پوجا کا کوئی بھائی نہیں ہے اسلئے پوجا نے زید کو بھائی بنایا ہوا ہےاور اب جب رکشا بندھن آیا تو پوجا نے زید کو راکھی باندھی واضح رہے کہ زید کو اس کا علم نہیں تھا کہ راکھی بندھوانا کیسا ہے ) اب معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کا یہ فعل شریعت کی روشنی میں کیسا ہے ؟ کہیں زید دائرے اسلام سے تو خارج نہیں ہو گیا ؟

الجواب وبااللہ التوفیق ۔ واضح رہے کہ غیر مسلموں کے رسم و رواج میں شرکت کرنا یہ بالکل جائز نہیں اور راکھی ایک ہندوانہ رسم ہے بلکہ ہندوؤں کے تیوہار کا ایک اہم جز ہے لہذا کسی بھی مسلمان کے لیے کسی بھی صورت میں راکھی بندھوانا جائز نہیں اور مزید گناہ یہ ہے کہ راکھی باندھنے والی لڑکی غیر مسلم اور غیر محرم ہے یہ عمل بھی بالکل جائز نہیں مذکورہ تفصیل کے بعد جاننا چاہیے کہ اگر زید نے اپنی منہ بولی بہن پوجا سے راکھی بوجہ استحسان یعنی اچھا سمجھتے ہوئے بندھوائی ہے خواہ زید کو اس عمل کے ناجائز ہونے کا علم ہو یا نہ ہو تو اس صورت میں زید کے کفر کا اندیشہ ہے لہذا تجدید ایمان اور اگر نکاح ہو گیا ہے تو زید پر تجدید نکاح ضروری ہوگا اور اگر صرف رسما اور اپنے آپ کو اس کا قریبی ظاہر کرنے کے لیے یہ راکھی بندھوائی ہے تو ناجائز اور حرام اب بھی ہوگا البتہ کفر کا حکم نہیں لگے گا مگر پھر بھی احتیاط تجدید ایمان اور تجدید نکاح ہی میں ہیں اسلئے کہ یہ کفر و ایمان کا مسئلہ ہے جو ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔۔۔۔۔۔فقط واللہ اعلم باالصواب ۔

(ولاانتم عابدوں ما اعبد) ای ولا اعبد عبادتکم ای لا اسلکھا ولا اقتدی بھا وانما اعبد اللہ علی الوجہ الذی یحبہ ویرضاہ۔ (تفسیر القرآن العظیم/تفسیر ابن کثیر:677/7)

عن عبدِ اللهِ بنِ عمرٍو قال: من مرَّ ببلادِ الأعاجمِ فصنع نَيروزَهم ومهرجانَهم وتشبَّه بهم حتّى يموتَ وهو كذلك حُشِرَ معهم يومَ القيامةِ. (احکام اھل الذمہ:1248/3)

لا يجوز التشبه بالكفار في اعيادهم لما ورد في الحديث"من تشبه بقوم فهو منهم"ومعنى ذلك تنفير المسلمين عن موافقه الكفار في كل ما اختصوا به. (الموسوعۃ الفقهيه:7/12)

ويكفر بوضع قلنسوة المجوس على رأسه إلا لضرورة دفع الحر والبرد...... وبخروجه إلى نيروز المجوس والموافقه معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم...... وبتحسين أمر الكفار اتفاقا۔ (البحرالرائق:208/5)

ایک شخص نے چائے کی دکان کھولی ہے اور اس نے پاس کی جگہ میں کیرم بورڈ کا انتظام بھی کررکھا ہے اور کیرم کھیلنے پر وہ کوئی کرایہ نہیں لیتا ہے فری کھیلنے کی اجازت ہے اور یہ کیرم کا انتظام اس نے اس لیے کیا ہے تاکہ اس کی چائے خوب فروخت ہو لہٰذا لوگ کیرم کھیلتے ہیں اور چائے بھی پیتے ہیں مگر کیرم جوئیں اور سٹہ کے ساتھ کھیلتے ہیں تو یہ کھیلنے والے گنہگار تو ہیں ہی کیا وہ چائے بیچنے والا جس نے کیرم کا فری میں انتظام کیا ہے کیا وہ بھی گنہگار ہوگا؟

الجواب و باللہ التوفیق صورت مسئولہ میں اس شخص کا کیرم بورڈ کا نظم کرنا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ یہ تعاون علی الاثم ہے۔

ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان (سورۃ المائدہ آیت: ۲) واللہ اعلم بالصواب

لڑکے کا نام صرف محمد رکھ سکتے ہیں؟

باسمہ سبحانہ و تعالی الجواب وبا اللہ التوفیق صرف محمد نام رکھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہے لہذا لڑکے کا نام صرف محمد رکھ سکتے ہیں

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن ابن سيرين، سمعت ابا هريرة، قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم" سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي “ صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث نمبر. ۶۱۸۸. /6188

