سوال:-خیار رویت کا ثبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت ہو تو اس کی وضاحت کرے اگر ثابت نہ ہو تو پھر خیار رویت کا کیا حکم ہوگا مدلل بیان کریں؟

الجواب:-سیارے رویت حدیث سے ثابت ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے بغیر دیکھے کوئی چیز خریدی تو جب اس کو دیکھے تو اس کے لیے خیار ہے یعنی چاہے تو مبیع رکھے یا واپس کر دے-

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من اشتري شيئا لم يره لهو بالخيار ان اراه...(الدار القطني: رقم الحديث: ٣٨٥)

عن ابي هريرة من اشتري شيئا لم يره فهو بالخيار اذا راه....(البيهقي: رقم الحديث: ٤٨٥)

عن ابي هريرة من اشتري من الغنم فهو بالخيار....(صحيح مسلم: رقم الحديث: ١٥٢٤)

سوال:-اگر زمین خریدنے کے بعد رجسٹری نہ کرائے تو ایسی صورت میں خریدنے والا اس زمین کا مالک ہوگا یا بیچنے والا یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمینان بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-اس صورت میں خریدنے والا اس زمین کا مالک ہوگا کیونکہ جب ایجاب و قبول ہو گیا تو بیع لازم ہے اوربیع لازم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بائر کی ملکیت سے نکل کر مشتری کے ملکیت میں چلی جاتی ہے دوسری بات یہ ہے کہ ایجاب و قبول اہل سے صادر ہوا ہے لہذا اس کو منعقید کیا جائے گا اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ مشتری مالک ہوگا-

إذا حصل الايجاب والقبول لزم البيع وفي الحاشية ويثبت الملك لكل منهما....(الهداية:٦/٥،كتاب البيوع،بشري باكستان)

قلت وفي جامع الفصولين أيضاً: لو ذكر البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد....(شامي: ٢٨١/٧،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،زكريا ديوبند)

واذا حصل الايجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لو احد منهما الا من عيب....(بالفتاوى الهندية:١١/٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص دیکھے بغیر زمین خرید لے پھر دیکھنے کے بعد پسند نہ ائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-اس مسئلہ میں اس شخص کو خیار حاصل ہوگا یعنی چاہے تو لے لے اور چاہے تو واپس کر دے-

ومن اشتري شيئا لم يره فالبيع جائز وله الخيار اذا راه ان شاء اخذه بجميع الثمن وان شاء رده....(الهداية:٥٢/٥،كتاب البيوع،مكتبة البشري،باكستان)

الاصح الجواز وله اي للمشتري ان يرده رده إذا راه..... وان رضي.... قبله اي قبل ان يراه لان خياره معلق بالروية بالنص....(رد المختار: ١٥١/٧-١٥٢،كتاب البيوع باب خيار الروية،زكريا ديوبند)

ومن اشتري شيئا لم يره فالبيع جائز وله الخيار اذا راه ان شاء اخذه وان شاء رده.....(الباب في شرح الكتاب: ٢٠٥/١،كتاب البيوع،اشرفية ديوبند)

سوال:-خیار رویت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-کسی چیز کو دیکھے بغیر خریدنا اور دیکھنے کے بعد اس چیز کے پسند نہ آنے پر خریدار چاہے تو بیع کو فسخ کر دے اس اختیار کو خیار رویت کہتے ہیں اور اسی طرح کا معاہد کرنا شرعا جائز ہے لیکن مشتری کو دیکھنے کے بعد اختیار ہے چاہے تو کل مبیع کو کل قیمت کے ساتھ لے یا کل مبیع واپس کر دے-

خيار لروية: هو ان يشتر شيئا لم يره فللمشتري الخيار إذا راه وهو غير موقت بمدة..(التعريفات الفقهية:٢٨٣،باب الخيار،دار الكتاب ديوبند)

ومن اشتري شيئا لم يره فالبيع جائز وله الخيار إذا راه ان شاء اخذه بجميع الثمن وان شاء رده....(الهداية:٥٢/٥،كتاب البيوع،مكتبة البشري،باكستان)

