١.سوال:-عمرہ کے ارکان کتنے ہیں اور کیا کیا ہیں؟

جواب:-عمرہ کا رکن اعظم بیت اللہ شریف کا طواف ہے اور اس طواف میں کم از کم چار چکر فرض ہے باقہ واجب ہے بعض فقہا نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو بھی عمرہ کا رکن قرار دیا ہے لیکن اکثر فقہا کے نزدیک یہ سعی فرض نہیں بلکہ واجب ہے اور اسی طرح بعض اصحاب کہتے ہیں کہ احرام بھی عمرہ کی رکن ہے لیکن اصح قول کے مطابق یہ رکن نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

فلاحرام شرط ومعظم الطواف ركن وغيرها واجب.. (غنية الناسك: ٣١٦/١)،كذا في الهنديه: واما ركنها الطواف(٣٢١/١٠ زكريا ديوبند)

فالاحرام الشرط ،معظم الطواف ركن، وغيرهما واجب والمختار،وشر بقوله "هو والمختار"الى ما في التحفت حيث جعل السعي ركنا كالطواف قال في شرح اللباب: وهو غير مشهور في المذهب(شامي: ٣٧٦/٣ كتاب الحج، زكريا ديوبند)

واما الاحرام فقال بعض اصحابنا وهو ركن في العمرة : قال: والاصح وانه ليس بركن بل هو شرط لصحة الاداءها اما ركنها.... والركن فيه أربعة اشراط كما تقدم في الطواف(البحر العميق: ٢٠٢١/٤)

سوال: حج اور عمرہ کے جنایت میں سے کسی جنایت کا ارتکاب کر لیں تو شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:-اگر وہ بالقصد بلا عذر جرم جنایت کر لیں تو کفارہ بھی واجب ہے یعنی دم لازم ہے اور گنہگار ہوگا اور اگر کسی عذر کی بنا پر جنات کرے تو کفارہ کافی ہے جرم میں کفارہ بہرحال لازم ہے یاد سے ہو یا بھول چوک سے ہو لیکن جان بوجھ کر جنایت کا ارتکاب کرے تو محض کفارہ سے کافی نہیں ہوگا بلکہ توبہ بھی کرنا پڑے گا۔فقط واللہ اعلم

جزاوي جنايات اما دم حتما اذا ارتكب محظور كاملا بلا عذر-(غنية الناسك:٢٣٨ ومثله في شرح نقايه: ٢١٠)

بسبب الاحرام او الحرام وقد يجب بها دمان او دم او صام او صدقة ففصلها الواجب دم ولو ناسيا الاخ..(شامي: ٥٧١/٣-٥٧٢،كتاب الاحج، باب الجنايات زكريا ديوبند)

نوع :هوطيب محض معد للطيب به كالمسك والكافور ،والعنبر وغير ذلك،وتضرب به الكفاره على اي وجه استعمل حتى قالوا: لو دواى عنه بطيب تجب عليه الكفارة(الهنديه: ٣٠٤/١ كتاب المناسك باب الثامن: في الجنايات زكريا ديوبند)

سوال:-جنایت حج اور عمرہ میں صدقہ کا کیا مطلب ہے بہ وضاحت بیان کریں؟

جواب:-صدقہ عموما اس سے مراد ایک صدقہ فطر کی مقدار ہوتی ہے یعنی ایک صاع جو، کہجور، کشمش وغیرہ یا نصف صاع گہو یا اس کی قیمت لیکن یہ اصطلاح عام ہیں کیونکہ بعض صورتوں میں صدقہ کی مقدار اسے کم و بیش بھی ہوتی ہے۔فقط واللہ اعلم

ان كان اقل من ذلك فعليه صدقه وفسر الكرخي الصدقة هاهنا،فقال: نصف صاع من بر قال: وكذلك كل صدقة في الدوام غير مقدرة وتفسيرها هذا الا في قتل القمل والجراد(تاتارخانية:٥٧٤/٣،كتاب الحج الفصل الخامس زكريا ديوبند)

