سوال:قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے انگلیاں کلائی پر پھیلا کر رکھنی چاہیے یا سمٹ کر نیز سجدہ میں انگلیاں پھیلا کر رکھنی چاہئے یا سمٹ کر اسی طرح قعدہ میں انگلیاں کس طرح رکھنی چاہیے ؟

الجواب و باللہ التوفیق :-قیام کی حالت میں ہاتھ ناندھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی باطنی حصّے کو بائیں ہاتھ کی ظاہری حصّے پر رکھے اور خنصر اور ابہام سے کلائی کو پکڑے باقی انگلیوں کو کلائی پر اپنی حالت پر چھوڑ دے اسی طرح قعدے کے حالت میں انگلیا اپنی حالت پر رکھی جائے نیز سجھوں میں انگلیا سمٹ کر رکھی جائے –//الہندیہ ج:١،ص:١٣١ زکریا –//المحیط البرہانی ج:١ ص:٢٩١

(١) لا يفرج أصابعه كل التفريج في حاله الصلاة ولا يضم كل الضم إلا في موضعين في حالة الركوع يفرج كل التفريج ....وفي حالة السجود يضم كل الضم....(المحيط البرهاني) 1/291

ويضع باطن كفه اليمنى على ظاهر كفه اليسرى وياخذ الرسغ بالخنصر والإبهام ويرسل الباقي على الذراع... ويعتمد بيديه على ركبته ويفرج بين أصابعه ولا يندب إلى التفريج إلا في هذه الحالة ولا إلى الضم إلا في حالة السجود...(الهندية الجديدة)1/131،ط زكريا

سوال:اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع نہ کر سکے بلکے امام کے رکوع کے اٹھنے کے بعد رکوع کر لے تو مقتدی کی وہ رکعت شمار ہوگی یا نہیں ؟

الجواب و باللہ التوفیق:-اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع نہ کر سکے بلکہ امام رکوع سے فارگ ہونے کے بعد رکوع کر کے امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو مقتدی کی وہ رکعت بالاتفاق شمار ہوگی یعنی مقتدی اس رکعت کو پانے والا ہوگا اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا –//شامی ج:٢،ص:٥١٦ زکریا –// بداءع،ج:١،ص:٥٦٢ زکریا –//البنایہ ج:٢،ص:٥٧٨ اشرفیہ

(١) إذا انتهى إلى الإمام وهو قائم يكبر ولم يركع معه حتى رفع الامام راسه من الركوع ثم ركع أنه يدرك الركعة بالاجماع....(البناية شرح الهداية)2/578،ط اشرفية

(٢) بخلاف ما لو أدركه في القيام ولم يركع معه فإنه يصير مدركا لها فيكون لاحقا فياتي بها قبل الفراغ أي أنه ياتي بها قبل متابعة الإمام فيما بعدها حتى لو تابع الإمام ثم أتى بعد فراغ إمامه بما فاتته صح وأثم لترك واجب الترتيب...(الدر المختار مع الشامي) 2/516،ط زكريا

سوال: روزہ میں نیت کیا ہے ؟اور کب تک کر سکتے ہیں؟

الجواب و باللہ التوفیق: واضح رہے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے. رمضان کا روزہ نذر معین کا روزہ اور نفل روزہ کی نیت سحری کے بعد بھی کر سکتے ہیں اور اس کا آخری وقت نصف نہار شرعی سے پہلے پہلے ہے اسکے بعد معتبر نہیں ہوگی. نصف نہار شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر صبح صادق کے طلوع اور سورج غروب کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اس کے درمیانی نقطے کو صنف نہار شرعی کہتے ہیں اس سے پہلے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے اس کے بعد روزے کی نیت معتبر نہیں ہوگی . فقہاء نے لکھا ہےکہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے ارادے سے سحری کر لیا تویہ نیت کا قائم مقام ہو جائے گا فقط والله اعلم

فيصح أداء صوم رمضان والنذر المعين.النفل بنية من الليل.......... إلى الضحوة الكبرى لا بعدها(درمختار) قوله إلى الضحوة الكبرى المراد بها نصف النهار الشرعي(شامي زكريا ٣٣٨/٣-٣٤١: الفتاوى الهندية ١٩٥/١

