سوال:-اذان کے بعد درود و سلام ثابت ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:- درود و سلام پڑھنا ایک مستقل عبادت ہے اور اس کے بہت سے فضائل قرآن و حدیث میں وارد ہے اور دوسری طرف اذان بھی ایک مستقل عبادت ہے جو نماز کی خبر دینے کے لیے مشروع کی گئی ہے اور اس کے الفاظ حدیث پاک سے ثابت ہے اس میں کسی قسم کا اضافی اور کمی کرنا جائز نہیں ہے-لہذا اذان سے پہلے اور بعد میں بآواز بلند مائک میں درود و سلام اور اذان کے بعد کی دعا پڑھنا شریعت میں ثابت نہیں ہے یہ گویا اذان میں اضافہ ہے لہذا یہ بدعت ہے اس کو ترک کرنا لازم ہے البتہ اذان کے بعد اہستہ آواز سے انفرادی طور پر درود شریف اور دعا پڑھنا اس طرح کہ اسے اذان کا حصہ نہ سمجھا جائے سنت سے ثابت ہے اس قدر عمل کیا جائے تو یہ مستحسن عمل ہے-

ويدعو عند فراغه بالو سيلة لرسول الله صلى الله عليه وسلم.... ويدعو الخ اي يعد ان يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم لما رواه مسلم وغيره إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فانه من صلى صلاة صلى الله عليه بها عشرا.....(در المختار مع الشامي: ٦٧/٢-٦٨،كتاب الصلاة، باب الاذان، زكريا ديوبند)

انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فانه من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا.....(صحيح مسلم: رقم الحديث: ٨٤٩)

عن عمرو بن العاص انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فانه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سأل الله لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تبتغي الا لعبد من عبد الله وارجو ان اكون انا هو فمن سأل لى وسيلة حاست عليه الشفاعة.....(مشكوة المصابيح: كتاب الصلاة ،باب فصل الاذان وإجابة المؤذن،دار الكتاب ديوبند)

بینک میں ہمارا سود کا روپیہ ہے، تو کیا بدلے میں اپنی جیب سے روپیہ نکال کر خرچ کر سکتے ہیں؟

الجواب و بالله التوفيق صورت مسئولہ میں بینک سے سود کا پیسہ نکالے بغیر اپنی جیب سے سود کی اتنی رقم نکالنا جائز نہیں ۔ کتاب النوازل/۱۱ /۲۹۶… محمودیہ /24/453 … قاسمیہ/20 /690

إذْ لَوْ اخْتَلَطَ بِحَيْثُ لَا يَتَمَيَّزُ يَمْلِكُهُ مِلْكًا خَبِيثًا، لَكِنْ لَا يَحِلُّ لَهُ التَّصَرُّفُ فِيهِ مَا لَمْ يُؤَدِّ بَدَلَهُ (حاشية ابن عابدين/٥/٩٩/باب البيع الفاسد )

وَإِنْ كَانَ مَالًا مُخْتَلِطًا مُجْتَمِعًا مِنْ الْحَرَامِ وَلَا يَعْلَمُ أَرْبَابَهُ وَلَا شَيْئًا مِنْهُ بِعَيْنِهِ حَلَّ لَهُ حُكْمًا، وَالْأَحْسَنُ دِيَانَةً التَّنَزُّهُ عَنْهُ . حاشية ابن عابدين/٥/٩٩/ باب البيع الفاسد)

کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے

الجواب:-\وضو خانہ قبلہ کی طرف بنا سکتے ہیں اور یہی مستحب بھی ہے رہی بات کلّی کی تو وضو کرتے وقت کُلی نیچی کی طرف منھ کرکے کی جاتی ہے اسلئے اسمیں بے ادبی نہیں ہے

ومن آدابہ استقبال القبلہ والجلوس فی مکان مرتفع شامی ذکریا ۱۔۔۔ ۲۵۰ ۔۔ الطحطاوی ۔ دار الکتب العلمیہ ص 75

اگر کسی شخص نے عید الفطر کو صدقۃ الفطر ادا نہیں کیا تو کیا ذمہ سے وجوب ساقط ہو جائے گا یا ادا کرنا لازم ہوگا ؟

باسمه سبحانه وتعالیٰ الجواب وباللّٰه التوفیق: عید کے دن عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے عید کے دن ادا نہ کیا تو صدقۃ الفطر کی ادائگی اس کے ذمے واجب رہے گی اور جب بھی ادا کرے گا ادا ہو جائے گا….

