات لقوله تعالى والمحسنات من الدين اوتوا الكتاب اي العفائف.....(هدايه: ٣٣٢/٢،كتاب النكاح، زمزم ديوبند )

والصحه نكاح كتابية وان كره تنزيها مؤمنة نبي مرسل مقدة بكتابي منزل......(شامي: ١٢٥/١٣٤،كتاب النكاح، زكريا،ديوبند)

سوال:-اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟

الجواب:-اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطے کہ وہ واقعی اہل کتاب ہو یعنی یہودیہ یا نصرانیہ عورتیں ہوں دہریہ اور لا مذہب نہ ہو مگر پھر بھی ان سے نکاح کرنا مکروہ تنزیحی ہے کیونکہ کتابیہ کے ساتھ رہ کر خود مسلمان اپنا مذہب تبدیل کر دیتا ہے اس لیے اس دور میں کتابیہ سے نکاح کرنا بہتر نہیں ہے-فقط واللہ اعلم

وصح النكاح كتابية وان كره تنزيها مؤمنة ..... بكتاب وان اعتقدوا المسيح اليها وكذا حل ذبيحتهم على المذهب.....(الدر المختار ما شمي:١٢٥/٤-١٣٤،كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحرية والزمية حرة كانت او امراة كتاب في محيط السرخي والاولى ان لا يفعل.....(هنديه: ٣٤٧/١،كتاب النكاح، الشافيه ديوبند)

سوال:-محرمات ابدیہ کا مطلب کیا ہے اور ان میں کون کون سی عورتیں داخل ہے یہ وضاحت تحریر کریں؟

الجواب:-محرمات ابدیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے اور ان میں تین قسم کی عورت داخل ہے ہیں(1) نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے اپنے اصول و فروع اور اپنے ماں باپ کے وصول و فروع ہیں (2) رضاعت کی وجہ سے وہی عورتیں حرام ہوتی ہے جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہے(3) مصاہرت کی وجہ سے یعنی نکاح کی وجہ سے یہ عورتیں حرام ہیں ساس بیوی کی بیٹی بیٹے کی بیوی پوتے کی بیوی وغیرہ

اسباب التحريم انواع قرابة مساهرة رضاع...... حرم على المتزوج ذكرا كان او انثى نكاح اصله وفروعه علا او نزل وبنت اخيه واخته وبنتها وعمته وخالته وحرم بالمصاهرة بنت زوجته الموطوءة وام زوجته......(الدر المختار مع شامى:٩١/٤-١٠٥،كتاب النكاح زكريا ديوبند)

المحرمات بالنسب وهن الامهات والبنات والاخوات....... المحرمات غير نسب: وهي اربع فرق: امهات الزوجات.... وبنات الزوجة......(هنديه: ٣٣٩/١،كتاب النكاح الاشرفيه ديوبند)

١.سوال:-کیا حضرت عائشہؓ اللہ کے نبیﷺ کو نام لیکر پکارتی تھیں ۔ یا کس نام سے بلاتی تھیں۔ تحقیق مطلوب ہے؟

الجواب وبااللہ التوفیق ۔ بندے کی تحقیق کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عموما یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں متعدد احادیث میں یہ الفاظ منقول ہیں جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے یا آپ سے کسی بات کے بارے میں سوال یا استفسار کرتے ہوئے یا رسول اللہ کے الفاظ کہیں ہیں حضرات صحابہ اور ازواج مطہرات کا عمومی طریقہ جناب رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم کو خطاب کرنے کا یہی تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم اور ادب کے ساتھ یا رسول اللہ ۔۔یا ۔۔ یا نبی اللہ کہہ کر پکارتے تھے اس کے علاوہ بھی نصوص پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ حضرات یا محمد کہ کریعنی آپ کے نام کے ساتھ مخاطب کرتی تھیں۔

