الجواب:-پاک زمین اور اس کی ہر اس جنسي پر تیمم کرنا جائز ہے جو آگ میں ڈالنے سے نہ جلے، نہ ڈھیلے اور نہ نرم ہو، جیسے پتھر اور ہر قسم کی مٹی اور جو چیزیں آگ میں ڈالنے سے جل جائے یا پگھل جائے یا نرم ہو جائے تو اگر ان پر گرد و غبار نہ ہو تو تیمم جائز نہ ہوگا جیسے لوہا، تانبا ، سونا، چاندی وغیرہ –
frahim9900@gmail.com
سوال:-تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟
الجواب:-تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے نیت کر کے دونوں ہتھیلیاں مٹی پر مار کر پورے چہرے پر پھیر لیا جائے پھر اس کے بعد دوبارہ ہتھیلیاں مٹی یا غبار پر مار کر دونوں ہاتھ کہنوں تک پھیر لیے جائیں اگر انگوٹھی وغیرہ پہن رکھی ہو تو اس کو اتار دیا جائے یا اگے پیچھے کر لی جائے-
عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: التيمم ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين(والسنن الكبيرى للبيهقي:٣١٩/١،كتاب الطهارة،باب كيف التيمم رقم: ٩٩٩)
كذا في المستدرك على الصحيحين للحاكم ابي عبد الله عن ابن عمر مرفوعا (المستدرك للحاكم: ٢٦٥/١،كتاب الطهارة،رقم: ٦٢٤)
واما كيفية التيمم فذكر ابو يوسف في الامالي فضرب بيديه على الأرض فاقبل بهما وادبر ثم نفضهما ثم مسح بهما وجهه ثم اعاد كفيه الى الصعيد ثانيا فاقبل بهما وادبر ثم تفضهما ثم مسح بذالك ظاهر الذراعين وباطنهما الى المرفقين(بدائع الصنائع :١٦٧/١ زكريا: ٤٦/١ كراچی)
سوال:-کب تیمم کرنا درست ہے اور تب تیمم کرنا درست نہیں ؟ وضاحت کریں-
الجواب:-(1)پانی کے استعمال پر قادر نہ ہونا یعنی مبتلا بہ سے پانی ایک میل یا اس سے زیادہ مسافت پر ہو اور وہاں تک پہنچنے میں نماز کا وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہو(2) پانی کے استعمال کی وجہ سے مرض بڑھ جانے یا دیر سے شفا ہونے کا خطرہ ہو(3) سخت سردی جب کہ جنبی کے لیے گرم پانی سے غسل کا انتظام نہ ہو اور ٹھنڈے پانی سے جان کی ہلاکت یا اعضاء کے مشکل ہونے کا خطرہ ہو(4) پانی کا ایسی خطرناک جگہ ہونا (مثلاً وہاں سانپ ہو یا کوئی دشمن بیٹھا ہو یا بھیانک آگ جل رہی ہو) کہ وہاں جا کر پانی لانے میں سخت نقصان کا خطرہ ہو یا مثلا آدمی ایسی جگہ ہو کہ اگر وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ جائے تو اپنے مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو(5) پانی محض پینے کی ضرورت کے لیے کافی ہو اور اس سے وضو یا غسل کرنے سے قافلہ والوں یا ان کے جانوں کے پیاسے مر جانے کا خوف ہو(6) پانی کو کنویں وغیرہ سے حاصل کرنے کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہوں اور نہ کنویں میں اترنے کی ہمت ہو تو ان سب صورتوں میں تیمم کرنا درست ہے وغیرہ اور ان کے علاوہ اگر ایسا موجودہ مجبوری پیش نہ ائے تو تیمم درست نہ ہوگا-
من عجز عن استعمال الماء -الى قوله او عدم الة طاهرة يستخرج به الماء-(در المختار: ٣٥١/١-٣٥٥،زكريا: ٣٩٠/١-٤٠٠)
ومنها: عدم القدرة على الماء يجوز التيمم لمن كان بعيدا من الماء ميلا.... وتيمم لخوف سبع او عدو.... او لخوف حية او نار هكذا في "اتبيين" وكذا لو كان عنده لص او ظالم يؤذيه تيمم.... تيمم لخوف ضياع الوديعة اوقصد عرم لا وفاء بدينه.... وكذا خافت المرأة على نفسها.... وكذا إذا خاف العطش على نفسه او رفيقه المخالط.... ويجوز التيمم اذا خاف الجنب إذ اغتسل بالماء ان يقتله لبرد او يمرضه..... واذا خاف المحدث ان توضا ان يقتله البرد او يمرضه.... ولو كان يجد الماء الا انه مريض يخاف ان استعمل الماء اشتد مرضه....الخححح٠
(الهنديه: ٨٠/١-٨١،باب الرابع في التيمم ،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)
