سوال:-اگر کوئی شخص بغیر پانی یا بغیر ڈھیلے وغیرہ کے پیشاب کر لی تو اس پر غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے بہر حال اطمنان بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اگر کوئی شخص بغیر پانی یا بغیر ڈھیلے وغیرہ کے پیشاب کر لے تو اس پر غسل تو واجب نہیں ہے البتہ جہاں پیشاب لگا ہو اس جگہ کو دھو لینے سے کافی ہے اس میں تفصیل یہ ہے اگر پیشاب ایک درہم سے کم ہو تو معاف ہے لیکن دھونا بہتر ہے اور اگر ایک درہم یا اس سے زیادہ پیشاب لگا ہو تو دھونا واجب ہے-

وفرض الغسل عند خروج مني.... بشهوة....ايلاج حشفه.... ادمي... انقطاع حيض ونفاس....(شامي: ٣٢٥/١-٣٢٧) كذا في الشامي وعفى الشارع عن قدر درهم وان كره تحريما ،فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن... وهو....عرض مقعر الكف..... في رفيق عن مغلظة...الخ(شامي: ٥٧١/١-٥٧٣،باب الانجاس،الشرفيه ديوبند)

المعاني الموجبة للغسل انزال المني (اشرف الهداية: ١٢٥/١) فان اصابه بول فيبس لم يجز حتى يغسله.....(اشرف الهداية:٢٥٢/١ دار الاشاعت كراچی)

اسباب الغسل ثلاثة: الجنابة والحيض والنفاس....(تاتارخانية :٢٧٨/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:-کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے اور کن چیزوں سے غسل واجب نہیں ہوتا ہے مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:-غسل واجب ہونے کے لیے تین اسباب ہیں(١) جنابت، اس کا تحقیق سوتے یا جاگتے شہوت کے ساتھ منی کے خروج سے ہوتا ہے اگر جاگتے ہوئے یہ صورت پیش ائے تو اس کو انزال کہتے ہیں وغیرہ (٢) غسل کے وجوب کا دوسرا سبب حیض کا انقطاع ہے یعنی عورت کو جب ماہواری خون آنا بند ہو جائے تو طہارت کے لیے اس پر غسل ضروری ہوتا ہے(٣) وجوب غسل کا تیسرا سبب نفاس کا انقطاع ہے یعنی بچہ کی پیدائش پر جو خون جاری ہوتا ہے جب وہ آنا بند ہو جائے تو طہارت کے لیے غسل کرنا ضروری ہوتا ہے – بیان کردہ چیز کی علاوہ اگر کوئی پیش ائے تو غسل واجب نہیں بلکہ طہارت کے لیے وضو کرنا ہے-

اسباب الغسل ثلاثة: الجنابة والحيض والنفاس وفي مختار الفتاوى: المراد بقوله: والحيض والنفاس انقطاعها(الفتاوى التاتارخانيه:٢٧٨/١ زكريا ديوبند)

وفر. ض الغسل عند خروج المني من العضو.....الخ بشهو ىة اي لذة ولو حكما كمحتلم....الخ وان لم ينزل منيا بالاجماع(در المختار:٢٩٥/١-٢٩٩ زكريا ديوبند)

في المعاني الموجبة للغسل وهي ثلاثة منها :الجنابة وهي تثبت بسببين السبب الاول خروج المني... ومنها: الحيض والنفاس يجب الغسل عند خروج دم حيض او نفاس ووصوله إلى فرجها الخارج والا فليس بخارج ولا يكون حيضا كذا في "التبيين"(الهندية:٦٦/١-٦٧، الفصل الثالث،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

گر کوئ پتی ڈالتا ہے یعنی کسی کے پاس قسط وار رقم جمع کرتا ہے تو کیا وہ پتی کھلنے کے ( جمع شدہ رقم واپس ) ملنے کے وقت اس پر زکوۃ ہوگی یانہیں

الجواب وباللہ التوفیق: اگر وہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو وہ جمع شدہ رقم واپس ملنے کے بعد اس رقم کو جمیع مال کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرے گا،اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہے اور یہ حاصل ہونے والی رقم نصاب کے بقدر ہے تو پھر اس رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوۃ واجب ہوگی… واللہ اعلم بالصواب

