١.سوال:-طہارت کے لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟

الجواب:-طہارت کے لغوی تعریف طہارت کے معنی پاکیزگی کے ہیں اور اصلاح شرح میں نجاست حکمی یا حقیقی سے پاک صاف ہونے کا نام طہارت ہے۔

المضمرات: الطهارة في اللغة: النظافة، وفي الشرع :عبارة عن غسل اعضاء مخصوصة بصفة مخصوصة(تاتار خانية:١٩٦/١،كتاب الطهاراة،زكريا ديوبند)

الطهارة بفتح الطاء الفعل لغة وهي النظافة.... واصطلاحا ذوال الحدث او الخبث (البحر الرائق: ٢١/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

والطهارة مصدر طهر بالفتح ويضم:بمعنى النظافة لغة و كذا افردها وشرعا النظافة عن حدث اوخبث(شامي: ١٨٩/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:-طہارت کی کتنے قسمیں ہیں ہر ایک کی تعریف اور حکم تحریر کریں؟

الجواب:-طہارت کی دو قسمیں ہیں (1) حکم (2) حقیقی،طہارت حکمی وہ ہے: نجاست حکمی سے پاک ہونا اور وہ دو ہے ایک نجاست حدث سے پاک ہونا جیسے وضو دوسرا جنابت سے پاک ہونا جیسے غسل اور طہارت حقیقی وہ ہے جو نجاست حقیقی سے پاک ہونا اور وہ تین ہے(1) بدن کا پاک کرنا (2) کپڑا کا پاک کرنا(3) جگہ کا پاک ہونا ،دونوں کا حکم بغیر طہارت کی جن چیزوں کو کرنا منع ہے اس کو طہارت جائز کر دیتے ہیں-

وهي على ضربين(١) تطهير النجاسة الحكمة(٢) تطهير النجاسة الحقيقة،اما الحقيقة فهي الطهارة عن النجاسة حقيقة،وهي انواع ثلاثة(١) طهارة البدن (٢) طهارة الثوب(٣) طهارة المكان،اما الحكمية: فهي اطهارة عن النجاسة حكما،وهي على نوعين (١) تطهير نجاسة الحدث وهو الوضوء (٢) تطهر نجاسة الجنابة......(تاتار خانية:١٩٦/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

النظافة عن حدث او خبث.... من انها نظافة المحل عن النجاسة حقيقة كانت او حكمية(شامي: ١٩٦/١،كتاب الطهارة اشرفيه ديوبند)

فالطهارة في الأصل نوعان: طهارة عن الحدث وتسمي طهارة حكمية وطهارة عن الخبث وتسمي طهارة حقيقة....(بدائع الصنائع:١/. زكريا ديوبند )

٢٢.سوال:-چند صفیں چھوڑ کر پچھلے صفف میں اقتدہ کی نیت سے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟

الجواب و باللہ التوفیق :-بالا عذر اس طرح نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور کراہت کے ساتھ پچھلے صف والوں کی نماز ہو جاےگی –//شامی ج:٢،ص:٣١٢ زکریا –//حاشیہ الطحطاوى ص:٣٦١-٣٦٢ –//مجمع الانھر ج:١،ص:١٨٨

(۱) ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة هل الكرهة فيه تنزيهية أو تحريمية ويرشد إلى الثاني قوله عليه الصلاة والسلام:من قطعه قطعه الله تعالى...(الدر المختار مع الشامي) 2/312.ط زكريا

(۲) ويكره القيام خلف صف فيه فرجة أي في ذلك الصف فرجة...(مجمع الأنهر)1/188.ط زكريا

(۳) حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح..362

سوال:-مسافر مقیم امام کے پیچھے چار رکعت والی نماز میں اقتدہ کرے اور کسی وجہ سے امام کی نماز فاسد ہو جائے پھر مسفیر اسی نماز کو تنہا پڑھے تو وہ اتمام کریگا یا قصر کریگا ؟

الجواب و باللہ التوفیق :-مذکورہ صورت میں جب مسافر تنہا نماز پڑھےگا تو قصر کریگا اور اگر نفل نماز کی اقتدہ کی تھی تو اکمال کریگا –//شامی ج:٢ ص:٦١٢ زکریا –//الہندیہ ج:١،ص:٢٢ زکریا التاتارخانیہ ج:٢،ص:٥١٤ زکریا

