سوال:-دھوپ سے گرم ہونے والی پانی سے وضو اور غسل کرنا شرعا کیسا ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو اس کا بھی وضاحت کرے؟

الجواب:-جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو اور غسل کرنا منع ہے-اس لیے منع ہے کہ اس میں برص یعنی سفید داگ کا مرض ہونے کا اندیشہ ہے پھر اگر اس پانی کے علاوہ کوئی اور پانی نہ ہو تو اس پانی کو ٹھنڈا کر کے کر سکتا ہے-

عن عمر قال لا يغتسل بالماء المشمس فإنه يورث البرص (بيهقي شريف: ١٠/١)

وبماء قصد تشميسه بلا كراهية وكراهية عند الشافعي طبية... واستعماله يخشى منه البرص كما صح عن عمر رضي الله عنه....(در المختار مع الشامي: ٣٢٤/١-٣٢٥،باب المياه زكريا ديوبند)

يكره الطهارة بالماء المشمس لقوله صلى الله عليه وسلم لعائشة رضي الله عنها حين سخنت الماء بالشمس( لا تفعلي يا حميراء لا تفعلي فانه يورث البرص)(مشكوة شريف:٥٢/١) هكذا الشامي:٣٢٤/١-٣٢٥ باب المياه، زكريا ديوبند)

سوال:-اب زمزم سے وضو اور غسل کرنا شرعا کیسا ہے؟

الجواب:-اب زمزم سے وضو اور غسل تبرکا کرنا شرعا جائز اور درست ہے اور خلاف ادب بھی نہیں۔ ہے لیکن اب زمزم سے استنجاء کرنا خلاف ادب اور مکروہ ہے

شرب من ماء زمزم (تحته في الشامي): ما سحابه وجهه وراسه وجسده صابا منه على جسده ان امكن (شامي: ٥٤٦/٣،كتاب الحج، زكريا ديوبند)

يجز الوضوء والغسل بماء زمزم عندنا من غير كراهة بل ثوابه أكثر.... ان كان على طهارة للتبرك، فلا ينبغي ان يغتسل به جنب ولا محدث ولا في مكان نجس ولا يستنجي به ولا يزال به نجاسة حقيقة وعن بعض العماء تحرير ذلك(حاشية الطحطاوي:٢٢،كتاب الطهارة،دار الكتاب ديوبند)

لا يكره الوضوء والاغتسال بماء زمزم (البناية:٣٦٦/١،كتاب الطهارة،باب الماء الذي يجوز به الوضوء مكتبه الشرفية ديوبند)

سوال:-وضو اور غسل کے لیے تیمم کا طریقہ ایک ہی ہے یا الگ الگ ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-وضو اور غسل کے لیے تیمم کا طریقہ ایک ہی ہے البتہ وضو کے لیے تیمم وضو کا نیت کریں اور غسل کے لیے تیمم غسل کا نیت کریں-

عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: التيمم ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين...(السنن الكبرى:٣١٩/١،رقم الحديث: ٩٩٨،كتاب الطهارة باب كيف التيمم)

والتيمم ضربتان يمسح باحدهما وجهه وبالاخرى يديه الى المرفقين لقوله عليه السلام: التيمم ضربتان ضربة للوجه وضربة لليدين (هدايه: ٤٨/١-٤٩،كتاب الطهاره باب التيمم،رحمانية ديوبند)

فقال: التيمم ضربتان ضربة للوجه وضربة لليدين الى المرفقين ،فقلت له: كيف هو فضرب بيديه على الأرض فاقبل بهما وادبر...... ثم مسح بذلك ظاهر الذراعين وباطنهما إلى المرفقين(بدائع الصنائع :١٦٧/١،كتاب الطهارة كيفية التيمم،اشرفية ديوبند)

سوال:-اگر کسی آدمی پر غسل واجب ہو لیکن غسل کے لیے پانی کا استعمال پر قادر نہ ہو اب وہ کیا کریں بیان کریں؟

الجواب:-اگر آدمی وقع غسل واجب پر پانی استعمال پر قادر نہ ہو تو وہ تیمم کریں گے پھر عبادت کرے لیکن پانی پر قادر ہونے پر فورا غسل کر لے-

ومنها: عدم القدره على الماء يجوز التيمم....(الهنديه: ٨٠/١،الباب الرابع في التيمم، كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