وكل صدقة في الاحرام غير مقدرة وهي نصف صاع من بر الا ما يجب بقتل القمل والجراد(شامي: ٥٧٢/٣ كتاب الحج،باب الجنايات زكريا ديوبند)

وحيث ما اطلق الصفقة في الجنايات الاحرام في النصف صاع من بر او صاع من غيره الا في الجزاء اللبس والطيب والحلق(غنية الناسك:٣٧٧،باب الجنايات)

سوال:-امین باجہر اور آمین باسر کا اختلاف جائز ہے یا ناجائز ہے یا کیا؟

الجواب:-یہ اختلاف جواز عدم جواز کا نہیں ہے بلکہ اولی وغیر اولی کا ہے چنانچہ سری نمازوں میں بالاتفاق اہستہ آمین کہنا مسنون ہے البتہ اختلاف صرف جہری نمازوں میں ہے چنانچہ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک زور سے آمین کہنا زیادہ بہتر ہے اور احناف و مالکیہ کے نزدیک اہستہ آمین کہنا زیادہ بہتر ہے-

وإذا قال الامام ولا الضالين قال امين وقولها الموتم لقوله عليه السلام إذا امن الامام فامنوا.... ويخفونها لانه دعاء فيكون مبناه على الاخفاء...(الهداية:١٠٥/١،كتاب الصلاة زمزم ديوبند)

والثناء والتعوذ والتسمية والتامين وكونهن سرا.... قال في المنية واذا قال الامام ولا الضالين قال امين .....وكونهن سرا(شامي: ١٧٢/٢،كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة زكريا ديوبند)

فاذا فرغ من الفاتحة يقول: امين اماما كان او مقتديا.... ثم السنة فيه المخافتة عندنا وعند الشافعي الجهر في صلاة الفجر.... ولنا :ماروى عن وائل بن حجر ان النبي صلى الله عليه وسلم اخفي بالتامين...(بدائع الصنائع:٤٨٣/١،كتاب الصلاة ،اشرفيه ديوبند)

سوال:-رفع یدین اور ترک رفع یدین کا اختلاف جائز کا ہے یا کیا؟

الجواب:- یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے چنانچہ امام شافعی رحمہ اللّہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، ابن رباح رحمہ اللہ،امام مجاہد بن جبیر،طاؤس ابن کیسان رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بوقت تکبیر رکوع و سجدہ رفع یدین لازم ہے نیز امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قعده سے قیام کی طرف انتقال کے وقت بھی رفع یدین لازم ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سفیان ثوری رحمہ اللہ اور اکثر فقہاء کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی کہیں بھی رفع یدین جائز نہیں ہے-

عن ابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه عند الركوع وعند رفع الراس من الركوع....(صحيح البخاري: كتاب الصلاة ،باب من الركوع في عل التكبيرة رقم: ٧٣٥ ،وكذا في صحيح مسلم،كتاب الصلاة باب استحباب رفع اليدين رقم:٣٩٠)

عن علي وابن مسعود وابي موسى الاشعري ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يكبر عند كل حفض ورفع....(سنن الترمذي: كتاب الصلاة ،باب ما جاء في التكبير عند الركوع رقم: ٢٥٣)

اما رفع اليدين عند التكبير فليس بسنة في الفرائض عندنا الا في تكبيرة الافتتاح وقال الشافعي يرفع يديه عند الركوع وعند رفع رأس من الركوع وقال بعضهم: يرفع بيديه عند كل تكبيرة....(بدائع الصنائع:٤٨٤/١،كتاب الصلاة ،اشرفيه ديوبند)

سوال:-تکبیر تحریمہ کا طریقہ کیا ہے یعنی پہلے اللہ پر کہے اس کے بعد دونوں ہاتھ اٹھائے یا دونوں ہاتھ اٹھانے کے بعد اللہ اکبر کہے یا دونوں ساتھ ساتھ یاسب طریقہ ہے تو ان میں افضل کیا ہے؟