ما ضر أحدكم لو كان في بيته محمد ومحمدان وثلاثة." (فيض القدير، ج: 5، ص: 453، ط: المکتبة التجاریة الکبری مصر)

فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے پر کسی حدیث وغیرہ میں کوئی فضیلت وارد ہوئی ہے ؟

الجواب وبالله التوفيق: جی اس بارے میں ایک روایت “کنز العمال” میں منقول ہے: جس نے ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ لی، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضامندی اور مغفرت لازم فرما دیتا ہے۔

من قرأ قل هو الله أحد دبر كل صلاة مكتوبة عشر مرات، أوجب الله له رضوانه ومغفرته. (كنز العمال/الباب السابع: في تلاوة القرآن وفضائله/الفصل الثاني: في فضائل السور والآيات، ٥٩٩/١، رقم الحديث: ٢٧٣٢، ط: دار إحياء التراث العربي) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

ایک عورت ہے جسکو اسکا شوہر ناہی اپنے پاس رکھتا اور ناہی اسکو طلاق دیتا. جبکہ شوہر نے دوسرا نکاح کر رکھا ہے تو اس مظلوم عورت کا نکاح کے بارے میں کیا ہے. کیا یہ شوہر سے طلاق کے بغیر دوسرا نکاح کرسکتی ہے اگر نہیں کرسکتی تو شوہر سے بچنے کا کیا راستہ ہے. مسئلہ کے بارے میں وضاحت فرمادیجے.

الجواب وبالله التوفيق: واضح رہے پہلے شوہر سے طلاق یا تفریق کے بغیر دوسرا نکاح کرنا جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر شوہر نہ طلاق دے رہا ہو اور نہ ہی خلع کرنے پر راضی ہو، تو ایسی صورت میں مظلوم عورت اپنا مقدمہ قریبی محکمۂ شرعیہ یا شرعی پنچایت میں پیش کرے، کہ فلاں شخص میرا شوہر ہے وہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا، اس سے میرے حقوق ادا کرائے جائیں یا پھر مجھے نکاحِ ثانی کی اجازت دی جائے اس پر محکمۂ شرعیہ جملہ امور کی باقاعدہ تحقیق کرکے شوہر سے کہے کہ تم اپنی بیوی کے جملہ حقوق ادا کرو یا اس کو طلاق دیدو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اگر شوہر کوئی صورت اختیار نہ کرے تو محکمۂ شرعیہ تفریق کردے، یہ تفریق طلاق کے حکم میں ہوگی، اس کے بعد عدتِ طلاق گزار کر دوسری جگہ نکاح کی اجازت ہوگی۔ مستفاد از: (فتاویٰ محمودیہ، ٤١٢/١٩، ط: میرٹھ) (الحيلة الناجزة، ص: ٦٣، ط: مكتبة رضي ديوبند)

نكاح المنكوحة لا يحله أحد من أهل الأديان. (المبسوط السرخسی/كتاب السير/باب نكاح أهل الحرب ودخول التجار إليهم، ٩٦/١٠، ط: دار المعرفة، بيروت)

وقد اتفق ائمة الحنفية والشافعية على أنه يشترط لصحة الحكم واعتباره في حقوق العباد الدعوى الصحيحة وأنه لا بد في ذلك من الخصومة للشرعية. (شامي/كتاب القضاء، ٢٣/٨، ط: دار عالم الكتب الرياض) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

مسئلہ یہ ہے کہ عقیقہ کے گوشت کا مصرف کیا ہے ؟ کیا عقیقہ کے گوشت سے ولیمہ کیا جا سکتا ہے ؟ ہمارے شادیوں میں پیسے دینے کا رواج ہوتا ہے ۔ یعنی شادی کی دعوت کھانے والا زید کچھ پیسے شادی والے گھر یعنی بکر کو دیتا ہے ، اور یہ بطورِ قرض کے تصور کیا جاتا ہے ۔ یعنی آئندہ زید کے گھر میں شادی ہو تو بکر بھی دعوت کھانے کا پیسہ دے گا ۔ ورنہ یہ معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اور یہ ہر شادی میں نہیں ہوتا ہے ۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کیا اس طرح کے پیسے وصول کئے جانے والی شادیوں میں عقیقہ کا گوشت ولیمہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے ؟

الجواب وبالله التوفيق: عقیقہ کے گوشت سے ولیمہ کی تقریب جائز اور درست ہے؛ البتہ مروجہ طریقے پر لینا دینا ممنوع ہے۔

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. (البحر الرائق/كتاب الحدود، ٦٨/٥، ط: زكريا ديوبند)

ويطعم من شاء من غني وفقير (مجمع الأنهر/كتاب الأضحية، ١٧٣/٤، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

حكم العقيقة بعد ذبحها حكم الأضحية من حيث التصرف فيها عند أهل العلم.... قال الحسن البصري: يصنع بالعقيقة ما يصنع بالأضحية. (المفصل في الأحكام العقيقة/المبحث الثاني عشر: التصرف في العقيقة، ص: ١٠٧، ط: جامعة القدس فلسطين) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.

