اگر کوئی شخص آیت قرآنیہ کو نماز کی حالت میں لکھا ہوا دیکھ کر زبان سے پڑھ بھی لیتا ہے تو کیا حکم ہے،براۓ مہربانی مفصل و مدلل جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرماۓ۔

الجواب و بالله التوفيق صورت مسئولہ میں اس شخص کی نماز فاسد ہو جائیگی!

و ان قرأ المصلي القران من المصحف او من المحراب تفسد صلاته عند ابي حنيفه ( رحمه الله ) حلبي كبير لاهور (٤٤٧)

٦.ایک شخص کا سونے کا زیور کھو گیا تو ۔ تو اس نے کہا : “اگر وہ سامان مل گیا تو میں مسجد میں دے دوں گا/دے دوں گا “۔ اب وہ سامان مل گیا ہے۔ اور اُن کا کہنا ہے کہ کچھ غریب لوگ ہیں کیا انکو یہ رقم دی جا سکتی ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: صورتِ مسؤلہ میں نذر کا سامان مسجد ہی میں دینا ضروری نہیں؛ بلکہ فقراء کو دینے سے بھی نذر پوری ہوجائے گی۔

وإن كان مقيدا بمكان بأن قال لله تعالى على أن أصلي ركعتين في موضع كذا، أو أتصدق على فقراء بلد كذا، يجوز أداؤه في غير ذلك المكان عند أبي حنيفة وصاحبيه لأن المقصود من النذر هو التقرب إلى الله عز وجل وليس لذات المكان دخل في القربة. (الفقه الإسلامي وأدلته/الفصل الثاني: الأيمان والنذور والكفارات/الفصل الثاني: النذور، ٤٨٣/٣، ط: دار الفكر) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال:-قربانی کے جانور کو قربان کرتے وقت اس کے منہ میں چھلہ وغیرہ ڈالنا اور اس سے یہ تصور کرنا کی اس سے بیماری میں شفاء ملے گی اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ؟

الجواب وبالله التوفيق: جانور ذبح کرتے وقت اس کے منہ میں چھلہ وغیرہ ڈال کر یہ تصور کرنا کہ اس سے بیماری میں شفا ملے گی، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں ہے؛ بلکہ اس طرح کے توہمات سے کلی اجتناب کیا جائے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر، وفر من المجذوم كما تفر من الأسد". (مرقاة المفاتيح/كتاب الطب والرقى،/باب الفال والطيرة، ٣٩٣/٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

من أعتقد أن شيأ سوى الله ينفع أو يضر بالاستقلال، فقد أشرك جليا. (مرقاة المفاتيح/كتاب الطب والرقى/باب الفال والطيرة، ٣٩٨/٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

٧.سوال:-مقتدی کی کتنی قسمیں ہیں ہر ایک کی وضاحت کریں؟

الجواب:-مقتدی کی تین قسمیں ہیں (1) مدرک یہ وہ مقتدی ہے جو امام کے ساتھ اول سے اخر تک نماز میں شریک رہے (2) لاحق یہ وہ مقتدی ہے جو امام کے ساتھ شروع نماز میں شریک ہو مگر پوری نماز یا بعض نماز فوت ہو گئی ہو (3) مسبوق- یہ وہ مقتدی ہے جس کے امام سبقت کر جائے پوری نماز یا بعض نماز-

في المسبوق واللاحق، المسبوق: من لم يدرك الركعة الاولى مع الامام وله احكام كثيرة..... اللاحق: وهو الذي ادرك اولها وفانه الباقي لنوم او حدث او بقي قائما للزحام....(بالفتاوى الهندية:١٤٨/١-١٥٠)

واعلم ان المدرك من صلاة كاملة مع الامام واللاحق من فاته الركعات كلها او بعضها لكن بعد اقدائه..... والمسبوق من سبقه الامام بها او بعضها وهو منفرد حتى مثنى ويتعو....(رد المختار: ٣٤٣/٢-٣٤٦،كتاب الصلاة ،باب الإمامة ،زكريا ديوبند)

