سوال:-مردے کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟

الجواب:-مردے کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے اور اس کی دو طریقہ ہے پہلا طریقہ میت کے نام پر ایک حصہ یا ایک چھوٹے جانور کی قربانی کی جائے اور دوسرا قربانی کرنے والے اپنی واجب قربانی کے علاوہ ایک اور حصہ قربانی کرے اور اس کا ثواب میت کو پہنچا دے دونوں طریقہ ہی صحیح ہے۔

اجازه نحير بن يحيى ومحمد بن سلمي ومحمد بن مقابل فيما يضحي عن الميت انه يضع به مثل ما يضع باضحيه نفسه من التصدق والاكل والاجر الميت والملك للذبح--//الهنديه,ج:٦,ص:٢٩٥, كتاب الاضحيه،زكريا،ديوبند

يسال عمن تضاحي عن الميت قال يصنع به كما يصنع باضحية يريد بك انه يتناول من لحمه كما يتناول من لحم الاضحية فقيل له اتسير عن الميت: قال الاجر للميت والملك للمزاحي--//تاتارخانه:ج:١٧,ص:٤٤٤, كتاب الاضحية، زكريا،ديوبند

تبرع بالاضحية ميت جاز له الاكل منها والحديث والصدقه لان الاجر للميت والملك للمضحي وهو المختار بخلاف ما لو كان بامر الميت حيث لا ياكل في المختار-//قاضي خان على الهنديه,ج٣,ص:٣٥٢, كتاب الاضحيه ,زكريا, ديوبند

سوال:-اگر بڑے جانور کے اندر واجب قربانی اور نفلی قربانی دینے والے دونوں طرح کے لوگ شریک ہو جائے تو شرعا درست ہو گی یا نہیں؟

جواب:-واجب او ر نفل قربانی دینے والے دونوں کے شرعا درست ہے وجھ یہ ہےکہ  سب کا  مقصد ایک ہے اور وہ قربت حاصل کرنے کی نیت سے کی ہے۔واللہ اعلم

وانما بعض الشركاء التطوع وبعضهم يريد الاضحية للعام الذي صار دنيا عليه وبعضهم الاضحية واجبة عامه ذلك جاز الكل--//هنديه،ج٥,ص:٣٥٢, كتاب الاضحية زكريا, دوبند

ولو ارادوا قربه الاضحية او غيرها من القربة اجزاهم سواء كانت القربة واجبة او تطوعا او اجيب على البعض دون البعض سواء اتفقت جهه القربة او اختلفت--//بضائع الصناءع،ج:٦,ص:٣٠٥-٣٠٦, كتاب الاضحية دار الكتاب العلمية بيروت

سوال:- اگر چند ادمی چھوٹے جانور میں یا بڑے جانور کے ایک حصے میں شریک ہو جائے تو یہ قربانی درست ہوگی یا نہیں اگر درست ہو تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟

الجواب :- درست نہیں ہوگی کیونکہ چھوٹے جانور میں ایک ہی ادمی شریک ہو سکتا ہے نہ ہی بڑے جانور کے ایک حصے میں شریک ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ادمی ایک ہی حصہ میں شریک ہو سکتا ہے اگر ایک ادمی شریک ہو جائے تو ساتواں حصے سے کم ہو جائے گا جو کہ جائز نہیں ہے،ہاں اگر نفلی طور پر ثواب پہنچانے کے نیت سے اگر کوئی لوگ ایک جانور میں یا جانور کے کسی حصے میں شریک ہو جائے مشترکہ طور پر دو شرعا کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس حصے سے واجب کی ادائیگی مقصد نہیں بلکہ طلب ثواب ہے۔-فقط و الله اعلم

ويذبح عن كل واحد منهم شاة ويذبح بقرة او يذبح عن سبعة--// الهدايه،ج:٤,ص:٤٤٤, كتاب الاضحيه،امداديه،ديوبند

ولو لاحدهم اقل من سبع لم يجوز عن واحد (در المختار مع شامي،ج:٩,ص٥٢٥, كتاب الاضحيه،الشرفيه، ديوبند

ولا يجوز بعير واحد ولا بقره واحد انا اكثر من سبعة يجوز ذلك عن سبعة او اقل من ذلك--//بدائع ،ج:٥,ص:٣١٠

سوال:-قربانی کے جانور میں دیگر افراد کو شریک کرنے کے لیے کس چیز کا خیال رکھنا چاہیے؟