قوله:وهو الصحيح هو ما عليه المتون بقولهم: وصح لو قدم أو أخر قوله: مطلق أي عن الوقت فتجب في مطلق الوقت وإنما يتعين بتعيينه فعلاً أو آخر العمر، ففي أي وقت أدى كان مؤدياً لا قاضياً كما في سائر الواجبات الموسعة غير أن المستحب قبل الخروج إلى المصلى؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: أغنوهم عن المسألة في هذا اليوم (شامی زکریا:کتاب الزکاۃ، باب صدقة الفطر:ج٣ ص/٣١٠-٣١١)

سوال:-اذان اور اقامت کا جواب دینا واجب ہے یا سنت یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت باوضاحت جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اذان کے جواب کے سلسلے میں اختلاف ہے چنانچہ بعض احناف فرماتے ہیں کہ اذان کا جواب دینا واجب ہے اور بعض احنا فرماتے ہیں کہ مستحب ہے لیکن شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ نے جو فرمایا ہے اس سے دونوں قولوں کے درمیان تطبیق ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہیں کہ اجابت قولی مستحب ہے اور اجابت فعلی واجب ہے اور اجابت قولی جو الفاظ مؤذن کہے وہی الفاظ دہرائے جائے اور جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تو اس کے بدلے لا حول ولا قوة إلا بالله کہے اسی طرح فجر کی اذان میں الصلاۃ خیر من النوم کی جگہ میں صدقة وبردت کہے اور جس طریقے سے اذان کا جواب دیا جاتا ہے اسی طریقے سے اقامت کا جواب ہے اور اقامت کا جواب دینا بالاتفاق مستحب ہے اور قد قامت الصلاة کے وقت اقامها الله وادامها کہے-

ويجيب وجوبا وقال الحلواني ندبا والواجب الإجابة بالقدم من سمع الاذان ولو جنبا لا حائضا ونفساء.... وفي الصلاة خير من النوم صدقت وبردت ويندب القيام عند سماع الاذان.... ويجيب الاقامة ندبا اجماعا كالاذان ويقول عند قد قامت الصلاة اقامها الله وادامها....(رد المختار: ٦٥/٢-٧١،كتاب الصلاة، باب الاذان، زكريا ديوبند)

يجب على السامعين عند الاذان الاجابة وهي ان يقول مثل ما قال المؤذن إلا في قوله حي على الصلاة حي على الفلاح فانه يقول مكان حي على الصلاة "لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم" ... وكذا في قول المؤذن الصلاة خير من نوم.... صدقت وبردت كذا في.... واجابة الاقامة مستحبه.... واذا بلغ قوله قد قامت الصلاة يقول السامع اقامها الله وادامها الله....(الهندية:١٤/١،كتاب الصلاة ،زكريا ديوبند)

ومن سمع الاذان فعليه يجيب.... قال الشيخ الإمام شمس الائمة الحلواني رحمه الله: تكلم الناس في الاجابة قال بعضهم هي الاجابة بالقدم لا باللسان....(الفتاوى التاتارخانية:١٥٢/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال:-نماز جمعہ کے اندر اذان ثانی کے وقت مؤذن کو کہاں کھڑا ہونا چاہیے آیا خطیب کے سامنے یا کچھ دائیں، پہلے صف میں یا آخر صف میں یا لاعلی التعیین کہیں پر کھڑا ہو سکتا ہے اگر کہے پر کھڑا ہو سکتا ہے تو افضل اور بہتر کیا ہے مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کریں؟

