سوال:-اگر کوئی شخص اونچی چیز پر یا نیچی چیز پر نماز پڑھے تو اس کے سامنے سے گزرنے کا شرعا کیا حکم ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہے تو مفصل مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:-نمازی کے سامنے سے گزرنے والا اونچی جگہ یا نیچی جگہ سے گزرے تو اگر گزرنے والے اور نمازی کے نصف بانصف سے زیادہ کی محاذات آمنے سامنے ہو رہی ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر جسم کے آدھے یا اس سے کم حصے کی محاذات ہو رہی ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا جائز ہوگا لہذا اگر کوئی بیڈ یا تخت پر نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے سامنے سے بلا حائل گزرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ عام طور پر بیڈ یا تخت وغیرہ نصف قامت سے اونچی نہیں ہوتے-

ومرور مار في الصحراء او في مسجد كبير بموضوع سجوده او مروره بين يديه الى حائط القبلة في بيت ومسجد.... مطلقا.... او مروره اسفل من الدكان امام المصلى لو كان يصلي عليها بشرط محاذاة بعض اعضاء المار بعض اعضائه وكذا اسطح وسريد وكل مرتفع....(رد المختار: ٣٩٨/٢-٣٩٩،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)

ويكره ان يكون الامام على دكان والقوم اسفل منه والجملة فيه انه لا بخلو اما ان كان الامام على الدكان والقوم اسفل منه او كان الامام اسفل منه والقوم على الدكان..... وروي الطحاوي انه لا يكره ما لم بجاوز القامة....(بدائع الصنائع:٥٠٨/١،كتاب الصلاة ،اشرفية ديوبند)

ولو كان يصلي في الدكان فإن كانت اعضاء الماء تحاذي اعضاء المصلى يكره والا فلا ولو مر رجلان متحاذيان فالكراهة تلحق الذي يلي المصلى.....(بالفتاوى الهندية:١٦٣/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال: سترہ کسے کہتے ہیں اور سترہ کی مقدار کیا ہے نیز اس کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-سترہ سے مراد وہ لاٹھی یا چھڑی وغیرہ ہے جو نمازی نماز پڑھنے کی وقت اپنے سامنے کھڑا کر دیتا ہے سترہ کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ ایک ذراع لمبی اور انگلی کے بقدر موٹی لکڑی وغیرہ ہو اور نمازی کا اپنے سامنے سترہ گاڑنا شرعا مستحب ہے-

هي في الأصل ما بسترة به مطلقا ثم غلب على ما يصنب قدام المصلى قهستاني ويستحب له اي مدبر الصلاة بغرز بسترة..... وان تكون طول زراع فصاعدا.... في غلظ الاصيح....(حاشية الطحطاوي على المراقي الفلاح: شي سي ٣٦٥-٣٦٦،كتاب الصلاة،اشرفيه ديوبند)

و يغرز ندبا بدائع الإمام وكذا المنفرد في الصحراء ولحوها سترة بقدر ذارع طولا وغلظ اصبع لتبد وللناظر بقدبه دون ثلاثة ازرع على حذاء احد حاجبيه.... ولا يكفي الموضع ولا الخط.... ويدفعه....(رد المختار: ٤٠١/٢-٤٠٣،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

وينبغي لمن يصلى في الصحراء ان يتخذ امامة سترة طولها زراع وغلظها غلظ الاصبح ويقرض من السترة ويجعلها على حاجبه الايمن او الايسره والايمن افضل....(بالفتاوى الهندية:١٦٣/١،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)

سوال:- مسجد کبیر اور مسجد صغیر کسے کہتے ہیں نیز صغیر اور کبیر کے اعتبار سے نمازی کے سامنے سے گزرنے میں کوئی فرق ہے یا نہیں اگر ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں ؟

الجواب:-مسجد صغیر کی تحدید میں فقہاء کرام کے ما بین مختلف رائے پائی جاتی ہیں بعض حضرات نے تیس ذراعا کہا اور بعض نے چالیس ذراعا فرمایا اور یہی مختار قول ہے اور جو مسجد اس تحدید سے بڑی ہوگی وہ بڑی مسجد ہوگی ہاں صغیر و کبیر کے اعتبار سے نمازی کے سامنے سے گزرنے میں فرق ہے کبیر موضع سجود کے وراء سے گزرنا جائز ہے اور صغیر میں نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہے احادیث میں اس کی بڑی وعید ائی ہے-

المسجد الصغير هو اقل من ستين ذراعا وقيل من اربعين وهو المختار كما في جامع الرموز عن الجواهر....(هامش شرح الوقاية:١٦٦/١،كتاب الصلاة،نبراس ديوبند)