واما العدم من حيث المعنى لا من حيث فهو ان يعجز عن استعمال الماء....(بدائع الصنائع:١٧٠/١،كتاب الطهارة،اشرفيه ديوبند)

من عجز عن استعمال الماء الى قوله او عدم انه طاهرة يستخرج به الماء.(درو المختار: ٣٥١/١-٣٥٥، زكريا:٣٩٥/١-٤٠٠)

سوال:-اگر کسی عورت پر غسل واجب ہو تو پاک ہونے کے لیے چوٹی کا کھولنا ضروری ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر کوئی تفصیل ہو تو مفصل بیان کریں؟

الجواب:-دیکھا جائے گا اگر عورت کی چوٹی پہلے سے بندھی ہوئی ہو یا کھولا ہوا ہو اگر پہلے سے بندھی ہوئی ہو تو اس کو کھولنا ضروری نہیں بلکہ جڑ تک پانی پہنچانا کافی ہے لیکن اگر بال پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں تو اب تمام بالوں کو دھونا لازم ہوگا-

(وكفى،بل أصل صفيرتها) اي سعر المرأة المضفور للحرج،اما المنقوض فيغرض غسل كله اتفاقا ،ولو لم يبتل اصلها يجب نقضها مطلقا هو الصحيح.....(شامي: ٢٨٦/١-٢٨٧،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

ولو كان شعر المرأة منقوضا،يجب ايصال الماء إلى اثنائة.... والى اثنا شعره وان كان صغيرا، كذا في"محيط السرخسي"ولو الزقت المرأة راسها بطيب بحيث لا يصل الماء الى اصول الشعر.....(الهندية:٦٥/١،الباب الثاني في الغسل،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

وليس على المرأة ان تنقض صفائرها في الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر لقوله عليه السلام لام سلمة يكفيك اذ بلغ اصول شعرك(اشرف الهداية:١٢٥/١ كتاب الطهارة، دار الاشاعت كراچی)

سوال:-اگر کسی آدمی پر غسل واجب ہو لیکن غسل کے لیے پانی کا استعمال پر قادر نہ ہو اب وہ کیا کریں بیان کریں؟

الجواب:-اگر آدمی وقع غسل واجب پر پانی استعمال پر قادر نہ ہو تو وہ تیمم کریں گے پھر عبادت کرے لیکن پانی پر قادر ہونے پر فورا غسل کر لے-

ومنها: عدم القدره على الماء يجوز التيمم....(الهنديه: ٨٠/١،الباب الرابع في التيمم، كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

واما العدم من حيث المعنى لا من حيث فهو ان يعجز عن استعمال الماء....(بدائع الصنائع:١٧٠/١،كتاب الطهارة،اشرفيه ديوبند)

من عجز عن استعمال الماء الى قوله او عدم انه طاهرة يستخرج به الماء.(درو المختار: ٣٥١/١-٣٥٥، زكريا:٣٩٥/١-٤٠٠)

سوال:-وضو اور غسل کے اندر کتنی مقدار پانی کا استعمال کرنا مسنون ہے؟

الجواب:-غسل میں تقریبا چار کلو یعنی صاع اور وضو میں ایک یا سوا کلو پانی یعنی مد کافی ہے البتہ کمی بیش ہو جائے تو گنجائش ہے لیکن اسراف نہ ہو-

اما بيان مقدار الماء الذي يا يغتسل به فقد "ذكر في ظاهر الرواية"وقال ادنى ما يكفي في الغسل من الماء صاع وفي الوضوء مد ،لما روى عن جابر رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتوضا بالمد ويغتسل بالصاع،فقيل له ان لم يكفنا،فغضب وقال: لقد كفى من هو خير منكم واكثر شعرا (بدائع الصنائع:١٤٤/١،كتاب الطهارة،احكام الغسل/ سننه،اشرفية ديوبند)

(وكفى،بل أصل صفيرتها) اي سعر المرأة المضفور للحرج،اما المنقوض فيغرض غسل كله اتفاقا ،ولو لم يبتل اصلها يجب نقضها مطلقا هو الصحيح.....(شامي: ٢٨٦/١-٢٨٧،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

ولو كان شعر المرأة منقوضا،يجب ايصال الماء إلى اثنائة.... والى اثنا شعره وان كان صغيرا، كذا في"محيط السرخسي"ولو الزقت المرأة راسها بطيب بحيث لا يصل الماء الى اصول الشعر.....(الهندية:٦٥/١،الباب الثاني في الغسل،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

