1.سوال:-اگر کوئی شخص گھر کے اندر ہی جماعت کر لے اور مسجد کی جماعت میں شریک نہ ہو تو شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو مفصل مدلل بیان کریں؟

الجواب:-جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت موکدہ ہے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے لہذا مسجد میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنا چاہیے البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے جماعت رہ جائے یا جھوڑنے کا معتبر عذر ہو مثلاً بیماری وغیرہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے میں حرج نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں جو ثواب ہے وہ گھر میں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا ہے-فقط واللہ اعلم

قوم تخلفوا عن المسجد وصلوا في البيت بجماعة فأنهم ينالون فضل الجماعة ولكن دون ما ينالون في المسجد.....(الفتاوى السراجية:١٥٢/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

والصلاة بالجماعة سنة مؤكدة.... في مسجد او غيره وفي القنية الاصح ان اقامتها في البيت كاقامتها في المسجد وان تفاوتت الفضيلة.....(حاشية الطحطاوي على المراقي: ٢٨٦،كتاب الصلاة ،اشرفية ديوبند)

قوله: في مسجد او غيره قال في القنية واختلف العلماء في اقامتها في البيت والاصح انها كاقامتها في المسجد الا في الافضلية....(الدر المختار مع الشامي: ٢٩٠/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال:-فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے یا ویڈیو کل کے ذریعے نکاح شرعا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیوں اگر درست نہیں ہے تو کیوں نیز کیا کوئی ایسی صورت ہے جس سے مذکرہ نکاح صحیح ہو جائے مفصل مدلل بیان کریں؟

جواب:-اس صورت میں نکاح صحیح نہیں ہے کیونکہ نکاح درست ہونے کے لیے حجاب و قبول کی مجلس ایک ہونا اور اس میں جانب ائین میں سے دونوں کا خود موجود ہونا یا ان کے وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے نیز مجلس نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی ضروری ہے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے مثلا واٹس ایپ اڈیو کل وغیرہ پر نکاح میں مجلس کی شرط موجود ہوتی ہے کیونکہ شرعا نہ تو یہ صورت حقیقت مجلس کے حکم میں ہے اور نہ ہی حکمت بلکہ فریقین دو مختلف جگہوں پر ہوتے ہیں جبکہ ایجاب کو قبول کے یہ عقیدہ اور گواہ ہوگی مجلس ایک ہونا ضروری ہے اور وہاں نہیں ہے یہاں اس صورت میں ایک شکل درست ہے جب کہ لڑکا لڑکی دونوں واٹس ایپ ویڈیو کل وغیرہ پر ہو اور ایک جگہ عقد نکاح مجلس منعقد کی جائے اور لڑکا اور لڑکی کے وکیل عقد نکاح کی مجلس میں موجود ہو اور انہوں نے ان کی طرف سے گواہ ہو کے سامنے ایجاب و قبول کیا تو ایسی صورت میں نکاح ہو جائے گا باقی شرائط کے مطابق،فقط واللہ اعلم

ومن شرايط الايجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرين وان طال كالمخيرة..... الآخر (رد المختار مع شامي: ٧٦/٤ كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

و في الفتح القدير: ويجوز لواحد ان ينفرد يعقد النكاح عند الشهودي على اثنين اذا كان وليالهما او وكيلا عندهما ....(فتح القدير: ٢٩٩/٣)

ان يكون الاجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كان حاضرين فاوجب احدهما.....(الهنديه: ٣٣٤/١،كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

سوال:-تعلیم قران یا خدمت وغیرہ کو مہر بنانا شرعا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیوں اگر درست نہیں تو کیوں اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

جواب:-صورت مسئولہ میں نکاح تو درست ہو جائے گا البتہ تعلیم قران خدمت وغیرہ کو مہر بنانا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہے حالانکہ کلام پاک میںں اللہ تعالی نے فرمایا کہ نکاح مال کے عوض طلب کرو یعنی مہر مال ہونا چاہیے اور تعلیم قران وغیرہ مال نہیں ہے لہذا اس کو مہر بنانا بھی درست نہیں ہوگا یہ تفصیل احناف کے نزدیک ہے اور مہر مثل واجب ہوگا احناف کے نزدیک اور امام شافع نے تعلیم قران وغیرہ کو مہر بنانے کو جائز قرار دیا ہے

وفي حدمة زوج حد سنة للامهار.... وفي تعليم القران اي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على اي يعلمها القران او نحوه من الطاعات....... لهذا ذكر في فتح القدير هنا انه لما جوز الشافعي اخذ الاجر......(رد المختار مع شامي: ٢٤٠/٤،كتاب النكاح باب المهر، زكريا ديوبند)