وﻣﻨﻬﺎ ﺣﻮﻻﻥ اﻟﺤﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺎﻝ اﻟﻌﺒﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻟﻠﺤﻮﻝ اﻟﻘﻤﺮﻱ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻘﻨﻴﺔ.....ﻭﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻧﺼﺎﺏ ﻓﺎﺳﺘﻔﺎﺩ ﻓﻲ ﺃﺛﻨﺎء اﻟﺤﻮﻝ ﻣﺎﻻ ﻣﻦ ﺟﻨﺴﻪ ﺿﻤﻪ ﺇﻟﻰ ﻣﺎﻟﻪ ﻭﺯﻛﺎﻩ اﻟﻤﺴﺘﻔﺎﺩ ﻣﻦ ﻧﻤﺎﺋﻪ ﺃﻭﻻ ﻭﺑﺄﻱ ﻭﺟﻪ اﺳﺘﻔﺎﺩ ﺿﻤﻪ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﻤﻴﺮاﺙ ﺃﻭ ﻫﺒﺔ ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ (ھندیہ قدیم:کتاب الزکاۃ:اﻟﺒﺎﺏ اﻷﻭﻝ ﻓﻲ ﺗﻔﺴﻴﺮﻫﺎ ﻭﺻﻔﺘﻬﺎ ﻭﺷﺮاﺋﻄﻬﺎ:ج/١ ص/١٧٥)

تراویح کے8 رکعت ہونے پر غیر مقلدین جو دلیل دیتے ہیں اسکا مدلل جواب اور اپنے 20 رکعت ہونے پر مضبوط و مستند دلائل مطلوب ہیں؟

الجواب باللہ التوفيق: آٹھ رکعات تراویح پر غیر مقلدین بنیادی طور پر دو حدیثیں پیش کرتے ہیں: پہلی حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (رات کو) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے، پس ان کی خوبی اورلمبائی کے بارے میں مت پوچھو (کہ وہ کتنی لمبی اور خوب ہوا کرتی تھیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے (صحیح البخاری: كتاب التهجد: باب قيام النبي صلى الله عليه وسلم في رمضان وغيره ج/١ ص/١٥٤) یہ حدیث دراصل نماز تہجد کے بارے میں ہے اور غیر مقلدین جو اس حدیث سے آٹھ رکعات تراویح پر استدلال کرتے ہیں ان کا یہ استدلال درست نہیں ہے اور ان کا خود بھی اس حدیث پرعمل نہیں ہے اس لیے کہ اس حدیث میں رمضان اور غیر رمضان دونوں میں آٹھ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے اور یہ حضرات صرف رمضان میں پڑھتے ہیں اور اس حدیث میں چار چار کر کے پڑھنے کا ذکر ہے اور یہ حضرات دو دو کر کے پڑھتے ہیں اور اس حدیث میں تنہا پڑھنے کا ذکر ہے اور یہ حضرات جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس حدیث میں تین رکعات وتر پڑھنے کا ذکر ہے اور یہ حضرات ایک رکعت وتر پڑھتے ہیںدوسری حدیث جو غیر مقلدین پیش کرتے ہیں وہ مؤطا امام مالک کی یہ روایت ہے: حدثنی عن ﻣﺎﻟﻚ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ، ﻋﻦ اﻟﺴﺎﺋﺐ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ؛ ﺃﻧﻪ ﻗﺎل ﺃﻣﺮ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺃﺑﻲ ﺑﻦ ﻛﻌﺐ ﻭﺗﻤﻴﻤﺎ اﻟﺪﻳﺮﻱ ﺃﻥ ﻳﻘﻮﻣﺎ ﻟﻠﻨﺎﺱ ﺑﺈﺣﺪﻯ ﻋﺸﺮﺓ ﺭﻛﻌﺔ (مؤطا امام مالک:ص ١١٦) ترجمہ: حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات کی امامت کرائیں۔ علامہ عبدالبر رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ امام مالک کے علاوہ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں “احدی عشرۃ رکعة” یعنی گیارہ رکعت کا ذکر کیا ہو بلکہ تمام راویوں نے گیارہ رکعات کی جگہ “احدى و عشرين” (اکیس رکعات) ذکر کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ امام مالک کو گیارہ رکعات میں وہم ہوا ہے…

حدثنی عن ﻣﺎﻟﻚ ﻋﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺭﻭﻣﺎﻥ اﻧﻪ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ اﻟﻨﺎﺱ ﻳﻘﻮﻣﻮﻥ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻥ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ‌ ﻓﻲ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺑﺜﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﺭﻛﻌﺔ. (مؤطا امام مالک:ص/١١٦)