سوال:-تیمم کے لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟
الجواب:-تیمم کے لغوی معنی قصد اور ارادہ کرنا ہے شرعی اصطلاح میں تیمم کے معنی چہرے اور کہنیوں سمیت بازوں پر پاک صاف مٹی کے ساتھ ہاتھ پھیرنا ہے-
وهو في اللغة: القصد، وفي الشرع: عبارة عن القصد الى الصعيد للتطهير (تاتارخانية :٣٦٠/١،الفصل الخامس في التيمم زكريا ديوبند)
هو لغة: القصد،وشرعا قصد صعيد مطهر واستعماله بصفة مخصوصة اقامة القربة(شامي: ٣٩١/١-٣٩٢،كتاب الطهارة، باب التيمم، زكريا ديوبند)
والتيمم لغة مطلق القصد الى معظم واصطلاحا على ما مخصوصين على قصد التطهير بشرائط مخصوصة(البحر الرائق: ٢٤١/١،باب التيمم،دار الكتب العلمية بيروت)
سوال:-تیمم میں کتنے ارکان ہے بہ وضاحت کریں؟
الجواب:-ارکان تیمم دو ہے (1) دو ضربیں یعنی دو دفعہ خشک وہ پاک مٹی یا مٹی کی جنس کی چیز پر دونوں ہاتھ مارنا(2) مسح کرنا یعنی ایک ضرب سے منہ (چہرے)کا مسح کرے اور دوسرے ضرب سے دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرے-
وركنه شيئان الضربتان ،والاستيعاب الذي يظهر لي ان الركن هو المسح لانه حقيقة التيمم كما مر(شامي:٣٩٢/١،كتاب الطهارة،باب التيمم زكريا ديوبند)
ومنها: ضربتان يمسح باحداهما وجهه وبالاخرى يديه الى المرفقين كذا في (الهنديه: ٧٩/١،باب الرابع :في التيمم،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)
اما ركنه فشيئان: الاول ضربتان ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين والثاني استيعاب في العضوين(البحر الرائق: ٢٤١/١،كتاب الطهارة،باب التيمم ،دار الكتب العلمية بيروت)
سوال:-کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتے ہیں اور کن چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے مدلل بیان کریں؟
الجواب:-وضو ٹوٹنے والے چیزیں: اگے پیچھے کی شرمگاہ سے کسی چیز کا عادت کے طور پر نکلنا مثلا پاخانہ ،پیشاب ،ریاح، منی ،مزی وغیرہ-اگلی پچھلی شرمگاہ سے خلاف عادت کسی چیز کا نکلنا مثلا استحاضہ کا خون، کیڑا، کنکری وغیرہ-بدن کے کسی حصہ سے نجاست کا نکلنا مثلا خون، پیپ، مواد یا بیماری کی وجہ سے نجس پانی نکلنا-منہ بھر کر قے ،نیند جس سے اعضاء مضھل ہو جائیں،بے ہوش ،پاگل پن اور نشا،رکوع سجدہ والی نماز میں قہقہ مباشرت فاحشہ یعنی بلا کسی رکاوٹ کے شرم گاہ کا شرمگاہ سے ملانا خواہ مرد کا عورت سے ہو یا مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے وغیرہ وغیرہ اور اس کے علاوہ باقی چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے جیسے خون کا نکلنا اتنا مقدار جو نہ بہہ جائے وغیرہ-فقط واللہ اعلم
وينقضه خروج.... نجس منه.... الى ما يطهر.... ريح او دودة او حصاة من دبولا.... ريح من قبل وذكر.... ولا.... دودة من جرح او اذن او انف اوفم وكذا لحم سقط منه.... والمخرج.... والخارج.... سيان.... وقيئ ملافاه.... من مرة او علق.... او طعام او ماء.... لا بلغم.... اصلاودم.... او ساواه.... لا المغلوب بالبزاق.... وكذا ينقضه علقة مصت عضوا وامتلات من الدم ومثلها القزاد ان.... كبيرا مخرج منه دم مسفوح.... والا.... لا كبعوض وزباب الخ(شامي: ٢٦٠/١-٢٨٠،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)
ومنها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبر والوادي والمذي والمني والدودة والحصاة الغائط يوجب الوضوء قل او كثر وكذلك البول والريح خارجة من الدبر كذا في المحيط والريح الخارجة من الذكر وفرج المراة لا تنقض الوضوء على الصحيح الا ان تكون المراة مفضاة، فإنه يستحب لها الوضوء كذا في الجوهرة النيرة....الخ(الهنديه: ٦٠/١،باب الاول في الوضوء كتاب الطهارة زكريا ديوبند)