قال الله تبارك وتعالى.. يا ايها الذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم وانتم لا تشعرون ...... سوره حجرات/ رقم الايه /٢/....... وقال تعالى ان الذين ينادونك من وراء الحجرات اكثرهم لا يعقلون.... سوره الحجرات/رقم الايه/٤/ قالت عائشة .قلت .يا رسول الله. كيف يحشر الناس يوم القيامه. قال حفاة عراة..قلت والنساء .قال والنساء.. قلت يا رسول الله فما يستحيا قال. يا عائشة الأمر اهم من ان ينظر بعضهم الى بعض ...... /سنن ابن ماجه ./كتاب الزهد... باب ذكر البعث /رقم الحديث/٤٢٧٦/ عن عائشة. ان صفية حاضت بمنى وقد افاضت. فقالت عائشة.. يا رسول الله. ما ارى صفيةالا حابستنا قال لم .. قلت حاضت قال اولم تكن قد افاضت قلت قال اظنه قالت بلى............ بخاري شريف جلد نمبر/١/ص/٧٣/رقم الحديث/٣٢٨/كتاب الحيض،،باب،المرءة تحيض بعد الافاضه.. ..و../مسند احمد/مسند الصديقه عائشه بنت الصديق رضي الله عنها/رقم الحديث٢٤٦٧٤....

شب برأت کے موقع پر مسجد میں علماء کرام سے بیان کرانا اور بذریعہ اشتہار لوگوں کو اس کی دعوت دینا کیسا ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: پندرہ شعبان کی رات میں عبادت کرنا اور دن میں روزہ رکھنا حدیثِ پاک سے ثابت ہے البتہ اس رات بہت سی خرافات ہوتی ہیں ان خرافات پر روک تھام کے لیے اگر حضراتِ علماء کرام سے بیانات کرالیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے۔

عن على بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم "إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها إلى آخر الحديث. (سنن ابن ماجة/كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها/باب ماجاء في ليلة النصف من شعبان، ٤٤٤/١، رقم الحديث: ١٣٨٨، ط: بيروت)

عن أبي موسى: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنما مثل الجليس الصالح، والجليس السوء، كحامل المسك، ونافخ الكبير، فحامل المسك: إما أن يحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكبير: إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحا خبيثة. (صحيح المسلم/كتاب البر والصلح والأدب/باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء، ٣٣٠/٢، ط: النسخة الهندية) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟؟

الجواب وبالله التوفيق: سوالِ مذکور میں ان پیسوں کو مرحوم کی شرط کے مطابق مسجد میں صرف کرنا لازم ہے، مدرسہ میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

أما الوصية لمسجد كذا أو قنطرة كذا، صرف إلى عمارته وإصلاحه. (بزازية/كتاب الوصايا، ٢٦٢/٣، ط: زكريا)

اتفق الفقهاء على هذه العبارة وهي أن شرط الواقف كنص الشارع. (الفقه الإسلامي وأدلته/الباب الخامس: الوقف/المبحث الأول: شروط الوقف، ١٧٨/٨، ط: دار الفكر)

صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة. (شامي/مطلب: مراعاة غرض الواقفين واجبة، ٦٦٥/٦، ط: دار عالم الكتب الرياض) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

١.سوال:-جہیز کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

جواب:-لڑکی والے اگر اپنی بچی کو شادی کے موقع پر اپنے حیثیت کے مطابق رسم و رواج کی رعایت رکھے بغیر بلا کسی چیز و دباؤ کے اپنی خوشی سے جو چاہیں دے شرعا اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ممانعت اس صورت میں ہیں جب کہ جہیز کے نام پر لڑکے والوں کی طرف سے صراحتا یا دلالتا لڑکی والوں کو زبردستی جہیز ادا کرنے پر مجبور کیا جائے جیسا کہ عام رواج ہو گیا ہے اس کی شرعا قطعا اجازت نہیں بلکہ کھلا ہوا جبر وہ ظلم ہے

لوزفت اليه بلا جهاز يليق به فله مطالبه لاب بالنقد قنية زاد في البحر عن المبتغي: الا اذا سكت طويلا فلا خصومة له لكن في النهر عن البزازية....الخ(الدر المختار مع الشامي: ٣١٠/٤-٣١١،كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

قال الامام المر غيناني: الصحيح انه لا يرجع على اب المراة بشيء لان المال في النكاح غير مقصود.....(هنديه: ٣٩١/١،كتاب النكاح، اشرفيه ديوبند)

لوزفت اليه بلا جهاز يليق به فله مطالبة الاب بالنقد..... الا اذا سكت طويلا فلا حصومة له لكن في النهر عن البزازية الصحيح ان لا يرجع على الاب.....(البحر الرائق: ١٨٦/٣،كتاب النكاح ،کوئٹ)