الجواب:- واضح رہے کہ تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانے سے متعلق تین طریقے منقول ہیں(1) پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا لے جائیں پھر تکبیر تحریمہ اللہ اکبر کہ کر نماز شروع کی جائے اور تکبیر ختم ہوتے ہی ہاتھ باندھ لے جائیں (2) تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا ایک ساتھ ہو ایک ساتھ شروع ہو کر ایک ساتھ ہی ختم ہو یعنی تکبیر کے ختم ہونے تک ہاتھ باندھ لے جائیں (3) پہلے تکبیر تحریمہ شروع کی جائے اس کے فورا بعد ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لے جائے اور ایک ساتھ دونوں (تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو زیر ناف باندھ لے)کو ختم کیا جائے اس میں افضل کی باری میں یہ ہے کہ بالا تینوں صورتوں سے نماز ادا ہو جاتے ہیں لیکن ان میں سے پہلا اور دوسرا طریقہ افضل ہے-

فالمفتي به لزومه في تكبيرة وتلبية لا قراءة ورفع يديه قبل التكبير وقيل معه ماسا بابهاميه شحمتي اذنيه والمراد بالمحاذاة لانها لا تتيقن الا بذلك....(رد المختار: ١٨٢/٢،كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة ،زكريا ديوبند)

وكيفياتها اذ اراد الدخول في الصلاه كبروا ورفع يديه حذاء اذنيه حتى يحاذي بابهااميه شحمتي اذنيه وبرووس الاصابع فروع اذنيه ولا يطاطي راسه عند التكبير....(الفتاوى الهندية:١٣٠/١،كتاب الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة، زكريا ديوبند)

واما صفت الصلاة فهو انه إذا اراد الرجل ان يدخل في الصلاة لوى واخرج يديه من كميه ثم كبر تكبيره الاحترام ورفع يديه وهو سنة والافضل كون الرفع مع التكبير.... وذكر في الهداية انه يدفع يديه اولا ثم يكبر....(حلبي كبير:١٣٩/٢-١٤٠،كتاب الصلاة،ط: دار العلوم ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص دوران عمرہ کوئی جنایت کر لے تو شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:-اگر کوئی شخص دوران عمرہ کوئی جنایت کر لے تو دیکھا جائے گا کب جنات کی اگر جنایت طواف عمرہ کے چار چکروں سے پہلے کیا تو عمرہ فاسد ہو گیا اور بعد میں فضاء کرنا لازم ہوگا اور فاسد کے وجہ سے دم بھی واجب ہوتا ہے اور اگر چار چکروں کے بعد جنات کی تو عمرہ فاسد نہ ہوگا البتہ دم واجب ہوگا. فقط واللہ اعلم ۔

ويفسدها الجماع في احد السبيلين قبل اكثر طوافها... ولو جامعه بعد ما طاف لها اربعة اثواط... لا تقصد عمرته الجنه لان الجماع حصل بعد اداء الركن وعليه دم لحصول الجماع في الاحرام (غنية الناسك:١٩٨)

ويفسدها الجماع في احد السبيلين قبل اكثر طوافها .... واذا فسدت عمرة بمضي فيها كما يمضي بالحج وعليه قضايا وشاة لاجل الفساد لابدنه.... لا تفصده عمرةه لان الجماع حصل بعد اعدا ء الركن وعليه دم لحصول الجماع في الاحرام(بحر العميق: ٢٠٥٤/٤)