ينقض الوضوء قل او كثر وكذا البول والريح من الدبر وان خرج الريح من الذكر او من قبل المراة لا ينقض و المفضاة اذا خرج من قبلها ريح.....(قاضيخان:٢٥/٧،زكريا ديوبند)
سوال:- بواسیر کے مرض میں مبتلا شخص کے لیے وضو کا شرعا کیا حکم ہے مفصل بیان کریں؟
الجواب:-اگر بواسیر کے مرض اس طور پر لاحق ہے کہ خون یا رطوبت مسلسل خارج ہوتی رہتی ہو اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ باوضو ہو کر پاکی کی حالات میں وقتی فرض نماز ادا کر سکے تو اس صورت میں یہ شخص کو معذور کہلائے گا پھر جب کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ پایا جائے تب تک معذور شمار ہوگا اور معذور شخص کے لیے وضو کا شرعی حکم ہے ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ایک مرتبہ وضو کرلے اور نماز پڑھے پھر وضو کے بعد اس بیماری کے علاوہ اگر کوئی نواقض وضو صادر نہ ہو تب تک وضو نہ کرے ورنہ دوبارہ وضو کرے اور اگر مسلسل بواسیر کی بیماری نہیں تو معذور شمار نہیں ہوگا تو اس صورت میں وضو کا شرعی حکم ہے کہ اگر رطوبت خارج ہو جائے تو وضو باقی نہیں رہے گا تو طہارت کے لیے ازسرنو وضو کرنا ہوگا-
وصاحب عذر من به سلس بولا بمكنه امساله او استطلاق بطن او انفلات ريح.... ان استوعب عذرة تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا ينوصو يصلي فيه.... خاليا عن الحدث ولو حكما....الخ(شامي: ٣٠٥/١، باب الحيض: مطلب في احكام المعذور: سعيد)
ومن به سلس بول وهو من لا يقدر على امساكه والرعاف الدم الخارج من الانف والجرح الذي لا يرقأ اي الذي لا يسكن دمه من رفاء الدم سكن وانما كان وضوءها لوقت كل فرض لا لك صلاة لقوله عليه الصلاة والسلام الميتحاضة تتوضا لوقت كل صلاة رواه سبط ابن الجوذي اني أبي حنيفة (البحر الرائق: ٢٢٦/١،دار الكتاب ديوبند)
روزہ کی حالت میں ایک شخص نے اپنی بیوی کا لعاب منھ میں لیا اور حلق تک نہی پہونچا کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائگا
الجواب وباللہ التوفیق
اگر لعاب صرف منھ میں تھا حلق تک نہیں پہنچا اس نے لعاب تھوک دیا تو روزہ نہیں ٹوٹیگا اور اگر لعاب نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا قضا وکفارہ دونوں لازم ہونگے
ولو ابتلع بزاق غیرہ فسد صومہ بغیر کفارۃ الا اذا کان بزاق صدیقہ فحینئذ تلزمہ الکفارۃ ھندیہ. ۱/ ۲۰۳. کتاب الصوم الباب الرابع فیما یفسد ومالا یفسد ال وع الاول ما یوجب القضاء دون الکفارۃ ط. دار الفکر
ہم نے سنا ہے کہ سحری کا ٹائم ختم ہونے کے سات منٹ کے بعد اذان دینی چاہیے، اور اس کے بعد نماز پڑھنی چاہیے، لیکن میں نے اس درمیان نماز پڑھ لی تو کیا میری نماز ہو گئی ہے،؟ یا مجھے قضاء کرنی چاہیے ؟
الجواب وبالله التوفيق: جنتری میں جو اوقات صلوۃ لکھے ہوتے ہیں اور ان میں ۵ منٹ ۱۰ منٹ کا فاصلہ کرنے کو کہا جاتا ہے وہ سب احتیاطا ہیں فجر کا وقت ختم سحری یعنی صبح صادق کے بعد فوراً ہوجاتا ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں ختم سحری اور اذان کے درمیان پڑھی گئی نماز ہوگئ اب قضا کی ضرورت نہیں ـ
(کتاب النوازل ۲۲۲/۳)
أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني، وهو البياض المعتر ض في الأفق لحديث أمامة جبرئيل عليه السلام فإنه أم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها في اليوم الأول حين طلع الفجر،(ہدایہ ٧٦/١ رشیدیہ کوئٹہ)
امام صاحب نے تراویح میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر ٩٤ میں فأولئك هم الظالمون کے بجائے هم الصادقون پڑھ دیا تو ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟؟
الجواب وباللہ التوفیق
