آج کل آدمی کے پاس کتنے روپیے ہوں تو وہ صاحب نصاب بنتا ہے؟

الجواب وباالله التوفیق: واضح رہے کہ جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر سامان تجارت یا اتنی مقدار میں مخلوط اموال زکوٰۃ یعنی سونا چاندی مال تجارت نقدی ہوں اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔نیز یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ دور میں گرام کے اعتبار ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار 612 گرام 360 ملی گرام بنتی ہے اور گوگل کے حساب سے آج کا ریٹ ہمارے ہاپوڑ اور اس کے اطراف میں ایک گرام چاندی کا 95 روپئے 833 پیسے تھا لھذا مذکورہ تفصیل کے بعد جاننا چاہئے کہ فی الوقت جس شخص کی ملکیت میں تقریباً 58ہزار 684روپئےہوں وہ صاحب نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔۔ فقط واللہ اعلم باالصواب

ويضم الذهب الي الفضة والفضة الي الذهب ويكمل احدي النصابين باالآخر عند علمائنا ثم قال ابو حنيفة: يضم باعتبارالقيمةالخ. (الفتاوي التاتارخانيه/كتاب الزكاة/فصل في زكاةالمال، ١٥٧/٣، ط: رشيدية)

سوال:-داڑھی پر خضاب لگانے کے بعد وضو کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-خضاب اور اس جیسا چیز غسل اور وضو میں خرابے نہیں اتی وضو ہو جاتی ہے-

او المراة التي صبغت باصبعها بالحناء او الصرام او الصباغ، قال: كل ذلك سواء، ويجزيهم وضوئهم اذا لا يستطاع الامنتا عنه الا بحرج(الهندية:٤/١)

لا يضر بها اثر كلون وريح.(شامي: ٥٣٨/١،زكريا ديوبند)

يستحب الاختضاب بالحناء الكتم الى قوله الاختضاب بالورس والذعفران يستارك الاختضاب بالحناء والكتم في الأصل الاستحباب(الموسوعة الفقهية:٢٧٩/٢)

سوال:-وضو کے اندر کوئی چیز واجب ہے یا نہیں اگر ہے تو وہ کیا ہے اگر نہیں ہے تو کیوں مدلل بیان کریں؟

الجواب:-واضح رہے کہ وضو کے احکام میں واجب کی تفصیل ذکر نہیں ہے واجب نہیں ہے اس لیے کہ وضو میں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وضو میں واجب اور فرض دونوں عمل میں برابر ہیں جیسے فرض چھوڑنے سے وضو نہیں ہوتا ویسے واجب چھوڑنے سے بھی وضو نہیں ہوتا اور بعض فقہاء کرام نے وضو کے فرض اور واجب بھی فرق ذکر کر کے چار واجبات بیان کیے ہیں(1) بھنویں یا داڈھی یا مونچھ اگر اس قدر رکھی ہو کہ ان کے نیچے کی جلد چھپ جائے اور نظر نہ ائے تو ایسی صورت میں اس قدر بالوں کا دھونا واجب ہے جن سے جلد چھپی ہوئی ہے(2) کہنیوں کا دھونا واجب ہے(3) چوتھائی سر کا مسح کرنا(4) دونوں ٹخنوں کا دھونا واجب ہے- بہرحال جنہوں نے فرق کیا ہے انہوں نے فرض اور واجب کو الگ الگ بیان کیا ہے اور جنہوں نے فرق نہیں کیا انہوں نے دونوں ہاتھوں کو کہنیون سمیت ،دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا اور چوتھائی سر کے مسح کرنے کو فرض لکھا ہے اور یہ کہا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ہے-

فوجب غسله قبل نبات الشعر فاذا نبت الشعر يسقط غسل ما تحته عند عامة العلماء كثيفا كان الشعر او خفيفا؛ لأن ما تحته خرج ان يكون وجها؛ لأنه لا يواجه إليه.(البحر الرائق: ١٢/١ كتاب الطهارة)