المقتدي اما مدرك او مسبوق او لاحق- فالمدرك من صلى الركعات كاملة مع الامام.... والمسبوق :من سبقه الامام....(الموسوعة الفقهيتة: ٢٨/٦،كويته)

ایک شخص نے غیر مسلم لڑکی کو مسلمان کرکے اس سے نکاح کیا پھر چند سال بعد طلاق ہوگئی وہ لڑکی طلاق کے بعد مرتد ہوکر ایک غیر مسلم کے ساتھ رہنے لگی اور زنا کی بھی مرتکب ہویٔ اب یہ دوبارہ اسلام قبول کرکے اسی مسلمان لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے لڑکا بھی راضی ہے کیا اس کے لے بھی حلالہ کی ضرورت ہے یا اور شکل ہوسکتی ہے براہ کرم جواب عنایت فرماییں

الجواب وبالله التوفيق: واضح رہے کہ مطلقہ ثلاثہ کا ارتداد اختیار کرنا شوہر اول کیلئے حلت کا سبب نہیں بنے گا حلت کے ثابت ہونے کیلئے شخص آخر سے نکاح شرعی کے ذریعہ جماع کا پایا جانا ضروری ہے۔

ولو ارتدت المطلقة ثلاثا ولحقت بدار الحرب ثم استرقها أو طلق زوجته الأمة ثنتين ثم ملكها ففي هاتين لايحل له الوطء إلا بعد زوج آخر كذا في النهر الفائق. (الفتاوى الهندية/كتاب الطلاق/الباب السادس/فصل: فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ٥٠٧/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال:-تکبیرے اولی کا پانے والا کس کو سمجھا جائے گا یا تکبیر اولی پانے کے لیے کوئی معیار مقرر ہے یا ہے تو کیا مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:- مسؤلہ یہ ہے تکبیر اولی کی باری میں مختلف اقوال ہیں یعنی امام کے ساتھ متصل تکبیر کہہ کر اقتدا کرے تو بالاکتفاق تکبیر اولی کا ثواب مل جائے گا البتہ اس کے بعد بھی وسعت دی گئی ہے – اقوال:(1) ثناء سے پہلے پہلے شریک ہو جائے اس کو (2) سورہ فاتحہ کے نصف سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہو جائے (3) سورہ فاتحہ کے ختم ہونے تک شامل ہو جائے (4) پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے شامل ہو جائے تو تکبیر اولی پانے والا ہے-

فعنده بالفقارنة وعندهما اذ كبر في وقت الثناء وقيل بالشروع قبل قراءة ثلاث ايات لو كان المقتدي حاضرا وقيل سبع لو غائبا وقيل بادراك الركعة الاولى وهذا اوسع وهو الصحيح وقيل بادراك الفاتحة وهو المختار....(رد المختار مع الشامي: ٢٤٠/٢،كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، زكريا ديوبند)

عن انس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى اربعين يوما في جماعة يدرك التكبير الاولى كتبت له براءتان براءة من النار وبراءة من النفاق...(سنن الترمذي: كتاب الصلاة،باب ما جاء في فضل التكبيرة الاولى،رقم الحديث: ٢٤١)

واختلف في ادراك فضل التحريمة على قولهما فقيل: إلى الثناء كما في الحقائق وقيل إلى نصف الفاتحة كما في النظم وقيل: في الفاتحة كلها وهو المختار كما في الخلاصة، وقيل: إلى الركعة الأولى وهو الصحيح كما في المضمرات.....(حاشية الطحطاوي على المراقي الفلاح: ٢٥٨)