صورۃ مسؤلہ میں تغیر فاحش اور معنی کی تبدیلی کی وجہ سے نماز فاسد ہو گئی لہذا نماز کا اعادہ کیا جائے۔
إن كانت الكلمة الثانية في القرآن فهو على وجهين، إما إن كانت موافقة للأولى في المعنى، أو مخالفة، فإن كانت موافقة لا تفسد صلاته - وإن كانت مخالفة - قال عامة المشائخ تفسد صلاته وهو قول أبي حنيفة، ومحمد، وعن أبي يوسف فيه روايتان والصحيح هو الفساد، لأنه أخبر بخلاف ما أخبر الله تعالى (خانية، كتاب الصلاة، فصل في قراءة القرآن خطأ في الأحكام المتعلقة بالقراءة على هامش الهندية ١٥٢/١ - ١٥٣ ، قاضيخان، جدید زکریا ٩٦/١)
وإن اختلفا متباعدا نحو أن يختم آية الرحمة بآية العذاب، أو آية العذاب بآية الرحمة ...... فعلى قول أبي حنيفة ومحمد : تفسد صلاته، وقيل في المسألة على قول أبي يوسف روايتان وفي الظهيرية: قال : والصحيح عندي أنه إذا وقف، ثم انتقل لا تفسد صلاته، وإن وصل تفسد وفي الخانية: والصحيح هو الفساد. (تاتارخانية، كتاب الصلاة، الفصل الثاني، مسائل زلة القاري، زكريا ٩٦/٢، رقم: ١٨٤٣) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
ایک حافظہ عورت کا رمضان المبارک میں تراویح کی نماز میں دیگر عورتوں کو قرآنِ کریم سنانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیا کوئی شرائط و قیود بھی ہیں، اور اگر ناجائز ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ نیز، اس مسئلے میں مختلف فقہی مسالک کی آراء کیا ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
حافظہ عورت کا تراویح کی نماز میں عورتوں کی امامت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اس لیے کہ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا فتنہ کا سبب ہے؛ البتہ اگر کوئی حافظہ عورت اپنا قرآن یاد رکھنے کی غرض سے تراویح میں قرآن سنانا چاہے تو اس کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنے ہی گھر کی عورتوں کو تراویح میں قرآن سنائے اگر چہ یہ بھی خلافِ اولی ہے لیکن فی الجملہ اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ اور کوئی فتنہ نہ ہو، اور ایسی صورت میں وہ صف کے درمیان میں کھڑے ہوکر امامت کرے گی۔
عورتوں کی جماعت کے بارے میں ائمہ اربعہ کی آراء:
(١): شافعیہ اور حنابلہ نزدیک جائز ہے۔
(٢): مالکیہ کے نزدیک درست نہیں۔
(٣): حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے۔
مستفاد از
(کفايت المفتي قديم، ١٤٣/٣، ط: دار الاشاعت کراچی)
(فتاوى قاسمية، ٨/٤١٠، ط: الأشرفية ديوبند)
عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها كانت تؤم النساء في شهر رمضان، فتقوم وسطا، قال محمد: لا يعجبنا أن تؤم المرأة، فإن فعلت قامت في وسط الصف مع النساء كما فعلت عائشة رضي الله عنها وهو قول أبي حنيفة رحمه الله. (كتاب الآثار/باب المرأة تؤم النساء، وكيف تجلس في الصلاة، ٢٠٨/١، رقم الحديث: ٢١٧، ط: كراچی)
عن إبراهيم والشعبي، قالا: لا بأس أن تصلي المرأة بالنساء في شهر رمضان، تقوم في وسطهن. (مصنف عبدالرزاق/كتاب الصلاة/باب المرأة تؤم النساء، ١٤٠/٣، رقم الحديث: ٥٠٨٤، ط: المحلس العلمي)
لا خير في جماعة النساء...الخ (المعجم الكبير للطبراني/باب العين/سالم ابن عمر، ٣١٧/١٢، ط: مكتبة إبن تيمية القاهرة)
کیا عصر کے بعد یا رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئ خاص فضیلت وارد ہوئ ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
عصر کے بعد مسجد میں ٹھہرنے کے تعلق سے علامہ شمس الدین سرخسی رحمہ اللہ نے “مبسوط سرخسی” میں اور علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی رحمہ اللہ نے “حاشية الطحطاوي” میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جس شخص نے عصر کی نماز پڑھی اور وہ غروبِ شمس تک مسجد میں ٹھہرا گویا اس نے اسماعیل علیہ السّلام کی اولاد میں سے آٹھ غلام آزاد کیے”، تاہم مذکورہ حدیث احادیث کی کس کتاب میں موجود ہے تلاش کے باوجود بندہ کو نہ مل سکی۔
