٥.سوال:-اگر نابالغ بچہ کوئی سامان خریدی تو شرعا درست ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر کیف باوضاحت تحریر کریں؟

الجواب:-واضح رہے کہ اگر نابالغ بچہ گھر سے ایسی چیز خریدنے یا فروخت کرنے ائے جو عادتا گھر والے خریدتے یا فروخت کرتے ہیں تو اس سے خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اگر بچہ کوئی ایسی چیز خریدے یا فروخت کرے جس کے خریدنے یا فاروق کریں جس کے گھر والوں کی طرف سے اجازت نہیں ہوتی تو اس سے خریدنا یا فروخت کرنا مکروہ ہے اس کی بیع ولی کی اجازت ہر چیز موقوف ہوگی

والصبي في الهدية سواء اخير باهداء المولي غيره او نفسه والاذن سواء كان بالتحاره او بدخول الدار مثلا وقيده في السراج بما إذا غلب على رأيه صدقهم فلو شري صغير نحو صابون واشنان لا باس بيعه ولو نحو زبيب وحلوى لا ينبغي بيعه لان الطاهر كذبه.....(رد المختار: ٤٩٧/٩-٤٩٨،كتاب الحظر والاباحة،زكريا ديوبند)

ومن البيع الموقوف: بيع الصبي المحجور الذي يعقل البيع والشراء لتوقف بيعه وشراؤه على إجازة والده(بالفتاوى الهندسة:١٥١/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

المحجور الذي نعقل البيع والشراء يتوقف بيعه شرائه على اجازه الوالده...(قاضي خان :١٠٥/٨ ،كتاب البيوع زكريا ديوبند)

٢.سوال:-ادھار خرید و فروخت شرعا کیسا ہے؟

الجواب:-شریعت میں ادھار خرید و فروخت جائز اور درست ہے-

عن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم اشتري طعاما من رجل يهودي الى اجل ورهنه درعا من جديد(صحيح البخاري: ٢٧٧/١،رقم: ٢٠٢١، كتاب البيوع، باب شراء النبي صلى الله عليه وسلم بالنسيئة، النسخة الهندية)

وصح بثمن حال وهو الأصل ومؤجل الى معلوم لئلا يفضي الى النزاع....(رد المختار: ٥٢/٧،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

ولو كان الثمن مؤجلا فلم يقبض المشتري حتى حل الاجل كان له قبضه قبل نقد الثمن وليس للبائع منعه كذا في "الذخيرة"(بالفتاوی الهندیة:١٨/٣،كتاب البيوع ،زكريا ديوبند )

١.سوال:-مال کسے کہتے ہیں مدلل بیان کریں؟

الجواب:-جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اس چیز کو ضرورت کے لیے ذخیرہ کر کے رکھا جا سکتے ہو اسے مال کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں: مال متقوم یعنی جس سے نفع اٹھانا شرعا درست ہے مثلا چاول وغیرہ اور مال غیر متقوم یعنی جس سے نفع اٹھانا شرعا درست نہ ہوں مثلا خمر وغیرہ-

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة والمالية تثبت بتمول الناس كافة او بعضهم،والتقوم يثبت بها.... به شرعا فما يباح بلا تمول لا يكون مالا كحبه حنطة وما يتمول بلا اباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر (شامي:١٠/٧،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

المال: اسم لما يتمول به وقيل: ما ملكته من جميع الاشياء عند الفقهاء ما يجري فيه البذل والمنع ويميل اليه طبع الانسان ويمكن ادخاره الى وقت الحاجة قال في البحر سواء منفولا او غير منقول المال المتقوم مالياح الانتفاع به (قواعد الفقه: ٢٧،مكتبة التهانوية ديوبند)

والمال في اللغة ما ملكته من شيء والجمع أموال كذا في القاموس وفي الكشف الكبير المال ما يميل اليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة(البحر الرائق: ٤٣٠/٥،المكتبة التهانوية ديوبند)

٢.سوال:- بیع مطلق کسے کہتے ہیں اور اس کی صورت کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے مدلل بیان کریں؟

الجواب:-بیع مطلق بیع ثمن کو کہتے ہیں یعنی سامان کو نقد یعنی سونا چاندی نوٹ کے بدلے بیچنا یہ بیع جائز ہے اس لیے کہ بیع کی حالت قرآن میں بیان کیا گیا ہے-

او عين بثمن..... وليس للرابع اسم خاص فهو بيع مطلق....(شامي:٩/٧،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)

وعكسه وهو بيع العين بالدين كأكثر البياعات....(البحر الرائق: ٤٣٨/٥،كتاب البيع،المكتبة التهانوية ديوبند)

احل الله البيع وحرم الربو....(سورة البقرة)

واذا حصل الايجاب والقبول (هدايه: ٢٠/٣،دار الكتاب ديوبند ،نوم البيع)

سوال:-اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور کسی وجہ سے ایام قربانی میں نہ کر سکے تو شرعا کیا حکم ہے ؟