الجواب:-قربانی کے جانور میں دیگر افراد کو شریک کرنے کے لیے چند چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے اس کا پیسہ حلال ہے یا نہیں وہ اپنے مرضی سے قربانی کر رہا ہے یا کوئی اور اس کو قربانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے یا لوگوں کو دکھانے کے لیے قربانی کر رہا ہے یا گوشت کھانے کی نیت سے قربانی کر رہا ہے اور یہ بھی خیال رکھیں کہ وہ ادمی مسلمان بھی ہو کافر نہ ہو وغیرہ

وان كان شريك الستة نصرانيا او مريد اللحم لم يجز عن واحد منهم الاراقة لا تتجزاء--//شامي،ج:٩,ص:٤٧٢, كتاب الاضحية،زكريا،ديوبند

صح وان كان شريك الستة نصرانيا ومريد اللحم لم تدوس عن واحد منهم وجه الفرق ان البقر عند ستة بشرتي قصدي الاكل القربة--//بحر الراءق ,ج:٨،ص:٢٠٢, كتاب الاضحية زكريا دوبند

اكل الربو او كاسب الحرام ابدي اليه او إضافة و غالب ماله حرام لا يقبل ولا ياكل ما لم يخبره ان ذلك المال اصله حلال ورثه او استقرضه--//الهنديه, ج:٥,ص:٣٤٣, كتاب الكراهيه, زكريا, دوبند

١:–اسمارٹ رنگ پہننا کیسا ہے ۔ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔

الجواب وبالله التوفيق: اسمارٹ رنگ آج کل ایک جدید ڈیوائس ہے جو چھوٹی سی انگوٹھی کی صورت میں پہنی جاتی ہے، اور مختلف کام انجام دیتی ہے، مثلا: صحت کی نگرانی،کال یا میسج کی اطلاع دینا، کسی ایپ یا موبائل کے ساتھ کنیکٹ ہو کر دیگر افعال انجام دینا وغیرہ۔ اور شریعت میں اشیاء کے سلسلہ میں اصل حکم جائز ہونا ہے جب تک کوئی دلیل اس کے منع پر موجود نہ ہو؛ اور اسمارٹ رنگ میں شرعاً کوئی قباحت موجود نہیں ہے؛ لہذا اس کا پہننا جائز ہے۔

الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة. (غمز عيون البصائر شرح كتاب الأشباه والنظائر/القاعدة الثالثة، ٢٢٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال:-اگر عصر کی نماز کے دوران سورج غروب ہو جائے اور فجر کی نماز کے دوران سورج طلوع ہو جائے تو نماز کا شرعا کیا حکم ہے آیا دونوں کا حکم ایک ہے یا الگ الگ اگر الگ الگ ہو تو اس کی وجہ کیا ہے مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:- صورۃ مسئولہ میں دونوں کا حکم الگ الگ ہیں کہ عصر کی نماز کے دوران سورج غروب ہو جائے تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی اور فجر کی نماز کے دوران سورج طلوع ہو جائے تو نماز باطل ہو جائے گی اس کی وجہ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ سبب جیسا ہوگا ویساہی مسبب ہوگا یعنی سبب کامل ہو تو مسبب بھی کامل ہوگا اور سبب ناقص ہو تو مسبب بھی ناقص ہوگا اب عصر کی نماز ناقصا واجب ہوئی لہذا ادا بھی ویساہی ہوگا اور فجر کاملا واجب ہوا لہذا ادا بھی کامل ہوگا اور یہاں ایسا نہیں ہوا اس لیے فجر کی نماز درست نہیں ہوگی-

وكره تحريما صلاة مطلقا ولو قضاء.... مع الشروق واستواء وغروب الا عصر يومه قيد به لأن عصر امسه لا يجوز وقت التغير.... فلا يكره فعله لادائة كما وجب بخلاف الفجر اي فانه لا يؤدي فجر يومه وقت الطلوع لان وقت الفجر كله كامل ووجبت فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد....(الدر المختار مع الشامي: ٣٠/٢-٣٣،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

العصر يومه عند غروب الشمس فإنه يجوز اداؤه لبقاء بسببه وهو الجزء المتصل به الاداء من الوقت فاديت كما وجبت بخلاف غيرها من الصلوات فإنها وجبت كاملة فلا تتادي بالنقص....(اللباب: ٩٧/١،كتاب الصلاة ،اشرفيه ديوبند)