لأن المكث بعد العصر إلى غروب الشمس في موضع الصلاة مندوب اليه، قال عليه الصلاة والسلام: من صلى العصر ومكث في المسجد إلى غروب الشمس فكأنما أعتق ثمانية من ولد إسماعيل عليه السلام. (المبسوط للسرخسي/كتاب الصلاة/باب مواقيت الصلاة، ١٤٧/١، ط: دار المعرفة بيروت)
وقال عليه السلام: من مكث في مصلاه بعد العصر إلى غروب الشمس كان كمن أعتق ثمان رقاب من ولد اسمعيل. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح/كتاب الصلاة، ص: ١٨١-١٨٢، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
ایک خاتون کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور دوتولہ سونا تو کیا ضم کیا جائے گا؟ یا صرف پیسہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ؟ یا تیسری کوئی شکل ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفیق
مذکورہ صورت میں اگر ایک لاکھ روپیہ ضرورت سے زائد ہے تو دو تولہ سونا اور ایک لاکھ روپیہ کو ملا کر زکاۃ نکالی جائگی بشرطیکہ ایک سال مکمل ہوگیا ہو
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا ملکا تاما وحال الحول ( فتح القدیر کتاب الزکاۃ ۳/ ۴۶۰ ط. دار الفکر )
والصحیح الوجوب عزاہ فی البدائع الی الامام حیث قال ثم عند ابی حنیفۃ یعتبر فی التقویم منفعۃ الفقراء کما ھو اصلہ حتی روی عنہ انہ قال اذا کان لرجل خمسۃ وتسعون درھما ودینار یساوی خمسۃ دراھم انہ تجب الزکوۃ وذلک بان تقوم الفضۃ بالذھب کل خمسۃ بدینار منحۃ الخالق علی بحر الرائق کتاب الزکاۃ زکاۃ عروض التجارۃ ۲/ ۲۴۷. ط. دار الکتاب الاسلامی
ویضم الذھب الی الفضۃ وعکسہ بجامع الثمنیۃ قیمتہ ....... قولہ قیمتہ ای من جھۃ القیمۃ فمن لہ مائۃ درھم وخمسۃ مثاقیل قیمتھا مائۃ علیہ زکاتھا شامی. کتاب الزکاۃ باب زکاۃ المال ۲/ ۳۰۳ ط. ایچ ایم سعید
سوال:-غیر مسلم اگر مسجد کے لیے چٹائی دے تو لے سکتے ہیں؟؟
الجواب وبا اللہ التوفیق
اگر کو غیر مسلم مسجد میں تعاون کرتا ہے نیک کام سمجھ کر اور کسی قسم کے فتنہ اور دینی یا دنیوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اس سے تعاون لینا درست ہے لھذا صورت مسؤلہ میں مسجد کے غیر مسلم سے چٹائ لینا درست ہے
فتاوی محمودیہ ۱۵/ ۱۳۹ کتاب الوقف باب احکام المسجد ادرۃ الفاروق
واما الاسلام فلیس من شرطہ فصح وقف الذمی بشرط کونہ قربۃ عندنا وعندھم البحر الرائق ۵/ ۲۰۴ کتاب الوقف شرائط الوقف. ط. دار الکتاب الاسلامی
الذمی ان یکون قربۃ عندا وعندھم کا الوقف علی الفقراء او علی مسجد القدس شامی ۴/ ۳۴۱. کتاب الوقف مطلب قد یثبت الوقف با الضرورۃ ط. سعید
وقت کو ضائع کرنا کیسا ہے جائز ہے یا نا جائز ؟؟
الجواب وبالله التوفيق:
وقت ضائع کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے ایک ناپسندیدہ اور غیر مفید عمل ہے۔ قرآن و حدیث میں وقت کی قدر و قیمت واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔
قرآن کریم میں وقت کی قدر
1. سورۃ العصر:
(ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمانے (وقت) کی قسم کھا کر انسان کے خسارے کو بیان کیا، یعنی جو وقت کو ضائع کرتا ہے، وہ نقصان میں ہے۔
2. سورہ المؤمنون:
(ترجمہ: بے شک وہ مؤمن کامیاب ہوگئے جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور جو لغویات سے دور رہتے ہیں)
اس سے معلوم ہوا کہ لغو اور فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا مؤمن کی شان نہیں، بلکہ اسے چھوڑ دینا کامیابی کی علامت ہے۔