ومنهم من قدره بمقدار صفين او ثلثة ومنهم من قدر بثلثة ازرع ومنهم من قدر باربعين....(هامش الهداية:١٤٠/١،كتاب الصلاة،زمزم ديوبند)

قال بعضهم قدر موضع السجود قال بعضهم مقدار صفين وقال بعضهم قدر ما يقع بصره على المار....(بدائع الصنائع :٥٠٩/١،كتاب الصلاة ،اشرفيه ديوبند)

سوال:- مسجد یا غیر مسجد کے اندر نمازی کے سامنے سے گزرنا شرعا کیسا ہے اگر اس میں کوئی تفصیل ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟

الجواب:-مسجد کبیر اور صحرار میں نمازی کے سامنے سے یعنی موضع سجود کے وراء سے گزرنا جائز ہے موضع سجود کی تغیر میں مختلف اقوال ملتے ہیں بعض نے نظر المصلی جب مصلی اپنے سجدہ کی جگہ دیکھ رہے ہو بعض نے دو صف بعض نے تین صف وغیرہ سے تعبیر کی ہے اور اگر چھوٹی مسجد یا چھوٹا کمرہ ہو تو مصلی کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مکان واحد کے حکم میں ہے-

المراد من المسجد ههنا موضع السجود فإن المرور في موضع السجود بوجب الاثم وفي تفسير موضع السجود تفصيل فاعلم ان الصلاة ان كانت في المسجد الصغير فالمرور امام المصلى حيث كان يوجب الاثم....(شرح الوقاية:١٦٦/١،كتاب الصلاة ،مكتبه: تبرائس ديوبند)

اختبار شمس الائمة السرخسي وشيخ الاسلام وقاضيخان قال فخر الاسلام: اذا صلى راميا يبصره ابي موضع سجوده....(هدايه: ١٤٠/١،كتاب الصلاة ،زمزم ديوبند)

سوال:- کیا ائمہ اربعہ میں سے کسی کے نزدیک 20 رکعت سے کم ادا کرنا مسنون ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مدلل بیان کریں؟

الجواب:-کسی امام کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح ادا کرنا مسنون نہیں ہے پہلے کچھ اس میں اختلاف تھا مثلا امام مالک وغیرہ کے نزدیک چھتیس رکعتیں مسنون تھی لیکن بعد میں نماز ائمہ مجتہدین وغیرہ کا بیس رکعت پر اتفاق ہوا لہذا بیس رکعت ادا کرنے سے ہی سنت ادا ہو گئی ورنہ نہیں –

وهي عشرون ركعة هو قول الجمهور.... عليه عملا الناس شرقا وغربا....(الدر المختار مع الشامي: ٤٩٥/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

وهي عشرون ركعة باجماع الصحابة رضي الله عنه بعشر تسلمات....(حاشية الطحطاوي على المراقي:٤١٤،كتاب الصلاة،اشرفية ديوبند)

وهي خمس ترويحات كل ترويحة اربع ركعة تسلمتين كذا في....ولو زاد خمس ترويحات بالجماعة يكره عندنا....(بالفتاوى الهندية:١٧٥/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

سوال:-اٹھ رکعت تراویح کا ثبوت حدیث میں ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کا کیا جواب ہے؟

الجواب:- اٹھ رکعت تراویح کا ثبوت حدیث پاک سے نہیں ہے غیر مقلدین جس حدیث سے اٹھ رکعت تراویح کو ثابت کرتے ہیں محدثین کرام اس حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ وہ حدیث تراویح کے متعلق نہیں ہے بلکہ تہجد کے متعلق ہے نیز اس حدیث میں رمضان غیر رمضان کی بات ہے حالانکہ غیر رمضان میں تراویح کی نماز نہیں ہوتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث تہجد کے متعلق ہے-

علي بن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر....(مصنف ابن ابي شيبة:٢٨٤/٢،رقم الحديث: ٧٧٧٤)

وهي عشرون ركعة هو قول الجمهور.... وعليه عمل الناس شرفا وغربا....(الدر المختار مع الشامي:٤٩٥/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

علم من هذه المسئلة ان التراويح عندنا عشرون ركعة....(بدائع الصنائع :٦٤٤/١،كتاب الصلاة ،اشرفية ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص 20 رکعت سے کم ادا کرے تو تراویح کی سنت ادا ہو جائے گی یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت مفصل مدلل جواب تحریر کریں؟

الجواب:-حنفیہ کے نزدیک سنت ہیں اور 20 رکعت سے کم ادا کرے تو تراویح کی سنت ادا نہ ہوگا جن لوگوں کی طبیعت میں ضد ہو ان کو کچھ نہ کہا جائے دعائے خیر کی جائے-

وهي عشرون ركعة وقول الجمهور وعليه عمل الناس شرقا وغربا....(رد المختار مع الشامي: ٤٩٥/٢،كتاب الصلاة ،باب الوتر والنوافل،زكريا ديوبند)

عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فيه شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة والوتر....(السنن الكبري للبيهقي: ٤٩٦/٢،كتاب الصلاة،باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان ادارة تاليفات،اشرفية،ملتان)

سوال:-تراویح کے اندر کتنی رکعت مسنون ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اختلاف اقوال کو نقل کرنے کے بعد صحیح قول کو بھی وضاحت کریں اور پھر وہ بتائے صحیح قول کا ثبوت حدیث سے ہے یا نہیں؟

الجواب:-تراویح میں کتنی رکعتیں ہیں اس سلسلے میں تین اقوال ملتے ہیں: (1) غیر مقلدین اور اصحاب ظواہر کے نزدیک تراویح کی نماز 8 رکعتیں ہیں (2) یزید بن مارون ابن قاسم ،مالک وغیرہ کے نزدیک تراویح کی نماز چھنتیس رکعتیں ہیں(3) ائمہ اربعہ اور جمہور علماء کے نزدیک نماز تراویح 20 رکعت ہیں اور یہی زیادہ صحیح اور راجح قول ہے اور اس کا ثبوت حدیث پاک میں ہے چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی اور بیہقی میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت موجود ہے-

عن بن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعت والوتر....(مصنف ابن ابي شيبة:٢٨٤/٢،رقم الحديث: ٧٧٧٤)

واما قدرها فعشرون ركعة.... وهذا قول عامة العلماء وقال مالك في قول سنة وثلاثون ركعة وفي قول سنة وعشرون ركعة والصحيح قول العامة....(بدائع الصنائع: ٦٤٤/١،كتاب الصلاة ،اشرفية ديوبند)

قوله وهي عشرون ركعة هو قول الجمهور وعليه عمل الناس شرقا وغربا وعن مالك ست وثلاثون....(در المختار مع الشامي:٤٩٥/٢،كتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل ،زكريا ديوبند)

سوال:-تراویح کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد تراویح کے 20 رکعت نماز 10 سلاموں سے پڑھنا مرد و عورت سب کے لیے سنت مؤکدہ ہے-

قال الله تعالى: فَاسْاَلُوْا اَهْلَ الِّذكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ الانبیاء آیت:۷) القاعدۃ الثبتراويح كسنة مغرب وعشاء والجماعة فيها سنة على الكفاية في الاصح.... وكل ما شرع بجماعة فالمسجد فيه أفضل وهي عشرون ركعة....(رد المختار: ٤٩٥/٢،کتاب الصلاۃ،باب الوتر ونوافل ،زكريا ديوبند)انیۃ: الأمور بمقاصدھا الاشباہ والنظائر ص/ ۱۰۲

التراويح فإن وقتها بعد اداء العشاء فلا يبعتد بما اداء قبل العشاء وعندهما الوتر سنة العشاء كالتراويح.... (بالفتاوى الهندية:١٧٥/١،كتاب الصلاة ،زكريا ديوبند)

واما الذي هو سنن الصحابة فصلاة التراويح في ليالي رمضان.... وفي سننها.... اما صفتها فهي سنة.....(بدائع الصنائع:٦٤٤/١،كتاب الصلاة، صلاة التراويح،زكريا ديوبند)

سوال:-جامع مسجد کس کو کہا جائے گا کیا ایک شہر میں کئی جامع مسجد ہو سکتے ہیں یا نہیں نیز اگر کوئی مسجد ایک وقت میں جامع مسجد ہو تو کیا اب وہ بدل کر غیر مسجد جامع ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب:-جامع مسجد وہ شرعی بڑی مسجد ہے جس میں نماز جمعہ بھی قائم کی جاتی ہے اور جس مسجد میں جمعہ قائم نہ کی جاتی ہو تو وہ جامع مسجد نہیں رہے گی بلکہ نماز پنجگانہ والی مسجد بن جائے گی اور ایک ہی شہر میں کئی جامع مسجد ہو سکتی ہیں-

المراد بالمسجد الذي تقام فيه الجمعة.....(الموسوعة الفقهية:٤٤/١٩٩،كويت)

المسجد الموضع الذي يسجد فيه واصطلا: وهو الارض التي جعلها المحالك مسجدا بقوله جعلته مسجدا واندز طريقه واذن بالصلاة فيه....هو المسجد الكبير العام....(التعريفات الفقهية:٢٨٤، تهانوى ديوبند)

ثم المسجد الجامع؛ لأنه من مجمع المسلمين لاقامة الجمعة ثم بعده المساجد الكبار: لأنها في معنى الجوامع لكثيرة اهلها....(بدائع الصنائع :١١/٢،كتاب الصلاة،اشرفية ديوبند)