الجواب:-جمعہ کی اذان ثانی کے متعلق یہ حکم ہیں کہ وہ خطیب کے سامنے دیا جائے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دی جاتی فقہاء کرام نے اس کے صراحت کی ہے اور سلف سے بھی یہی توارث چلا رہا ہے اور یہی افضل اور بہتر طریقہ ہے لیکن اگر کوئی دوسری یا تیسری صف میں یا دروزہ کے پاس کھڑے ہو کر امام کے سامنے اذان دے دے تو بھی کافی ہے البتہ پہلے صورت افضل اور بہتر ہے-

واذا جلس على المنبر اذان بين يديه واقيم بعد تمام الخطبة بذلك جري التوارث كذا في "البحر الرائق"(الهندية:٢١٠/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند )

ويؤذن ثانيا بين يديه اي الخطيب... اي على سبيل السنية كما يظهر من كلامهم.... اذا جلس على المنبر فاذا اقم اقيمت....(رد المختار مع الشامي: ٣٨/٣-٣٩،كتاب الصلاة ،باب الجمعة، زكريا ديوبند)

واذا صعد الامام المنبر جلس واذان المؤذنون بين يدي المنبر وبذلك جري التوارث....(فتح القدير: ٦٧/٢،كتاب الصلاة، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

سوال:-تکبیر اقامت کے لیے کوئی جگہ متعین ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت بالتفصیل بیان کریں؟

الجواب:-جماعت کی نماز میں جو صفوں کی ترتیب ہے اس میں صرف امام کی جگہ متعین ہے کسی اور کی جگہ متعین نہیں ہے البتہ احادیث میں اتنی بات منقول ہے کہ امام کے قریب سمجھدار اور دیندار لوگ کھڑے رہیں اور مؤذن کا کہیں سے بھی قریب سے ہو یا دور سے دائیں سے ہو یا بائیں سے اقامت کہنا درست ہے البتہ مؤذن کا امام کے پیچھے رہنا ہي افضل ہے کیونکہ کچھ احثا ہو جائے تو اس کو حل کر سکے کیونکه اکثر امام سمجھدار اور دیندار ہوتا ہے-

واذا انتهي المؤذن في الإمامة إلى قوله قد قامت الصلاة له الخيار ان شاء اتمها في مكانه وان شاء مثى إلى مكان الصلاة اماما كان المؤذن او لم يكن....(المحيط البرهاني: ١٠٣/٢،كتاب الصلاة، ادارة القرآن باكستان)

ويؤذن ويقيم على طهر لأنه ذكر فيستحب فيه الطهارة كالقرآن كما في الاختيار والمراة من الطهارة من الحدث سواء كان الأصغر او الأكبر لا اكبر فقط كما توهم البعض....(مجمع الأنهار:١١٧/١ كتاب الصلاة ،فقيه الامة ديوبند ڜ

وان اذن رجل وامام رجل آخر ان غاب الأول جاز من غير كراهة وان كان حاضرا وتلحقه الوحشة باقامة غيره يكره وان رضي به لا يكره عندنا....(الفتاوى التاتارخانية:١٤٦/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال:- مؤذن کی اجازت کے بغیر کسی کو اذان اور اقامت کہنا شرعا کیسا ہے؟

الجواب:-اگر مؤذن مقرر ہے تو اس کو موجود رہتے ہوئے کسی کو اس کی اجازت کے بغیر اذان و اقامت دینا مکروہ ہے لیکن اگر وہ موجود نہیں ہے تو پھر اذان و اقامت دوسری کو بلا کراہت جائز ہے-

غير من اذن بغيبته اي المؤذن لا يكره مطلقا وان يحضوره كره ان لحقة وحشة كما كره مشيه في اقامته....(رد المختار:٦٤/٢،کتاب الصلاۃ باب الاذان زكريا ديوبند)

وإن اذن رجل و اقام آخر ان غاب الاول جاز من غير كراهة وان كان حاضر ويلحقه الوحشة باقامة غيره يكره وان رضي به لا يكره عندنا كذا في "المحيط"(الهنديه: ١١٠/١،كتاب الصلاة باب الثاني زكريا ديوبند)

وإن اذن رجل واقام رجل آخر إن غاب الاول جاز من غير كراهة وان كان حاضرا وتلحقه الوحشة باقامة غيره يكره وان رضي به لا يكره عندنا....(الفتاوى التاتارخانية:١٤٦/٢،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)