(١) وأما اقتداء المسافر بالمقيم فيصح في الوقت ويتم سواء بقي الوقت أو خرج قبل إتمامها لتغير فرزه بالتبعية لاتصال المغير البسب وهو الوقت ولو أفسده صلى ركعتين لزوال المغير بخلاف ما له اقتدى به متنفلا حيث يصلي أربعا إذا أفسده...(الدر المختار مع الشامي) 2/612.ط زكريا

(۲) وإن اقتدى مسافر بمقيم أتم أربعا وإن أفسده يصلي ركعتين بخلاف ما له اقتدى به بنيه النفل ثم أفسد حيث يلزم الأربع...(الهندية الجديدة)1/202.ط زكريا

(٣) الفتاوى التاتارخانيه.2/514.ط زكريا

٢١.سوال :-مسبوق اگر امام کے ساتھ سلام پھر دے تو اسکی نماز ہوگی یا نہی اور اس پر سجدہ سہو کب لازم ہوگا ؟

اگر باجماعت نماز میں امام سجدہ سہو کرے تو مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو تو کرے گا؛ لیکن سجدہ سہو کے سلام میں امام کی پیروی نہیں کرے گا۔ اور اگر مسبوق نے جان بوجھ کر( یعنی یہ جانتے ہوئے سلام پھیرے کہ ابھی اس کی ایک یا چند رکعتیں باقی) امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، اسے از سر نو نماز پڑھنی ہوگی اگر مسبوق نے امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام بھول کر یا سہواً پھیرا یعنی: یہ سمجھا کہ میں مسبوق نہیں ہوں، میری نماز بھی مکمل ہورہی ہے تو اس میں تین صورتیں ہیں: (١)پہلی صورت : مسبوق نے بھول کر امام کے السلام کہنے کے بعد السلام کہا اور اس کے بعد یاد آیا تو وہ آخر میں سجدہ سہو کرے گا۔ (٢)دوسری صورت: مسبوق نے بھول کر ٹھیک امام کے ساتھ السلام کہا تو سجدہ سہو واجب نہ ہوگا؛ البتہ یہ صورت عام طور پر پائی نہیں جاتی یا اس کا جاننا مشکل ہے ؛ اس لیے جب تک یقین کے ساتھ اس کا علم نہ ہو ، سجدہ سہو ضرور کرے۔ (٣)تیسری صورت:مسبوق نے بھول کر امام سے پہلے سلام پھیرا، اس کا حکم یہ ہے کہ اس صورت میں مسبوق کی نماز پر کوئی فرق نہیں آئے گا اور نہ ہی آخر نماز میں اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا

والمسبوق یسجد مع إمامہ“: قید بالسجود؛ لأنہ لا یتابعہ فی السلام ؛ بل یسجد معہ ویتشھد، فإذا سلم الإمام قام إلی القضاء، فإن سلم فإن کان عامداً فسدت وإلا لا، ولا سجود علیہ إن سلم سھواً قبل الإمام أو معہ، وإن سلم بعد لزمہ لکونہ حینئذ منفرداً، بحر، وأراد بالمعیة المقارنة، وھو نادر الوقوع، شرح المنیة، وفیہ: ولو سلم علی ظن أن علیہ أن یسلم فھو سلام عمد یمنع البناء۔ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السھو،٥٤٦/٢۔٥٤٧، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ثم قال: فعلی ھذا یراد بالمعیة حقیقتھا، وھو نادر الوقوع اھ، قلت: یشیر إلی أن الغالب لزوم السجود؛ لأن الأغلب عدم المعیة، وھذا مما یغفل کثیر من الناس فلیتنبہ لہ (المصدر السابق، کتاب الصلاة، آخر باب الإمامة ، ۲:۳۵۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)

ومن أحكامه أنه لو سلم مع الإمام ساهيا أو قبله لا يلزمه سجود السهو لأنه مقتد وإن سلم بعده لزمه وإن سلم مع الإمام على ظن أن عليه السلام مع السلام فهو سلام عمد فتفسد...(البحر الرائق)1/662.ط : زكريا

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھے طلاق ہے تو گھر سے نکل جا ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی نکاح نہیں ہے تو ایسی صورت میں کتنی طلاق واقع ہوگی مدلل بیان کریں؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوگی کیونکہ تجھے طلاق ہے ایک طلاق ہوئی اس سے پھر اس کے بعد متصلا دو الفاظ طلاق اور بولے ہیں لہذا تین طلاق واقع ہوگی دوسری بات یہ ہے کہ الفاظ طلاق مقرر بولنے سے مقرر طلاق یعنی متعود طلاق ہوتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوگی-