(وغسل اليدين) اسقط لفظ فرادي لعدم تقييد الفرض بالانفراد(الرجلين) الباديتين السليمتين،فان المجروحتين و المستورتين بالخف وظيفتهما المسح (مرة) لما مرا مع المرفقين والكعبين على المذهب وما ذكروا من أن الثابت بعبارة النص الغسل يد و رجل والاحرى بدلالته(شامي: ٢١١/١-٢١٢،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:- ناخون پالش لگانے کے بعد وضو درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمنان بخش بیان کریں؟

الجواب:-ناخون پالش لگانے کی بعد وضو درست نہیں ہے اس لیے کہ یہ تہد دار ہے جس کی وجہ سے ناخن تک پانی نہیں پہنچتا ہے اس لیے کہ وضو کی عضاء کے اندر ناخن بھی داخل ہے اور دھونا بھی فرض ہے اور اگر صاف کر لے تو وضو ہو جائے گا-

وقيل إن صلبا منع وهو الاصح (در المختار) وفي الشامي: صرح به في شرح المنية وقال: لا متناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج(شامي بيروت:٢٥٩/١ زكريا: ٢٨٩/١)

شرط صحته اي الوضوء زوال ما يمنع وصول الماء الى الجسد كثمع شحم (مراقي الفلاح مع الطحطاوي:٦٢،اشرفيه)

كما تستفاد من العبارت الاتية؛ لو قص الشارب لا يجب تخليله وان طال يجب تخليله وكأن وجهه ان قطعه مسنون فلا يعتبر قيامه في سقوط غسل ما تحته، بخلاف اللحية فان اعفائها هو السنون. (كبيري شرح: ١٨)

سوال:-اگر اعضاء وضو کے کسی حصہ پر سفیدہ وغیرہ لگ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-سفیدہ جیسے چیز بظاہر جرم ہے لیکن اصل تو اس کو صاف کرنا ہے جتنا ہو سکے اگر کوشش سے پورا صاف نہ ہو تھوڑا کچھ رہ گیا ہے تو صاف کے بغیر وضو ہو جائے گا-

ولا يمنع الطهارة ونيم.... وحناء ولو جرمه .....(قال الشامي تحته) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسالة الحناء والطين معلا بالضرورة -الى قوله- والظاهر ان هذه الاشياء تمنع الاسالة فالاظهر التعليل بالضرورة(شامي: ٢٨٨/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

وسئل الدبوسى عمن عجن فاصاب يده عجين وتوضا قال: يجزيه اذ كان قليلا، وما تحت الاظافير من اعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب ايضا الماء الى ما تحته واكثر المعتبرات(الهنديه: ٥٤/١،باب الاول في الوضوء،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

واذا كان في اظفاره دون اوطين اوعجين او المراة تضح الحناء جاز في القروى والمدني وهو صحيح وعليه الفتوى(البحر الرائق: ٢٩/١، كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی عورت لپ اسٹک لگا کر وضو کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-لپ اسٹک اگر تہہ دار ہے تو وہ کھال تک پانی پہنچنے سے مانع ہے جو پانی پہنچنا ضروری ہے لہذا اس کو لگانے سے وضو درست نہیں ہوگا اور اگر تہہ دار نہیں ہے محض رنگ ہے تو وہ وضو سے مانع نہیں-

ولا يمنع الطهارة ونيم وحناء ودون ووسخ وتراب في ظفر مطلقا ولا يمنع ما على ظفر صباغ، وقيل: ان صلبا منع وهو الاصح(در المختار) اي ان كان ممضوغا مضغا متا كذا بحيث تداخلت اجزاؤه وصار لزوجه وعلاكة كالعجين..... وقال: لامتناع نفرذ الماء مع عدم الضرورة والحرج(شامي: ٢٨٨/١-٢٨٩،كتاب الطهارة زكريا ديوبند

شرط صحته اي الوضوء زوال ما يمنع وصول الماء الى الجسد كشمع شحم (مراقي الفلاح مع الطحطاوي: ٦٢،اشرفيه ديوبند)

لو كان عليه جلد سمك او خبز ممضوع قدجف فتوضا ولم يصل الماء الى ما تحته لم يجز لان التحرز عنه ممكن،كذا في المحيط.(هنديه: ٥/١،كتاب الطهارة،دار الفكر بيروت)