او تزوجها بتعليم القران لانه ليس بمال او بخدمة الزوج الحر لها سنه لان الخدمة ليس بمال لما فيه من قلب الموضوع فيجب مهرا المثل... وعند الشافعي: كل ما يجوز اخذ العوض عنه يصلح مهرا فتعلم القران... والعفو عن القصاص يصلح مهرا عنده......(مجمع الانهر: ٥٠٩/١-٥١٢،كتاب النكاح فقيه الامة ديوبند)

وان تزوجها..... على خدمته سنة او تعليم القران جاز النكاح ولها مهر المثل...(كتاب الاختيار للتعليل المختار: ١٣٠/٣،كتاب النكاح فقيه الامة ديوبند)

سوال:-مہر محمدی، مہر شرعی اور مہر فاطمی سب ایک ہیں یا الگ الگ یا اس میں کوئی تفصیل ہے مفصل بیان کریں؟

الجواب:-مہر محمدی مہر شرعی اور میرے فاطمی سب ایک ہے یا الگ الگ اس کا مدار عرف پر ہے جہاں جس طرح کا عرف ہے وہاں وہی معنی معتبر ہوگا یعنی بعض جگہ اور علاقہ میں مہر فاطمی ہی کو مہرے محمدی یا مہر شرعی کہا جاتا ہے البتہ عقد کے وقت تعین کرنا بہتر ہے تاکہ بعد میں جھگڑا وغیرہ نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم۔

قوله وعندنا على العرف لان التكلم انما يتكلم بالكلام العرف اعني الالفاظ التي يراد بها معانيها التي وضعت لها في العرف كما ان العرف حال كونه بين اهل اللغة انما يتكلم بالحقائق ... فوجبه صرف الفاظ ي متكلم الى ما عهد انه المراد بها فتح...(شامي: ٧٤٣/٣،ط: بيروت)

الاصل ان الجواب السوائل يجري على حسب ما تعارف ... في مكانهم..(وصول الكرخي:١٠،ط: زكريا ديوبند)

عربي سلمة انا عبد الرحمن انه قال سئلت عائشة كم كانت صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان صداقه بازواجه ستة عشرة اوقية او نشا...(مسند احمد: باب الصداق رقم الحديث:٦٩٢٧)

١.سوال:-کن کن عورتوں سے نکاح کرنا درست ہے اور کن عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں ہے وضاحت کے ساتھ بیان کریں؟

الجواب:-جن عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں ہے وہ درج ذیل ہیں(1) ماں، چاہے حقیقی ہو یا سوتلی اس طرح نانی اور دادی(2) بیٹی پوتی اور نواسی(3) بہن ،چاہے حقیقی ہو یا سوتیلی یعنی ماں شریک ہو یا باپ شریک(4) پھوپھی والد کی بہن چاہے سگی ہو یا سوتیلی(5) خالہ چاہے سگی ہو یا سوتیلی (6)بھتیجی (7)بھانجی (8)رضاعی ماں (9)رضاعی بہن(10) رضاعی پھوپھی(11) رضاعی خالہ (12)رضاعی بھتیجی(13) رضاعی بھانجی(14) بہو یعنی بیٹے کی بیوی(15) دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنا مذکورہ بالا محرمات کے علاوہ اور بھی کئی ایسی عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہوتا ہے مثلا بیوی کے انتقال یا طلاق کے بعد عدت میں بیوی کے بہن یعنی سالی اس کی خالہ بھانجی وغیرہ اور مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ عورتوں سے نکاح کرنا درست ہے مثلا چچا کی بیٹی ،خالہ کی بیٹی ،ماموں کی بیٹی وغیرہ-فقط اللہ اعلم

حرمت عليكم امهتكم وبنتكم واخوتكم وعماتكم وخالتكم و وبنت الاخ وبنت الاخت...... الخ (سورة النساء،رقم الآية:٢٣)

قال لا يحل الرجل ان يتزوج بامه ولا جراته من قبل الرجال والنساء ولا بينته ولا بينت ولده وان سفلت للاجماع ولا باخته ولا ببنا اخته ولا ببنات اخيه ولا بعمته..... الخ (هدايه: ٣٢٩/٢،كتاب النكاح، زمزم، ديوبند))

واحل لكم ما وراء ذلكم ان تبتغوا باموالكم محسنين غير مسافحين......... الخ(سورة النساء: رقم الاية:٢٤)

1..اتقو مواضع التهم .. یہ کسی بزرگ کا قول ہے یا واقعی ایسے الفاظ حدیث نبوی سے ثابت ہیں یا پھر اسے روایت بالمعنی کہہ سکتے ہیں؟

الجواب و بالله التوفيق یہ حدیث نہیں ہے ، بلکہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے ۔واللہ اعلم بالصواب