لو كدر لفظ الطلاق وقع الكل وان نوى التاكيد دين اي وقع الكل قضاء......(الدر المختار مع الشامي: ٥٢١/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

ولو قالت مرا طلاق كن مرا طلاق فقال كردم كردم تطلق ثلاثا وهو الاصح.......(الهنديه: ٣٨٤/١ كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

وفي انت الطلاق او انت طالق الطلاق او انت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية ان لم بنو شيئا او نوى واحدة او ثنتين لانه صريح مصدر لا يحتمل العدد فانما ثلاث فثلث.....(الدر المختار مع الشامي: ٤٦٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی اپنی بیوی سے یہ کہے دے کہ تجھ کو تینوں جواب ہیں تو ایسی صورت میں شرعا کتنی اور کون سی طلاق واقع ہوگی کیا اس صورت میں عرف کے اعتبار سے کوئی فرق ہوگا یا نہیں اگر فرق ہو تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟

الجواب:-مسئولہ صورت میں اگر وہاں کا عرف میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا تو اس سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی کیونکہ یہ لفظ صریح ہے اور ایک ہی مرتبہ میں تین بولا لہذا تین ہی واقع ہوگی اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہاں کے عرف میں یہ لفظ صریح کے طور پر استعمال نہ ہوتا ہے تو پھر اس سے تین طلاق بائن واقع ہوگی اور اس میں نیت کی حاجت نہیں ہے کیونکہ یہ لفظ کنائی صریح ہے-

وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة او ثنتين في الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا......(الهندية:٤٧٣/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

واما ضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاقا الا بالنية وبدلالة الحال لانها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره فلو بد من التعين او دلالته......(الهنديه: ٣٩١/٢،كتاب الطلاق، زمزم ديوبند)

لو قال اكثر الطلاق او انت طالق مرار اتطلق ثلاثا ان كان مدخولا بها....(شامي: ٥٠٤/٤ كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

جو شخص خود کشی کرتا ہے کیا اس کی روح معلق رہتی ہے براے مہربانی اس کے بارے میں وضاحت فرمایئے

الجواب وبالله التوفيق: مرنے کے بعد مردہ کی روح اپنے اپنے مقام میں پہنچادی جاتی ہے، نیکوں کی ارواح علیین میں اور بدوں کی ارواح سجین میں خواہ ان کی موت کسی بھی طریقہ سے ہوئی ہو؛ لہذا یہ سمجھنا کہ خود کشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے، درست نہیں ہے۔

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ. (المطففين، الآية: ٧)

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ. (المطففين، الآية: ١٨)

وقال كعب: أرواح المؤمنين في عليين في السماء السابعة، وأرواح الكفار في سجين في الأرض السابعة تحت خد إبليس. (شرح العقيدة الطحاوية/الاختلاف في مستقر الأرواح بعد الموت، ٥٨٣/٢، ط: مؤسسة الرسالة) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں امام صاحب تراویح پڑھارہے تھے،دوسری رکعت میں قعدہ کئے بغیر کھڑے ہوگئے ،پھر دو رکعت اور مکمل کرلیں ،اور سجدۂ سہو کرلیا ،تو کیا سجدۂ سہو کرنے سے چاروں رکعتیں صحیح ہوگئیں ،یا دو رکعت صحیح ہوگئیں ،یا ساری نماز فاسد ہوگئی،؟

باسمہ سبحانہ وتعالى الجواب وباللہ التوفيق: مذکورہ صورت میں صرف آخر کی دو رکعتیں معتبر ہوگی اور شروع کی دو رکعتیں باطل قرار پائے گی نیز پہلی دو رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا ہے اس کا اعادہ کرنا ہوگا ـ

وكان الشيخ أبوجعفر يقول، يجزيه عن تسليمة واحدة، و فى الخانية؛ هو الصـحيح به كان يفتي الشيخ الإمام أبوبكر محمد بن الفضل قال القاضي الإمام أبوعلى النسفي: قول الفقيه أبى جعفر، والشيخ الإمام أقرب إلى الاحتياط و كان الأخذ به أولى، وعليه الفتوى. (الفتاوی التاتارخائية۲- ۳۳۰رقم ۲۵۷۱ البحرالرائتق٢I٦٧ؐ کوئٹہ

ایک شخص ہکلاتا ہے اور اسکو ہکلاہٹ کی وجہ سے ۴ رکعات پڑھنے میں ۲۰ ۲۵ منت لگ جاتے ہیں تو کیا ایسا شخص سنت مؤکدہ چھوڑ سکتا ہے ?