سوال:-اگر کوئی عورت وضو کی بعد اپنے بچہ کو دودھ پلا دے اب وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں اگر ٹوٹ جائے تو کیوں اور اگر نہ ٹوٹے تو کیوں مدلل بیان کرے؟

الجواب:-وضو کے بعد اپنی بچہ کو دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے کہ بچہ کو دودھ پلانے سے جسم سے کسی نجاست کا خروج نہیں ہوتا-

مستفاد: وينقضه خروج كل خارج نجس بالفتح ويكسر منه اي من المتوضئ الحي (در المختار مع الشامي: ٢٦٠/١ زكريا ديوبند)

الخارج في بدن الإنسان على نوعين: طاهر كالعرق والنخامة واللبن والدمع والديق ونجس وذاك كل ما يوجب خروجه الوضوء او الغسل(الهنديه: ٢١/١)

وينقضه خروج كل خارج نجس منه اي متوضى الى كاملا ينقض لو خرج من اذنه نحوها كعينه ثديه(شامي: ٢٦٠/١-٢٦١،كتاب الطھارۃ نواقض الوضوء زكريا، کراچی)

سوال:-اگر کوئی عورت لیکوریا یعنی سیلان کی بیماری میں مبتلا ہو تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-مرض یا کمزوری کی وجہ سے نکلنے والا سفید مادہ ناپاک ہے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑے پر لگ جائے تو اسے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے جس عورت کو کبھی کبھی یہ مرض لاحق ہو وہ وضو کر کے نماز پڑھتی رہے اس پر غسل لازم نہیں ہے اور اگر اس مرض کی اتنی کثرت ہو جائے کہ کسی نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جائے کہ فرض نماز بھی پڑھنے کا موقع نہ مل پائے تو پھر یہ عورت معذور کے حکم میں ہو جاتی ہے اب اس کے لیے ایک نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ وضو کافی ہوگا سفیدی نکلنے سے بار بار اسے وضو کرنا نہ پڑے گا اور ایسی معذور عورت کے حق میں یہ سفید ناپاک بھی نہ سمجھی جائے گی اور یہ حکم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ ہر نماز میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پایا جاتا رہے-

قال ابن حجر في شرحه: وهي ماء ابيض متردد بين المذى والعرق يخرج من باطن الفرج الذي لا يجب غسله، بخلاف ما يخرج مما يجب غسله فإنه طاهر قطعا، ومن وراء باطن الفرج، فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد او قبيله(شامي: ٥١٥/١،كتاب الطهارة)

وصاحب عذر من به سلسل بول لا يمكنه امساكه الخ او استحاضه ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضا ويصلى فيه خاليا عن الحدث ولو حكما ولو مرة وفي حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع تمام الوقت وحكمه الوضوء لكل فرض(تنوير الابصار معالدر المختار:٤٣٧/١-٤٣٨،بيروت:٥٠٤/١-٥٠٥،زكريا ديوبند)

صاحب عذر من به سلسل بول او استطلاق بطن او انفلات ريح او استحاضة.... ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ولو حكما وحكمه الوضوء لكل فرض، ثم يصلى به فيه فرضا ونفلا ،فاذا خرج الوقت باطل(الدر المختار مع رد المختار مطلب في احكام المعذور: ٣٠٥/١،كراچی)

سوال:-اگر وضو کے بعد پانی چڑھایا جائے تو وضو کا شرعا کیا حکم؟

جواب:-اگر پانی چڑھاتے وقت اس کی نلکی یا سوئی کے حصہ میں خون اتنا ا جائے کہ بہہ پڑے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر خون رگ سے اوپر بالکل نہ ائے بلکہ صرف پانی اندر جاتا رہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا-

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس القطرة والقطرتين من الدم حتى يكون دما سائلا(دارقطني:١٦٤/١،باب في الوضوء من الخارج من البدن.. دار الكتب العلمیة بيروت ،رقم: ٥٧٢)