سوال:-اگر کوئی شخص امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہو یا رکوع سے کچھ پہلے شریک ہو تو وہ ثنا پڑھے گا یا نہیں اگر پڑھے گا تو کب یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-اگر کوئی شخص امام کو رکوع میں پائے تو تحری کرے گا اور غالب گمان یہ ہو کہ ثنا پڑھنے کے بعد امام کو رکوع میں پائے گا تو پھر کھڑے کھڑے ثنا پڑنے کے بعد رکوع میں شریک ہوگا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر ثنا چھوڑ دے اور رکوع میں شریک ہو جائے کیونکہ جماعت کی فضیلت زیادہ ہے ثنا کے مقابلہ میں اور اگر امام کو رکوع سے کچھ پہلے پائے یعنی حالت جہر میں پائے تو اب ثنا نہیں پڑے گا کیونکہ قرات سننا واجب ہے لہذا وہ قرات سنے گا لیکن بعض حضرات نے فرمایا کہ حالت قرات میں بھی وہ ثنا پڑھے گا ایک دو کلمہ کر کے امام کی سکتات کے وقت جیسا ممکن ہو

وان ادرك في الركوع فتحري ان كان اكبر رأيه انه لو اتي به يدرك الامام في شئ من الركوع يأتي به قائما والا يركع ويتابع الإمام.... وإذ ادرك الإمام وهو يجهر بالقراءة لا يأتي بالثناء بل يستمع وينصت الآية وقال بعضهم: يأتي بالثناء عند سكتات الإمام حال كون الثناء كلمة كلمة او كلمتين كلمتين بحسب ما يمكنه....(حلبي كبير: ١٤٩/٢-١٥٠،كتاب الصلاة ،دار العلوم ديوبند)

إلا إذا شرع الإمام في القراءة سواه كان مسبوقا او مدركا وسواء كان امامه يجهر بالقراءة اولاف انه لا يأتي به لما في النهر عن الصغرى ادرك الإمام في القيام يثني ما لم يبدا بالقراءة وقبل في المجافتة يثني ولو ادركه راكعا وساجدا ان اكبر رأية يدركه اتي به....(رد المختار: ١٨٩/٢-١٩٠،كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة، زكريا ديوبند )

وفي صلاة المجافتة يأتي به ويسكت الموتم عن الثناء اذا جهر الامام هو الصحيح... وان ادرك الامام في الركوع والسجود يتحري ان كان اكبر رأيه انه لو اتي به ادرك في شئ من الركوع او ياتى به قائما.... وان ادرك الامام في القعد لا يأتي بالثناء....(بالفتاوي الهندية:١٤٨/١-١٤٩, كتاب الصلاة زكريا ديوبند)

سوال:-نماز کے اندر کتنی چیزیں مسنون ہیں اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو ہر ایک کی تعداد کی وضاحت کے بعد ایک کے مطابق مختصر اور جامع طور پر بیان کریں؟

الجواب:-نماز کے اندر کتنی چیزیں مسنون ہیں اس سلسلے میں اختلاف ہے چنانچہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے 23 ذکر فرمایا اور صاحب نور الایضاح نے 51 ذکر فرمایا اور صاحبِ حلبی کبیر 21 ذکر فرمایا ہے اور اسی کے مطابق درج ذیل ہے:(1) تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا(2) دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی اور قبلہ رخ رکھنا (3) تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا (4) امام کو تکبیر تحریمہ اور ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے کی تمام تکبیریں بقدر حاجب بلند سے کہنا(5) سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا (6) ثنا پڑھنا (7) تعوذ پڑھنا(8) تسمیہ پڑھنا (9) فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا (10) آمین کہنا (11) ثنا تعوذ تسمیہ اور آمین سب کو اہستہ پڑھنا (12) سنت کے موافق قرات کرنا(13) رکو اور سجدے میں تین بار تسبیح پڑھنا (14) رکوع میں جائے سر اور پیٹ کو برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑنا(15) قومہ میں امام کو سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی کو ربنا لک الحمد کہنا اور منفرد کو دونوں کہنا(16) سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ پھر پیشانی رکھنا (17) جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو کھڑا رکھنا(18) تشہد میں اشہد اللہ…. پر انگلی سے اشارہ کرنا (19)قعده آخره ميں تشہد کے بعد درود شريف پڑھنا(20) درود کے بعد دعا پڑھنا (21) پہلے بائیں طرف پھر دائیں طرف سلام پھیرنا-

