سوال:- خفین کی کتنی قسمیں ہیں کس پر مسح درست ہے اور کس پر درست نہیں ہر ایک کی وضاحت کریں؟

الجواب:- خفین کی اولا دو قسمیں ہیں(١) ثخین ( دبیز موٹا)(٢). رقیق (پتلا, باریک) پھر ہر ایک کی تین قسمیں ہیں-مجلد، منعل ،سادہ، مجلد: وہ موزہ ہے جس کے اوپر نیچے پورے پیر پر چمڑا چڑھا دیا گیا ہو، منعل: وہ موزہ ہے جس کی صرف تلی پر یا تلی اور اوپر کے کناروں پر چمڑا چڑھا دیا گیا ہو، سادہ: اف موزہ ہے جس پر بالکل چمڑا نہ چڑھایا گیا ہو، ثخین مجلد،مجلد رقیق،ثخین منعل،ثخین سادہ،ان پر مسح درست ہے-رقیق سادہ ،رقیق منعل پر مسح درست نہیں ہے-

ويمسح على الجورب والمجلد: وهو الذي وضع الجلد على اعلاه واسفله.... والمنعل: وهو الذي وضع الجلد على أسفله كالنعل للقدم.... والثخين الذي ليس مجلد أولاً منعلا(الهنديه: ٨٥/١،الباب الخامس :في المسح على الخفين، زكريا ديوبند )

المنعلين: ما جعل على اسفله جلدة والمجلدين وفي الشامي المجلد: ما جعل الجلد على اعلاه واسفله(در المختار مع الشامي: ٤٥٢/١،كتاب الطهارة باب المسح على الخفين، زكريا ديوبند)

والخف الذي يجوز عليه المسح ما يكون صالحا لقطع المسافة والمشي المتابع عادة ويستر الكعبين ما تحتهما(فتاوى قاضيخان:٣٢/٧،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)

سوال:-مسح علی الخفین کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-اسلامی فرقوں میں سے صرف شیعہ اور خوارج مسح علی الخفین کو ناجائز کہتے ہیں اور اہل سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے اس لیے کہ مسح کے جواز کی روایات شہرت تواتر کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہے جن کا انکار موجب کفر ہے-

ثبتت مشروعية المسح على الخفين بالسنة النبوية المطهرة(الموسوعة الفقهية:٢٦١/٣٧،مسح على الخفين كويت)

عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري الاباه اخبره أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين(بخاري شريف:٢٠٤)

ويروى عن شهر بن حوشب قال: رايت جبير بن عبد الله توضا ومسح على خفيه فقلت له في ذلك ،فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على خفيه فقلت له: أقبل المائدة ام بعد المائدة؟ فقال,: اسلمت الا بعد المائدة(تلمذي شريف:٩٤ )

سوال:-کس حوض یا تالاب کا پانی ماء جاری کی حکم میں ہے اور کس کا پانی ماء جاری کا حکم میں نہیں مدلل مفصل بیان کریں؟

الجواب:-بڑے حوض یا تالاب کا پانی ماء جاری کا حکم میں ہے جس میں دہ در دہ سے زیادہ پانی ہو یا اس کے برابر ہو اور جس حوض یا تالاب میں دہ در دہ سے کم پانی ہو وہ ماء جاری کا حکم میں نہیں ہے اسی طرح وہ حوض اور تالاب جس میں ایک جانب سے پانی آرہا ہو اور دوسرے جانب سے نکل رہے ہو وہ بھی ماء جاری کی حکم میں ہے-

والقدير العظيم لا تيحرك احد طرفية فتحريك الطوف الآخر..... كالماء الجاري(اشرف الهداية:١٤٢/١،كتاب الطهارة، دار الاشاعت کراچی)

او بما دائم فيه نجس ان لم يكن عشرا في عشر والا فهو كالجاري.... اي وان يكن عشرا في عشر فهو كالجاري (البحر الرائق:١٣٦/١-١٥٠،كتاب الطهارة،المكتبة التهانوية ديوبند)

وكذا يجوز بركد كثير كذلك اي: وقع في نجس لم يرى أثره.... الماء النجس إذا دخل الحوض الكبير لا ينجس الحوض... وقد ذكر عبارة ان النصاب في مسالة الماء الجاري....(شامي: ٣٧٥/١،كتاب الطهارة، اشرفية ديوبند)

سوال:-اگر کسی ٹنکی میں چھوٹا بچہ گر جائے یا چلا جائے تو پانی کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اگر بچہ کے بدن پر پہلے سے کوئی نجاست نہ ہو وہ بچہ ٹنکی کے اندر داخل ہو گیا یا چلا گیا تو ٹنکی ناپاک نہ ہوگا (یعنی اگر حوض چھوٹا ہو تو ماء مستعمال ہو سکتا ہے) اگر بچہ اس کے اندر کوئی نجاست نکال دے یعنی پیشاب پاخانہ کر دے تو ناپاک ہو جائے گا-

فالادمي الطاهر إذا دخل في البئر لطلب الدلو او للتبرد وليس على أعضائه نجاسة وخرج منها حبا وهذا جواب ظاهر الرواية(الفتاوى التاتارخانية :٣١٣/١،كتاب الطهارة، فصل الرابع في المياه التي يجوز الوضوء بها ،مكتبة زكريا ديوبند)