عن عبد الله قال في طلاق السنة يطلقها عند كل طهر تطليقة فإذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلك حيضة. (سنن ابن ماجة/كتاب الطلاق، ص: ٢٦٢، ط: رحمانية)

حضرت یزید بن رومان فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان میں تئیس رکعات پڑھا کرتے تھے (بیس رکعات تراویح تین رکعات وتر) اور غیر مقلدین کے علاوہ ائمہ اربعہ اور جمہور امت کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مواظبت اور اجماعِ امت کی وجہ سے تراویح بیس رکعت ہی سنت ہیں جس پر کئ احادیث موجود ہیں:

عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة والوتر (السنن الکبریٰ للبیہقی: کتاب الصلوۃ: باب ما روی فی عدد رکعات القیام فی شهر رمضان: ج/٢ ص/٦٩٨) عن يحيى بن سعيد ان عمر بن الخطاب امر رجلا يصلي بهم عشرين ركعة (مصنف ابن ابي شيبه: ج/٥ ص/ ٢٢٣ رقم:٧٧٦٤) عن ابي الحسناء: ان عليا امر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة (مصنف ابن ابی شیبہ:ج/٥ ص/ ٢٢٣ رقم:٧٧٦٣) عن سعيد بن عبيد: ان على بن ربيعة كان يصلي بهم في رمضان خمس تریحات ویوتر بثلاث (مصنف ابن ابی شیبہ: ج/٥ ص/٢٢٤ رقم:٧٦٩٠)

سوال:-غسل میں کتنے فرائض ہیں مدلل بیان کریں؟

الجواب:-غسل کے فرائض تین ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور تمام بدن پر پانی بہانا جیسے وضو کے اندر کیا جاتا ہے تین تین مرتبہ-

عن عبد الله قال في طلاق السنة يطلقها عند كل طهر تطليقة فإذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلك حيضة. (سنن ابن ماجة/كتاب الطلاق، ص: ٢٦٢، ط: رحمانية)

وفرض الغسل غسل فمه وانفه وبدنه قد تقدم وجه تقدم الوضوء على الغسل(البحر الرائق: ٨٦/١،كتاب الطهارة المكتبه التهانوية ديوبند )

وفرض الغسل.... غسل كل فمه ويكفي الشرب عبا لأن المج ليس بشرط في الاصح وانفه حتى ما تحت الدرن وباقي بدنه لكن في المعرب وغيره (شامي: ٢٨٤/١-٢٨٥،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص وضو یا تیمم کے بعد نسوار کا استعمال کرے تو وضو کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-نہیں،بعد وضو منہ میں نسوار رکھنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا البتہ اس طرح کی چیزوں سے وضو اس وقت ٹوٹتا ہے جب نشہ چڑھ جائے کہ آدمی کو زمین و آسمان کا پتہ نہ چلے-

وينقضه اغماء ومنه الغشي وجنون وسكر بأن يدخل في مشيه تمايل ولو باكل الحشيشة ذكره في النهر بحثا، واستدل بما في شرح الوهبانية من النهم حكموا بوقوع طلاقه اذا سكر منها زجراله قال الشيخ اسماعيل ولا يخفي ان قول البر جندي من الخمر ونحوه شامل له اذا تعطل العقل وقول البحر بمباشرة بعض الاسباب(شامي: ٢٧٤/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

ومنها الاغماء،والجنون ،والغشي، والسكر الاغماء ينقض الوضوء قليله وكثيره، وكذا الجنون والغشي والشكر، وحد السكر في هذا الباب: أن لا يعرف الرجل من المراة عند بعض المشايخ وهو اختيار الصدر الشهيد والصحيح ما نقل عن شمس الائمة الحلواني: أنه إذا دخل في بعض مشيته تحرك كذا في "الذخيرة"(الهنديه: ٦٣/١،كتاب الطهارة، باب الأول في الوضوء، زكريا ديوبند)

فالغليظة كالحمر هي غليظة باتفاق الروايات لأن حرمتها قطعية وسماها الله تعالى رجسا (حاشية الطحطاوي على مراقي:١٥٣،باب الانجاس والطهارة عنها مكتبه دار الكتاب ديوبند ،الفتاوى التاتارخانية:٤٤٢/١ باب الطهارة الفصل السابع)

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی پھر ایک حیض گزر جانے کے بعد اس نے دو طلاقیں اور دیں اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اس عورت کے لیے از سرِ نو عدت گزارنا ضروری ہے یا طلاق رجعی کے بعد آنے والا حیض بھی عدت میں شمار ہوگا۔