العصر يومه عند الغروب لأن السبب هو الجزء القائم من الوقت لأنه لو تعلق بالكل لوجب الاداء بعده.... واذا كان كذلك فقد اداها كما وجبت بخلاف غيرها من الصلوات لانها وجبت كاملا فلا تتادي بالناقص....(الهدايه: ٨٢/١-٨٣،كتاب الصلاة، زمزم ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص نماز میں اس وقت ائے جب کہ امام رکوع میں وہ شخص تکبیر تحریمہ کہکر اور ہاتھ باندھنے کے اور قیام کے بعد رکوع میں جائیگا یا تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے رکوع میں شریک ہو جائے گا یا اس میں کوئی اور تفصیل ہے ہر حال جملہ صورتوں کی وضاحت کے بعد ان کا حکم بھی تحریر کریں؟

الجواب:-اس حالت میں وہ شخص تکبیر تحریمہ کہکر ہاتھ باندے قیام کے بعد رکوع میں جائے گا اس کے علاوہ وہ شخص جلدی باری میں رکوع یا رکوع کے قریب پہنچ کر تکبیر تحریمہ کہی تو اس کی نماز شروع نہیں ہوئی اس لیے کہ تکبیر تحریمہ بحالت قیام کہنا فرض ہے رکوع کے حالت میں کہی گئی تکبیر تحریمہ کا اعتبار نہیں اس کا حکم از سرنو حالت قیام میں تکبیر کہے اور اگر رکعت چھوٹ جائے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔

ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل اساءة لو عامدا غير مستخف... (رد المختار: ١٧٠/٢،كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة، زكريا ديوبند)

ورفع اليدين عند تكبيرة الافتتاح الصحيح انه سنة فإن ترك رفع اليدين يأثم وقال بعضهم لا يأثم وقدروى عن ابي حنيفة ما يدل على هذا القول فإنه قال ان ترك رفع اليدين جاز وان رفع فهو افضل(الفتاوى التاتارخانية: ٤٨/٢،کتاب الصلاۃ، الفصل ثانی تکبیرة الافتتاح زكريا ديوبند)

ولا يصير شارعا بالتكبير الا في حالة القيام او فيما هو اقرب اليه من الركوع هكذا في الراهدي...(هنديه: ٦٨/١،الباب الرابع في صفة الصلاة ،زكريا ديوبند)

سوال:-اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنے کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اوقات مکروہہ کی دو قسمیں ہیں (1) طلوع شمس استوائے شمس غروب شمس ان اوقات میں نماز پڑھنا مطلقا ممنوع ہے خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل ادا ہو یا قضاء البتہ ان اوقات میں پڑھی گئی نفل نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا ہو جائے گی اور اگر فرض یا واجب نماز پڑھی تو اس کا اعادہ لازم ہے سوائے وقتی نماز عصر کے وہ کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی(2) صبح صادق سے طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک ان اوقات میں نفل نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جبکہ فرائض کی قضا پڑھ سکتے ہیں-

واعلم ان الاوقات المكروهة نوعان: الاول الشروق والاستواء والغروب ،والثاني ما بين الفجر والشمس وما بين صلاة العصر الى الاصفراء فالنوع الأول لا ينعقد فيه شيء من الصلوات التي ذكرناها إذا شرع بها فيه.... وكره تحريما صلاة مطلقا ولو قضاء او واجبة او نفلا.... مع الشروق واستواء وغروب الا عصر يومه والنوع الثاني ينعقد فيه جميع الصلوات التي ذكرناها من غير كراهة الا النفل.... فانه ينعقد مع الكراهة فيجب القطع والقضاء في وقت غير مكروه.....(الدر المختار مع الشامي: ٣٠/٢-٣٤،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

لا تجوز الصلاة عند طلوع الشمس ولا عند قيامها في الظهيرة ولا عند غروبها ولا يصلى على جنازة ولا يسجد للتلاوة الا عصر يومه عند غروب الشمس ويكره ان يتنفل بعد صلاة الفجر حتى تطلع الشمس وبعد صلاة العصر حتى تغرب الشمس ولا باس بان يصلى في هذين الوقتين الفوائت....(اللباب:٩٧/١،كتاب الصلاة، اشرفيه ديوبند)

ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة... إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف الى ان تزول وعند احمرارها الى ان تغيب الا عصر يومه ذلك.... و لتطوع في هذه الاوقات يجوز ويكره.... ويجب قطعه وقضاؤه في وقت غير مكروه....(الفتاوى الهنديه: ١٠٨/١،كتاب الصلاة ،اشرفيه ديوبند)

