سوال:-قربانی کی جانور ذبح کرتےوقت تمام شرکاء کے نام لینا ضروری ہے ؟

الجواب:-ضروری نہیں ہے البتہ ذبح کرتے وقت سب کے خیال دل میں رکھے اور نیت سب کی طرف سے کرے اور اگر سب کا نام لیوے تو بہت اچھا ہے مگر ضروری نہیں ہے -و الله اعلم –//بداءع ،ج:٤،ص:٢٠٩ زکریا 

وندب ... أن يذبح يده أن علم ذالك والا يعلمه شهدها بنفسه ,ويأمر غيره الذبح كي لا يجلها ميتة--//شامی ،ج:٩،ص:٥٤٢ اشرفیہ

ذبح مشتراه لها بلا نية الاضحية جازت التفاء النية عند الشراء--//الہندیہ ج:٥،ص:٢٩٤ زکریا

سوال:-شرکاء میں سے اگر ایک غیر مسلم ہو اور وہ بھی تقریب الہی کی نیت سے قربانی میں شریک ہوا ہو تو ایسی صورت میں قربانی درست ہوگی یا نہیں؟

جواب:-اگر شرکاء میں سے ایک غیر مسلم ہو اگرچہ وہ تقریبا الہی کی نیت سے قربانی کرے تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی وجہ یہ ہے کہ غیر مسلم سے تقریب الہی ثابت نہیں ہے اس لیے کہ وہ اہل ہی نہیں ہے اس لیے مسلمان ہونا شرط ہے اس کے بغیر عمل صحیح نہ ہوگا۔

ولو كان احد الشركاء كتابيا او غير كتابي وهو يريد اللحمه او يريد القربة في دينه لم يدوس لهم عندنا لان الكفر لا يتحقق منه الغربة فكانت نيته ملحقه بالحم فكان يريد اللحم--//هنديه،ج:٥,ص:٣٥١, كتاب الاضحية، زكريا ،دوبند

وان كان شريك الستة نصرانيا الى اخ). وكذا اذا كان عبد او مدبرا يريد الاضحية لان نيته باطلة لانه ليس من اهل القربة فكان نصيبه لحما فمنعا للجواز اصلا--//شامي،ج:٩،ص:٤٧٢،كتاب الاضحية، زكريا،دوبند

وان كان شريك الستة ومريد اللحم لم تجوز عند واحد منهم وجه الفراقي ان البقر تجوز عن سبعة بشرط قصد الاكل القربة--//بحر الرايق،ج:٨،ص:٢٠٢, كتاب الاضحيه

سوال:-اگر دو ادمی مل کر ایک بڑا جانور قربانی کرنا چاہے تو شرعا دوست ہے یا نہیں اگر درست ہو تو کیوں؟

جواب:-بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات ادمی شریک ہو سکتے ہیں کم چاہے جتنے بھی ہو دو ادمی ہو یا چار ہو وغیرہ اگر بڑے جانور میں سات ادمی شریک ہونا جائز ہے تو دو ادمی بدرجہ اولی جائز ہوگا۔

ولا شك في جوازي بدنة وبقرة انا اقل من سبعة بان اشتراك اسناني او ثلاثة او اربعة او خمسة او ستة في بدنة او بقرة لانه لما جاز السبع فالزيادة اولى--//بداءع صناءع،ج:٦,ص:٣٠٤, كتاب الاضحيه دار الكتاب العلمية بيروت

والبقر والبعير يدزي عن سبعة اذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى والتقدير بالسبع يمنع الزياده ولا يمنع النقصان--//هنديه٫ج:٥,ص:٣٥١, كتاب الاضحية، زكريا،ديوبند

تدوس عن ستة او خمسة او ثلاثة ذكره محمد رحمه الله في الاصل لانه لما جاز عن السبعة فعمن دونهم اولى--//الهدايه٫ج:٤,ص:٣٥٦, كتاب الاضحية دار الاحياء وكذا في طبيان الحقائق

سوال:-اگر سات شرکا میں سے کسی شریک کا روپیہ سود کا ہو تو ایسی صورت میں قربانی کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-قربانی میں اگر کوئی ایک شریک ایسا ہو جس کا روپیہ سود یا امدانی صرف حرام ہو جو سب کو پتہ ہے تو کسی کا بھی قربانی درست نہیں ہوگی لیکن اگر باقی شرکاء کو اس ایک شریک کی امدانی کا بالکل پتہ نہیں تو اس صورت میں چونکہ وہ لوگ بے قصور ہیں اس لئے باقی کی قربانی درست ہو جائے گی۔