مستفاد: وكذا ينقضه علقة مصت عضوا وامتلات من الدم ومثلها القزاد ان كان كبيرا لأنه حينئذ يخرج منه دم مسفوح سائل(والا لا) (شامي: ٢٦٨/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

وينقضه خروج منه كل خارج (نجس) في الفتح ويكسر منه اي من المتوضئ الحي معتدا اولا من السبيلين اولا الى ما يطهر بالبناء للمفعول اي يلحقه حكم التطهير المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة لما قالوا : لو مسح الدم كلما خرج ولو تركة لسال نقص والا لا(الدر المختار وحاشيه ابن عابدين رد المختار: ١٣٤/١)

سوال:-اگر وضو کے بعد انجکشن کے ذریعہ خون ٹیشٹ کے لیے لیا جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

الجواب:-اگر وضو کے بعد ٹیسٹ کے لیے اتنا خون لیا جائے جو بہہ جانے والا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا اگر نہ بہہ نے والا ہو تو نہیں ٹوٹے گا لیکن اکثر ٹوٹ ہی جاتا ہے کیونکہ ٹیشٹ کے لیے خون زیادہ ہی نکلتا ہے ۔

وكذا ينقضه علاقة مصت عضوا وامتلات من الدم لانها لو شقت يخرج منها دم سائل(شامي:٢٦٨،زکریا دیوبند)

مستفاد: وكذا ينقضه علقة مصت عضوا وامتلات من الدم ومثلها القزاد ان كان كبيرا لأنه حينئذ يخرج منه دم مسفوح سائل(والا لا) (شامي: ٢٦٨/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

وينقضه خروج منه كل خارج (نجس) في الفتح ويكسر منه اي من المتوضئ الحي معتدا اولا من السبيلين اولا الى ما يطهر بالبناء للمفعول اي يلحقه حكم التطهير المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة لما قالوا : لو مسح الدم كلما خرج ولو تركة لسال نقص والا لا(الدر المختار وحاشيه ابن عابدين رد المختار: ١٣٤/١)

١.سوال:-اگر وضو کے بعد انجکشن لیا جائے تو وضو باقی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا؟

الجواب:-اگر خون اتنی مقدار یعنی اگر انجکشن لیتے وقت خون نہ نکالے تو وضو نہیں ٹوٹے گا اگر نکالے اتنے مقدار کہ نا بہہ پڑے تو وضو نہیں ٹوٹتا اگر بہہ پڑے تو ٹوٹ جائے گا-

عن عمر بن عبد العزيز قال قال تميم الداري قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :الوضوء من كل دم سائل.(دار قطني،باب في الوضوء من الخارج من البدن... دار الكتب العلميه بيروت: ١٦٣/١،رقم ٥٧١،معرفة السنن والاثار: ٤٢٧/١)

والمراد أن تتجاوزه ولو بالعصر، وماشأنه اي يتجاوز لولا المانع كما لو مصت عقلة فامتلات بحيث لو شقت لسال منها الدم(حاشية الطحطاوي فصل فيما ينقض الوضوء اشرفيه:٨٧)

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس في القطرة والقطرتين من الدم وضوء حتى يكون دما سائلا(دار قطني: ١٦٤/١،باب في الوضوء من الخارج من البدن دار الكتب العلمية بيروت)

سوال:-اگر اعضاء وضوء میں سے کوئی حصہ ناخن کے برابر خشک رہ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-وضوء کرتے ہوئے کوئی حصہ اگر سوئی کی نوک کے بقدر بھی خشک رہ گیا تو وضو درست نہ ہوگا۔

ولا يمنع الدرن اي وسخ الاظفار(مراقي الفلاح: ٣٥،شامي بيروت: ٢٥٩/١ زكريا ديوبند)

فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة ،لزق باصل ظفره طين يابس او رطب لم يجز(الهنديه: ٥٤/١، الباب الأول في الوضوء)

راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا توضا فترك موضع الظفر على قدمه فامره ان يعيد الوضوء والصلاة قال فرجع(صحيح ابن ماجه: ٥٤٦)