سوال:-اگر کسی شخص کو نماز کے اندر رکعت کی تعداد میں اشتبا ہو جائے تو شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہے اس کو بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-اس صورت میں اگر بار بار بھولنے کی شکل پیش آتی ہے تو غالب ظن اور یقین پر عمل کرتے ہوئے کم سے کم رکعت پر بنا کرنی چاہیے اور آخر میں سجدہ سہو کر لینا چاہیے اور جب سجدہ سہو کر لیا اب نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں چاہے نماز فرض ہو یا سنت سب برابر البتہ اگر کسی شخص کو پہلی مرتبہ یا کبھی کبھی ایسا شک ہوتا ہے اسے چاہیے کہ نیت توڑ کر پھر سے نماز پڑھے تاکہ کوئی شک شبہ نہ رہے-

وان كثر الشك تحري وعمل بغالب ظنه.... فإن لم يغلب له ظن اخذ بالاقل لقوله عليه السلام: اذا سها احدكم في صلاته فلم يدر واحدة صلى او ثنتين على واحدة فإن لم يدر ثنتين صلى او ثلاثا فليبن على ثنتين فإن لم يدر ثلاثا صلى او اربعا فليبن على ثلاث ويسجد سجدتين قبل ان يسلم.... وقعد وتشهد بعد كل ركعة ظنها آخر صلاته....(حاشية الطحطاوي على المراقي:٤٧٧)

وذكر في الفتاوى الخاقانية فقال رجل صلى ولم يدر ثلاثا صلى ام اربعا قال ان كان ذلك اول ما سهى استقبل....(حلبي كبير: ٤٧٠)

واعلم انه اذ شغله ذلك الشك فتكفر قدر أداء ركن ولم يشتغل صور الشك....(رد المختار: ٥٦٢/٢-٥٦٣،كتاب الصلاة، باب سجود السهو،زكريا ديوبند)

سوال:-حالت حیض و نفاس میں عورت کی نماز کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس پر نماز نہیں ہے تو کیا وہ ان حالت میں تشہ بالصلاۃ اختیار کرے گی یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت باتفصیل بیان کرے؟

الجواب:-حالت حیض و نفاس میں عورتوں پر محفوظہ ہے اور نہ ہی نماز ہے البتہ جب پاک ہو جائے تو روزہ کی قضا کرے گی کیونکہ روزہ پورے سال میں ایک ہی مرتبہ اتا ہے لہذا اس کو قضاء کرنے میں حرج نہیں ہے برخلاف نماز کے کیوں کہ اس میں حرج ہے یہی بات ان مدت میں تشبہ بالصلاۃ اختیار کرے گی یا نہیں صحیح بات یہ ہے کہ وہ تشبہ بالصلاة اختیار کرے گی تاکہ سست و کاہلی نہ ہو جائے

ثم ذكر احكامه يقوله يمنع اي الحيض وكذا النفاس صلاة مطلقا اي كلا او بعضا.... ولو مسجده سكر وصوما وجماعا وتقضيه اي الصوم على التراخي في الاصح لزوما دونها لا حرج اي لان في قضاء الصلاة حرج ينكررها في كل يوم....(الدر المختار مع الشامي: ٥٣٢/١-٥٣٢ ،كتاب الطهارة، اشرفيه ديوبند)

ويجوم بالحيض والنفاس ثمانية اشياء الصلاة والصوم.... اعلم انهما يمنعان وجوبها وجرازها وصحتها وويمنعان صحة الصوم وجواز لا وجوبه....(حاشية الطحطاوي على المراقي:١٤١-١٤٢،كتاب الصلاة، اشرفيه ديوبند )

حيض يمنع صلاة وصوما فتقضيه دونها اي فتقضى الصوم لزوما دون الصلاة....,(البحر الرائق: ٣٣٨/١،كتاب الطهارة، اشرفيه ديوبند )

سوال:-مدرسہ البنات میں اجتماعی طور پر جماعت کے ساتھ لڑکی کا نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے اگر بغرص تعلیم ادا کرے تو وہ ذمہ سے ساقت ہونے کے لیے کافی ہے یا نہیں ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-صورۃ مسؤلہ میں عورتوں کے لیے کسی بھی صورت میں امام بننا جائز نہیں ہے عورت کے لیے عورت کی امامت مكروه تحريمي ہے لكن اگر جماعت كرہي لے تو نماز ہو جائے گی اسی طرح بغرص تعلیم جماعت کے ساتھ ادا کر لے تو وہ ذمہ سے ساقط ہو جائے گا-