سوال:- مقتدی کو جماعت کے لیے کسی وقت کھڑا ہونا چاہیے اقامت کے ابتداء میں یا کسی خاص کلمہ پر ضروری نہیں تو پھر حدیث کے اندر کسی خاص کلمہ کا ذکر ہے یا نہیں اگر ہو تو اس کا مطلب کیا ہے مفصل بیان کریں؟

الجواب:-اگر امام سامنے یعنی محراب کی طرف سے مصلہ پر ائے تو مقتدیوں کو امام کو دیکھتے ہی کھڑے ہو جانا چاہیے اور اگر پیچھے کی طرف سے آرہا ہو تو جس صف کے پاس سے امام گزرے وہ صف والوں کو کھڑا ہو جانا چاہیے لیکن اگر امام پہلے سے ہی اپنی جگہ پر موجود ہو تو اقامت کے شروع ہوتے ہی امام اور مقتدیوں کو کھڑے ہو جانا چاہیے تاکہ نماز شروع ہونے سے پہلے صفیں سیدھی ہو جائے کسی خاص کلمہ پر کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے اگرچہ بعض روایات میں حی علی الصلاۃ کے وقت کھڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی بیٹھے نہ رہے یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے پہلے کھڑا نہ ہو لہذا اس سے پہلے کھڑے ہونے میں کچھ حرج نہیں ہے-

دخل المسجد والمؤذن يقيم قعد الى قيام الامام في مصلاة..... يكره له ان يؤذن في مسجدين ولاية الاذان والاقامة لباني المسجد مطلقا.... الافضل كون الامام هو المؤذن.... ويكره له الانتظار قائما.... حي على الفلاح انتهي....(در المختار مع الشامي:٧١/٢،كتاب الصلاة باب الاذان، زكريا ديوبند)

فأما إذا كان الامام خارج المسجد فإن دخل المسجد من قبل الصفوف فكلما جاوز صفا قام ذلك الصف واليه مال شمس الائمة الحواني.... وإن كان الامام دخل المسجد من قدامهم يقومون إذا راوا الإمام....(الهندية:١١٤/١،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)

قوله: والقيام الامام ومؤتم.... مسارعة لا متثال أمره والطاهر انه احتراز عن التأخير لا التقديم حتى لو قام او7ل الاقامة لا باس....(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ١٦/٢،كتاب الصلاة ،بيروت)

سوال:-طوفان،زلزلہ، بلا مصیبت کی وقت اذان دینا شرعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو کیوں یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-مذکورہ وقت کے لیے اذان دینا شرعا ثابت نہیں ہے لیکن اگر یہ گرد ہشت دور کرنے کی غرض سے اذان دی جائے تو گنجائش ہے جائز ہے-

عن سهيل قال ارسلني ابي الى بني حارثة قال ومعي غلام لنا او صاحب لنا فناداه مناد من حائط بأسمه قال فاشرف الذي معي على الحائط فلم يرى شيئا فذكرت لابي فقال لو شعرت انك تلقي لهذا لم ارسلك ولكن اذ سمعت صوتا فناد بالصلاة فإنى سمعت ابا هريرة رضي الله عنه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال ان الشيطان إذا نودي بالصلاة ولي وله حصاص...(صحيح مسلم: ١٦٧/١ رقم: ٣٨٩، الصلاة فضل الاذان وهدب الشيطان عند سماعه)

الاذان في كونه سنة للفرائض فقط.... وليس لغير الصلوات الخمس والجمعة نحو السنن.... وكذا للمنذورة وصلاة.... ولافزاع....(الهندية:١١٠/١،كتاب الصلاة ،باب الثاني في الاذان، زكريا ديوبند)

قد يسن الاذان لغير الصلاة قالوا: يسن للمهموم ان يامر غيره ان يؤذن في اذنه فإنه يزيل انهم كذا عن على رضي الله عنه ونقل الاحاديث الوارده في ذلك فراجعه....(شامي:٥٠/٢،كتاب الصلاة ،باب الاذان ،زكريا ديوبند)