سوال:-وضو کے اندر نیت فرض ہے یا نہیں یا اس میں اختلاف ہے اگر اختلاف ہو تو رازے قول بیان کریں؟

الجواب:-وضو کے اندر نیت اس کے باری میں اختلاف ہے احناف کے نزدیک نیت سنت ہے اگر بغیر نیت کسی وضو کر لیا تو وہ وضو ہو جائے گا اور شوافع بلکہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک فرض ہے اور اس میں احناف کے قول راجع ہے۔

فالنية في الوضوء سنة عندنا وعند الشافعي فرض لأنه عبادة فلا يصح بدون النية.... ولنا أنه لا يقع قربة ألا بنية ولكنه يقع مفتاحا لا صلوة......(اشرف الهداية:١٠٨/١،كتاب الطهارة دار الاشاعت كراچی)

ومنها: النية عندنا وعند الشافعي هي :فريضة والكلام في النية راجع الى اصل ،وهو أن معنى القربة والعبادة غير لازم في الوجوء عندنا وعنده لازم..... (بدائع الصنائع:١٠٥/١-١٠٦،كتاب الطهارة ،زكريا ديوبند)

و سننه.... البداية النية..... فلا تسن عندنا..... وغسل الوجه كما تفرض عند الشافعي ..(شامي: ٢٣/١-٢٤،كتاب الطهارة،اشرفيه ديوبند)

سوال:-وضو کا حکم کب نازل ہوا؟ مدلل بیان کرے

الجواب:-وضو کا حکم مکہ میں نماز کے ساتھ نازل ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بغیر وضو کے نہیں پڑھی اور بعد میں سورۃ مائدہ کے آیت وضو تائید نازل ہوئی اس پر اہل سیر کا اجماع ہیں –

واجمع اهل السير أن الوضوء والغسل فرضا بمكة مع فرض الصلاة بتعليم جبريل عليه السلام وانه عليه الصلاة والسلام لم يصل قط الا بوضوء بل هو شريعة من قبانا بدليل هنا وضوئي ووضوء الانبياء من قبلى.....(الدر المختار مع الشامي: ١٩٨/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

عن ابيا زيد بن حارثه عن النبي صلى الله عليه وسلم ان جبريل عليه السلام اتاه في اول ما اوحي اليه فعلمه الوضوء والصلاة فلها فرغ من الوضوء اخذ غرفة من ماء فنضع بها فرضه....(مسند احمد: رقم الحديث: ١٧٤٨)

١.سوال:-طھارت کی اہمیت اور فضیلت تحریر کریں؟

الجواب:-شریعت اسلام میں طہارت اور پاکی کی بڑی اہمیت ہے اس لیے کہ نماز جیسی اہم ترین اسلامی عبادت کی صحت طہارت پر موقوف ہے اگر طہارت ہی نہ ہو تو یہ عبادت معتبر نہیں ہے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کی چابی طہارت ہے اور دوسری جگہ ارشاد ہے: کوئی نماز بغیر طہارت کے معتبر نہیں ہے، اور طہارت کی فضیلت بھی احادیث میں بہت ساری ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاکی ادھا ایمان ہے نیز کلام پاک میں قبا کے باشندوں کی طہارت پسندی کی تعریف کی ہے اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالی پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ایک دوسری جگہ میں ارشاد ربانی ہیں بےشک اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو اور گندگی سے بچنے والے کو پسند فرماتے ہیں-

فيه رجال يحبون ان يتطهروان. والله يحب المتطهرين (سورة التوبة ،رقم الآية:١٨)

عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تقبل صلاة بغير طهور ولا صدقة من علول (سنن الترمذي: ٥١/١ ،رقم الحديث: ١)

ان الله يحب التوابين ويحب المتطهرين (سورة البقرة: رقم الآية:٢٢٢)

عن ابي مالك الاشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الطهور شطر الايمان والحمد لله تملأ الميزان......(صحيح مسلم: ١٤/١، رقم الحديث: ٢٢٣، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء)