سوال:-کسی سامان کو قسط وار خریدنا شرعا کیسا ہے؟

الجواب:- قسط وار خریداری میں سامان اس شرط کی ساتھ جائز ہے کہ جب دونوں عقد کے وقت ایک قیمت پر رضامند ہو جائیں یعنی ادھار اور قصد وار زائد رقم کی تعیین ہو جائے کہ قسط وار اتنی قیمت میں یہ چیز دی جائے گی تو یہ شکل جائز اور درست ہے-

البيع معا تاجيل الثمن وتقسيطه صحيح...(شرح المجله:١٢٤/١،رقم المادة:٢٤٥)

نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة وقد فسر بعض اهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة ان يقول ابيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين لا بقارقه على احد البيعين فاذا فارقه على احدهما فلا باس اذا كانت العقدة على واحد منهما (ترمذي شريف:٢٣٣/١،)

رجل باع على انه بالنقد بكذا و بانسيئة بكذا والي شهر بكذا والى شهرين بكذا لم يجز كذا في "الخلاصة"(بالفتاوى الهندية:١٣٧/٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

سوال:-منقولی اور غیر منقولی کے درمیان کیا فرق ہے نیز خرید و فروخت کے سلسلہ میں منقولی اور غیر منقولی کی شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-منقولی وہ اشیاء ہیں جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہو مثلا نقود عروض حیوانات، مکیلات، موزونات اور جو اس کے مشابہ ہو اور غیر منقولی وہ اشیاء ہیں جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن نہ ہو مثلا زمین وغیرہ اور خرید و فروخت کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ منقولی اشیاء پر قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرنا شرعا جائز نہیں ہے اور غیر منقولی کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا شرعا جائز ہے-

فلما المنقول هو كل ما يمكن نقله وتحويله..... والعقار: هوماله اصل ثابت لا يمكن نقله وتحويله كالاراضي والدور ونحوها....(الموسوعة الفقهية: باب الميم،ط: كويت)

صح بيع عقار لا يخشي هلاكه قبل قبضه.... ونحوه كان كمنقول فلا يصح اتفاقا ككتابة واجارة وبيع منقول قبل قبضه لأنه نهي عن بيع ما لم يقبض.....(الدر المختار مع الشامي:٣٦٩/٧،كتاب البيوع،باب المرابحه والتوليه،زكريا ديوبند)

ومن اشتري شيئا مما ينقل ويحول: لم يجز له بيعه حتى يقبضه ويجوز بيع العقار قبل القبض....(هدايه:١٦٣/٥-١٦٤،كتاب البيوع،مكتبه البثري باكستان)

سوال:-اگر کوئی شخص سامان پر قبضہ کیے بغیر فروخت کر دے تو شرعا کیسا ہے؟

الجواب:-سامان پر قبضہ کیے بغیر فروخت کرنا شرعا درست نہیں ہے اس باری میں اگر منقولی چیز ہو تو اس لیے کہ بیع صحیح ہونے کے لیے مبیع کا موجود اور مقدور التسلیم ہونا شرط ہے لیکن اگر غیر منقولی چیز ہو تو قبضہ کیے بغیر فروخت کرنا جائز ہے-

وبيع ما ليس في ملكه لبطلان بيع المعدوم وماله خطر العدم.... قوله: لبطلان بيع المعدوم اذ من شرط المعقود عليه: ان يكون موجودًا مالا متقوما مملوكا في نفسه.....وان يكون مقدور التسليم.....(رد المختار مع الشامي: ٢٤٦/٧،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،زكريا ديوبند)

شرط انعقاد البيع للبائع ان يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد وان ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه الا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده....(بدائع الصنائع:١٤٧/٥-١٤٦،دار الكتب العلمية بيروت)

سوال:-اگر کوئی شخص نمازی کے اگلی صف میں ہو اور وہ پچھلی صف والے نمازی سے پہلے جانا چاہے تو اس کے لیے جانا درست ہے یا اس میں کوئی طریقہ ہے یا کوئی اور تفصیل ہے ہر صورت جامع انداز میں جواب تحریر کریں؟

الجواب:-صورت مسؤلہ میں اگلی صف میں جو نمازی ہے اس کے لیے ہٹنا درست ہے کیونکہ یہ ہٹنا ہے مرور نہیں ہے اور حدیث میں جو وعید ائی ہے مرور کے لیے ہے-

ولو مر اثنان يقوم احدهما امامه ويمر الآخر ويفعل الاخر هكذا ويمر ان كذا في "القنية"....(الفتاوى الهندية:١٦٣/١،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

ولو مر اثنان يقوم احدهما امامه ويمر الآخر ويفعل الآخر....(الدر المختار مع الشامي: ٤٠١/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)

والمستحب لمن يصلي في الصحراء ان ينصب بين يديه عودا او يضع شيئا.... وانما قدرناه بزارع دون اعتبار الغرض....(بدائع الصنائع:٥٠٨/١،كتاب الصلاة ،اشرفية ديوبند)