الجواب وبااللہ التوفیق واضح رہے کہ احادیث مبارکہ میں سنت موکدہ کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں اور بلا عذر ترک کرنے پر وعیدہے ۔لھذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور کو چاہئے کہ بہت مختصر قرآت کے ساتھ یعنی ما یجوز بہ الصلاۃ ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پر اکتفاء کرلے زیادہ لمبی قرآت نہ کرے مگر سنت موکدہ پڑھے سنت موکدہ کے چھوڑنے کی عادت بنا لینا خسارے کا باعث ہے اور ان شاءاللہ اس کی مشقت بھری عبادت مزید ثواب کا باعث ہوگی ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ۔

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثابر على ثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة. اربع ركعات قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل الفجر.... ترمزي شريف. /ابواب الصلاه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم /باب. من صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة من السنه/ج/١...ص...٤٣٩... رقم الحديث...٤١٤.... رجل ترك سنن الصلاة ان لم ير السنن حقا فقد كفر لانه ترك استخفافا وان راها حقا فالصحيح انه ياثم لانه جاء الوعيد بالترك كذا في المحيط السرخسي.... /الفتاوى الهندية /كتاب الصلاة /الباب التاسع في النوافل/.ج...١/ص/١١٢/..زكريا..

جب لوگ نماز پڑھتے ہیں اور اللہ تعالی کسی بندے پر نظر فرمالیں تو اس بندے کی اور اس کے پیچھے والے لوگوں کی اللہ تعالی مغفرت فرمادیتے ہیں؟

الجواب وبالله التوفيق: امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے “إحياء علوم الدين” میں اور علامہ ابو طالب مکی رحمتہ اللہ علیہ نے “قوت القلوب” میں مذکورہ روایت بلا سند ذکر کی ہے، نیز اس روایت کو بلا سند ذکر کرنے کے بعد علامہ ابو طالب مکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “وقد رفعه بعض الرواة الخ” بعض راویوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی ہے، نیز علامہ عراقی رحمتہ اللہ علیہ مذکورہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے: “مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی”، اور علامہ مرتضی زبیدی رحمۃ اللہ علیہ نے “إتحاف” میں حافظ عراقی رحمتہ اللہ علیہ کے قول پر اعتماد کیا ہے، اس لیے مذکورہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

وقد روينا عن أبي الدرداء فضيلة في الصف المؤخر، قال سعيد بن عامر: صليت إلى جنبه، فجعل يتأخر في الصفوف حتى كنا في آخر صف، فلما صلينا، قلت له: أليس يقال: خير الصفوف أولها؟ قال: نعم، إلا أن هذه أمة مرحومة منظور إليها من بين الأمم، وإن الله عز وجل إذا نظر إلى عبد منهم في الصلاة غفر لمن وراءه من الناس، فإنما تأخرت رجاء أن تغفرلي بواحد منهم ينظر الله إليه. وقد رفعه بعض الرواة أن أبا الدرداء سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول ذلك. (قوت القلوب/الفصل الحادي والعشرون: كتاب الجمعة، ٢٠٧/١، ط: دار التراث، القاهرة) (إحياء علوم الدين/آداب الجمعة على ترتيب العادة، ١٨٣/١، ط: دار المعرفة، بيروت)

حديث أبي الدرداء: "إن هذه الأمة مرحومة منظور إليها من بين الأمم وإن الله إذا نظر إلى عبد في الصلاة غفر له ولمن وراءه من الناس" ولم أجده. (المغني عن حمل الأسفار/كتاب أسرار الصلاة ومهماتها/الباب الخامس: في فضل الجمعة وآدابها وسننها، ١٣٦/١، رقم: ٥٣٥، ط: مكتبة دار تيرية)