الجواب:-اگر کسی سخص پر قربانی واجب ہو اور کسی وجہ سے ایام قربانی میں قربانی نہ کر سکے تو تو اسکے لئے ضروری ہے کہ جانور کو صدقہ کر دے اور اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت کو صدقہ کر دے -فقط و الله اعلم –//قاضیخان ج:٩،ص:٢٤٨ زکریا 

اشتري شاة ليضحي فلم يفعل حتي مضت ايام النحر تصدق بها حية ولا يجوز الاكل منها فأن باعها تصدق بثمنها فأن ذبحها وتصدق بلحمها--//الہندیہ ج:٥،ص:٣٤٢ زکریا

اذا اوجب شاةبعينها او اشتراها ليضخي بها فمضت ايام النهر قبا أن يذبحها تصدق بها حيةولا يأكا من لحمها --//شامی ،ج:٩،ص:٥٣٢ زکریا

سوال:-اگر کوئی غريب قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس کو بدل سکتے ہے یا نہیں ؟

الجواب:-اگر کوئی غريب قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس پر قربانی واجب ہو جاتا ہے اس کو بدل نہیں سکتا -واللہ  اعلم 

و اما الذي يجب علي الفقير دون الغني فالمشتري الاضحية -//الہندیہ ج:٥،ص:٣٣٦ زکریا

و اما الذي يجب علي الفقير دون الغني فالمشتري الاضحية أذا كان المشتري فقيرا بان اشتري فقير شاة ينوي أن يضحي بها --//بداءع،ج:٥،ص:٦٢ کتاب الاضحيه ،زکریا

سوال:-اگر کسی شخص نے پہلی رکعت میں بھول سے تین سجدہ کرلیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق اگر کوئ شخص بھولے سے ایک رکعت میں تین سجدے کر لیتا ہے تو اس پر سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا

لو رکع رکوعین او سجد ثلاثا فی رکعۃ لزمہ السجود لتاخیر الفرض وھو السجود فی الحال والقیام فی الثانی ( البحر الرائق 2/ 105 )

سوال:-ایک شخص جو کہ صاحب نصاب تھا اس نے قربانی کے ایام سے قبل قربانی کی نیت سے جانور خریدا پھر یہ قربانی کے ایام میں غریب ہوگیا تو کیا اس شخص پر قربانی کرنا ضروری ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق

 اگر یہ شخص پہلے صاحب نصاب تھا اور اسنے قربانی کی نیت سے جانور بھی خرید لیا لیکن کسی سبب سے بعد میں ایام نحر سے پہلے پہلے غریب ہوگیا اور بارہ ذالحجہ کے غروب تک غریب ہی رہا تو اس شخص سے قربانی ساقط ہو جائگی

وسببھا الوقت وھو ایام النحر ..... والمعتبر آخر وقتھا للفقیر وضدہ .....فلو کان غنیا فی اول الایام فقیرا فی آخرھا لا تجب علیہ شامی 9/ 453- 462 ط. زکریا دیوبند

وان افتقر بعد الشراء لھا قبل مضی ایام النحر سقطت عنہ غنیہ ذوی الاحکام للشرنبلالی علی درد الاحکام 268 ط. کتاب خانہ آرام باغ کراچی

قال جماعۃ من العلماء فان اشتراھا للاضحیۃ فقد تعینت الشاۃ للاضحیۃ حتی لو کان الفقیر اوجب علی نفسہ اضحیۃ لا تجوز بھذہ ھندیہ (5/ 369 )

سوال:-عید اور بقرعید کی نماز بعد خطبے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب و بالله التوفيق عیدین کے خطبے مسنون ہیں . والله أعلم بالصواب

عن عبد الله بن عتبه رضي الله عنه قال : السنه ان يخطب الامام في العيدين خطبتين يفصل بينهما بجلوس. (السنن الكبرى للبيهقي ، كتاب صلاه العيدين باب جلوس الامام حين يطلع على المنبر قديم/٢/١٨٥/دارالفكر /٥/٨٢ . رقم ٦٣٠٥)

عن عبد الله بن السائب رضي الله عنه، قال : شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم : العيد ، فلما قضى الصلاة ، قال : انما نخطب فمن احب ان يجلس للخطبه فليجلس ومن احب ان يذهب فليذهب .(سنن ابو داوود /١/١٦٣ باب الجلوس للخطبه (النسخة الهنديه)

ويشترط للعيد ما يشترط للجمعة الا الخطبة كذا في الخلاصه فانها سنة بعد الصلاه . عالمكيري /١/١٥٠ خطبتاالعيدين سنة باتفاق. (الفقه على المذاهب الاربعه مذاهب صلاه العيدين مكمل ١٩٩ دار الفكر )

سوال:-بکرے کی پوچھ باقی ہے چوٹ لگنے کی وجہ سے لٹک گئی ہے اور حرکت کرنا بھی بند ہے تو ایسی صورت میں قربانی ہوگی کہ نہیں؟

الجواب و بالله التوفيق صورت مسئولہ بکرے کی قربانی جائز نہیں ۔

كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (المحيط البرهاني ٦/‏٩٣ — برهان الدين ابن مازه البخاري (ت ٦١٦) عالمكيري /٥/٢٩٩