رفع اليدين عند تكبيرة الافتتاح مع التكبير ونشر الاصابع وجهر الإمام بالتكبير والثناء و التعوذ والتسمية والتامين والاخفاء بهن اماما كان مقتديا ووضع اليمين على الشمال تحت السرة للرجل وعلى الصدر للمرأة والتكبيرات التي يؤتي بها في خلال الصلاة وتسبيحات الركوع وتسبيحات السجود واخذ الركعتين في الركوع مفرجا اصابعه وافتراش الرجل اليسرى والقعود عليها ونصب اليمنى والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد التشهد في القعدة الأخيرة والدعاء.... وقراءة الفاتحة في الآخرين من الفرائض والسلام عن يمينه ويساره....(حلبي كبير: ٢٧٩/٢-٢٨٠،كتاب الصلاة، ط: دار العلوم ديوبند)

سننها رفع اليدين للتحريمة ونشر اصابعه وجهر الإمام بالتكبير والثناء والتعوذ والتسمية والتامين سرا ووضع يمينه على يساره تحت سرته وتكبير الركوع وتسبيحه ثلاثا واخذ ركبتيه بيديه وتفريج اصابعه وتكبير السجود والرفع وكذا الرفع نفسه وتسبيحه ثلاثا ووضع يديه وركبتيه وافتراش رجله اليسرى ونصب اليمنى والقومة والجلسة....(بالفتاوى الهندية:١٣٠/١،كتاب الصلاة ،الفصل الثالث،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص نفل قربانی کرے تو ایک قربانی میں کوئی ادمی شریک ہوا کر سکتا ہے یا نہیں یا اس میں اختلاف ہے بیان کریں؟

الجواب:-اگر کوئی شخص نفل قربانی کریں اور وہ بڑے جانور ہو اور اسی جانور میں کسی اور شخص کو شریک کرنا چاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں پہلا خریدتے وقت مزید افراد بھی شریک کرنے کی نیت کی تھی ایسی صورت میں مزید افراد کو شریک کرنا جائز ہے دوسرا خریدتے وقت مزید افراد کو شریک کرنے کی نیت نہیں کی تھی اور غیر صاحب نصاب شخص کے قربانی کی نیت سے جانور خریدنے سے وہ اس پر قربانی کے لیے لازم ہو گیا لہذا اب کسی اور شریک نہیں کیا جا سکتا اگر شریک کر لیا تو باقی حصوں کی رقم صدقہ کرنا لازم ہوگا ۔واللہ اعلم۔

ذبح مشتراه لها بلا نية الاضحية جازت التفاء النية عند الشراء--//الہندیہ ج:٥،ص:٢٩٤ زکریا

ولو اشترى بقره يريد اي ضحي بها ثم اشرك فيها ستة يكره ويجز بهم لانه بمنزله سبع شاة حكما الا ان يريد حين استراها ان يشركهم فيها فلا يكره....... وان كان فقيرا معسرا فقد اوجب بشراء فلا يجوز ان يشرك فيها وكذا لو اشرك فيها ستة بعد ما اوجبها عن نفسه لم يسعه لانه اوجبها كلما الله تعالى وان اشرك يا زيضين سته اسبعها--//هنديه،ج:٥,ص:٣٠٥, كتاب الاضحية زكريا,ديوبند

اذا اشترى بدنة لمتعة مثلا لم يشترط فيها سته بعدما اوجبها لنفسه ناصية لا يسعه لانه لما اوجبها صر الاكل واجبا..... فان فعل وعليه ان يتصدق بالثمن مؤنبه اي شركه فيها ستة اجزاته--//شامي،ج:٩,ص:٤٥٩, كتاب الاضحية