عن عائشة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا خير في جماعة النساء الا في مسجد او في جنازة قتيل..... فعلم ان جماعتهن وحدهن مكروهة......( اعلاء السنن:٢٤٢/٤،كتاب الصلاة ،باب كراهة جماعة النساء، ادارة القرآن باكستان)

ويكره تحريما صرح به في الفتح والبحر جماعة النساء ولو في الترابيح في غير صلاة جنازة.... فإن فعلن تقف الامام وسطهن كالحراة....(الدنيا المختار مع الشامي:٢٠٥/٢-٢٠٦،كتاب الصلاة ،زكريا ديوبند)

وكره جماعة النساء ربوا حرة منهن ولا يحفرن الجماعات لما فيه الفتنة و المخالفة(حاشية الطحطاوي على المراقي:٣٠٤،كتاب الصلاة،باب من الق بالامامه،دار الكتب العلميه بيروت)

تقلید کیا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:- (١)تقلید کہتے ہیں “کسی ناواقف/عام آدمی کا غیرمنصوص اجتہادی مسئلہ میں دلیل کے مطالبہ کے بغیر کسی مجتہد کی بات ماننا کہ یہ جو مسئلہ بتاۓ گا صحیح بتاۓ گا” (ماخوذ از فتاویٰ بنوری ٹاؤن) قرآن و سنت میں بعض احکام تو ایسے ہیں جو دو اور دو چار کی طرح واضح ہیں ، ان میں کوئی اجمال (Abbreviation) ، ابہام (unclear) , مخالفت (opposition) نہیں ہے بلکہ جو شخص بھی انہیں پڑھے گا بغیر کسی الجھن انکا مطلب سمجھ لیگا جیسے پانچ نمازوں کی فرضیت اور شراب وغیرہ کی حرمت ، اس طرح کے مسائل میں اجتہاد و تقلید کی ضرورت پیش نہیں آتی اور نا ہی جائز ہے اسکے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جن میں ابہام یا اجمال پایا جاتا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن کی دوسری آیت یا کسی دوسری حدیث سے متعارض (Conflicting) معلوم ہوتے ہیں جیسے فروعی مسائل اب قرآن و سنت سے احکام کے مستنبط کے دو صورتیں ہیں: ایک صورت تو یہ ہےکہ ہم اپنی سمجھ اور بصیرت پر بھروسہ کرکے خود ہی کوئی فیصلہ کرلیں اور اس پر عمل کریں ، اور دوسری صورت یہ ہےکہ ازخود فیصلہ کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ قرآن و سنت کے ان ارشادات سے صحابہ و تابعین کے زمانے کے ہمارے جلیل القدر اسلاف ، مجتہدین ، ائمہ نے کیا سمجھا ہے اور ان کی فہم و بصیرت پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل کریں ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت خاصی خطرناک ہے اور دوسری صورت بہت محتاط (احتیاط والی) ان باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اگر ہم اپنی سمجھ پر بھروسہ کرنے کے بجائے قرآن و سنت کے پیچیدہ احکام میں اس مطلب کو اختیار کرلیں جو ہمارے اسلاف ، ائمہ میں کسی امام نے سمجھا ہے ؛ تو یہ کہا جائے گا کہ “ہم نے فلاں کی تقلید کی” 👆یہ ہے تقلید کی حقیقت (مستفاد از خلاصۂ تقلید کی شرعی حیثیت مفتی تقی عثمانی صاحب) مذکورہ بالا باتوں سے یہ واضح ہو گیا کہ کسی بھی امام ، مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے جہاں قرآن و سنت سے احکام کے سمجھنے میں دشواری ہو