سوال:-حدث اکبر اور حدث اصغر کسے کہتے ہیں یہ وضاحت تحریر کریں؟

الجواب:-حدث اصغر: بے وضو ہونے کو کہتے ہیں یعنی جن چیزوں سے صرف وضو لازم ہوتا ہے ان کو حدث اصغر کہتے ہیں،اور حدث اکبر: بے غسل ہونے کو کہتے ہیں یعنی جن چیزوں سے غسل فرض ہو ان کو حدث اکبر کہتے-

واركانها في الحدث الاصغر غسل الأعضاء الثلاثة ومسح ربع الرئس وفي الحدث الاكبر جميع البدن وفي النجاسة الحقيقية المرنية ازالة عينها وفي غير المائية غسل محلها ثلاثا والعصر في كل مرة ان كان مما بنعصر والتخفيف في كل مالا ينصر...(البحر الرائق: ٢٣/١،كتاب الطهارة،اشرفيه ديوبند)

اما الحدث الأكبر ما يوجب الغسل وهو ثلاثة انواع: الجنابة والحيض والنفاس،واما الحدث الأصغر :فلا يوجب الغسل، ويكفي فيه الوضوء ،واركانها الحدث الأصغر اربعة مذكورة في الكتاب، وفي الأكبر غسل ظاهر البدن والفم والانف......(فتح القدير: ١٠/١ كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:-طہارت کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-طہارت کا شرعا حکم یہ ہے کہ جو چیزیں بغیر طہارت کے مباح نہیں ہیں ان چیزوں کا مباح ہونا ہے یہ حکم دینوی ہے اور آخرت میں ثواب کا ملنا اگر نیت ہو یہ حکم اخروی ہے-

وحكمها استباحة مالا يحل بدونها وسببها اي سبب وجوبها مالا يحل فعله فرضا او غيره كالصلاة ومس المصحف إلا بها.....(الدر المختار مع الشامي: ١٩٠/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

وحكمها استباحة مالا يحل الا بها....(البحر الرائق: ٢٣/١،كتاب الطهارة اشرفيه ديوبند)

وسببه استباحة مالا يحل الا به وهو حكمه الدينوى وحكمه الأخروى الثواب في الآخرة.....(حاشية الطحطاوي:٦٠/١-٦١،كتاب الطهارة اشرفيه ديوبند)

سوال:-ارکان وضو کتنے ہیں ہر ایک کی وضاحت کریں؟

جواب:-ارکان وضو چار ہیں (1) پورا چہرہ دھونا یعنی پیشانی سے تھوڑی کے نیچے تک ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک دھونا(2) دونوں ہاتھ دھونا یعنی دونوں ہاتھوں کی کہنوں سمیت دھونا(3) سرکا مسح کرنا یعنی سرکا چوتھائی حصہ مسح کرنا(4) پیروں کا دھونا یعنی دونوں پیروں کا ٹخنوں سمیت دھونا-

يا ايها الذين امنوا اذا قمتم الى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وايديكم الى المرافق وامسحوا برؤوسكم وارجلكم الى الكعبين(المائده: ٦،رقم الاية: ٣١-٣٣)

الاول: غسل الوجه الغسل هو الاسالة والمسح هو الاصابة.... الفرض الثاني: غسل اليدين والمرفقان يدخلان في الغسل عند علمائنا الثلاثة..... والفرض الثالث: غسل الرجلين ويدخل الكعبان في الغسل عند علمائنا الثلاثة والكعب هوالعظم الناتئي في الساق الذي يكون فوق القدم.... الفرض الرابع: مسح الرأس المفروض في مسح الرأس مقدار الناصية... ربع الراس (الهنديه: ٥٣/١-٥٥،باب الاول: في الوضوء كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)

غسل الوجه.... مرة... وهو... من مبدا سطح جبهته... الى اسفل ذقنه اي منبتي اسنانه اسفلى طولا... وما بين شحمة اذنين عرضا وحينئذ فيوجب الغسل..... لا غسل باطن العينين .... و غسل اليدين... والرجلين.... مرة مع المرفقين والكعبين.... ومسع ربع الراس مرة...(شامي: ٢٠٨/١-٢١٣ كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)