١.سوال:- ثمن اور قیمت دونوں ایک ہیں یا دونوں میں کوئی فرق ہے اگر فرق ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:- ثمن اور قیمت دونوں میں فرق ہے وہ یہ ہے کہ ثمن وہ بدل کہلاتا ہے جو عاقدین اپنے رضامندی سے طے کریں چاہے وہ طے شدہ قیمت بازاری قیمت سے کم یا زیادہ – اور قیمت سے مراد وہ ہوئی ہے کہ عرف اور بازار میں جس چیز کی جو قیمت متعین ہوتی ہے مارکیٹ ریٹ کو قیمت کہا جاتا ہے-

والفرق بين الثمن والقيمة ان الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان سواء زاد على القيمة او نقص والقيمة ما قوم به الشيء بمنزلة المعيار من غير زيادة ولا نقصان....(شامي: ١٢٢/٧ ،كتاب البيوع، باب خيار الشرط، زكريا ديوبند)

الثمن المسمى :هو الذي يسميه بعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطلقا لقيمته الحقيقية او ناقصا منها او زائدا عليها والقيمة: هي الثمن الحقيقي.....( التعريفات الفقهية:١٥٣،باب الثاء، مكتبة تهانوية ديوبند)

الثمن المسمى :هو الذي يسميه بعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطلقا لقيمته الحقيقية او ناقصا منها او زائدا عليها والقيمة: هي الثمن الحقيقي.....( التعريفات الفقهية:١٥٣،باب الثاء، مكتبة تهانوية ديوبند)

سوال:-محل بیع اور ارکان بیع دونوں ایک ہے یا الگ الگ اگر ایک ہے تو وہ کیا ہے اور اگر دونوں الگ الگ ہیں تو وہ کیا ہے؟

الجواب:-محل بیع اور ارکان بیع دونوں الگ الگ ہیں محل بیع وہ مال متقوم ہے، اور ارکان بیع ایجاب و قبول ہے مبادلہ قولیہ کے اندر اور مبادلہ فعلیہ کے اندر لینا دینا ہے-

اما القول فالايجاب والقبول وهما ركنه.... ومحله المال.... فكان عليه ابداله بالمتقوم وهو اخص من المال كما مر بيانه....(الدر المختار مع الشامي: ١٤/٧-١٦، كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

اما ركن البيع فهو مبادلة شيء مرغوب بشيء مرغوب وذلك قد يكون بالقول وقد يكون بالفعل، اما القول فهو المسمى فالايجاب والقبول في عرف الفقهاء وأما المبادلة بالفعل فهو التعاطي....(بدائع الصنائع: ٣١٨/٤-٣١٩، كتاب البيوع،اشرفيه ديوبند)

واما ركنه فنوعان: احدهما الايجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الاخذ والاعطاء كذا في "محيط السرخسي"(بالفتاوى الهندسة:٥/٣، كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

سوال:- ثمن کے اعتبار سے بیع کی کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کی تعریف اور حکم بیان کریں؟

الجواب:-ثمن کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں (1) بیع مرابحہ یعنی ثمن اول سے زائد کے عوض بیچنا(2) بیع تولیہ یعنی ثمن اول کے عوض بیچنا(3) بیع وضعیہ یعنی ثمن اول سے کم کے عوض بیچنا (4) بیو مساومہ یعنی اس ثمن کے عوض بیچنا جس پر عاقدین اتفاق کریں پر مذکورہ چاروں قسم کی بیع کا حکم جائز ہے اپنی اپنی شرطوں کے ساتھ

شرع في بيان انواعها بالنظر الى جانب الثمن.... ولم يذكر المساومة هي البيع بأي ثمن كان من غير نظر الى الثمن الاول.... الوضعية هي البيع بمثل الثمن الاول مع نقصان يسير اظهروهما والمرابحة شرعا بيع ما ملكه بما قام عليه وبفضل.... ثم باعة مرابحة على تلك القيمة جاز والتولية وشرعا بيعه بثمنه الاول ولو حكما.....(الدر المختار مع الشامي:-٣٤٩/٧-٣٥١،كتاب البيع ،زكريا ديوبند)