سوال : کیا روزہ کی نیت زبان سے کرنا ضروری ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: سورت مسئلہ میں حکم یہ ہے کہ نیت کے لیے زبان سے تلفظ کرنا ضروری نہیں ہے. محض دل کا ارادہ کر لینا کافی ہے فقہاء کرام نے لکھا ہےکہ روزہ کے لیے سحری کھانا بھی نیت کا قائم مقام ہے فقط والله اعلم

والنية معرفته بقلبه ان يصوم....... والتسحر في رمضان نية (الفتاوى الهندية ١٩٥/١: در مختار ٣٤٥/٣؛زكريا: التاتارخانية ٣٦٨/٣؛زكريا)

نوٹ: بعض لوگ نیت کو عربی میں ضروری سمجھتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے (جواھر الفقہ ٢٧٨)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی کیا اس لفظ سے ہر جگہ ایک ہی حکم ہوگا یا الگ الگ یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمینان بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-میں نے تجھ کو جواب دیا اس کو لفظ کنائی شمار کیا ہے لہذا اس کی رو سے تو صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر اس سے زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے اس کی رو سے صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت نہ کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لہذا اس لفظ سے ہر جگہ کا حکم الگ الگ ہوگا اور عرف کے اعتبار سے۔

فالصريح قوله انت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لان هذه الالفاظ تستعمل في الطلاق ولا يستعمل في غيره ولا يفتفر الى النية لانه صريح فيه.....(هدايه: ٣٨٠/٢-٣٨١،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

كنايته عند الفقهاء مالم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره.... فلا تطلق بها الا بنية او الالة الحال.... البائن ان نواها او الثنتين..... وثلاث ان نواه.....(الدر المختار مع الشامي: ٥٢٦/٤-٥٣٦،كتاب الطلاق،زكريا ديوبند)

والاصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية انه اذا كان فيها لفظ لا يستعمل الا في الطلاق فذلك الفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية اذا اضيف الى المراة.....(هنديه: ٣٨٩/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو جواب ہے اور وہاں کا عرف کنایہ کا ہو اور شوہر یہ کہہ رہا ہو میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں شوہر کی بات معتبر ہوگی کیونکہ وہاں کے عرف کے اعتبار سے یہ کنائی لفظ ہے اور اس سے طلاق اس وقت واقع ہوگی جب کہ نیت پائی جائے یا دلالت حال پایا جائے یعنی مذاکرہ اور شوہر نے جب کہہ دیا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

وكنايته عند الفقهاء ما لم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره فلا تطلق بها الا بالنية او بدلالة الحال....(الدر المختار مع الشامي: ٤٥٧/٤-٤٥٨،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

الفصل الخامس: في الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة......(الهندية:٤٤٢/١،كتاب الطلاق، اشرفية ديوبند)

واما ضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة الحال لانها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره......(الهداية:٣٩١/٢ كتاب الطلاق،زمزم ديوبند)

سوال:-کیا ہر لفظ کنائی کے اندر نیت کا ہونا ضروری ہے یا بغیر نیت کے اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگر کوئی ایسا لفظ ہو تو اس کی بھی وضاحت کرے؟

الجواب:-کنائی الفاظ سے دیانتہ وقوع طلاق کے لیے نیت ہر حال ضروری ہے خواہ مذاکرہ طلاق ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو البتہ قضاء مذاکرہ طلاق کی صورت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جائے گی لیکن کچھ کنائی الفاظ ایسے ہیں کہ بغیر نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے مثلا اعتدى،استبرى رحمك أنت واحدة….. بشرط کے وہ حالت غصہ میں کہا ہو یعنی غصہ کی حالت میں ان الفاظ سے بلا نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی قضاء اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

بخلاف الفاظ الاخير اي ما يتعين للجواب لانها وان احتملت الطلاق غيره ايضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والسب...... حال الغضب تعينت الحال دالة على ارادة الطلاق فترجح......(شامي: ٥٣٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