وان كان الشريك ستة نصرانيا او مريد اللحم لم يجز عن واحد منهم لانه الاراقة لا تتجزا--//شامي،ج٩،ص:٤٧٢،كتاب الاضحية، زكريا،ديوبند

كل الربو او كاسب الحرام ابدي اليه او اضافة وغالب ماله حرام لا يقبل ولا ياكل ولم يخبره عن ذلك المال اصله حلال ورثه او استقرضه--//الهنديه،ج:٥,ص،٣٤٣, كتاب الكراهيه ,زكريا, دوبند

عن ابي هريره قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايها الناس ان الله الطيب لا يقبل الا طيبا،وان الله عمر المؤمنين لما امر به المرسلين وقال يا ايها الرسول كلوا من الطيبات واعملوا الصالحا اني بما تعملون عليم--//مسلم ٢/,٧٠٣

سوال:-جس جانور کے سینگ اگنے سے پہلے داغ دی گئی ہو تاکہ سنگ نہ اگے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب:-جس جانور کے سینگ نہ ہو گئے ہو اس کی قربانی مطلقا دوست ہے خواہ اس کے نہ اگنے کی وجہ کچھ اور بھی ہو۔فقط واللہ اعلم

ويضحي بالجماء التي لاقرن لها خلقه وكذلك العظماء التي ذهب بعد قرنها بااكسراء غيرها --//سامي،ج:٩،ص:٤٦٧،كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند

ويضحي بالجماء التي لا قرن لها خلقة لان القرن لا يتعلق به مقصود وكذا مكسور القرن--//البحر الرائق ،ج:٨،ص:٣٣٣،كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند

ويجوز بالجماء التي لا قرن لها وكذا مسكورة القرن--//هنديه،ج:٥، ص:٣٤٣ كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند،/وكذا في مجمع الانهر

سوال:-اگر کسی جانور کے کان یا کسی اور جگہ ادھار کارڈ لگا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب:-اگر کان  پر یا کسی جگہ اب ہر کارڈ لگا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہے کیونکہ اس سے جانور میں کچھ کمی نہیں اتا۔فقط واللہ اعلم

ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل اصلا ويقول كل عيب يزيل منفعه على الكمال او الجمال على الكمال يمنع الضحية ،واما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع--//هنديه،ج:٥، ص:٣٤٥،كتاب الاضحية ،زكريا،دىوبند

والاصل ان العيب الفاحش مانع... واليسير من العيب غير مانع لان الحيوان فلما ينجو من العيب هل يسير فاليسير ما اثر له في لحمها--//المبسوط،ج:١٢، ص:٢٦ كتاب الاضحية

(ومقطوع اكثر الاخ) في المدائع: الله ذهب بعض الاذنين او الاية او الذنب ابو العين.... ان كان قصيرا يمنعه وان كان يسيرا لا يمنع--//شامي،ج:٩ ،ص:٥٣٦ كتاب الاضحية ،زكريا،دوبند

٦.سوال:-رات کے وقت قربانی کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب:-رات میں قربانی کرنا شرعا جائز ہے البتہ کراہت ضرور ہے جبکہ روشنی کا انتظام نہ ہو اور اگر انتظام ہو تو مکروہ نہیں ہے. واللہ اعلم

ويجوز في نهارها وليالها بعد الضلوع الفجر من اليوم النهر الى غروب الشمس من اليوم الثاني عشر والا انه يكره الذبح في الليل--//الهنديه،ج:٥،ص:٢٤٠ باب الثالث كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند

ن النبي صلى الله عليه وسلم ايام منى كلها منحر.... ان الذبيحة يجوز ليلا هو اختار اصحابنا المتاخرين وقول الشافعي واسحاق وابي حنيفة واصحابه لان الليل زمن يصيح فيه راى فاشبعه النهار--//بضائع الصناءع،ج:٦،ص:٢٨٦ كتاب الاضحية دار الكتاب العلمية بيروت