بانظر الى الثمن خمسة مرابحة وطولية واشراك ووضعية ومساومة وستائي البيوع المكروهة.....(البحر الرائق: ٤٣٨/٥،كتاب البيوع،اشرفيه ديوبند)

وكذا باعتبار تسمية البدل يتنوع الى اربعة انواع: مساومة وهو بيع بالثمن الذي يتفقان عليه ومرابحة: وهو بيع بمثل الثمن الأول و زيادة. وتولية وهو بيع بالثمن الأول لا غير ووضعية وهو بيع بانقص من الثمن الاول كذا في "المحيط السرخسي"(بالفتاوى الهندسة:٦/٣ ،كتاب البيوع،زكريا ديوبند )

سوال:- مبیع کسے کہتے ہیں مدلل بیان کریں؟

-الجواب:- مبیع اس سامان کو کہتے ہیں جو عقد بیع کے وقت متعین ہوتا ہے اس کو مبیع کہتے ہیں-

قال القدوري في "كتابه" ما يتعين في العقد فهو مبيع....(بالفتاوي الهندية: ١٥/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

واعلم ان كلامن النقدين ثمن ابدا والعين الغير المثلي منبيع ابدا وكل من المكيل والموزون الغير.... والعددى المتقارت ان قويل بكل من النقدين لو كان مبيعا....(شامي: ٥٢/٧،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

المبيع: ما بياع وهو العين التي تتعين في البيع وهو المقصود والا ثمن وسيلة للمبادلة....(التعريفات الفقهية: ٢٧٢،باب الميم، مكتبة التهانوية ديوبند)

سوال:-اگر قراءت کے اندر لحن جلی ہو جائے یا تلفظ کے اندر معروف کے بجائے مجہول پڑھ دے تو شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:- قراءت کے اندر لحن جلی سے علی الاطلاق فاسد نہیں ہوتی ہے البتہ اگر اس میں جلی کی وجہ سے معنی بدل جائے اور تغیر فاحش ہو جائے تو فاسد ہو جائے گا اسی طرح تلفظ میں بھی اگر وہ صحیح پڑھ رہا ہو لیکن سننے میں دوسرا ہو تو خراب نہیں ہوگا ورنہ ہو جائے گا –

ومنها القراءة بالالحان ان غير المعنى والا لا الا في حرف مد ولين اذ فحشى والا لا بزازية ومنها زلة القاري....(رد المختار:٣٩٢/٢-٣٩٣،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

وذكر في الملتقط: إنه لو قرأ في الصلاة الهمد لله بالهاء مكان الحاء ولايقدر على غير تجوز صلاته ولا تفسد....(حلبي كبير: ٤٣٨/٢،كتاب الصلاة، دار العلوم ديوبند)

ومنها اللحن في الاعراب إذا لحن في الاعراب لحنا لا يغير المعنى بأن قرأ لا ترفعوا اصوتكم برفع التاء لا تفسد صلاته بالاجماع.....(بالفتاوى الهندية:١٣?7

سوال:-مرد اور عورت دونوں کی نمازوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں اگر فرق ہو تو اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہے یا نہیں نیز کن چیزوں میں فرق ہے ان چیزوں کو بیان کریں؟

الجواب:-مرد اور عورت دونوں کی نمازوں میں فرق ہیں اور ثبوت بھی ہے اور ان چیزوں میں فرق ہے (1) تکبیر تحریمہ کے وقت مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورتیں صرف کندھوں تک(2) مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر اس طرح ہاتھ رکھیں کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر ہو چھوٹی انگلی اور نگوٹھے سے حلقا بنائے(3) تیسرا کہ مرد رکوع میں اس طرح جھکے کہ سر، پیٹھ اور سرین سب برابر ہو جائے اور عورت صرف اتنا جھکے کہ ہاتھ گھٹنے تک پہنچ جائے پیٹھ سیدھی نہ کرے (4) چوتھا یہ ہے کہ رکوع میں مرد اپنے بازو کو پہلو سے الگ رکھے اور کھل کر رکوع کرے بخلاف عورت کے کہ وہ اپنے بازو کو پہلو سے خوب ملائے اور دونوں پاؤں کے ٹخنے ملا دے جتنا ہو سکے اتنا سکڑ کر رکو ع کرے(5) پانچواں فرق یہ ہے کہ سجدہ میں عورتیں مردوں کی بانسبت پیٹ کو رانوں سے بازو کو بغل سے ملا ہوا رکھے کہنیاں اور کلائیاں زمین پر بچھا دیں دونوں پاؤں داہنی جانب نکال کر خوب سمیٹ کر سجدہ کریں(6) چھٹا فرق یہ ہے کہ عورتیں قعدہ میں اپنے دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھیں-