الفصل الخامس: في الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة الحال...... وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي.....(هنديه: ٤٤٢/١،كتاب الطلاق ،اشرفيه ديوبند)

وفي حالة الغضب: يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق..... كقوله اعتدي اختيار...... فانه لا يصدق فيها لان الغضب يدل على ارادة الطلاق.......(هدايه: ٣٩٢/٢،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

سوال:-ایک شخص نے دوران سفر نماز پڑھی مگر وہ فاسد ہو گئی گھر پہنچ کر دوبارہ پڑھنا ہو تو اس صورت میں اکمال کریگا یا قصر ہی ادا کریگا ؟

الجواب و باللہ التوفیق :-اگر گھر پہنچ کر مذکورہ فاسد نماز کو وقت کے اندر پڑھتا ہو تو اکمال کریگا اور اگر وقت کے -بعد پڑھتا ہے تو قصر کریگا  فقط  والله اعلم

(2) وإذا قضى في حال سفره صلاة فائتة في حال الإقامة صلى أربعا وإن قضى في حال إقامته صلاة فائتة في السفر صلى ركعتين....(التاتارخانية)2/523،ط زكريا

(1) والقضاء يحكي أي يشابه الأداء سفرا وحضرا أي فلو فاتته صلاة السفر وقضاها في الحضر يقضيها مقصوره كما لو أداها وكذا فاتته الحضر تقضي في السفر تامة.... (الدر المختار مع الشامي) 2/618، ط زكريا

.سوال :دوران تلاوت آذان ہونے لگے تو آذان کے جواب دینے کا کیا حکم ہے ؟تلاوت جاری رکھنی چاہیے یا موقوف کر دینی چاہیے نیز آذان کے وقت بیت الخلا جانے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب و باللہ التوفیق :اگر مسجد میں تلاوت کر رہا ہو تو تلاوت جاری رکھنی چاہیے یہی افضل ہے البتہ تلاوت موقوف کر کے  جواب دینے کا بھی اجازت ہے اور اگر گھر میں تلاوت کر رہا ہو اور اس کی مسجد کی آذان ہو رہا ہو تو تلاوت موقوف کر کے آذان کا جواب دینا چاہیے اور اگر دوسرے مسجد کی آذان ہو تو تلاوت جاری رکھنی چاہیے ،—آذان کے وقت بیت الخلا جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر سخت تقاضا ہو تو جانے میں کوئی حرض نہی اس لئے کہ جماعت شروع ہو نے کے بعد سخت تقاضہ کے حالت میں بیت الخلا جانے کا حکم ہے تو آذان کے وقت بدرجہ اولى بیت الخلا جانے میں کوئی حرض نہی ،اور اگر معمولی تقاضہ ہو تو بیت الخلا نہی جانا چاہیے آذان کاجواب دینا چاہیے –  

رجل في مسجد يقرأ القران فسمع الأذان فإن كان هذا الرجل في المسجد يمضي على قراءته ولا يجيب المؤذن وإن كان في منزله فان لم يكن هذا أذان منزله لا يجيب المؤذن ويمصي في قلاءته وإن كان هذا أذان مسجده يقطع القرآن ويجيب المؤذن (التاتارخانية)2/154،ط.زکریا

ولو كان في المسجد حين سمعه ليس عليه الإجابه ولو كان خارجه أجاب بالمشي إليه بالقدم ولو أجاب باللسان لابد لا يكون مجيبا وهذا بناء على أن الإجابة المطلوبة بقدمه لا بلسانه فيقطع قراءة القرآن ولطان يقرأ بمنزله ويجيب لو أذان مسجده ولو بمسجد لا لانه أجاب بالحضور .....(الدر المختار مع الشامي)2/68 ..ط زكريا

سوال :-اقامت کے وقت امام اور مقتدیوں کو کب کھڑا ہونا چاہیے شروع اقامت سے کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے ؟

