الجواب وبالله التوفيق:
گھر میں عشاء کی باجماعت نماز اگر چہ جائز ہے مگر رمضان جیسے مبارک مہینے میں مسجد کی جماعت کو ترک کردینا بہت بڑی محرومی کی بات ہے؛ اس لیے عشاء کی فرض نماز مسجد ہی میں باجماعت ادا کرنی چاہیے، اس کے بعد گھر پر جہاں تراویح کی نماز ہوتی ہے سنتیں وغیرہ پڑھ کر تراویح کی نماز میں شریک ہونا چاہیے۔
عن زيد بن ثابت (إلى قوله) فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة. (صحيح البخاري/كتاب الاعتصام/باب ما يكره من كثرة السوال، ١٠٨٣/٢، رقم الحديث: ٢٩٩٧، ط: النسخة الهندية)
وإن صلى أحد في بيته بالجماعة لم ينالوا فضل الجماعة التي تكون كما في المسجد لزيادة فضيلة المسجد، وتكثير جماعته، وإظهار شعائر الإسلام، وهكذا في المكتوبات، أي الفرائض، لو صلى جماعة في البيت على هيئة الجماعة في المسجد نالوا فضيلة الجماعة.....لكن لم ينالوا فضيلة الجماعة الكائنة في المسجد. (غنية المتملي في شرح منية المصلي جديد/كتاب الصلاة/فصل: في النوافل/مسائل التراويح، ١٢٢/٢، ط: الأشرفية ديوبند) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
اگر کوئی شخص کہیں پر قبلے کی طرف رخ نہ کر کے کسی اور طرف رخ کر کے قران کی تلاوت کرتا ہے اور اس دوران سجدے تلاوت ا جاتی ہے تو سجدہ کس طرف رخ کر کے ادا کرے قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری ہے یا کسی بھی طرف رخ کر کے سجدہ ادا کر لے جواب عنایت فرمائیں
: الجواب بعون الوھاب
سجدہ تلاوت درست ہونے کے لئے ان تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جو نماز کے درست ہونے کے لۓ ضروری ہیں سواۓ تحریمہ کو چھوڑ کر اس لۓ کہ سجدہ تلاوت کے اندر تحریمہ شرط نہیں ہے لھذا صورت مسؤلہ میں سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا شرط ہے اگر کسی اور طرف رخ کرکے سجدہ ادا کیا تو ادا نہیں ہوگا