سوال:-دنیا کے اندر پنجگانہ نمازوں میں سے کس نے کون سی نماز پہلے ادا کی؟

الجواب:-فجر کی نماز حضرت ادم علیہ السلام نے صبح ہونے کے شکر پہلی بار ادا کی کیونکہ آپ علیہ السلام نے جنت میں کبھی رات نہیں دیکھی تھی،ظہر کی نماز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان محفوظ رہنے کی خوشی میں پہلی بار ادا کی،عصر کی نماز حضرت عزیر علیہ السلام نے سو سال بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ادا فرمائی،مغرب کی نماز حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی توبہ کے قبول ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ادا فرمائی آپ نے چار کی نیت کی تھی لیکن توبہ قبول ہونے پر تین رکعت پر سلام پھیر دیا عشاء کی نماز پہلی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی اس لیے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پسندیدہ نماز ہے-

حدثني القاسم بن جعفر.... يقول: إن ادم عليه السلام لما تيب عليه عند الفجر صلى ركعتين فصارت الصبح، وفدي اسحاق عند الظهر فصلى ابراهيم عليه السلام اربعا فصارت الظهر وبعث عزير فقيل له: كم لبثت؟ فقال يوما فراى الشمس فقال او بعض يوم فصلى اربع ركعات فصارت العصر وقد قيل غفر لعزير عليه السلام ،وغفر لداود عليه السلام عند المغرب فقام فصلى اربع ركعات فجهد وجلس في الثالثة فصارت المغرب ثلاثا و أول من صلى العشاء الاخرة نبينا صلى الله عليه......(شرح معاني الاثار: ١٧٥/١،رقم الحديث: ١٠٤٦)

عن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ارايتم لو أن نهرا بباب احدكم بغسل فيه كل يوم خمسا، ما تقول: ذلك يبقي من درنه قالوا: لا يبقي من درنه شيئا قال: فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله به الخطايا.....(صحيح البخاري: ،رقم الحديث: ٥٠٢٨)

سوال:-نماز کی فرضیت کب اور کہاں پر ہوئی ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-نماز کا حکم ابتداء اسلام میں آگیا تھا تاہم پانچ وقتہ نماز کی فرضیت معراج کے موقع پر ہوئی لیکن واقعہ معراج کی تاریخ کی تعیین میں مؤرخین کا اختلاف ہے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ربیع الاول کے مہینے میں پیش آیا اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ایک واقعہ ربیع الثانی کے مہینے میں پیش آیا معتمد قول یہ ہے کہ ہجرت سے ایک سال پہلے رجب کے مہینے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور دن کے متعلق مشہور ہے کہ 27 تاریخ کو رونما ہوا لیکن محققین کے نزدیک یہ تعیلین درست نہیں ہے خلاصہ یہ ہوا کہ راجح قول کے مطابق پانچ نمازوں کی فرضیت 12 نبوی کو ہوئی ہے-

قوله: فرضيت الاسراء الخ نقله أيضا الشيخ اسماعيل في الاحكام..... انهم اختلفوا في اي سنة كان الاسراء بعد اتفاقهم على انه كان بعد البعثة.... ثم اختلفوا في اي الشهور كان فجزم.... وقيل في ربيع الآخر.... وقيل في شوال وجزم الحافظ عبد الغني القديى في سيرته بانه ليلة السابع والعشرين من رجب....(شامي: ٤/٢،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)

وكان فرض الصلوات الخمس ليلة المعراج وهي ليلة السبت لسبع عشرة ليلة خلت من رمضان.... قيل الاسراء صلاتين....(البحر الرائق: ٤٢٤/١،كتاب الصلاة، المكتبة التهانوية ديوبند)

أصل وجوب الصلاة كان في مكة في أول الاسلام لوجود الايات المكية التي نزلت في بداية الرسالة تحت عليها واما الصلوات الخمس باصلوات المعهودة فانها فردت ليلة الاسراء والمعراج......(الموسوعة الفقهية :٥٢/٢٧-٥٣، ط: بيروت)

سوال:-صلاۃ کے لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟

الجواب:-صلاۃ کے لغوی معنی ہے دعا اور شرعی- افعال مخصوصہ اور ارکان معلومہ کو کہتے ہیں-

وهي لغة الدعاء..... ورود الشرع بالاركان المخصوصة فنقلت شرعا الى الافعال المعلومة..... مجاز لغوي في الاركان المخصوصة (در المختار مع الشامي:٣/٢-٤،كتاب الصلاة ،زكريا ديوبند)

هي لغه الدعاء وشرعا الافعال المخصوصة من القيام والقراءة.....(البحر الرائق: ٤٢٣/١،كتاب الصلاة ،المكتبة التهانوية ديوبند)

وهي لغة الدعاء وشرعا الافعال المعلومة....(مجمع الانهر:١٠٢/٢،كتاب الصلاة ،فقه الامة ديوبند)

کیا لاوارث مجہول النسب بچہ کو پالنے کے بعد اس کی ولدیت میں پرورش کرنے والے کا نام لکھ سکتے ہیں