اگر امام پہلے سے ہی مصلے کے قریب موجود ہو تو بہتر یہ ہے کہ شروع اقامت سے کھڑے ہو کر صف سیدھی کرنے میں مشغول ہو جائے البتہ اگر شروع اقامت میں کوئی کھڑا نہ ہو تو اس کی بھی اجازت ہے البتہ حي الفلاح تک کھڑا ہو ہی جانا چاہیے اس کے بعد بیٹھے نہیں رہنا چاہیے اور اگر امام صفوں کی طرف سے آئے تو جس صف پر پہنچے اس صف کے مقتدی کھڑے ہوتے جائے اور اگر سامنے کی طرف سے آئے تو امام کو دیکھتے ہی کھڑے ہو جائے

(1)والقيام لإمام ومؤتم حين قيل حي على الصلاه إن كان الامام بقرب المحراب والا فيقوم كل صف ينتهي إليه الإمام على الأظهر وإن دخل من القدام قاموا حين يقع بصرهم عليه إلا إذا قام الامام بنفسه في مسجد فلا يقفوا حتى يتم أقامته وإن كان خارجه قام كل صف ينتهي إليه.....(الدر المختار مع الشامي)2/177، ط زكريا

(2)إن كان المؤذن غير الإمام وكان القوم مع الإمام في المسجد فإنه يقوم الإمام والمؤتم إذا قال حي على الفلاح عند علمائنا الثلاثة وهو الصحيح فأما إذا كان الامام خارج المسجد فإن دخل من قبل الصفوف فكلما جاوز صفا قام ذلك الصف وإن كان الإمام دخل المسجد من قدامهم يقومون كما كما رأوْ الإمام.....(الهنديةالجديدة)1/14، ط زكريا

١.سوال:-اگر کوئی شخص الفاظ طلاق کو بگاڑ کر تلفظ کر لے تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمینان بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اس صورت میں طلاق کی الفاظ کو بگاڑنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ الفاظ طلاق کو بگاڑ تلفظ کرنے کو شریعت کی اصطلاح میں تحریف اور تصحیف کہا جاتا ہے اور ایک کرام نے تحریف اور تصحیف شدہ الفاظ کو صریح اور صحیح الفاظ کے مثل مان لیے ہیں لہذا تصحیف شدہ الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگر تلفظ کیا تو جیسے طلاغ،تلاغ،طلاک،تلاک وغیرہ۔

ويقع بها اي بهذه الالفاظ وما بمعناها من الصريح و يدل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك او ط ل ق.....(رد المختار: ٤٥٩/٤،كتاب الطلاق باب الصريح ،زكريا ديوبند)

رجل قال لامراته: ترا تلاق هاهنا خمسة الفاظ: تلاق وتلاغ وطلاك وطلاك وطلاك عن الشيخ الامام الخليل ابي..... انه يقع وان تعمد وقصد ان لا يقع....(الهنديه: ٤٢٤/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

واما المسحف فهو خمسة الفاظ:تلاق وتلاغ .......وطلاغ وطلاك وتلاك،قال لا يقع به الا واحدة وان نوى اكثر من ذلك.....(فتح القدير: ٧/٤ ،كتاب الطلاق، بيروت)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے یا یہ کہے کہ تجھ کو جواب ہے تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی اور کیوں واقع ہوگی مدلل مفصل بیان کریں؟

الجواب:-صورت مسولہ میں تجھ کو طلاق کی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اس لیے کہ یہ صریح الفاظ میں سے ہے اور کہا تجھ کو جواب ہے اس کو (فتاوی محمودیہ: ٥٧٨/١٢) وغیرہ میں طلاق کنائی میں شمار کیا ہے اس کی دو سے تو صورت مسولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے جیسا کہ احسن الفتاوی:١٩٢/٥ کراچی میں ہے۔تو اس کی دو سے ایک طلاق صریح واقع ہوگی بلکہ خلاصہ یہ ہے کہ عرف پر مبنی ہے ۔

كنايته عند الفقهاء ما لم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره....(رد المختار: ٥٢٦/٤،كتاب الطلاق، باب الكنايات، زكريا ديوبند)

الفصل الاول: في الطلاق الصريح وهو كانت طالق ومطلقة وطلقتل وتقع واحدة رجعية وان نوى الاكثر .....(الهندية:٤٢٢/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