سوال:-اگر پانچ ادمی مل کر روپیے جمع کرے اور پھر اس روپیے سے ایک حصہ خرید کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے قربانی دے تو یہ قربانی درست ہوگی یا نہیں اگر درست ہو تو کیوں اگر نہیں تو کیوں وضاحت کرے؟

الجواب:-سات ادمیوں سے زیادہ کی شرکت بڑے جانور میں جائز نہیں ہے پس ایک حصہ جو پانچ ادمی مل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خرید کر قربانی کرنا چاہے تو یہ صورت جائز نہ ہوگی البتہ ایک حصہ میں چند شر کا اپنی اپنی رقم کا مالک اپنے میں سے کسی ایک ادمی کو ذبح کر کے مالک بنا دے اور وہ اپنے قبضہ میں رقم لے کر ایک حصہ لے کر قربانی کر دے تو یہ صورت جائز ہے اگرچہ قربانی ایک ہی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوگے مگر اپنے اپنے رقم ہبہ کرنے والے ثواب سے محروم نہیں ہونگے ۔

واذ مات احد السبعه المشركين في البدنة وقال الورثة ذبحوا عنه وعنكم صح عن الاكل استحسانا لقصد القربه من الاكل--//شامي،ج:٩,ص:٥٣٩, كتاب الاضحيه،اشرفيه،ديوبند

ولو كانت البدنة بين اثنين نصفين تجوز في الاضح لانه لما جاز ثلاثه الاسباع نصف السبع تبعا له--//الهدايه, ج:٤,ص:١٥٩, كتاب الاضحيه البشرى

لانه لما جاز ثلاثة الاسباع اجازه نصف السبع تبعا له لانه ذلك النصف... وان لم يصو اضحية لكنه صوره قربه تبعا للاضحية--//البنايه شرح الهدايه،ج:١١,ص:٢٠, كتاب الاضحية

سوال:-ایک شخص سعودی رہتا ہے اور اس نے اپنی طرف سے قربانی کرنے کے لیے ہندوستان میں ایک شخص کو وکیل بنایا جبکہ ہندوستان میں قربانی کا تیسرا دن تھا اور سعودی میں قربانی کے ایام ختم ہو چکی ہے؟

جواب:-صحت قربانی کے لیے مقام قربانی ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے اور سورۃ مسئلہ یہ ہے کہ وہ شخص جو سعودی عرب میں رہتا ہے اس کی قربانی یہاں ہندوستان میں تیسرے دن اور ایام نحر موجود ہے اس لیے تیسرے دن قربانی کرنا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

وان كان الرجل في مصري آخر فكتب اليهم ليضحوا عنه ورؤيا نبي يوسف انه يعتبر مكان الاضحية --//الهنديه،ج:٥،ص:٣٤٢،زكريا دوبند

والمعتبر مكان الاضحية لا مكان المضحى--//بزازيه،ج:٣،ص:١٥٦ زكريا،دوبند

وان كان الرجل في مصر واهله مصر آخر فكتب اليهم ليضحوا عنه--//بدائع،ج:٤،ص:٢١٢،زكريا دوبند

اگر کسی جانور کی پشت پر علامت کے طور پر لوہا یا داگ دیا جائے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب:-اگر کسی جانور کی پشت پر علامت کے طور پر نوحہ یاد دیا جائے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے بشرط کہ داغ اتنا زیادہ نہ ہو کہ دیکھنے میں خراب معلوم ہوتا ہو نیز اس کا اثر دماغ تک نہ پہنچا ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔فقط واللہ اعلم

وما صفته: فهو ان يكون سليما من العيوب الفاحشة--//هنديه،ج:٥, ص:٣٤٣ كتاب الاضحية ،زكريا،ديوبند

ثما الاصل ان العيوب الفاحش مانع...... فليسير ما لا اثر له في لحمها--//مبسوط،ج:١٢,ص:٢٦ كتاب الاضحية

ومن المشايخ من يذكر في هذا الفصل مثلا ويقول كل عيب يزيل المنفعة على الكمال او الجمال على الكمال يمنع الاضحية وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع--//المحيط البرهاني،ج:٦, ص٩٣ كتاب الاضحية كذا في الهنديه،ج:٥,ص:٣٤٥ كتاب الاضحية ،زكريا،دوبند