قال العراقي: لم أجده بهذا اللفظ وروى ابن عساكر في تاريخ دمشق. (إتحاف السادة المتيقن بشرح إحياء علوم الدين/بيان آداب الحمعة، ٢٦٦/٣، ط: مؤسسة التاريخ العربي، بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال : کن صورتوں میں روزہ قضاء لازم ہوتی ہے اور کن صورتوں میں کفارہ ؟براہ کرم تفصیل سے بتائیں

الجواب وبالله التوفيق: اگر کوئی شخص بلا عذر شرعی رمضان کا فرض روزہ نہ رکھے تو اس کے لیے توبہ کرنا لازم ہے اور اس کے بدلے ایک ہی دن کے روزے کے قضاء لازم ہوگی اس پر کفارہ لازم نہیں ہے رمضان میں روزہ دار مقیم مکلف آدمی نے ادائےروزہ رمضان کی نیت سے روزہ رکھا پھر جان بوجھ کر بلا کسی عذر شرعی کے کوئی غذا یا نفع بخش دواء پی کر یا جماع کر کے روزہ فاسد کر دے تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں فقط والله اعلم

ومن جامع في احد السبيلين عامدا فعليه القضاء والكفارة ولو اكل أو شرب ما يتغذى به أو يداري فعليه القضاء والكفارة (هدايہ٢١٩/١. ومثله الفتاوى الهندية ٢٠٥/١-٢٠٦. البحر الرايق٢٧٦/٢. الفتاوى التاتارخانية ٣٨٩/٣. مرقي الفلاح٣٦٣)

ایک عورت کے ٣ مہینے کا حمل ہے تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؟؟

الجواب وبا اللہ التوفیق اگر حاملہ کو یہ خوف ہو کہ روزہ کی وجہ سے خود اسکو یا حمل کو کوئ نقصان پہچ سکتا ہے تو حاملہ کے لۓ روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے بعد میں اسکی قضا کرنا ضروری ہے

عن انس ابن مالک وال رخص رسول الله صلی الله عليه وسلم للحبلی التی تخاف علی نفسھا ان تفطر وللمرضع التی تخاف علی ولدھا ( سنن ابن ماجہ کتاب الصوم باب ماجاء فی الافطار للحامل المرضع. ۲/ ۵۷۶. ط. دار الرسائلۃ العالمیۃ )

قولہ ویجوز الفطر لحامل ھی التی فی بطنھا حمل بفتح الحاء ای ولد (حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصوم باب ما یفسد الصومو یوجب القضاء فصل فی العوارض ۶۸۴ ط دار الکتب العلمیہ بیروت )

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی اور اس کا شرعا کیا حکم ہے نیز اگر شوہر یہ کہے کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے مدلل بیان کریں؟

الجواب:-اگر کوئی شخص اپنے بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے تو اس سے ہر حال طلاق واقع ہو جاتی ہے خواہ نیت کرے یا نہ کرے اور جتنی مرتبہ کلمہ طلاق کو دہرائے گا اتنی طلاق واقع ہوگی لہذا مسئولہ صورت میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی بشرطے کے بیوی مدخول بہا یا اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہو چکی ہو کیونکہ یہ لفظ صریح ہے اور اسے تین مرتبہ دہرایا گیا ہے اور شوہر کی بات معتبر نہیں ہوگی اور شرعا وہ بیوی ان پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے اب ان دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعی کے ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا قطعا جائز نہیں ہے-

فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره......الخ( سورة البقرة: رقم الاية:٢٣)

وان الطلاق ثلاثا في الحرة.... تقع الثلث.... لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم لطلقها او عوت عنها.....(الهندية:٤٧٢/١،كتاب الطلاق ،زكريا ديوبند)

لو قال اكثر الطلاق او انت طالق مراة في البحر عن الجوهرة: لو قال انت طالق مرارا اتطلق ثلاثا ان كان مدخولا بها......(الدر المختار مع الشامي: ٥٠٤/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو جواب ہے جواب ہے جواب ہے تو ایسی صورت میں کونسی اور کتنی طلاق واقع ہوگی ایا عرف کے اعتبار سے حکم بدل سکتا ہے اگر بدل سکتا ہے تو دونوں طرح جواب تحریر کریں؟

الجواب:-فقہاء کرام نے تجھ کو جواب ہے کو الفاظ کنائی میں شمار کیا ہے اس کی دو سے دو صورت مسولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی تجھ کو جواب ہے اور دو مرتبہ کہاں ہیں اس سے کوئی طلاق نہیں پڑے گی کیونکہ فقہ کا قاعدہ ہے البائن لا یلحق البائن لہذا اس سے ایک طلاق بائن ہی پڑے گی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے تو اس کی دو سے صورت مسئولہ میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی کیونکہ الفاظ صریح کو جتنی مرتبہ دہرائے گا اتنی ہی طلاق واقع ہوگی اور یہاں تین مرتبہ دہرایا ہے لہذا اس سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوگی ….