فالصريح قوله انت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لان هذه الالفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره....(هدايه: ٣٨٠/٢،كتاب الطلاق، زمزم ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تو آزاد ہے تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی اور آزاد ہونے کا حکم ہر جگہ ایک ہوگا یا الگ الگ اگر ایک ہو تو کیوں اور اگر الگ الگ ہو تو کیوں یہ وضاحت تحریر کریں؟

الجواب:-تو آزاد ہے یہ لفظ اصلا تو کنائی ہے مگر بعض جگہ یہ لفظ خالص طلاق میں استعمال ہونے لگا لہذا جن جگہوں میں یہ لفظ صریح بن گیا ہو وہاں اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور اس سے زیادہ کی نیت کی ہو تو زیادہ واقع ہوگی اور جہاں یہ عرفط نہیں بنا وہاں اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر اس سے زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی

والاصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية انه اذا كان فيها لفظ لا يستعمل الا في الطلاق فذلك الفظ صريح يقع به الطلاق من غير نيت اذا اضيف الى المراة.....(الهندية:٣٨٩/١،كتاب الطلاق،زكريا ديوبند)

فان سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فاذا قال... اي سرحتك يقع به الرجعي مع ان اصله كناية ايضا.....(الدر المختار مع الشامي: ٥٣٠/٤،كتاب الطلاق،زكريا ديوبند)

وبقيه الكنايات اذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بانية وان نوى ثلثة كان ثلثا.... وهذا مثل قوله انت باين وبنة وبثلت......(هدايه: ٣٩١/٢،كتاب الطلاق،زمزم ديوبند)

ایک شخص نے بکری کے بچہ اس نیت سے خریدے کہ ان کا عقیقہ کریں گے اب وہ بچے بڑے ہوگیے ہیں اب وہ سوچ رہے ہیں کہ بعد میں عقیقہ کریں گے تو کیا ان بچوں کو بیچ سکتے ہیں ؟؟

الجواب وبا الله التوفیق عقیقہ کرنا مستحب ہے نہ کہ واجب لھذا عقیقہ کا جانور متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتا ہے پس صورت مسؤلہ میں عقیقہ کی نیت سے خریدے ہوۓ جانور کو بیچنا درست ہے مستفاد فتاوی محمودیہ قدیم ۱۱/۳۵۰ جدید ڈھابیل ۱۷/ ۵۲۹

العقیقۃ......مباحۃ لا سنۃ ولا واجبۃ..... ھذا یشیر الی الاباحۃ فیمنع کونھا سنۃ فتاوی عالمگیر کتاب الکراھیۃ الباب الثانی والعشرون. زکریا قدیم ۵/ ۳۶۲. جدید ۵ / ۴۱۸ اعلاء السنن ۱۷/ ۱۲۴ مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت فقط و اللہ اعلم با الصواب

سوال:-اگر کوئی شخص عقیقہ کے گوشت کو تقسیم نہ کرے بلکہ دعوت کر کے لوگوں کو کھلا دے تو یہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب:-عقیقہ کے گوشت کو تقسیم نہ کر کے دعوت کر کے لوگوں کو کھلانا شرعا درست ہے البتہ عقیقہ کے گوشت کا وہی حکم ہے جو قربانی کے گوشت کا ہے یعنی اس کا ہدیہ کرنا خیرات کرنا یا خود کھانا دوسروں کو دعوت کر کے کھلانا سب جائز ہے-فقط واللہ اعلم

وسبيلها في الاكل والهدية والصدقة سبيل الاضحية الا انها تطبخ...... وين طبخها ودعا الخوانه فاكلوا فحسن(اوجز المسالك-،٢٢١/٩

وهي شاة تصلح الاضحية تذبح للذكر والانثى سواء فرق لحمها تيا طبخه.... واتخاذ دعوه اولا--//عطر المختار،٤٨٥/٩ كتاب الاضحية دار الكتاب العلمية

انه يستحب الاكل منها تصدق كما في الاضحية..... يصيح بالعقيقة ما يصنع بالاضحية...... وفي قوله ياكل اهل العقيقة ويهدونها--//ايلاء السنن،١٤٠/١٧ فضيلة ذبح الشاة في العقيقة دار الكتاب العلمية