سوال:-واجبات نماز کی تعداد کتنا ہے اور وہ کیا ہے نیز اس کا حکم بھی تحریر کریں؟

الجواب:-واجبات نماز کی باری میں رد المختار مع شامی کے اندر 14 بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے (1) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورة فاتحہ پڑھنا (2) سورہ ملانا فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں (3) سورہ فاتحہ کو سورہ پر مقدم کرنا (4) قراة اور رکوع کے درمیان ترتیب ہمرکھنا(5) تعدیل ارکان کرنا (6) قعدہ اولی کرنا(7) دونوں قعدے میں تشہد پڑھنا(8) لفظ سلام کے ساتھ سلام پھیرنا(9) نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنا(10) تکبیرات عیدین کہنا زائد(11) جہری نماز میں قراة جہری کرنا(١٢سری نماز میں آہستہ قراة کرنا (13) مقتدی کا امام کے پیچھے خاموش رہنا (14) مقتدی کے لیے امام کے مطابعت کرنا -اس کی علاوہ اور ہے صاحب بدائع کہا اصل واجبات کل چھ ہیں (1) سورہ فاتحہ اور ضم سورت (2) جہری نمازوں میں جہر اور سری نمازوں میں سر (3)تعدیل ارکان(4) قعدہ اولی (5) تشہد (6) ترتیب افعال،اور اس کا حکم یہ ہے کہ ان چیزوں کو اگر بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہے اور اگر جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اعادہ کرنا واجب ہے اور ایسا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے

لها واجبات لا تفسد بتركها و تعاد وجوبا.... وهي على قراءة فاتحة الكتاب فيسجد للسهو.... وضم أقصر سورة.... في الاولين من الفرض.... وفي جميع ركعات النفل.... وكل الوتر في الاولين.... وتقديم الفاتحة على كل السورة.... ورعاية الترتيب بين القراءة والركوع وفيما يتكرر.... في كل ركعة كالسجدة او في كل الصلاة.... وتعديل الاركان.... ولقعد الاول.... وتشهدان.... ولفظ السلام مرتين.... وقراءة قنوة الوتر.... التكبيرات العيدين.... والجهر للامام والاسرار للكل فيما يجهر فيه ويسر.... وكل زيادة تتحلل بين الفرضين وانصات المقتدي ومتابعة الإمام....(رد المختار: ١٤٦/٢-١٦٥،كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة ،زكريا ديوبند)

في واجبات الصلاة يجب تعيين الاوليين من الثلاثية والرباعية....ويجب عليه السجود السهو.... وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة.... ويجب مراعاة الترتيب في كل فعل مكرر في كل ركعة كالسجود.... اجمعوا على ان الاعتدال في قومة الركوع.... وتعديل الاركان هو تسكين الجوارح..... والتشهدان يقول.... ويجهر بالقراءة في الفجر وفي...(بالفتاوي والهنديه:١٢٨/١-١٢٩،كتاب الصلاة، الفصل الثاني، زكريا ديوبند)

سوال:-اذان کے بعد دعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت ہو تو منقول الفاظ ہی ضروری ہے یا نہیں نیز اس کے اندر کچھ الفاظ کی زیادتی درست ہے یا نہیں مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اذان کے بعد دعا پڑھنا صحابی تھے اور منقول الفاظ کے ساتھ اضافہ کرنا درست ہے لیکن شرط یہ ہے کہ منقول الفاظ کے اندر کوئی تغیر اور تبدیل نہ ہو یعنی ان کے بدلے میں زیادتی کرنا درست نہیں ہے البتہ منقول الفاظ رہتے ہوئے کچھ الفاظ زیادتی درست ہے-

ويدعو عند فراغة بالوسيلة لرسول الله صلى الله عليه وسلم..... اللهم رب هذه الدعوة التامة ... حلت له شفاعتي يوم القيامة وزاد البيهقي في آخره انك لا تخلف الميعاد....(رد المختار مع الشامي: ٦٧/٢-٦٨،كتاب الصلاة ،باب الاذان ،زكريا ديوبند)

اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة ات محمد الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته انك لا تخلف الميعاد....(صحيح البخاري: ٨٦/٦،كتاب الصلاة،دمشق)

اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة ات محمد الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته انك لا تخلف الميعاد.....(مرقاه المفاتيح شرح مشكوة المصابيح:٥٦١/٢،كتاب الصلاة،ط: بيروت لبنان)