٢٤.سوال:-امام اگر قعدہ اخیرہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت کے لئے کھارے ہو جائے تو مقتدیوں کو کیا کرنا چاہیے نیز مسبوق بھی اگر امام کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو مسبوق کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟

الجواب و باللہ التوفیق :-مذکورہ صورت میں  امام اگر پانچویں رکعت کے لئے کھڑا۔ ہو جائے تو مقتدی امام کے ساتھ کھڑا نہی ہونگے بلکہ مقتدی بیٹھے بیٹھے امام کو لقمہ دینگے پھر بھی اگر امام صاحب نہ لوٹے تو مقتدی امام کا انتظار کرینگے اگر امام پانچویں رکعت کے سجدے سے پہلے لوٹ اے تو مقتدی سلام پھیرنے میں امام کا انتظار کریگا اور اگر امام پاچنویں رکعت کا سجدہ مکمل کر لیا تو مقتدی تنہا سلام پھیرے گا اور اس صورت میں مسبوق کو امام کے اقتدہ نہی کرنا چاہیے بلکہ مسبوق اپنے نماز پورے کرنے میں لگ جائے اگر مسبوق امام کی اقتدا  کی تو نماز فصید ہو جائے گی اس لئے کہ اسنے ایسی حالت میں امام کی اقتدا کی جب اسے تنہا نماز پڑھنی چاہیے تھی البتہ اگر امام قعدہ اخیر نہی کیا بلکہ سیدھے پاچنویں رکعت کے لیتے کھڑا ہو گیا تو امام کو لقمہ دیا جاےگا اگر لقمہ دینے کے باوجود نہ لوٹے تو سبھی لوگ امام کے ساتھ کھڑے ہو جاینگے  اب اگر پانچوے  رکعت کے سجدے سے پہلے امام قعدہ کی طرف لوٹ آئے تو سبھی لوگ امام کے ساتھ قعدہ کرینگے اور امام سلام پھیرنے کے بعد مسبوق اپنے نماز پورا کریگا اور اگر امام پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو سبھی کا فرض باطل ہو جائے گا اور یہ نماز سبھی کے حق میں نفل بن جاےگا –//شامی ج:٢،ص:٥٥٣  ،٣٥٠ زکریا 

(١) إن قعد في الرابعة ثم قام عاد وسلّم ولو سلّم قائما صحّ ثم الأصح إن القوم ينتظرونه فإن عاد يتبعوه وإن سجد للخامسه سلموا لإنه تم فرضه....(الدر المختار مع الشامي) 2/553.ط زكريا

(٢) ولو قام إمامه للخامسة فتابعه إن بعد القعود تفسد وإلا لا أيْ وإن لم يقعد وتابعه المسبوق لا تفسد صلاته لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض ولعدم تمام الصلاة فإن قيّدها بسجده انقلبت صلاته نفلا فإن ضم إليها سادسة ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون به نافلة كالإمام....(الدر المختار مع الشامي) 2/350.ط زكريا

٢٣.سوال:-اگر کوئی شخص سو رہا ہو تو نماز کے وقت اسے بیدار کرنا ضروری ہے یا نہی ؟نیز سونے والا شخص اگر بیدار ہوکر طلوع شمس کے وقت فجر پڑھنے لگے یا غروب کے وقت نماز پڑھنے لگے تو اسے نماز پڑھنے سے منع کیا جاےگا یا نہیں؟

الجواب و باللہ توفیق :-اگر وقت سے پہلے سو رہا ہو تو اسے بیدار کرنا ضروری نہی اس لئے کہ خود سونے والے پر بیدار ہونا لازم نہی اور اگر سوتے ہوئے وقت نکال جائے تو گناہ گار نہی ہوگا البتہ اگر وقت داخل ہونے کے بعد سو رہا ہو تو بیدار  کرنا لازم ہے تا کہ قضاء کرنے کے گناہ سے بچ سکے البتہ بہتر یہی ہے کہ دونوں سورتوں میں بیدار کر دیا جائے تا کہ سونے والوں کو پورا ثواب مل سکے ،طلوع شمس کے وقت یا غروب  کے وقت اگر عام آدمی کبھی کبھار نماز پڑھے تو اس کو منع نہی کیا جاےگا اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ پھر نماز ہی نہ پڑھے جس کی وجہ سے وہ ترک صلات کا مرتکب بن کر گناہ گار ہوگا جبکہ اس وقت نماز پڑھنے سے ائمہ ثلاث کے نزدیک اسکی نماز ہو جاےگی اور احناف کے بھی بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ ان اوقات میں فرائض پڑھنا تو ممنوع ہے لیکن اگر کوئی پڑھ لے تو ادا ہو جاےگی اس لئے بالکل ترک کرنے کے مقابلے ادا کر لینا بہتر ہے –//شامی ج:٢،ص:١٣ زکریا –//الہندیہ ج:١،ص:١٠٨ زکریا –//محیط البرھانی ج:١،ص:٢٧٦ 