سوال:-اگر کوئی شخص عقیقہ میں ایک سال ایک بکرا یا ایک حصہ کرے اور دوسرے سال دوسرا بکرا یا دوسرا حصہ کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:-اگر کوئی شخص عقیقہ میں ایک سال ایک بکرا اور حصہ کرے اور دوسرا سال دوسرا بکرا یا دوسرا حصہ کرے تو ایسا کرنا شرم درست ہے کوئی ممانعت نہیں ہے البتہ یہ مستحب کہ حکم نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

البريده ان النبي صلى الله عليه وسلم قال العقيقه لسبع او رابع عشره او احدى وعشرين رواه الطبراني في الصغير والاؤسط الى آخ --//اعلاء السنن,١١٨/١٧ كتاب الزائع مکتبہ ارادہ القرآن

يستحب لمن ولد له وولد ان يسميه يوم اسبوعه ويحلق راسه ثم يعيق عند الحلق عقيقة اباحه ما في الجامع المحبوبى او تطوعا على ما في شرح الطحاوي--//در مختار ٣٣٦/٦ كتاب الاضحيه مكتبة دار الفكر

“گانا زنا کا منتر ہے” سوال یہ ہے کہ مذکورہ بات حدیث ہے اگر حدیث ہے تو کس کتاب میں موجود ہے ؟؟

الجواب وبالله التوفيق: “گانا زنا کا منتر ہے” یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے، بلکہ مشہور قول کے مطابق یہ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ مستفاد از: (غير معتبر روایات کا فنی جائزہ، ٢٩٧/٤، مکتبہ عمر فاروق، کراچی)

"الغناء رقية الزنا" قال النووي في"شرح مسلم" هو من أمثالهم المشهورة انتهى. وعزاه الغزالي للفضيل بن عياض. (الاسرار المرفوعة في الاخبار الموضوعة/حرف الغين المعجمة، ص: ٢٥٢، رقم: ٣١٢، ط: مؤسسة الرسالة)

حديث: الغناء رقية الزنا من كلام الفضيل. (المصنوع في معرفة الحديث الموضوع/حرف الغين المعجمة، ص: ١٢٦، ط: مؤسسة الرسالة) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

عالم اور مفتی کسے کہتے ہیں ان دونوں کی تعریف معلوم کرنی تھی حضراتِ مفتیان

الجواب وبااللہ التوفیق: لغوی اعتبار سے عالم کہتے ہیں علم يعلم علما ۔بمعنی ۔جاننا ۔واقف ہونا۔ پہچاننا ۔ ۔عالم۔۔ جاننے والا ۔ اور مفتی کہتے ہیں۔ فتي يفتي فتي وفتاء.. افتي في المسالة.. شرعی حکم بیان کرنا ۔قانونی رائے دینا ..اور.مفتی۔ شرعی احکام بیان کرنے والا ۔ اور عرفا عالم وہ شخص کہلاتا ہے جس نے درس نظامی مکمل پڑھا ہو۔اور مفتی وہ شخص کہلاتا ہے جس نے درس نظامی مکمل کرنے کے بعد کسی مفتی کی نگرانی یا کسی ادارے میں با ضابطہ داخلہ لے کر افتاء کا کورس کیا ہو گویا اس اعتبار سے عالم اور مفتی کے درمیان عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے یعنی ہر مفتی عالم ضرور ہوگا لیکن ہر عالم کا مفتی ہونا ضروری نہیں ۔۔لیکن یہ بات یاد رہے کہ حقیقتاعالم بننے کے لیے صرف علوم کا پڑھنا اور درس نظامی کا مکمل کر لینا یہ کافی نہیں ہے بلکہ اصل اور حقیقت میں عالم وہ شخص ہے جس میں اللہ تعالی کا خوف اور خشیت اور اپنے علم پر عمل کرنے کی صفت بھی پائی جائے اسی طرح مفتی بننے کے لیے بھی صرف تخصص کر لینا اور درس نظامی کی تکمیل کے بعد ایک دو سال کسی ادارے یا مفتی کی نگرانی میں لگا لینا یہ کافی نہیں بلکہ حقیقت میں مفتی وہ شخص ہے جس میں تقوی و طہارت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پائی جائے کہ اس نے ایک طویل عرصے تک کسی ماہر مستند عالم دین اور مفتی کی نگرانی میں رہ کر فقہ و فتاوی کی مشق وتمرین کی ہو۔