احادیث مبارکہ میں وقت کی اہمیت
1. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ترجمہ: “دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ نقصان میں رہتے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔”)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ وقت کی ناقدری کرنا خسارے کا باعث ہے۔
2. حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(ترجمہ: “قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے، جن میں ایک یہ ہے: اس نے اپنی عمر کہاں صرف کی؟”)
مطلب یہ کہ وقت کا صحیح استعمال آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور اسے ضائع کرنا باعثِ مؤاخذہ ہے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے، اور اسے فضولیات میں ضائع کرنا قابلِ مذمت ہے۔ فضول گپ شپ، لایعنی مشاغل، اور غیر ضروری مصروفیات میں وقت کا زیاں ایک شرعی اور اخلاقی نقصان ہے، نیز وقت کا ضیاع دینی اور دنیاوی دونوں نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ لغویات میں وقت ضائع کرنے کو ناپسندیدہ اور گناہ کے قریب قرار دیا گیا ہے، اور ہر مسلمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے وقت کو نیکی، عبادت، علم اور بھلائی کے کاموں میں استعمال کرے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وقت کی اہمیت قرآن و حدیث سے واضح ہے۔ وقت کا ضیاع دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے، جبکہ اس کا صحیح استعمال انسان کو کامیابی اور نجات کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت قیمتی سمجھے اور اسے نیک کاموں، عبادت، علم، اور خیر کے کاموں میں لگائے۔
1. سورۃ العصر: وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (سورۃ العصر: 1-2) 2. سورۃ المؤمنون: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (سورۃ المؤمنون: 1-3)
عن أبي برزة الاسلمي قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم: لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسئل عن عمره فيما أفناه..الخ (سنن الترمذي/كتاب صفة القيامة، ٦١٢/٤، رقم الحديث: ٢٤١٧، ط: بيروت)
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ. (صحيح البخاري، ٢٣٥٧/٥، رقم الحديث: ٦٠٤٩، ط: دمشق)
سوال:-کیا مقتدی امام سے آگے آگےقرآن کریم پڑھ سکتا ہے يا نہیں ؟
الجواب وبالله التوفيق:
صورت مسئولہ میں مقتدی کا قرآن کریم کی مطلقا نہ اگے نہ بعد میں اور نہ ساتھ ساتھ کسی بھی طرح تلاوت کرنا جائز نہیں۔
وَاِذَا قُرِئ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَه وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُم تُرْحَمُوْنَ. (سورة الأعراف، الآية: ٢٠٤)
عن أبي موسى الأشعري(في حديث طويل) أن رسول الله صلى عليه وسلم خطبنا، فبين لنا سنتنا، وعلمنا صلاتنا، فقال: إذا صليتم فأقيموا صفوفكم، ثم ليؤمكم أحدكم، فإذا كبر فكبروا، وفي رواية: وإذا قرأ فانصتوا. (مسلم شريف/كتاب الصلاة/باب التشهد في الصلوات، ١٧٤/١، رقم الحديث: ٤٠٣، ط: النسخة الهندية)
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم: إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا قرأ فانصتوا. (طحاوي شريف/كتاب الصلاة، ١٢٨/١، رقم الحديث: ١٢٥٧، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
کیا نابالغ بچوں پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے؟؟
الجواب وبالله التوفيق:
مسؤلہ صورت میں نابالغ بچوں پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔مستفاد از:
(مسائل سجدۂ تلاوت، ص: ٤٦، ط: مجلس احیاء سنت، ہردوئی)