ويسن وضع المرأة بدبها الخ: المرأة تخالف الرجل في مسائل منها هذه ومنها اعفالا تخرج كفيها من كميها عند التكبير ترفع يديها حذاء منكبيها....(مراقي الفلاح شرح نور الايضاح: ٢٥٩،كتاب الصلاة ،دار الكتب العلمية)

عن اصحابنا انها اترفع يديها حذ ومنكبيها الأن ذلك استرلها وبناء امرهن على الستر الاترى ان الرجل يعتدل في سجوده، ويبسط ظهره في ركوعه والمراة تفعل كالستر ما يكون لها.... واما محل الوضع فما تحت السرة في حق الرجل والصدر في حق المراة....الخ(بدائع الصنائع:٤٦٦/١-٥٦١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال:- بیع کی لغوی اور شرعی معنی تحریر کریں؟

–الجواب:-بیع کی لغوی معنی بیچھنا اصطلاحی معنی مال کو مال کی بدلہ بیچھنا آپس میں رضامندی کے ساتھ –

هو لغة: مقابلة شيء بشيء مالا اولا وشرعا: مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله.....(رد المختار: ١٠/٧-١١،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

اما تعرفه، فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في "الكافي"(بالفتاوى الهندية:٥/٣،كتاب البيوع، باب الاول: في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وانواعه،زكريا ديوبند)

هو مبادلة المال بالمال بالتراضي....(البحر الرائق: ٤٢٩/٥،كتاب البيع، المكتبة التهانوية ديوبند)

٠.سوال:-صحت بیع کے لیے کتنی شرطیں ہیں اور وہ کیا کیا ہیں یہ وضاحت بیان کریں؟

الجواب:-صحت بیع کے لیے شامی میں 25 شرطیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض عام ہیں اور بعض خاص پھر جو شرطیں عام ہیں وہ 17 ہیں ان میں سے 11 شرطیں تو وہی ہے جو شرائط انعقاد بیع میں گزر چکی ہیں اور باقی شرائط درج ذیل میں(12) موقت نہ ہونا (13) مبع کا معلوم ہونا (14) ثمن کا معلوم ہونا (15) شرط فاسد سے خالی ہونا (16) آپس میں رضامندی یعنی راضی ہونا (17) بیع کے اندر فائدہ کا ہونا،اور جو خاص شرطیں ہیں وہ اٹھ ہیں (1) بیع مؤجل میں ثمن کی مدت کا معلوم ہونا(2) منفول اشیاء میں قبضہ کا ہونا (3) مبادلہ قولیہ میں بدل کا متعین ہونا (4) اموال ربو میں بدلین کے درمیان برابری کا ہونا (5) ربو کی شبہ سے خالی ہونا (6) بیع سلم میں شرائط سلم کا موجود ہونا (7) بیع صرف میں فریفین کے جدا ہونے سے پہلے قبضہ کا ہونا(8) بیع مرابحہ ،تولیہ اشتراک اور وضعیہ میں ثمن اول کا علم ہونا اب سب مل کے 25 شرطیں ہوگئ –

واما الثالث وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة لأن مالا ينعقد لا يصح وعدم التوقية ومعلومية المبيع..... المنقول وفي الدين ففسد بيع الدين قبل قبضه كالمسلم فيه.....الخ(شامي:١٥/٧-١٦،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