روى علي بن طلحة عن ابن عباس انما يخشى الله من عباده العلماء.. قال.. الذين علموا ان الله على كل شيء قدير.. وقال الربيع بن انس.. من لم يخشى الله تعالى فليس بعالم وقال مجاهد.. انما العالم من خشي الله عز وجل وعن ابن مسعود.. كفى بخشية الله تعالى علما وبالاغترار جهلا. وقيل لسعد بن ابراهيم من افقه اهل المدينة قال اتقاهم لربه عز وجل.. وعن مجاهد قال.. انما الفقيه من يخاف الله عز وجل.. وعن علي رضي الله عنه قال.. ان الفقيه حق الفقيه من لم يقنط الناس من رحمة الله ولم يرخص لهم في معاصي الله تعالى ولم يؤمنهم من عذاب الله ولم يدع القران رغبة عنه الى غيره انه لا خير في عباده لا علم فيها ولا علم لا فقه فيه ولا قراءة لا تدبر فيها واسند الدارمي ابو محمد عن مكحول قال... قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان فضل العالم على العابد كفضلي على ادناكم ثم تلا هذه الاية انما يخشى الله من عباده العلماء.. ان الله وملائكته واهل سماواته واهل ارضيه والنون في البحر يصلون على الذين يعلمون الناس الخير. (تفسير القرطبي/سورة فاطر/رقم الآية: ٢٨، ط: بيروت)

١.سوال:-کسی غیر مسلم سے نمستے یا نمسکار کہ سکتے ہیں ؟؟

باسمہ سبحانہ وتعالی الجواب وبا اللہ التوفیق ملاقات کے وقت ایسے الفاظ سے سلام کرنا جو غیر مسلم کا شعار یا ان کی تہذیب کا حصہ ہو مثلا نمستے یا نمسکار کہنا تو یہ جائز نہیں ہے اور اگر وہ نمستے یا نمسکار سے سلام کرتے ہیں تو جوابا ھداک الله کہ دیا جاۓ فتاوی محمودیہ کتاب الحضر والاباحہ باب السلام. جلد ۱۹ صفحہ ۹۲ -۹۳ ط جامعہ فاروقیہ کفایۃ المفتی جلد ۹. صفحہ ۱۰۹ ط دار الاشاعت فتاوی رحیمیہ جلد ۱۰ صفحہ ۱۲۶

اذا سلم علی اھل الذمۃ فلیقل السلام علی من اتبع الھدی وکذلک یکتب فی الکتاب الیھم وفی التاتارخانیہ قال محمد اذا کتبت الی یھودی او نصرانی فاکتب السلام علی من اتبع الھدی. ( فتاوی شامی ۶ صفحہ ۱۴۲ کتاب الحضر والاباحہ. فصل فی البیع ط سعید )

اگر کوئی کھانے میں مشغول شخص کو سلام کرے تو کیا کھانے میں مشغول شخص پر سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟؟

الجواب وبالله التوفيق: جو شخص کھانے میں مشغول ہو، اس کو سلام نہیں کرنا چاہیے، اور اگر آپ نے ایسے شخص کو سلام کرلیا، تو سننے والے پر جواب دینا ضروری نہیں ہے، تاہم اگر جواب دیدے تو حرج بھی نہیں ہے۔

ويكره أن يسلم على من هو في الخلاء ولا يرد عليه السلام، وكذا الآكل والقاري والمشتغل بالعلم. (البحر الرائق/كتاب الكراهية/فصل: في البيع، ٣٨٠/٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

اگر عورت کو بحالت نماز شوہر یا اجنبی شخص با الشھوۃ یا بلا شھوۃ چھولے تو عورت کی نماز درست ہو جائگی یا فاسد ہو جائگی؟

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ الجواب وبا الله التوفیق اگر عورت کو بحالت نماز شوہر نے یا اجنبی شخص نے چھولیا خواہ شھوۃ کے ساتھ ہو یا شھوت کے بغیر ہو بہر صورت نماز فاسد ہو جائیگی