(۱) لا يجب انتباه النائم في أول الوقت ويجب إذا ضاق. قلت لكن فيه نظر لتصريحهم بأنه لا يجب الأداء على النائم اتفاقا فكيف يجب عليه الانتباه...... وسنذكر في الأيمان أنه لو حلف أنه ما أخر صلاة عن وقتها وقد نام فقضاها قيل لا يحنث واستظهر الباقاني لكن في البزازية: الصحيح أنه إن كان نام قبل دخول وانتبه بعده لا يحنث وإن كان نام بعد دخوله حنث فهذا يقتضي أنه بنومه قبل الوقت لا يكون مؤخرا وعليه فلا ياْثم وإذا لم ياثم لا يجب انتباهه. إذ لو وجب لكان مؤخرا لها وآثما. بخلاف ما إذا نام بعد دخول الوقت ويمكن حمل ما في البيري عليه......(الدر المختار مع الشامي) 2/13.ط زكريا

(۲) ثلاث ساعاة لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازه ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاب إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن تغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه أداؤه عند غروب....(الهندية الجديدة)1/108.ط زكريا (۳) المحيط البرهاني.1/276 .ط زكريا

حالتِ اعتکاف میں زیر ناف بال کاٹ سکتے ہیں یا نہیں؟؟ اگر کوئی کاٹ لے تو اس سے اعتکاف تو نہیں ٹوٹے گا؟؟

اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے تمام غیر ضروری بالوں کی صفائی کرلینی چاہیے، اور اگر کسی کے چالیس دن اعتکاف کے دوران مکمل ہورہے ہوں تو ایسے شخص کے لیے اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ہی صفائی کرلینا ضروری ہے، تاہم اگر کسی نے صفائی نہ کی ہو اور دورانِ اعتکاف چالیس دن مکمل ہوجائیں تو اس کے لیے صفائی کے لیے بیت الخلا میں قضائے حاجت کے دوران بال کی صفائی کی اجازت ہوگی، تاہم صفائی کے نام پر بلا ضرورت زائد وقت حمام میں گزارنے کی اجازت نہ ہوگی۔ البتہ وہ افراد جن کے چالیس دن مکمل نہ ہوئے ہوں ان کے لیے زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے لیے جانے کی شرعاً اجازت نہ ہوگی، اگر کوئی چلا گیا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - عَنْ الْمُعْتَكِفِ إذَا احْتَاجَ إلَى الْفَصْدِ أَوْ الْحِجَامَةِ هَلْ يَخْرُجُ فَقَالَ: لَا". (الْبَابُ الْخَامِسُ فِي آدَابِ الْمَسْجِدِ وَالْقِبْلَةِ وَالْمُصْحَفِ وَمَا كُتِبَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ نَحْوُ الدَّرَاهِمِ وَالْقِرْطَاسِ أَوْ كُتِبَ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى، ٥ / ٣٢٠- ٣٢١)

مراقي الفلاحمیں ہے: "ولايخرج منه" أي من معتكفه فيشمل المرأة المعتكفة بمسجد بيتها "إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام لأنه عليه السلام كان لايخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان "أو" حاجة "ضرورية كانهدام المسجد". (حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، باب الاعتكاف، ١/ ٧٠٢)

فتاوی ہندیہ میں ہے: "(وَأَمَّا مُفْسِدَاتُهُ) فَمِنْهَا الْخُرُوجُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَا يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا إلَّا بِعُذْرٍ، وَإِنْ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ سَاعَةً فَسَدَ اعْتِكَافُهُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَذَا فِي الْمُحِيطِ". ( کتاب الصوم، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ، ١/ ٢١٢) فقط واللہ اعلم