- حَدِيثُ اتَّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَمِ // هُوَ مَعْنَى قَوْلِ عُمَرَ مَنْ سَلَكَ مَسَالِكَ التُّهَمِ اتُّهِمَ رَوَاهُ الْخَرَائِطِيُّ فِي مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ عَنْ عُمَرَ مَوْقُوفًا بِلَفْظِ مَنْ أَقَامَ نَفْسَهُ مَقَامَ التُّهَمِ فَلَا تَلُومَنَّ مَنْ أَسَاءَ الظَّنَّ بِهِ //

(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ١/‏٨٠ — الملا على القاري (ت ١٠١٤))

سوال:-اگر کوئی شخص قصدا جماعت ترک کر دے تو شرعا کیا حکم ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے یا نہیں اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟

جواب:-اگر عذر کی وجہ سے جماعت ترک کر دے تو شرعا وہ شخص گنہگار نہیں ہوگا اور اس کو اس کی گنجائش ہے لیکن اگر بلا عذر قصدا جماعت چھوڑ دے اور اس کی عادت بنا لے تو وہ شخص گنہگار ہوگا ایسا نہیں کرنا چاہیے-

قال ابو الرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما من ثلاثة في قدية ولا بد ولا تقام فيهم الصلاة الا قد استعوذ عليهم الشيطان فعليكم بالجماعة.... قال السائب يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة....(مشكوة:٣٣٥/١،رقم الحديث: ١٠٦٧،بيروت)

وكذا الاحكام تدل على الوجب من ان تاركها من غير عذر يعذر وتدد شهادته وياتم الجيران بالسكوت عنه وهذه كلها احكام الواجب....(حلبي كبير: ٥٠٩/١،كتاب الصلاة،بيروت)

قوله بتركها مرة اي بلا عذر وهذا عند العراقيين وعند الخراسانيين انما ياتم ان اعتاده كما في القنية وقد مر قوله.... من غير حرج قيد لكونها سنة مؤكده او واجبة فبالحرج يرتفع الاتم ويرخص في تركها(الدر المختار مع الشامي: ٢٩٠/٢-٢٩١،كتاب الصلاة ،زكريا ديوبند)

مونچھوں کو تاؤ دینا کیسا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق مونچھو کو چھوٹا رکھنا سنت ہے ان کو لمبا کرنا اور تاؤ دینا ایسا عمل ہے جوکہ لغو ہے اسکا دنیا اور آخرت میں کوئ فائدہ نہیں ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہۓ

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول الفطرۃ خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقلیم الاظفار و نتف الابط بخاری 6/ 160 کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار. ط. المطبعۃ الکبری الامیریہ

وقال القرطبی وقص الشارب ان یاخذ ما طال علی الشفۃ بحیث لا یؤذی الآکل ولا یجتمع فیہ الوسخ فتح الباری 10/ 347. کتاب اللباس. باب قص الشوارب ط. دار المعرفۃ

اللہ عالم

٨.سوال:-جماعت کے لیے کم سے کم کتنے لوگوں کا ہونا ضروری ہے؟

الجواب:-جماعت کے لیے کم سے کم دو افراد کا ہونا ضروری ہے کہ ایک امام ہو اور ایک مقتدی ایک حکم نماز پنجگانہ کے لیے ہے

واقلها اثنان واحد مع الإمام لحديث اثنان فما فوقهما جماعة ولو مميزا... اي ولو كان الواحد المقتدى صبيا مميزا....(الدر المختار مع الشامي: ٢٨٩/٢،كتاب الصلاة ،باب الامام زكريا ديوبند) ف

إذا زاد على الواحد في غير الجمعة فهو جماعة وان كان معه صبي عاقل كذا في السراجية....(بالفتاوى الهندية:١٤١/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

اذا زاد على الواحد في غير الجمعة فهو جماعة وان كان معه صبي عاقل....(الفتاوى السراجية:١٥١/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

٩.سوال:-نماز کے لئے جماعت منعقید کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-نماز کے لیے جماعت منعقید کرنا شرعا سنت مؤکدہ قریب من الوجوب ہے احناف کے نزدیک اور بعض حضرات فرمایا کہ واجب ہے۔

والجماعة سنة مؤكدة للرجال قال الراهدي ارادوا بالتأكيد الوجوه الا في (رد المختار: ٢٨٧/٢،كتاب الصلاة، باب الامامة، زكريا ديوبند )

في الجماعة: الجماعة سنة مؤكدة كذا في..... وفي "العاية"قال عامة مشايخنا إنها واجبة وتسميتها سنة لو جوجها بالسنة.....(بالفتاوى الهندية: ١٤٠/١،كتاب الصلاة، باب الخامس في الإمامة، زكريا ديوبند)

الجماعة سنة مؤكدة اي قوية يشبه في القوة (هدايه: ١٢٣/١،كتاب الصلاة ،ازمزم ديوبند )