لو کانت المرءۃ فی الصلاۃ فجامعھا زوجھا تفسد صلاتھا وان لم ینزل منی وکذا لو قبلھا بشھوۃ او بغیر شھوۃ او مسھا لانہ فی معنی الجماع فتاوی شامی کتاب الصلاۃ. باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا جلد ۱ صفحہ ۶۲۸ دار الفکر بیروت

ولو مس المصلیۃ بشھوۃ او قبلھا و لو بغیر شھوۃ تفسد فتح القدیر جلد ۱ صفحہ ۴۰۴

لو مس المصلیۃ بشھوۃ او قبلھا بدونھا فان صلاتھا تفسد فتاوی شامی جلد ۱ صفحہ ۶۵۲ باب ما یفسد الصلاۃ ط. دار الفکر فقط و اللہ اعلم باالصواب

١.سوال:-اگر کوئی شخص نیند کے حالت میں یا خود بخود اپنے دل میں بیوی کو طلاق دے تو یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں اگر ہو تو کیوں اور نہ ہوں تو کیوں مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-نیند کے حالت میں طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی (اور نیم میں خوابی کی حالت میں بے اختیار بغیر مطلب سمجھے طلاق کے الفاظ نکلنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی) اور خود بخود دل میں یعنی محض خیال سے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق واقع ہونے کے لیے الفاظ کا ظاہر کرنا اگر صحیح سالم ہو اور گونگا ہو تو اشارہ ضروری ہے-

ولا يقع طلاق....... والنائم...... هكذا في فتح القدير (الهندية:٤٢٠/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

لا يقع الطلاق..... والنائم.....(رد المختار: ٤٤٩/٤-٤٥٣،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله عز وجل تجاوز لامتي عما حدثت به انفسها ما لم تعمل او تتكلم به...(صحيح مسلم: ٧٨/١،كتاب الايمان)

لو اجري الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع.....(مرا في الفلاح شراح نور الايضاح:٢١٩)

سوال:-الفاظ کے اعتبار سے طلاق کے کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کی تعریف اور حکم تحریر کریں؟

الجواب:-الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں (1) صریح(2) کنائی-صریح وہ ہے جو صریح الفاظ سے دی جائے اور صریح الفاظ وہ ہے جو اکثر وہ بیشتر طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی زبان کے ہو مثلا عربی زبان میں طلاق وغیرہ اور اردو زبان میں چھوڑنا آزاد کرنا ۔کنائی طلاق وہ ہے جو کنائی الفاظ سے دی جائے جن کا استعمال طلاق اور غیر طلاق سب کے لیے ہوتا ہو مثلا عربی زبان میں اعتدی اور اردو زبان میں گھر سے چلی جا وغیرہ۔حکم صریح الفاظ سے وفوع طلاق کے لیے تین کی حاجت نہیں ہے البتہ شرط یہ ہے کہ وہ بیوی کے ارادہ سے کہے گئی ہو اگر تاکید وغیرہ سے خالی ہو تو طلاق رجعی واقع ہو گی اور اگر تاکید کے ساتھ کہے ہو تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگی اور کنائی الفاظ سے واقع طلاق کے لیے نیت بہرحال ضروری ہے اور اس سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے البتہ قضاء مذاکرہ طلاق کی صورت میں نیت کے بغیر ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔

الطلاق الصريح: هو يطلق زوجته بلفظ لم يستعما الافي الطلاق.... والطلاق بالكناية: هو ما كان بلفظ لم يوضع له واحتمله هو غيره....(التعريفات الفقهية:٢١٢،باب الطاء،اشرفيه ديوبند)

الطلاق اي الفاظ بوقع بها الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله انت طالق ومطلقة...........(هدايه: ٣٨٠/٢-٣٩١،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

صريحه ما لم يستعمل الا فيه ولو بالفارسية تطلقتك وانت طالق..... يقع بها واحدة رجعية.... وكنايته.......(الدر المختار مع الشامي: ٤٥٧/٤-٥٢٨،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)