وان كان في البئر فالواقع فيه لا يخلو من ان يكون حيوانا او غيره من النجاسات.... وان لم يكن نجس العين، فان كان ادميا ليس على بدنه نجاسة حقيقية ولا حكمية ..... ظاهر الرواية (بدائع الصنائع :٢٢٢/١،كتاب الصلاة احكام الابار،اشرفية ديوبند)

سوال:-کیا حوض اور ٹنکی کا پانی ماء جاری کی حکم میں ہیں یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہے تو مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-جس حوض اور ٹنکی میں مثلا گلہری گری ہے اس ٹنکی کے دونوں جانب کے نل کھول دیے جائیں یعنی ایک جس سے پانی اتا ہے اور دوسرا جس سے پانی باہر نکلتا ہے تو وہ نہر جاری کے حکم میں نہیں ہوگی اس لیے نہیں ہوگی کہ ٹنکی میں جو پانی اتا ہے وہ تسلسل کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ ٹنکی میں کچھ دیر ٹھہر کر نکلتا ہے کیونکہ جاری ہونے کے لیے تسلسل ضروری ہے- اگر پانی آکر نہ روکے تسلسل چلتے رہے تو جاری کی حکم میں ہے ورنہ نہیں-

رايت في شرح سيدي عبد الغني في مسالة خزانة الحمام التي اخبر ابو يوسف برواية فأرة فيها قال: فيه اسارة إلى ان ماء الخزانة إذا كان يدخل من اعلاها ويخرج من انبوب في اسفلها فليس بجار....(شامي:٣٣٨/١،كتاب الطهارة ،باب المياه،زكريا ديوبند)

(قوله: والا فهو كالجاري) أي وان يكن عشرا في عشر فهو كالجاري فلا يتنجس إلا إذا تغير احد اوصافه(البحر الرائق: ١٥٠/١،كتاب الطهارة)

اذا كان الحوض صغيرا يدخل فيه الماء من جانب ويخرج من جانب يجوز الوضوء فيه (الهندية:٦٩/١،كتاب الطهارة زكريا ديوبند)

سوال:- اگر کسی حوض میں ناپاکی گر جائے اور معلوم نہ ہو تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اگر حوض میں ناپاکی گر جانے کا علم کسی کو نہیں ہوا جس دن معلوم ہو ناپاکی کا اس دن سے اس کو ناپاک قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد جن لوگوں نے وضو کیا ہے ان کو اس وقت سے عبادت لوٹانی ہوگی (یعنی پہلے کی تمام عبادت صحیح پانی سے کی جائیں گی)(مستفاد عزیز الفتاوی :١٦٨/١)

قالا: من وقت العلم فلا يلزمهم شيء قبله، قيل: وبه يفتى وتحته في الشامية فلا يلزمهم اي اصحاب البئر شيء من اعادة الصلوة اوغسل ما اصابه مائها كما صرح به الزيلعي... وقوله: بأن قولهما قياس وقوله استحسان ما هو الاحوط في العبادات (شامي:٣٧٨/١،كتاب طهارة، باب المياه زكريا ديوبند,)

اما إذا لم يعلم وقت وقوعها القياس ان لا يجب عليه اعادة شيء من الصلوات ما لم يتقن أنه توضا منها وهو فيها سواء وحدها منتفخة متفسخة اولا..... وقال ان وجدها منتفخة متفسخة يعيد صلاة يوم وليلة(الفتاوى التاتارخانية:٣٢٥/١، الفصل الرابع: في المياه التي يجوز الوضوء بها، مكتبة زكريا ديوبند )

وان وجدوا في البئر فاره او غيرها ولا يدري متى وقعت ولم ينتفخ اعادوا صلوة يوم وليلة الخ.....(اشرف الهداية:١٦٩/١،كتاب الطهارة، دار الاساعت کراچی)

سوال:-اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اکثر ٹنکی چھوٹا ہوتا ہے اگر پرندہ اس میں گر جائے تو دیکھا جائے گا کہ وہ پرندہ مرا ہے یا نہیں اگر مر گیا اور پھول کر پھٹ گیا تو سارا پانی نکلنا ہوگا اور تین دن تین رات کی نماز وغیرہ کا لوٹانا ضروری ہوگا پھر اگر گر کر فورا چلا گیا تو ناپاک نہیں منا جائے گا-

إذا وقعت نجاسة.... في بئر دون القدر الكثير على مامر او مات فيها حيوان دموي غير مائي لما مر وانتفخ او تمعط او تفسخ ولو تفسخة خارجها ثم وقع فيها.... ينزح كل مائها الذي كان فيها وقت الوقوع بعد اخراجه(شامي: ٣٦٦/١-٣٦٨،كتاب طهارة ،باب المياه،زكريا ديوبند)

وان كانت قد انتفخت او تفسخت اعادوا صلاة ثلاثة ايام ولياليها عند ابي حنيفة(هداية:٤٣/١،كتاب الطهارة فصل في البئر، اشرفية ديوبند)

وفي حاشية شرح الوقاية عن المجتبى: كان ركن الائمة الصباعي يفتى بقول أبي حنيفة فيما يتعلق بالصلاة وبقولهما في ما سواه يعني في غسل الثوب و البدن والاواني وغير ذلك مما وصل إليه ذلك الماء(حاشية شرح الوقاية:٨٥/١،كتاب الطهارة فصل في البئر)