ولو قال اكثر الطلاق او انت طالق مرارا..... لطلق ثلاث..... ان كان مدخولا بها فثلاث هو المختار....(شامي :٥٠٤/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

واذا قال لامراته :انت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مدخولة طلقت واحدة.....(الهندية: ٤٢٣/١،كتاب الطلاق، اشرفية ديوبند)

فان سرحتک كتابة لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح ..... مع ان اصله كناية ايضا.....(شامي: ٥٣٠/٤ كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور رخصتی سے پہلے کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا یہ کہے دے کہ تجھ کو تینوں طلاق ہے تو ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے دونوں صورتوں میں ایک حکم ہوگا یا الگ الگ اگر ایک ہو تو کیوں اگر الگ الگ ہو تو کیوں مدلل المفصل بیان کریں؟

الجواب:-مسئولہ صورت میں اگر تین طلاق الگ الگ جملوں سے دی ہے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوگی کیونکہ غیر مد خول بہا ایک طلاق سے بائن ہو جاتی ہے یعنی محل باقی نہیں رہتا ہے اس لیے باقی دو واقع نہیں ہوگی اور بیوی پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہے پھر اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس عورت سے نئے مہر و گواہوں کے موجودگی میں تجدید نکاح کر سکتے ہیں لیکن ائندہ کے لیے دو طلاق کا مالک رہے گا اور اگر تینوں طلاق اکھٹی ایک ہی جملہ سے دیی ہو تو اس صورت میں تینوں طلاق واقع ہو جائے گی اور بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی اب رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ عورت حلالہ شرعی کرنے کے بعد اس سے نکاح کرنا چاہے تو اب درست ہے اس تفصیل سے دونوں صورتوں کے درمیان فرق ہوگا-

قال لزوجته غير المدخول بها انت طالق ثلاثا....... وقعن لما تقرد انه متى..... وان فرق بوصف او خبر او جمل..... بانت بالاولى الا الى عدة وكذا لم تقع الثانيه........ وكذا انت طالق ثلاثا متفرقات او..... واحدة....(رد المختار: ٥٠٩/٤-٥١٢،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

واذا قال لامراته انت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخوله طلقت ثلاثا وان كانت غير مدخوله طلقت واحدة.....(الهندية:٤٢٣/١،كتاب الطلاق اشرفيه ديوبند)

واذا اطلق الرجل امراته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها لان الواقع مصدر عزوف لان معناه طلاقا ثلاثا...... فان فرق الطلاق بانت بالاولى ولم تقع الثانية والثلاثة الخ......(هدايه: ٢٩٠/٢، كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

سوال:اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع نہ کر سکے بلکے امام کے رکوع کے اٹھنے کے بعد رکوع کر لے تو مقتدی کی وہ رکعت شمار ہوگی یا نہیں ؟

الجواب و باللہ التوفیق:-اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع نہ کر سکے بلکہ امام رکوع سے فارگ ہونے کے بعد رکوع کر کے امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو مقتدی کی وہ رکعت بالاتفاق شمار ہوگی یعنی مقتدی اس رکعت کو پانے والا ہوگا اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا –//شامی ج:٢،ص:٥١٦ زکریا –// بداءع،ج:١،ص:٥٦٢ زکریا –//البنایہ ج:٢،ص:٥٧٨ اشرفیہ

(١) إذا انتهى إلى الإمام وهو قائم يكبر ولم يركع معه حتى رفع الامام راسه من الركوع ثم ركع أنه يدرك الركعة بالاجماع....(البناية شرح الهداية)2/578،ط اشرفية

(٢) بخلاف ما لو أدركه في القيام ولم يركع معه فإنه يصير مدركا لها فيكون لاحقا فياتي بها قبل الفراغ أي أنه ياتي بها قبل متابعة الإمام فيما بعدها حتى لو تابع الإمام ثم أتى بعد فراغ إمامه بما فاتته صح وأثم لترك واجب الترتيب...(الدر المختار مع الشامي) 2/516،ط زكريا