الجواب وباللّٰه التوفیق: ایسے بچے کو پالنے یا گود لینے کے بعد اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھنا جائز نہیں ہے،البتہ بطور سرپرست اپنا نام لکھا جا سکتا ہے…

ادعوهم لابائهم هو اقسط عند اللّٰه (سورۃ الأحزاب:آیت:٥)

عن عراك بن مالك ، انه سمع ابا هريرة ، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن ابيه فهو كفر (صحیح مسلم:کتاب الایمان، باب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ: رقم:٢١٨) و

دوا کھانے سے پہلے کسی خاص دعاء کا پڑھنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے یا پھر بسم اللہ پڑھ کر دوا کھائیں گے ؟ توجہ فرمائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق دوا کھانے کی کوئی خاص سنت نہیں ہے لیکن ہر کام کی ابتداء میں بسملہ پڑھنا ثابت ہے لہٰذا دوا کھانے سے پہلے بھی بسملہ پڑھنا چاہیے البتہ ایک دعا بطور علاج پڑھنا ثابت ہے اور وہ دعا یہ ہے اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أذْهِبِ البَاسَ، اشْفِهِ وأَنْتَ الشَّافِي، لا شِفَاءَ إلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا ” یا اس دعا کی جگہ “يا شافي،ياكافي” بھی کہہ سکتے ہیں۔ فتح القريب المجيب على الترغيب والترهيب میں ہے:

ولو وقعت تين نهر فأصاب ثوبه، ان ظهر اثرها تنجس والا لالف طاهر في نجس مبتل بماء....(رد المختار: ٥٦٠/١،كتاب الطهارة،باب الانجاس ،زكريا ديوبند)

کیا مقتدی امام سے پہلے التحیات کے بعد سلام پھیر سکتا ہے کسی عذر کی بنا پر

الجواب وباللہ التوفیق اگر مقتدی نے بلا کسی عذر کے امام سے پہلے سلام پھیر دیا تو یہ مکروہ تحریمی ہے البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے امام سے پہلے سلام پھیرا تو پھر مکروہ نہیں ہے تاہم نماز دونوں صورتوں میں درست ہو جائیگی اعادہ واجب نہیں ہے

ولو اتم قبل امامہ فتکلم جاز وکرہ قولہ:لو اتمہ ) ای لو اتم المؤتم التشہد بان اسرع فیہ وفرغ منہ قبل اتمام امامہ فاتی بما یخرجہ من الصلاۃ کسلام او کلام او قیام جاز ای صحت صلاتہ لحصولہ بعد تمام الارکان ۔۔۔۔۔۔۔ وانما کرہ للمؤتم ذلک لترکہ متابعۃ الامام بلا عذر فلو بہ کخوف حدث او خروج وقت جمعۃ او مرور مار بین یدیہ فلا کراھۃ شامی 1 / 525 ف

نماز کی حالت میں موبائل جیب سے نکال کر گھنٹی بند کرنے کا کیا حکم ہے

الجواب وباللہ التوفیق نماز سے پہلے ہی موبائل کی گھنٹی اہتمام سے بند کردینی چاہیے؛ تاکہ نماز میں خلل نہ ہو، لیکن اگر گھنٹی بند کرنا بھول گیا اور نماز میں گھنٹی بجنے لگی تو ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر گھنٹی کو بند کردے، موبائل نکالنا اور اسے دیکھنا درست نہیں ہے، نماز کے دوران ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر مختصر وقت میں اسکرین دیکھنے اور گھنٹی بند کردینے سےنماز فاسد تو نہیں ہوتی، البتہ نماز میں کراہت آجاتی ہے۔ لیکن اگر دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑا، یا ایک ہاتھ سے ایسے انداز میں پکڑ کر اسکرین کو دیکھا کہ دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی؛ کیوں کہ یہ عملِ کثیر ہے، اور نماز کے دوران عملِ کثیر کا ارتکاب کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔عملِ کثیر کی تعریف میں فقہاءِ کرام کے متعدد اقوال ہیں، مفتیٰ بہ اور راجح قول یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرنا کہ دور سے دیکھنے والے کو یقین ہوجائے کہ یہ کام کرنے والا نماز نہیں پڑھ رہا، جس کام کی ایسی کیفیت نہ ہو وہ عملِ قلیل ہے اور عملِ قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ اور عموماً موبائل کی گھنٹی عملِ قلیل سے بند کی جاسکتی ہے، لہٰذا اپنی اور دوسروں کی نماز کو خلل سے بچانے کے لیے موبائل کی گھنٹی بند کردینی چاہیے۔

يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها، وفيه أقوال خمسة أصحها (ما لايشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) وإن شك أنه فيها أم لا فقليل، (الفتاوى الشاميه،/باب ما يفسد الصلاة،/٣٨٥/٢، ط: بيروت ) مستفاد: فتاوى بنوري ٹاؤن

