سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی کیا اس لفظ سے ہر جگہ ایک ہی حکم ہوگا یا الگ الگ یا اس میں کوئی تفصیل ہے ہر صورت اطمینان بخش جواب تحریر کریں؟

الجواب:-میں نے تجھ کو جواب دیا اس کو لفظ کنائی شمار کیا ہے لہذا اس کی رو سے تو صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر اس سے زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لیکن بعض علاقوں میں یہ لفظ صریح طلاق کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے اس کی رو سے صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت نہ کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی لہذا اس لفظ سے ہر جگہ کا حکم الگ الگ ہوگا اور عرف کے اعتبار سے۔

فالصريح قوله انت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لان هذه الالفاظ تستعمل في الطلاق ولا يستعمل في غيره ولا يفتفر الى النية لانه صريح فيه.....(هدايه: ٣٨٠/٢-٣٨١،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

كنايته عند الفقهاء مالم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره.... فلا تطلق بها الا بنية او الالة الحال.... البائن ان نواها او الثنتين..... وثلاث ان نواه.....(الدر المختار مع الشامي: ٥٢٦/٤-٥٣٦،كتاب الطلاق،زكريا ديوبند)

والاصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية انه اذا كان فيها لفظ لا يستعمل الا في الطلاق فذلك الفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية اذا اضيف الى المراة.....(هنديه: ٣٨٩/١،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

سوال:-اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو جواب ہے اور وہاں کا عرف کنایہ کا ہو اور شوہر یہ کہہ رہا ہو میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں شوہر کی بات معتبر ہوگی کیونکہ وہاں کے عرف کے اعتبار سے یہ کنائی لفظ ہے اور اس سے طلاق اس وقت واقع ہوگی جب کہ نیت پائی جائے یا دلالت حال پایا جائے یعنی مذاکرہ اور شوہر نے جب کہہ دیا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

وكنايته عند الفقهاء ما لم يوضع له اي الطلاق واحتمله وغيره فلا تطلق بها الا بالنية او بدلالة الحال....(الدر المختار مع الشامي: ٤٥٧/٤-٤٥٨،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

الفصل الخامس: في الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة......(الهندية:٤٤٢/١،كتاب الطلاق، اشرفية ديوبند)

واما ضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة الحال لانها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره......(الهداية:٣٩١/٢ كتاب الطلاق،زمزم ديوبند)

سوال:-کیا ہر لفظ کنائی کے اندر نیت کا ہونا ضروری ہے یا بغیر نیت کے اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگر کوئی ایسا لفظ ہو تو اس کی بھی وضاحت کرے؟

الجواب:-کنائی الفاظ سے دیانتہ وقوع طلاق کے لیے نیت ہر حال ضروری ہے خواہ مذاکرہ طلاق ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو البتہ قضاء مذاکرہ طلاق کی صورت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جائے گی لیکن کچھ کنائی الفاظ ایسے ہیں کہ بغیر نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے مثلا اعتدى،استبرى رحمك أنت واحدة….. بشرط کے وہ حالت غصہ میں کہا ہو یعنی غصہ کی حالت میں ان الفاظ سے بلا نیت اور مذاکرہ طلاق کے بغیر بھی قضاء اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

بخلاف الفاظ الاخير اي ما يتعين للجواب لانها وان احتملت الطلاق غيره ايضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والسب...... حال الغضب تعينت الحال دالة على ارادة الطلاق فترجح......(شامي: ٥٣٣/٤،كتاب الطلاق، زكريا ديوبند)

الفصل الخامس: في الكنايات لا يقع بها الطلاق الا بالنية او بدلالة الحال...... وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي.....(هنديه: ٤٤٢/١،كتاب الطلاق ،اشرفيه ديوبند)

وفي حالة الغضب: يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب الا فيما يصلح للطلاق..... كقوله اعتدي اختيار...... فانه لا يصدق فيها لان الغضب يدل على ارادة الطلاق.......(هدايه: ٣٩٢/٢،كتاب الطلاق ،زمزم ديوبند)

Leave a Comment