الجواب وبالله التوفيق: مسؤلہ صورت میں از سرنو عدت گزارنا ضروری نہیں ہے، بلکہ طلاق رجعی کے بعد آنے والا حیض بھی عدت میں شمار ہوگا۔

عن عبد الله قال في طلاق السنة يطلقها عند كل طهر تطليقة فإذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلك حيضة. (سنن ابن ماجة/كتاب الطلاق، ص: ٢٦٢، ط: رحمانية)

ثم إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار۔ فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة؛ لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة، فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها. (بدائع الصنائع/كتاب الطلاق، ١٨٩/٤، ط: بيروت)

ثم إذا أوقع الثلاثة في ثلاثة أطهار فقد مضت من عدتها حيضتان إن كانت حرة، فإذا حاضت حيضة انقضت، وإن كانت أمة فبالطهر من الحيضة الثانية باتت ووقع عليها ثنتان. (فتح القدير/كتاب الطلاق، ٤٤٩/٣، ط: بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

حضرت مفتی صاحب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

الجواب و باللہ التوفیق: مذکورہ ویڈیو میں موصوف نے دو باتیں کی ہیں: نمبر: ١. وتر کی دوسری رکعت میں تشہد میں بیٹھنا سنت نہیں ہے بلکہ سیدھا تیسری رکعت میں کھڑا ہونا سنت ہے، نمبر .٢ وتر میں قنوت نازلہ پڑھنا نبی علیہ السلام سے ثابت ہے نہ کہ دعاۓ قنوت۔ پہلی بات کی دلیل دیتے ہوئے موصوف نے مستدرک حاکم کی روایت پیش کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں لا توتروا بثلاث تشبهوا بصلاة المغرب ولكن اوتروا بخمس او بسبع او بتسع او باحدى عشرة ركعة او اكثر من ذلك مذکورہ حدیث سے موصوف نے یہ استدلال کیا ہے کہ وتر کی نماز میں دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنے سے اس حدیث میں منع کیا گیا ہے کیونکہ مغرب کی نماز میں تشہد میں بیٹھا جاتا ہے اور مغرب کی طرح وتر پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو اس حدیث سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ مکمل حدیث پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تعدادِ رکعات کے اندر مغرب کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے تشہد کے اندر بیٹھنے سے منع نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اگے حدیث میں ہے کہ پانچ رکعت وتر پڑھو یا سات رکعت یا نو رکعت یا گیارہ رکعت یا اس سے زیادہ( یعنی چونکہ مغرب سے پہلے نفل نماز نہیں ہے اس جہت سے وتر کو مغرب کے مشابہ نہ کرو یعنی تین رکعت پر اکتفا نہ کرو بلکہ دو یا چار رکعت اس سے پہلے نفل بھی پڑھ لیا کرو) اور اس مطلب کی تائید مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے وہ فرماتی ہیں کہ تنہا تین رکعت وتر نہ پڑھو بلکہ اس سے پہلے دو رکعت یا چار رکعت نفل بھی پڑھ لیا کرو، اور موصوف کا دوسرا دعویٰ کہ وتر کے اندر قنوتِ نازلہ پڑھنا ہی سنت ہے نہ کہ دعائے قنوت یہ بھی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حدیث کے اندر وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بھی ثبوت‌ ملتا ہے…

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لا توتروا بثلاث تشبهوا بصلاة المغرب و لكن أوتروا بخمس أو بسبع أو بتسع أو بإحدى عشرة ركعة أو أكثر من ذلك (مستدرك للحكام: ج/١ ص/٤٣٧ رقم: ١١٣٨) عن عائشة قالت: لا توتر بثلاث بتر،صل قبلها ركعتين او اربعا (مصنف ابن ابی شیبہ: ج/٤ ص/ ٤٩٢ رقم: ٦٨٩٨)

عن أبي عبد الرحمن، قال: علمنا ابن مسعود أن نقرأ في القنوت: اللّٰهم إنا نستعينك ونستغفرك، ونؤمن بك ونثني عليك الخير، ولانكفرك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي، ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، ونرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق (مصنف ابن ابی شیبہ:ج/٤ ص/٥١٨ رقم: ٦٩٦٥) والله اعلم بالصواب

اگر فرض نماز مسجد میں ادا نہ کر کے گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھی جائے کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں

الجواب وبالله التوفيق: گھر میں عشاء کی باجماعت نماز اگر چہ جائز ہے مگر رمضان جیسے مبارک مہینے میں مسجد کی جماعت کو ترک کردینا بہت بڑی محرومی کی بات ہے؛ اس لیے عشاء کی فرض نماز مسجد ہی میں باجماعت ادا کرنی چاہیے، اس کے بعد گھر پر جہاں تراویح کی نماز ہوتی ہے سنتیں وغیرہ پڑھ کر تراویح کی نماز میں شریک ہونا چاہیے۔

عن زيد بن ثابت (إلى قوله) فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة. (صحيح البخاري/كتاب الاعتصام/باب ما يكره من كثرة السوال، ١٠٨٣/٢، رقم الحديث: ٢٩٩٧، ط: النسخة الهندية)

وإن صلى أحد في بيته بالجماعة لم ينالوا فضل الجماعة التي تكون كما في المسجد لزيادة فضيلة المسجد، وتكثير جماعته، وإظهار شعائر الإسلام، وهكذا في المكتوبات، أي الفرائض، لو صلى جماعة في البيت على هيئة الجماعة في المسجد نالوا فضيلة الجماعة.....لكن لم ينالوا فضيلة الجماعة الكائنة في المسجد. (غنية المتملي في شرح منية المصلي جديد/كتاب الصلاة/فصل: في النوافل/مسائل التراويح، ١٢٢/٢، ط: الأشرفية ديوبند) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

اگر کوئی شخص کہیں پر قبلے کی طرف رخ نہ کر کے کسی اور طرف رخ کر کے قران کی تلاوت کرتا ہے اور اس دوران سجدے تلاوت ا جاتی ہے تو سجدہ کس طرف رخ کر کے ادا کرے قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری ہے یا کسی بھی طرف رخ کر کے سجدہ ادا کر لے جواب عنایت فرمائیں

: الجواب بعون الوھاب

سجدہ تلاوت درست ہونے کے لئے ان تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جو نماز کے درست ہونے کے لۓ ضروری ہیں سواۓ تحریمہ کو چھوڑ کر اس لۓ کہ سجدہ تلاوت کے اندر تحریمہ شرط نہیں ہے لھذا صورت مسؤلہ میں سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا شرط ہے اگر کسی اور طرف رخ کرکے سجدہ ادا کیا تو ادا نہیں ہوگا

وشرائط ھذہ السجدہ شرائط الصلاۃ الا التحریمہ ( فتاوی ھندیہ ۱/ ۱۳۵. کتاب الصلاۃ. مسائل سجدہ الشک ط. دار الفکر بیروت )

واما شرائط الجواز فکل ما ھو شرط جواز الصلاۃ من طھارۃ الحدث وھی الوضوء والغسل وطھارۃ النجس وھی طھارۃ البدن والثوب ومکان السجود والقیام والقعود فھو شرط جواز السجدۃ لانھا جزء من اجزاء الصلاۃ فکانت معتبرۃ بسجدات الصلاۃ ( بدائع الصنائع. ۱/ ۱۸۶ ط. دار الکتب العلمیہ )

کچھ غیر مسلم ہیں جن سے تعلقات ہیں جان پہچان ہے وہ غیر مسلم از خود ہمارے گھر پے پاپڑ گُجیہ مٹھائ وغیرہ دے جاتے ہیں کیا ایسی مٹھائ وغیرہ کھانا ہمارے درست ہے ؟

الجواب وباللہ التوفق: اگر اس بات کا یقین ہو کہ غیر مسلموں نے مٹھائی وغیرہ اپنے معبودان باطلہ کے نام نہیں چڑھائی ہوگی اور اس میں کسی طرح کی حرام اجزاء کی آمیزش نہیں ہوگی تو غیر مسلموں کی تہوار پر ملنے والی مٹھائی کھانا جائز ہے لیکن جہاں تک ہو سکے اجتناب کیا جائے۔

البحر المحيط في التفسير"میں ہے: "‌وطعام ‌الذين أوتوا الكتاب ‌حل ‌لكم طعامهم هنا هي الذبائح كذا قال معظم أهل التفسير. قالوا: لأن ما كان من نوع البر والخبز والفاكهة وما لا يحتاج فيه إلى ذكاة لا يختلف في حلها باختلاف حال أحد، لأنها لا تحرم بوجه سواء كان المباشرة لها كتابيا، أو مجوسيا، أم غير ذلك. وأنها لا يبقى لتخصيصها بأهل الكتاب فائدة."(ص:١٨٢،ج:٤،سورۃ المائدة،الآية:٥،ط:دار الفكر،بيروت)