کیا قضا نماز کی ادائیگی کی جماعت کے ساتھ کوی شکل ہے

باسمه سبحانه وتعالیٰ الجواب وباللّٰه التوفیق: نماز قضا کرنا کبیرہ گناہ ہے اگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے چند لوگوں کی ایک ہی وقت کی نماز قضا ہو جائے تو وہ لوگ قضاء نماز باجماعت ادا کرسکتے ہیں،البتہ لوگوں کے سامنے قضا نماز کی جماعت کرنے سے بچنا چاہیے…

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قفل من غزوة خيبر سار ليلة حتى إذا ادركه الكرى عرس وقال لبلال: اكلا لنا الليل. فصلى بلال ما قدر له ونام رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فلما تقارب الفجر استند بلال إلى راحلته موجه الفجر فغلبت بلالا عيناه وهو مستند إلى راحلته فلم يستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا بلال ولا احد من اصحابه حتى ضربتهم الشمس فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اولهم استيقاظا ففزع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «اي بلال» فقال بلال اخذ بنفسي الذي اخذ بنفسك قال: «اقتادوا» فاقتادوا رواحلهم شيئا ثم توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر بلالا فاقام الصلاة فصلى بهم الصبح فلما قضى الصلاة قال: من نسي الصلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله قال:واقم الصلاة لذكري (مشکوۃ المصابیح:کتاب الصلوۃ:ج/١ ص/٦٦)

وينبغي الا يطلع غيره على قضائه لان التاخير معصية فلا يظهرها (شامی زکریا: كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت:ج/٢ ص/٥٣٩) واللّٰه اعلم بالصواب

?جہاز میں اگر نماز قیام کے ساتھ ادا کی جاے تو کیا اس کا اعادہ کرنا ہوگا مقام پر

باسمه سبحانه وتعالیٰ الجواب وباللّٰه التوفیق: اگر جہاز میں قیام،رکوع و سجود کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کی ہے تو اس نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوگا….

ﻣﻦ ﺃﺭاﺩ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻲ ﺳﻔﻴﻨﺔ ﺗﻄﻮﻋﺎ ﺃﻭ ﻓﺮﻳﻀﺔﻓﻌﻠﻴﻪ ﺃﻥ ﻳﺴﺘﻘﺒﻞ اﻟﻘﺒﻠﺔ ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﺣﻴﺜﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﻭﺟﻬﻪ. ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺨﻼﺻﺔ (ھندیہ قدیم: كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة:ج/١ص/٦٣-٦٤)

ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﻘﻴﺎﻡ ﻭﻫﻮ ﻓﺮﺽ ﻓﻲ ﺻﻼﺓ اﻟﻔﺮﺽ ﻭاﻟﻮﺗﺮ. ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺠﻮﻫﺮﺓ اﻟﻨﻴﺮﺓ ﻭاﻟﺴﺮاﺝ اﻟﻮﻫﺎﺝ (ھندیہ قدیم: كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة:ج/١ص/٦٩)

(ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﺮﻛﻮﻉ) ﻭﻗﺪﺭ اﻟﻮاﺟﺐ ﻣﻦ اﻟﺮﻛﻮﻉ ﻣﺎ ﻳﺘﻨﺎﻭﻟﻪ اﻻﺳﻢ ﺑﻌﺪ ﺃﻥ ﻳﺒﻠﻎ ﺣﺪﻩ ﻭﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺑﺤﻴﺚ ﺇﺫا ﻣﺪ ﻳﺪﻳﻪ ﻧﺎﻝ ﺭﻛﺒﺘﻴﻪ. ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺴﺮاﺝ اﻟﻮﻫﺎﺝ....(ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﺴﺠﻮﺩ) اﻟﺴﺠﻮﺩ اﻟﺜﺎﻧﻲ ﻓﺮﺽ ﻛﺎﻷﻭﻝ ﺑﺈﺟﻤﺎﻉ اﻷﻣﺔ. ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺰاﻫﺪﻱ (ھندیہ قدیم: كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة:ج/١ص/٧٠) واللّٰه اعلم بالصواب

عورت کے یہاں بکری نے دو بچے دیے اس نے کہا میں ایک سے عقیقہ کروں گی اور ایک سے قربانی کروں گی کچھ سال بعد وہ کافی قرضدار بھی ہوگئی تو کیا اسے عقیقہ اور قربانی دونوں کرنا ہوں گے ؟؟

الجواب وبالله التوفيق: صورتِ مسؤلہ میں عورت کا یہ کہنا کہ ” میں ایک سے عقیقہ کروں گی اور ایک سے قربانی کروں گی” اس کی وجہ سے قربانی اور عقیقہ واجب نہیں ہوں گے؛ اس لیے کہ یہ محض ارادہ اور وعدہ ہے، نذر یا یمین کے الفاظ نہیں ہیں۔

فركن النذر: هو الصيغة الدالة عليه، وهو قوله: لله علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة ونحو ذلك. (بدائع الصنائع/كتاب النذر، ٣٣٣/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فاليمين في الشريعة عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف على الفعل أو الترك كذا في الكفاية. (الفتاوى الهندية/كتاب الأيمان/الباب الأول: في تفسيرها شرعاً وركنها وشرطها وحكمها، ٥٧/٢، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.