واما شرائط الصحة :فعامة وخاصة فالعامة لكل بيع ما هو شرط الانعقاد لأن مالا ينعقد لم يصح ولا ينعكس فإن الفاسد عندنا منعقد نافذ إذا اتصل به القبض.... ومنها ان يكون المبيع معلوم والمن معلوم....الخ(بالفتاوى الهندية:٦/٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

١.سوال:-انعقاد بیع کے لیے کتنی شرطیں ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟

الجواب:-انعقاد بیع کے لیے شامی میں 11 شرطیں بیان کی گئی ہیں اس کے بعد خود علامہ شامی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے کہ نو”9″ شرطیں ہیں پھر علامہ شافعی نے تقریرات رافعی میں آٹھ کے بارے میں کہا کہ یہ آٹھ شرطیں انعقاد بیع کے لیے ہیں اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ انعقاد بیع کے لیے آٹھ شرطیں ہیں جن میں سے دو شرط عاقد کے اندر پائی جانی چاہیے اور دو نفس عقد میں اور ایک مکان عقد میں اور تین معقود علیہ میں پائی جانی چاہیے وہ دو شرط جو عاقد میں ہونا ضروری ہے(1) عاقد کا عاقل ہونا (2) عدد کا ہونا یعنی متعاقدین کا الگ الگ ہونا اور وہ دو شرط جو نفس عقد میں ضروری ہے(1) ایجاب کا قبول کے موافق ہونا (2) ایجاب و قبول کا لفظ ماضی سے ہونا اور وہ ایک شرط جو مکان عقد میں ضروری ہے(1) مجلس کا ایک ہونا اور وہ تین شرطیں جو معقود علیہ میں ہونا ضروری ہے(1) متقوم ہونا (2) بائع کی ملکیت میں ہونا (3) معقود علیہ مقدور التسلیم ہونا یعنی بائع مبیع کو حوالہ کرنے پر قادر ہونا-

فالاول اربعه أنواع: في العاقد وفي نفس العقد وفي مكانه وفي المعقود عليه فشرائط العاقد اثنان العقل والعدد فلا ينعقد بيع مجنون وصبي لا يعقل ولا.... وشرط العقد اثنان أيضا :موافقة الايجاب للقبول....الخ(شامي: ١٤/٧-١٥،كتاب البيع، زكريا ديوبند)

اما شرايط الانعقاد فأنواع: منها في العاقد وهو ان يكون عاقلا مميزا.... فيصح بيع الصبي والمعتوه اللذين يعقلان البيع واثره.... وان يكون متعددا.... منها في العقد وهو موافقة القبول للايجاب.... ومنها في البدلين....الخ(بالفتاوى الهندية :٥/٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر نمازی کے اندر کا کپڑا جیسے بنیان وغیرہ ناپاک ہو اور اوپر کا کپڑا مکمل پاک ہو تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-نماز کے صحیح ہونے کی شرطوں میں سے یہ بھی ہے کہ کپڑا پاک ہونا ہے اس سے مراد پورا کپڑا اندر کا ہو یا باہر کا ہو سب مراد ہے مسؤلہ میں جو ہے بنیان ناپاک ہے اس صورت میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے نماز نہیں ہوگا یہاں اگر اندر کا بنیان پر تھوڑا یعنی مقدار معفو یا اس سے کم نجاست لگی ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے اور دیکھنے کی بعد اس حالت میں بھی نہ پڑھے-

فلاحرام شرط ومعظم الطواف ركن وغيرها واجب.. (غنية الناسك: ٣١٦/١)،كذا في الهنديه: واما ركنها الطواف(٣٢١/١٠ زكريا ديوبند)

تطهير النجاسة واجب من بدن اليصلى وتوبه.... لقوله تعالى وتيابك فطهر الخ اي في الصلاة....(هداية: ٦٨/١،كتاب الطهارة، زمزم ديوبند)

ومنها طهارة الجسد والثوب والمكان....(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٢٠٨-٢٠٩،كتاب الصلاة، اشرفية ديوبند)