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تو میرے گھر سے نکل جا یا یہ کہے کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی نکاح نہیں یا یہ کہے گھر سے چلی جاؤں تو ان صورتوں میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں اگر ہوگی تو کتنی اور کیوں مدلل بیان کریں؟

الجواب:-مسئولہ صورتوں میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر شوہر نے طلاق کی نیت کی ہے ورنہ نہیں کیونکہ مذکورہ الفاظ کنایات کی اس قسم میں سے ہیں جو جواب اور در دونوں کا احتمال رکھتا ہو اس میں وقوع طلاق کے لیے نیت ضروری ہے۔

ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك او قال: لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق اذا نوى.....(هنديه: ٤٤٣/١،كتاب الطلاق، الشرفية ديوبند)

فنحو اخرجي واذهبي وقومي يحتمل رداء..... وفي الغضب توقف الاولان.... اي ما يصلح ردا وجوابا.....(رد المختار مع الشامي: ٥٢٩/٤-٥٣٣،باب الكنايات، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ میں نے تجھ کو چھوڑ دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی اور اس کا حکم ہر جگہ ایک رہے گا یا الگ الگ مفصل بیان کریں؟

الجواب:-میں نے تجھ کو چھوڑ دیا کہنے کی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی کیونکہ یہ لفظ اکثر جگہوں میں الفاظ صریح کے لیے مستعمل ہوتا ہے لہذا اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی البتہ اگر کسی جگہ یہ لفظ کنائی میں مستعمل ہو تو پھر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی اصل حکم ان الفاظ میں عرف کا ہے جہاں کا عرف جیسا ہوگا وہاں ویسا ہی حکم ہوگا-”فقط واللہ اعلم

وفي انت الطلاق او انت طالق الطلاق او انت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية ان لم ينوى شيئا او نوى واحة او ثنتين لانه صريح مصدر لا يحتمل العدد.....(الدر المختار مع الشامي: ٤٦٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

قوله فارقتك يحتمل المفارقة عن النكاح ويحتمل المفارقة عن المكان... وعن الصداقة.....(بدائع الصناعية:١٦٨/٣-١٧٠،كتاب الطلاق، اشرفية)

وبقية الكنايات اذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وانما ثلاثا كان ثلاثا.... وهذا مثل قوله انت بائن وبنة..... وفارقتك لانها تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من النية.....(هدايه: ٣٩١/٢-٣٩٢،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

١.سوال:-حیلہ تملیک کا شرعی حکم کیا ہے ؟؟

باسمہ سبحانہ و تعالٰی الجواب وبالله التوفيق: اگر کسی کے حق کو ساقط کرنے یا کسی ناحق کو حق دلانے کے لیے حیلہ اختیار کیا جائے تو ایسا حیلہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے البتہ کسی شدید ضرورت کے دفعیہ کےلیے حیلہ اختیار کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، باقی اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ متعلقہ جزوی مسئلہ اور در پیش صورت حال بیان کر کے مسئلہ معلوم کیا جائے…

ﺃﻥ ﻛﻞ ﺣﻴﻠﺔ ﻳﺤﺘﺎﻝ ﺑﻬﺎ اﻟﺮﺟﻞ ﻹﺑﻄﺎﻝ ﺣﻖ اﻟﻐﻴﺮ ﺃﻭ ﻹﺩﺧﺎﻝ ﺷﺒﻬﺔ ﻓﻴﻪ ﺃﻭ ﻟﺘﻤﻮﻳﻪ ﺑﺎﻃﻞ ﻓﻬﻲ ﻣﻜﺮﻭﻫﺔ (ھندیہ قدیم ٣٩٠/٦)

وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير...وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مالا (شامی زکریا:٢٠٨/٣)

بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟؟

الجواب وبالله التوفيق: اگر دینی یا دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ زکوۃ کے مستحق ہیں تو ان کی تعلیم کےلیے زکوۃ دینا جائز ہے، البتہ انہیں زکوۃ کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہے… واللہ اعلم با الصواب

اما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم.... بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى ( هنديه قديم:۱۷۰/۱)

مصرف الزكاة هو فقير وهو من له ادنى شيء اي دون نصاب او قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ( شامی زکریا: ٣٠٣/٣)