من اشتري شيئا لم يره فله الخيار إذا راه ان شاء أخذه بجميع ثمنه وان شاء رده....(بالفتاوى الهندية:٥٩/٣،الباب السابع في خيار الروية،زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص کوئی سامان دیکھے بغیر خریدے تو شرعا کیا حکم ہے ؟

الجواب:-ایسی بیع جائز ہے لیکن جب وہ سامان کو دیکھے گا تو اس کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو سامان رکھے یا تو واپس کر دے-

ومن اشتري شيئا لم يره فالبيع جائز وله الخيار اذا راه ان شاء أخذه بجميع الثمن وان شاء رده....(الهداية:٥٢/٥،كتاب البيوع، بشري باكستان)

من اشتري ما لم يره جاز وله رده إذا راه ما يبطله وان رضي قبلها....(مجمع الانهر: ٥٠/٣،كتاب البيوع، فقهيةالامة ديوبند)

الاصح الجواز وله اي للمشتري ان يرده إذا راه إلا إذا حمله البائع لبيت المشتري فلا يرده إذا راه إلا إذا اعاده الى البائع اشباه وان رضي بالقول قبله اي قبل ان يراه لان خياره معلق بارؤية بالنص....(رد المختار:١٥١/٧-١٥٢،كتاب البيوع،باب خيار لرؤية ،زكريا ديوبند )

سوال:-اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟

الجواب:-ادھار بیع کے اندر ثمن کی ادائیگی کی مدت معلوم ہونا ضروری ہے خواہ صراحتا معلوم ہو یا عرفا معلوم ہو لہذا صورت مسئولہ میں بیع درست ہے اگر متعاقدین کے درمیان مدت ادائیگی معلوم ہو ورنہ درست نہیں ہے-

ومن باع بثمن حال ثم اجله اجلا معلوما او مجهولا متقاربا كالحصاد والدياس.... لو باع موجلا ولم يقل الى رمضان لا يكون مؤبدا بل يكون ثلاثة ايام عند بعض ويفتى بأن يتاجل الى شهر.....(البحر الرائق: ٤٦٧/٥،كتاب البيع، المكتبة التهانوية ديوبند)

وصفه بثمن حاله وهو الاصل ومؤجل الى معلوم لئلا يقضي.... ولو باع مؤجلا صرف لشهر به يفتى....(رد المختار: ٥٢/٧-٥٣،كتاب البيوع،زكريا ديوبند)

وفي المنح: لو باع مؤجلا انصرف الى شهر لأنه المعهود في الشرع في السلم....(مجمع الانهر: ١٣/٣،كتاب البيوع، فقهية الامة ديوبند)

کیا بکرے کی اوچھڑی کھانا مکروہ ہے ؟؟؟

الجواب و باللہ التوفیق: حلال جانوروں کے سات اعضاء کا کھانا صحیح نہیں ہے اور حضرات فقہاء نے جن سات اعضا کو شمار فرمایا ہے ان میں اوجھڑی شامل نہیں ہے لہذا بکرے کی اوجڑی کا کھانا حلال ہے چنانچہ فتاوی رحیمیہ میں ہے: (سوال (۱۲۵) ہمارے یہاں ایک شخص یہ کہتاہے کہ بکرے کی اوجھڑی کھانا حرام ہے اور اپنی اس بات کو ایک عالم کی طرف منسوب کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ آپ لوگ اوجھڑی کو حلال کہتے ہو یہ صحیح نہیں ہے ۔ آپ وضاحت فرمائیں کہ اوجھڑی کھانا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔ (الجواب ) فقہاء نے جانور کی سات چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان سات چیزوں میں اوجھڑی شامل نہیں ہے، لہذا اسے حلال کہا جائے گا، جو اسے حرام قرار دیتے ہیں وہ دلیل پیش کریں۔ (فتاویٰ رحیمیہ۸۱/۱۰)

عن مجاهد، أن النبي صلى الله عليه وسلم كره من الشاة سبعًا : الدم المسفوح، والذكر والأنثيين، والقبل والغدة، والمثانة، والمرارة. (مراسيل أبوداؤد ، ۱۹ اعلاء السنن، کراچی۱۳۰/۱۷ ، عباس احمد الباز، مكة المكرمه١٤٤/١٧ ، مصنف عبد الرزاق ٥٣٥/٤ ، رقم: ٨٧٧١)

وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان سبعة : الدم المسفوح والذكر والأنثيان، والقبل والغدة، والمثانة، والمرارة (هندية اتحاد ۵ / ٣٣٥) فقط واللہ اعلم۔

السلام علیکم ۔ حمیم نام رکھنا کیسا ہے ؟

الجواب و بااللہ التوفیق : واضح رہے کہ حمیم کے دو معنی آتے ہیں (۱) گرم پانی (۲) قریبی دوست لہٰذا اگر دوسرا معنی ملحوظ رکھتے ہوئے یہ نام رکھا جائے تو حمیم نام رکھنا درست ہے ۔

قال اللہ تعالیٰ: ولا صدیق حمیم ( سورۃ الشعراء آیت ۱۰۱) قال اللہ تعالیٰ: فلیس لہ الیوم ہھنا حمیم(سورۃ الحاقہ آیت ۳۵) واللہ اعلم بالصواب

سوال:-برتھ ڈے (سال گرہ) منانا شرعاً ثابت ہے؟

الجواب و باللہ التوفیق: برتھ ڈے (سال گرہ) منانا شرعاً ثابت نہیں ہے بلکہ یہ اغیار (غیر مسلموں ) کی طرف سے آئی ہوئی ایک رسم ہے، جس میں عموماً طرح طرح کی خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس پہنا جاتا ہے، موم بتیاں لگاکر کیک کاٹا جاتا ہے، موسیقی اور مرد وزن کی مخلوط محفلیں ہوتی ہیں، تصویر کشی ہوتی ہے اور پھر ان میں غیر اقوام کی نقالی بھی ہوتی ہے، اور یہ سب امور ناجائز ہیں، لہذا مروجہ طریقہ پربرتھ ڈے( سال گرہ) منانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر اس طرح کے خرافات نہ ہوں اور نہ ہی کفار کی مشابہت مقصود ہو، بلکہ صرف گھر کے افراد اس مقصد کے لیے اس دن کو یاد رکھیں کہ عمر کی یاداشت رہے اور رب کے حضور اس بات کا شکرادا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے عافیت وصحت کے ساتھ زندگی کا ایک سال مکمل فرمایا ہے اور اس کے لیے مذکورہ منکرات سے خالی کوئی تقریب رکھ لیں تو اس کی گنجائش ہوگی،پیدائش ہی کا دن بھی متعین نہ کریں آگے پیچھے کر لیں، باقی نیتوں کا حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں اور حساب بھی اسی کو دینا ہے۔ اور اس میں مبارک باد دینے کے لیے بھی غیروں کی مشابہت سے بچتے ہوئے صحت، سلامتی کے ساتھ عمر میں برکت اور دین پر ثابت قدمی وغیرہ کی دعائیں دینی چاہیے، مثلا ًاللہ تعالی آپ کی عمر میں برکت دے، وغیرہ

"{وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}." (سورۃ آل عمران، الآیة: 85)

رجمہ:’’اور جو شخص اسلام کےسوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا، پس اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائےگا، اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانےوالوں میں سےہوگا۔‘‘

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے: "قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود.

(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب." (كتاب اللباس، الفصل الثاني ،222/8، ط: مكتبة حنفية)

زکوٰۃ کی رقم کو تملیک کرانے کے بعد اس سے مدرسہ کی رسید بنوا سکتے ہیں یا نہیں ؟

لجواب و باللہ التوفیق: تملیک کرانے کے بعد اس رقم سے مدرسے کی رسید چھپوانے کی گنجائش ہے ،لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حیلہ تملیک کی اجازت ہر جگہ نہیں ہوتی۔

والحيلة له أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة . (هنديه ، كتاب الحيل زكريا دیو بند ٦ / ٣٩٢ ، جديد زكريا ٣٩٥/٦ ، وهكذا في الشامي، كتاب الزكاة، باب المصرف زكريا ٢٩٣/٣، کراچی ٢/ ٣٤٥ ) فقط واللہ ااعلم۔